نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئی ذہنی پریشانیاں اور معاشرتی بے پروائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج جب میں نے اپنی بیٹی کو اس کے کالج سے لیا تو وہ بہت خاموش اور پریشان نظر آرہی تھی۔ میں نے سوچا امتحانات کی وجہ سے تھکاوٹ ہو گئی ہو گی۔ لیکن اس کی خاموشی کچھ زیادہ ہی گمبھیر تھی۔ کیمبرج سے بیڈ فورڈ کا راستہ ہم دونوں کے لیے بہت طویل محسوس ہونے لگا، حلانکہ پچھلے ایک سال سے یہ کوئی 33 میل کا راستہ یا پھر یوں کہیں کہ ڈیڑھ دو گھنٹوں کی مسافت ہم دونوں کے لیے بڑی خوش گوار ہوا کرتی تھی۔ ہم سارا راستہ جاپانی اور کورین بینڈز کی موسیقی سنتے، اور ڈھیروں باتیں کرتے جن میں اس کی کلاس میں ہونے والے واقعات سے لے کر نئے دوستوں کی باتیں اور کالج کے اساتذہ کے قصے بھی شامل ہوتے تھے۔

مجھے اپنی بیٹی سے اکیلے میں باتیں کرنے کا یہ موقع بہت پسند تھا۔ ہر دن تین سے چار گھنٹے ساتھ سفر کرتے ہوئے جہاں مجھے میری بیٹی کے اور قریب آنے کا موقع ملا، وہاں مجھے اس کے دوستوں کے بارے میں بھی مزید معلومات حاصل ہونے لگی تھیں، جو ایک ماں ہونے کے ناتے سے اکثر بہت کار آمد ثابت ہوتی ہے کہ آپ کے بچوں کی جن دوسرے بچوں سے دوستی ہیں وہ کس طرح کے بچے ہیں۔ مجھے کبھی کبھی اپنی بیٹی کے خیالات اور نظریات جان کر بڑی حیرت ہوتی اور کبھی کبھی اس کی باتیں مجھے گھر کے باہر کی دنیا کی ایک ایسی جھلک دکھلاتی جو اس سے پہلے میری آنکھوں سے اوجھل تھی۔

میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ پہلے پہل میری بیٹی مجھ سے بات کرتے ہوے بہت محتاط اور تذبذب کا شکار تھی۔ وہ بولنے سے پہلے سوچتی اور پھر میرے تاثرات پڑھنے کی کوشش کرتی کہ کہیں مجھے برا تو نہیں لگا؟ پھر دھیرے دھیرے اس کا اعتماد بحال ہونے لگا اور اب وہ ہر موضوع پر کھل کر مجھ سے بات کرنے لگی تھی۔ پہلے پہل مجھے بھی اس کی کئی باتوں پر اعتراض ہوتا اور پھر میں نے یہ محسوس کیا کہ میں جس بات پر اعتراض کرتی میری بیٹی ایسی بات کو چھپا لیتی اور اگر غلطی سے کبھی اس کی زبان سی کچھ ایسا نکل جاتا تو وہ دیر تک اس کی وضاحتیں کرتی رہتی۔

یہ دیکھ کر مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور میں نے اپنے جذبات کو کافی حد تک قابو کرنا سیکھ لیا۔ اب ہم اس طرح بات کرنے لگے جیسے دو دوست یا پھر یہ کہیں کہ دو بہت گہری سہیلیاں بات کرتی ہیں۔ اگر مجھے اس کی کیسی بات پر اعتراض ہوتا بھی تو میں فوری طور پر اس کا اظہار نہیں کرتی بلکہ بعد میں کافی سوچ بچار کرنے کے بعد اس بات کو اس طرح کرتی کے وہ ایک عام روز مرہ کی گفتگو کی شکل اختیار کر لے اور میری بیٹی یہ نا سمجھے کہ میں کسی بات کی تفتیش کر رہی ہوں۔

یہی رویہ میں نے اپنے تیرہ سالہ بیٹے کے ساتھ بھی اپنایا۔ جس سے ایک اعتماد کا رشتہ قائم ہو گیا اور مجھے بچوں کے گھر سے باہر کے مسائل کا بغیر کوئی سوال کیے پتا چلنے لگا۔ یہ اندازہ بھی ہوا کہ گھر کے باہر بچوں کو کیسے کیسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور انہیں کیا کیا چیلنجز کا سامنا ہے۔ وہ باتیں جنھہیں ہم بہت معمولی سمجھتے ہیں وہ بچوں کے لیے کتنی پریشانیوں کا باعث ہوتی ہیں؟

خیر آج میری بیٹی کا اترا ہوا چہرہ یقیناً امتحانات کی پریشانی یا تھکن ہرگز نہیں تھی۔ میرا دل اندر سے کٹ رہا تھا۔ اس کی خاموشی سے گاڑی کے اندر کا ماحول خاصا گمبھیر ہوا جاتا تھا۔

آدھا راستہ یونہی خاموشی سے کٹ گیا۔ بات بہت سنجیدہ تھی۔ اس دوران اس نے چہرہ دوسری طرف پھیر کر اپنے آنسو بھی صاف کیے تھے اور پھر میرے دیکھنے پر زبردستی مسکرانے کی کوشش بھی کی تھی، جس کے جواب میں میں نے بھی مسکراتے ہوئے اور اپنی پریشانی کو چھپاتے ہوئے سرسری طور پر پوچھا کہ اس کا کالج میں دن کیسا گزرا؟

وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر شاید اس میں کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ میں نے نظریں سڑک پر گاڑے ہوئے آہستہ سے کہا ”آج کا دن بہت بھاری ہے نا؟ کچھ عجیب سا؟“

اس کے آنسو اس کی آنکھوں کا ہر بند توڑ کر بہنے لگے۔ میں اندر سے بری طرح سے لرز کر رہ گئی۔ وہ سسکیوں کے درمیان بولی، ’’آج صبح کالج کے ایک لڑکے نے کیمبرج ریلوے اسٹیشن کے پاس چلتی ہوئی گاڑی کی آگے چھلانگ لگا کر خود کشی کرلی۔‘‘

عینی اے لیول کے پہلے سال میں ہے اور وہ جس لڑکے کا ذکر کر رہی تھی وہ اے لیول کے آخری سال کے امتحانات دے رہا تھا۔

یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ ایسے واقعات روز کا معمول ہیں۔ برطانیہ میں خود کشی نوجوانوں کی موت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں میں خود کشی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جو خاصی تشویش ناک بات ہے۔ ہر سال تقریباً 1600 نوجوان جن کی عمر 35 سال سے کم ہوتی ہے، خود کشی کے ذریعے اپنی زندگی ختم کر رہے ہیں۔ جب کہ ہر سال 200 سو سے زائد اسکول کے بچے جن کی عمر بعض اوقات دس سال سے بھی کم ہوتی ہے، خود کشی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اس کی کئی وجوہ ہیں جس میں امتحانات میں نا کامی کا خوف، والدین میں علیحدگی، ناروا سلوک، دل کا ٹوٹنا، معاشی پریشانیاں، وغیرہ سرفہرست ہیں۔

پیپارس جو کے برطانیہ میں نوجوان نسل میں خود کشی کے بڑھتے ہوئے رحجان کی روک تھام کے لیے سرگرم ہے کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں اپنی زندگی سے نا امید اور مایوس نظر آنے کی بے پناہ وجوہ ہیں۔ بعض اوقات کیسی نوجوان کو دیکھ کراس بات کا اندازہ لگانا نا ممکن ہوتا ہے کے اس کے ذہن میں کیا چل رہا ہے۔ وہ ایک عام انسان کی طرح نظر آتے ہیں اور بظاہر کوئی ایسی وجہ نظر نہیں آتی، جو انھیں اپنی زندگی کا خاتمہ کر نے پر اکسا رہی ہو۔

لیکن اکثر اس بات کا پتا چلایا جا سکتا ہے، صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی روزمرہ پر بغیر کیسی شک و شبہے کے نظر رکھی جائے۔ اگر ایک بچہ ضرورت سے زیادہ سوتا ہے تو یہ بھی ہو سکتا کہ یہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہو کہ وہ ذہنی دباو کا شکار ہے۔ اور نیند میں زندگی سے فرار کی کوشش کر رہا ہے۔ مزاج کا تیزی سے بدلنا، بات بے بات زور سے ہنسنا، رونا یا غصہ کرنا، لوگوں سے کترانا، چڑچڑا پن، وغیرہ ڈپریشن کی چند ابتدائی علامات ہیں۔ نا امیدی، مایوسی اور اداسی یہ ظاہر کرتی ہیں کہ فوری طور پر توجہ کی ضرورت ہے۔

پیپارس کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر اجتماعی طور پر کوشش کی جائے اور شعور اجاگر کیا جائے تو بہت سے نوجوانوں کو ایسا کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔

سمارٹین ایک ایسی آرگنائزیشن ہے جو لوگوں میں تن تنہائی یا اکیلا پن کی کیفیت، جو اکثر خود کشی کی طرف رغبت پیدا کرتی ہے، کو دور کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ سمارٹین کا کہنا ہے کہ ہر پانچواں انسان کبھی نا کبھی اپنی زندگی میں خود کشی کرنے کے متعلق ضرور سوچتا ہے۔ ”ہمیں چاہیے کہ ہم ایسے لوگوں کی باتوں کو دھیان سے سنیں، جو مایوس نظر آتے ہوں، یا پھر خود کشی کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ اس موضوع پر بات کر کے اپنا ارادہ بدلنا چاہتے ہوں یا پھر کسی قسم کی مدد کے طلب گار ہوں۔“

اگر اپ کے ارد گرد یا پھر حلقہ احباب میں کوئی ایسا فرد ہے، جسے زندگی میں کوئی دل کشی نظر نہیں آتی۔ یا پھر مسلسل مشکلات کا شکار ہو، تو خدارا اسے نظر انداز نہ کریں۔ ہو سکتا ہے کہ اسے آپ کی ضرورت ہو اور اپ ایک زندگی بچانے میں کامیاب ہو جائیں۔

خاموشی کی نشستیں: یونیورسٹی مینٹل ہیلتھ ڈے پر شعور اجاگر کرنے کے لیے، 95 گریجویشن گاؤن خالی نشستوں پر ان تمام یونیورسٹی طالب علموں کی نشان دہی کر رہے ہیں جو ہر سال خود کشی کرتے ہیں۔ (فوٹو کرٹسی پیپارس چیریٹی یو کے)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •