بالی ووڈ اداکارہ زائرہ وسیم کے فلمی دنیا چھوڑنے کے فیصلے پر مسلمان علما کا خیرمقدم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بالی ووڈ میں ‘دنگل گرل’ کے نام سے مشہورزائرہ وسیم نے بالی ووڈ کو الوداع کہنے کا انکشاف کیا۔ زائرہ وسیم نے کہا کہ انہوں نے مذہبی عقائد کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا ہے۔ بالی ووڈ اداکارہ زائرہ وسیم کے اس فیصلے پر لکھنو کے مسلم مذہبی رہنما نے خیرمقدم کیا۔ دارالعلوم کے ترجمان مولانا سفیان نظامی نے کہا کہ مذہب پرعمل کرنا ہر شخص کی ذمہ داری ہے۔ مذہب اسلام میں اگر انہوں نےاس طرح کا کوئی فیصلہ لیا ہے تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

مولانا سفیان نظامی کہتے ہیں کہ اس ملک کے اندر ہر شخص کو فیصلہ لینے کا حق ہے۔ زائرہ وسیم نے اپنی ضمیر کی آواز کو سن کر یہ فیصلہ کیا ہے۔ دارالعلوم کے ترجمان کہتے ہیں کہ اگر انہوں نے یہ فیصلہ کسی کے دباو میں لیا ہوتا تو اس موضوع پر ان سے بات کی جاتی۔ سب سے خاص ہے کہ اپنے مذہب کے لئے زائرہ وسیم کا فیصلہ قابل تعریف ہے۔

بھارت کے معروف مذہبی رہنما اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سینئر رکن مولانا کلب جواد نے زائرہ وسیم کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا۔ کلب جواد نے کہا کہ میں ان کے اس فیصلے کو سراہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی فلم بنے، اس میں عوام کے لئے کوئی پیغام ہو۔

واضح رہے کہ زائرہ وسیم نے آج صبح اپنی سوشل میڈیا اکاونٹ سے ایک پوسٹ شیئرکرتے ہوئے لکھا ہےکہ 5 سال پہلے میں نے جوفیصلہ لیا تھا، اس نے میری زندگی بدل دی، میں نے بالی ووڈ میں قدم رکھا۔ میرا یہ سفرکافی تھکانے والا رہا ہے، ان پانچ سالوں میں میں اپنی ضمیر سے لڑتی رہی، چھوٹی سی زندگی میں اتنی طویل لڑائی نہیں لڑ سکتی، اس لئے میں اس فیلڈ سےاپنا رشتہ توڑ رہی ہوں۔ میں نے بہت سوچ سمجھ کریہ فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ 2017 میں زائرہ وسیم نے فلم ‘سیکریٹ سپر اسٹار’ میں بھی عامرخان کے ساتھ کام کیا۔ اس فلم کے لئے زائرہ وسیم کوفلم فیئ ربیسٹ ایکٹرس کریٹک کا ایوارڈ ملا تھا۔ چھوٹی سی عمر میں ہی زائرہ وسیم کو کئی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •