ولایت پلٹ صحافی، جاوید غامدی اور شرعی امور


جوگی اتر پہاڑ سے آیا…. ارے نہیں صاحب، یہ تو ایک صحافی ہیں۔ انصاری صفات کا دعویٰ رکھتے ہیں اور مری کی پہاڑیوں سے اترے \"zafarہیں۔ محترم صحافی عنوان باندھتے ہیں، ’ سیکولر سیانے اب شرعی امور کا فیصلہ بھی کریں گے‘۔ عنوان پڑھتے ہی غالب کی طرح غیب سے یہ مضمون خیال میں آیا ، تو کیا اب ولایت پلٹ صحافی شرعی امور کا فیصلہ کریں گے؟مندرجات پڑھے تو معلوم ہوا کہ محترم صحافی نے ایک تو اپنے مرغوب موضوع ’ سیکولر احباب پر پھبتی کسنے ‘کا روایتی کام سر انجام دیا ہے اور دوسرا ان کو جاوید احمد غامدی صاحب کی رویت ہلال پر رائے سے تکلیف پہنچی ہے۔ پھبتی کسنے سے وہ یہاں بھی نہیں چوکے مگر اس کو فی الحال نظر انداز کر دیتے کہ ہمارے بہت سے ممدوح صحافی آپریشن ضرب عضب کے بعد ’ قحط الموضوعات‘ کا شکار ہیں۔ نہ طالبان کی عذرخواہی کا موقع نصیب ہوتا ہے۔ نہ ملا عمر کی طرح ملا ہیبت اللہ کا قصیدہ لکھنے کا موسم ہے۔ جنوری 2014 نہیں ہے کہ ذرائع ابلاغ کے خلاف طالبان کے فتوﺅں کی ٹی وی پر بیٹھ کر حمایت کی جائے ۔ نہ ہی 2014 کا سال واپس آ سکتا ہے کہ کالم لکھ لکھ کر طالبان کو مشورہ دیا جائے کہ مذاکرات میں ریاست پاکستان کو کیسے مفلوج بنایا جائے۔ ایسے میں اپنے قارئین پر تقوی کا زعم بدستور جما رکھنے کے لئے ایک آدھ ’ شیخ رشیدائی‘ ان کی پیشہ ورانہ مجبوری سمجھی جا سکتی ہے۔

جہاں تک سیکولر حضرات کا ٹھٹھا اڑانے کا تعلق ہے تو مکرر عرض ہے کہ سیکولر ازم ایک سیاسی بندوبست کا نام ہے۔ جبکہ مشکل یہ ہے ہمارے کچھ صحافی دانشوران کرام اس کو مدت سے لادینیت لکھ رہے ہیں اور تسلسل سے لکھ رہے ہیں۔ زمین جنبدنہ جنبد گل محمد ۔ اب اس میں اضافہ یہ ہونا چاہیے کہ بھلے گل محمد کو بھی جنبش ہو جائے، جبل جہل خدا کی دھرتی پر بدستور مونگ دلتا رہے گا۔ کلیم عاجز نے ایسا ہی کسی کو استوار دیکھ کر لکھا تھا، ’ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو‘۔

محترم صحافی نے کالم میں صحافتی اصولوں کی دہائی دی ہے۔ انہی اصولوں کا اگر پاس کر لیتے تو آتش گل سے خوف لاحق نہ ہوتا اور ہمارا چمن یوں نہ جلتا۔ ہمارے صحافی بھائی لکھتے ہیں، ’ اسلامی سکالر صاحب کی منطق یہ تھی کہ دوسرے سب ( یعنی علماءکرام) رویت ہلال کے متعلق ایک حدیث مبارکہ کو ٹھیک نہیں سمجھ پائے۔ ہاں البتہ وہ خود سب ٹھیک سمجھ گئے۔ ان ’اسلامی سکالر‘ صاحب سے پوچھا تو یہ جانا چاہیے تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ان کی بات تمام مکاتب فکر اور علماءکرام سے مختلف ہے۔‘ یادش بخیر! ایسے سوال اٹھانے والوں کی ہماری تاریخ میں کمی نہیں رہی۔ایسا ہی سوال امام احمد بن حنبل سے کیا گیا تھا کہ آپ کی رائے خلق قرآن پر مختلف کیوں ہے۔ایسا ہی سوال شاہ عبدالقادر کے ترجمہ قرآن پر اٹھایا گیا۔ بات نگلے گی تو پھر دور تلک جائے گی۔ اس لئے محترم صحافی کو اپنے بیان کردہ صحافتی اصول یاد دلاتے ہیں۔ انہوں نے اگر غامدی صاحب کے مختلف رائے کی وجہ جاننا تھی تو ان کو کم ازکم پہلے بنیادی تحقیق تو کر لینی چاہیے تھی۔ غامدی صاحب کے رویت ہلال پر پوری رائے ان کی کتاب ’ مقامات‘ میں لکھی ہوئی موجود ہے۔ ایک نظر اگر ہمارے صحافی بھائی اس پر ڈال لیتے تو ان کو سوال پوچھنے کی نوبت پیش نہ آتی۔مگر صحافیانہ دیانت داری اور تہذیب کلام میں حاصل مخصوص رخصت کے سبب بوجہ ایسا نہ کیا گیا۔

خاکسار کو کسی علمیت کا قطعی کوئی دعوی نہیں۔ خاکسار عقیدہ کے معاملات کو صحافت کا موضوع بھی نہیں سمجھتا۔شرعی امور پر بحث کرنا خاکسار کا مقام ہے اور نہ ہمارے ممدوح صحافی کا۔ البتہ چونکہ ان کو سوال اٹھانے کا چسکا ہے تو ایک دو سوال ان کی خدمت میں عرض کیے دیتے ہیں۔ محترم صحافی کو معلوم ہو گا کہ روزے کے بارے میں قرآن مجید نے جس وقت کا تعین کیا ہے اس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ ’ تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے‘۔ دیکھیے یہ قرآن مجید کا واضح حکم ہے۔تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ اوائل میں لوگ باقاعدہ رات کو نکل کر صبح کا سفیدہ طلوع ہونا دیکھتے تھے۔ اہل علم اور اہل رائے نے اس پربہت سارا کام کیا اور اب سحر و افطار کے سالوں کا ایک متعین کیلینڈر مرتب ہو چکا ہے۔ آسمان پر سفیدے اور تاریکی کی لکیر کو کوئی نہیں دیکھتا۔اسی طرح نماز کے اوقات ہم تک اپنے ناموں کے ذریعے پہنچے ہیں۔ یہ نام ہی دراصل نمازوں کے اوقات ہیں۔فجر ایک متعین وقت کا نام ہے جو سورج طلوع ہونے سے پہلے کے وقت کو کہتے ہیں۔ عصر ایک وقت کا نام ہے جو سورج نچڑنے کے بعد کے وقت کا نام ہے۔ پہلے زمانے میں لوگ سورج کو دیکھ کر نمازوں کے اوقات کا تعین کرتے تھے۔ تغیر زمانہ کے ساتھ اہل علم نے یہ اوقات متعین کر دئیے اور اب افریقہ کا مسلمان بھی گھڑی پر نماز کے اوقات کا تعین کرتا ہے اور پاکستان کے چمن میں رہنے والا باشندہ بھی گھڑی کو دیکھ کر نماز پڑھتا ہے۔اگر سحر و افطار کیلنڈر پر کئے جا سکتے ہیں۔ اگر نمازوں کے اوقات کیلنڈر پر طے کئے جا سکتے ہیں تو چاند کی رویت کے لئے ایک کیلنڈر بنانے کی تجویز پر اعتراض کیوں ہے؟

چاند کے حوالے سے علماءاحناف کا قول ہے کہ اگر ایک جگہ چاند کی رویت کے شواہد پورے ہوں تو پورے بلاد عالم میں اس پر عید کی جا سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر رویت لازم ہے تو باقی دنیا کے لوگ ایک جگہ کے شواہد پر کیسے عید کر سکتے ہیں یا روزہ رکھ سکتے ہیں؟ ہمارے ممدوح صحافی کو شاید علم ہو کہ افغانستان اور پورا یورپ و امریکہ سعودی عرب کے اعلان پر ہی عید کرتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں۔ اس کے لئے نہ وہ کوئی کمیٹی بٹھاتے ہیں اور نہ رویت کی شہادتیں وصول کرتے ہیں۔جس طرح سورج کا کیلنڈر بن سکتا ہے اسی طرح چاند کا بھی بن سکتا ہے۔ جب نماز کے وقت کا تعین گھڑی سے ہو سکتا ہے۔ جب سحر و افطار کے وقت کا تعین کیلنڈرسے ہو سکتا ہے تو چاند کا تعین کیوں کیلنڈر سے نہیں ہو سکتا؟ مشکل یہ ہے کہ کچھ لوگ خود پر انکار واجب سمجھتے ہیں۔ ہمارے بوڑھے گواہ ہیں کہ مساجد میںلاﺅڈ سپیکر کو حرام قرار دیا گیا تھا۔ اب نوبت یہ ہے کہ حکومت کو مساجد کے لاوڈ سپیکرز پر پابندی لگانا پڑ رہی ہے۔ تصویر کی حرمت کا تو آج کا نوجوان بھی گواہ ہے۔ اب صورت یہ ہے کہ باقاعدہ ٹی وی بھی جائز ہو گیا۔

صحافت کے امام چراغ حسن حسرت نے خیال عظیم آبادی کا خاکہ لکھا ہے۔خیال صاحب کا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیں۔ ’ ایک دن میں بیٹھا انشائے ابوالفضل پڑھ رہا تھا۔ ایک تازہ ولایت پلٹ ایرانی پھرتا پھراتا آ نکلا۔ مجھے ابوالفضل پڑھتے دیکھ کر کہنے لگا ” بابا نصیر چہ می خوانی؟“ میں نے جواب دیا ” انشائے ابوالفضل“۔ اس نے یہ سن کر کتا ب اٹھا لی، اسے الٹ پلٹ کے دیکھا اور پھر کہنے لگا ”کدام زبان است“ میں نے کہا ”فارسی“۔ وہ حیرت زدہ ہو کر بولا کہ ” بابا ایں چہ فارسی است کہ درفہم ما نمی آید“۔ہمارے ممدوح صحافی اپنے کالم کا نام ’کس سے منصفی چاہیں‘ لکھتے ہیں۔طنز، ٹھٹھا، کسی کے موقف کی نیم بیانی، طالبان کی عذر خواہی اور ایسے بے شمار لولوئے حکمت تواتر سے ارزاں کئے رکھتے ہیں۔ ولایت پلٹ صحافی ہیں۔ ان سے سوال ہے کہ بابا ایں چہ فارسی است کہ درفہم ما نمی آید؟ آسان فارسی میں لکھیں تو عرض ہے کہ کس سے منصفی چاہیں صاحب؟

Facebook Comments HS

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 186 posts and counting.See all posts by zafarullah

One thought on “ولایت پلٹ صحافی، جاوید غامدی اور شرعی امور

  • 06/09/2016 at 1:19 صبح
    Permalink

    دنیا میں ترقی کے بعد سعودی عرب میں پورے سال کا کیلنڈر بنایا گیا ہے اور اس کے مطابق تمام امور طے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی تصدیق کیلئے کمیٹی بنی ہوئی ہے اور اس تصدیق کی بنیاد پر کیلنڈر کو شاذونادر ہی سہی مگر کبھی کبھی تبدیل کرنا پڑتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف فلکیاتی ماہرین کا کیلنڈر کافی نہیں رویت کے بغیر ہم یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ فلکیاتی اندازہ سوفیصد درست ہے اس لحاظ سے اس کمیٹی کی اہمیت اپنی جگہ موجود ہے باقی رہی غامدی صاحب کی بات تو انہوں نے ہمیشہ اپنے بڑوں سے انحراف ہی کیا ہے اور وہ کسی کے پیچھے چل ہی نہیں سکتے اس لئے اگر وہ اس کمیٹی سے ناراض ہیں تو یہ ان کی ’’طبعی‘‘ اور طبیعتی مجبوری ہے

Comments are closed.