جسٹس ثاقب نثار کو برطانیہ میں معلوم ہو گیا کہ حسین نقی کون ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جیسا کہ ہم جانتے ہیں، قابل صد احترام سابق چیف جسٹس (سپریم کورٹ آف پاکستان) مسٹر جسٹس ثاقب نثار رواں برس 17 جنوری کی شام تک پاکستان کی سب سے ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ انہوں نے قوم کو انصاف، پانی کے ذخائر (ڈیم) اور مانع حمل اگہی مع ضروری accessories فراہم کرنے کا ذمہ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔ وہ انتخابی امیدواروں (از قسم شیخ رشید لال حویلی والے) کے ساتھ ہسپتالوں کا معائنہ کرتے تھے۔ جیل سے میڈیکل وجوہات کی بنا پر ہسپتال منتقل کئے جانے والے قیدیوں (از قسم شرجیل میمن) کے کمروں کی الماریاں کھول کر صفائی ستھرائی کا جائزہ لیتے تھے۔ ریڈیو جاکی (آر جے) کی طرح سے بٹن آگے پیچھے کر کے سپریم کورٹ کو ٹرائل کورٹ میں بدل دیتے تھے۔ ماتحت عدالتوں میں ججوں کے موبائل فون چیک کرتے تھے تا کہ کوئی جج عدالتی اوقات میں ممنوعہ مواد دیکھنے کا مرتکب نہ پایا جائے۔

جس طرح ہمارے ایک اور قابل صد احترام سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے از خود نوٹس کو کائنات کا مرکزہ قرار دیا تھا، مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے نظام عدل میں جے آئی ٹی کی کلیدی اہمیت دریافت کی۔ جے آئی ٹی میں سول، عسکری اور انتظامی اداروں کی یکجائی کے ذریعے سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ، مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے unification of forces کے طبعیاتی تصور کو unity of command  کے جہادی فارمولے میں تبدیل کیا۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو اپنی عدالت میں پیش ہونے والے افراد کی اہلیت نیز تقرری کی تفصیلات جاننے میں خاص دلچسپی تھی۔ وہ ملک کے کسی بھی نامور ادیب یا سفارت کار سے اس کا نام اور تعلیمی اہلیت پوچھ سکتے تھے۔ کسی سیاسی رہنما سے دریافت کر سکتے تھے کہ کلیدی عہدے پر ان کا تقرر کیسے کیا گیا؟ وہ اتوار کے روز لاہور رجسٹری میں اہل صحافت کا میلہ لگا سکتے تھے۔ بائیس گریڈ کے افسر کو عدالت میں سیدھا کھڑے ہونے کی تادیب کر سکتے تھے۔ الجھے ہوئے ازدواجی معاملات کو اپنے چیمبر میں سلجھا سکتے تھے۔ ڈکشنری کی مدد سے قانونی اصطلاحات کا مفہوم متعین کر سکتے تھے۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے روحانی تصرف کا ادنیٰ کرشمہ یہ تھا کہ اکثر ملک کی غریب، بوڑھی عورتوں کو علم ہوتا تھا کہ انصاف فراہم کرنے والے سب سے بڑی ہستی کی گاڑی کس سڑک سے کس وقت گزرے گی۔ وہ عین وقت پر سڑک کر لیٹ کر دہائی دینا شروع کر دیتی تھیں۔ جس کے بعد سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ، مسٹر جسٹس ثاقب نثار گاڑی سے اتر کر انصاف فراہم کرتے تھے۔

سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ، مسٹر جسٹس ثاقب نثار اکثر کمرہ عدالت میں بآواز بلند تفکر کیا کرتے تھے کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ملک کا کیا بنے گا؟ جیسا کہ حضرت علامہ اقبال کسی پہاڑی ندی کے کنارے ایک کٹیا میں استراحت کی آرزو رکھتے تھے، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار چاہتے تھے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں سرکاری طور پر ایک عدد منجھی اور ایک ڈانگ دی جائے۔ وہ اپنے موعودہ تعمیر شدہ ڈیم کے کنارے چارپائی پر بیٹھ کر چوکیداری کرنا چاہتے تھے تاکہ کوئی ملک دشمن عورت ڈیم کے پانی میں گندے کپڑے دھونے کی جرات نہ کر سکے۔ کوئی بکری ڈیم کا پانی پی کر ملکی اثاثوں کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ مسٹر جسٹس ثاقب نثار قومی اثاثوں کی حفاظت بالخصوص سیاسی چور لٹیروں اور دیگر ملک دشمن عناصر کے اثاثوں کی تحقیق میں خاص دلچسپی لیتے تھے۔ فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے افراد بالخصوص طبقہ اناث جسٹس ثاقب نثار کی اثاثوں میں دلچسپی سے گھبرا کر ملک چھوڑ گیا۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو اگر کبھی شام کی مجلس میں اپنے کسی دیرینہ عدالتی دوست کے ذاتی جھگڑے کی اطلاع ملتی تو وہ بے قرار ہو جاتے تھے۔ متعلقہ ادارے کے بورڈ آف گورنرز کو جمع کر کے چیختے چلاتے ہوئے سوال کرتے تھے کہ حسین نقی کون ہے؟ اگرچہ ایسا لغو سوال کرنے پر انہیں ملک بھر کے صحافیوں سے تحسین و تبریک کے ٹوکرے قطار اندر قطار موصول ہوئے لیکن ان کی کماحقہ تشفی نہیں ہو سکی۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار فرانس کے ایفل ٹاور پر چڑھ کر سوال کرنا چاہتے ہیں کہ حسین نقی کون ہے؟

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار امریکہ کے مجسمہ آزادی کی ہوا میں اٹھی ہوئی مشعل سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ حسین نقی کون ہے؟

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار لندن کے بگ بین کی چھوٹی سوئی سے لٹک کر سوال کرنا چاہتے ہیں کہ حسین نقی کون ہے؟

اگرچہ مسٹر جسٹس ثاقب نثار غیر ملکی حکمرانوں کے بنائے ہوئے ظالمانہ قوانین کے باعث ریٹائر ہو چکے ہیں لیکن وہ ابھی تک جاننا چاہتے ہیں کہ حسین نقی کون ہے؟ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ بیرون ملک مقیم محب وطن عناصر ان کی موہنی شخصیت سے متاثر ہو کر پاکستانی خزانے کو ڈالر، پاؤنڈ اور دوسرے قیمتی سکہ ہائے رائج الوقت سے مونہا منہ بھر دیں۔ اس ضمن میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل (اعزازی محافظ چینی کونسلیٹ کراچی) محترم فیصل واڈا کی صورت میں اپنا ایک دست راست دریافت کیا ہے۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار گزشتہ دو ہفتے سے برطانیہ میں ہیں اور اپنے مداحوں کو درشن دینے کی خواہش رکھتے ہیں۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ چندے میں ملنے والے ہر ایک ڈالر یا پاؤنڈ کے بدلے بلند آواز میں فلک کج رفتار سے پوچھیں کہ حسین نقی کون ہے؟

باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مذکورہ فنڈ ریزنگ کمپین سے منسلک مقامی آرگنائزرز کی عدم دلچسپی کے سبب کم از کم تین مجوزہ تقریبات منسوخ کی جا چکی ہیں کیونکہ پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے عظیم صحافی حسین نقی کی شخصیت اور کردار سے بخوبی آگاہ ہیں البتہ انہیں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے دیدار میں کوئی دلچسپی نہیں۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار ایک خاندانی آدمی ہیں چنانچہ وہ برطانیہ میں اپنے نامعلوم مداحوں کی درخواست پر اپنی فیملی کے ساتھ لندن پہنچے ہیں۔ سابق چیف جسٹس فنڈ ریزنگ ایونٹس کے علاوہ کرکٹ ورلڈ کپ دیکھنے کا ارادہ بھی رکھتے تھے۔ تاہم ان کے لندن پہنچنے پر آرگنائزرز نے انھیں بتایا کہ لوگوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے تمام ایونٹ منسوخ کردیئے گئے ہیں۔ آئی ایم پاکستان ورلڈ وائیڈ موومنٹ نے اعلان کیا تھا کہ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لئے برمنگھم، مانچسٹر اور لندن میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا کے ساتھ 3 آگہی ڈنرز کا اہتمام کیا جائے گا۔ بتایا گیا تھا کہ 21 جون کو رائل نواب لندن، 23 جون کو رائل نواب مانچسٹر اور 24 جون کو پکاڈلی بینکویٹ سوئیٹ برمنگھم میں فنڈز ریزنگ آگہی ڈنر کااہتمام کیا جائے گا۔ ان میں سے کوئی تقریب منعقد نہیں ہو سکی۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ جسٹس ثاقب نثار کی مدت عہدہ کے دوران ان کے ہمراہ لندن جانے اور واپسی پر جسٹس صاحب کی شان میں قصیدہ نما کالم لکھنے والے صحافیوں نے بھی اس دورے کے دوران پاکستان کے آبی ذخائر کی تعمیر میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ آئی ایم پاکستان ورلڈ وائیڈ موومنٹ کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ تنظیم کو ملک کے آئندہ سیاسی حالات اور نئے نجات دہندہ کی ہدایت پر ازسرنو مرتب کیا جائے گا۔

سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ، مسٹر جسٹس ثاقب نثار کو برطانیہ کے دورے میں پوری طرح معلوم ہو گیا ہے کہ حسین نقی کون ہے نیز یہ کہ حسین نقی اور ثاقب نثار میں کیا فرق ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •