عالمی یوم انسداد چائلڈ لیبر: بچوں کی معصومیت کا تحفظ

چائلڈ لیبر ایک عالمی مسئلہ ہے جو لاکھوں بچوں کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ تصور کریں کہ ایک بچہ، جو سکول میں ہونا چاہیے، کسی فیکٹری میں سخت مشقت کر رہا ہے۔ ہر سال 12 جون کو عالمی یوم انسداد چائلڈ لیبر منایا جاتا ہے تاکہ اس مسئلے پر روشنی ڈالی جا سکے اور اس کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ یہ مضمون چائلڈ لیبر کی موجودہ صورت حال، اس کے

Read more

گریجوایٹس کا المیہ: خوابوں کی ڈگریاں اور بے روزگاری

یوکے میں ہر سال لاکھوں طلبا اپنے دل میں بڑے خواب اور امیدیں لیے یونیورسٹیوں سے گریجوایشن مکمل کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں ہوتی ہیں، لیکن جب وہ عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو ایک سخت حقیقت ان کا منتظر ہوتی ہے : بے روزگاری۔ علیشا کی کہانی علیشا، کمپیوٹر سائنس میں گریجوایٹ، نے بڑی محنت اور امیدوں کے ساتھ اپنی ڈگری مکمل کی تھی۔ مگر نوکری کی تلاش میں اسے جلد ہی احساس ہوا

Read more

زمین کی پکار: ورلڈ انوائرمنٹ ڈے پر ایک تحقیقی فیچر

کراچی کی تپتی دوپہر میں جب چمکتی ہوئی سورج کی روشنی سمندر کی لہروں پر رقص کرتی، تو کسی زمانے میں یہ منظر دلوں کو تازگی بخشتا تھا۔ مگر آج یہی ساحل کچرے کے ڈھیروں میں ڈھکا ہوا ہے، اور سمندر کی موجوں میں پلاسٹک کی بوتلیں تیرتی نظر آتی ہیں۔ ہوا میں گٹر کے پانی اور آلودگی کی بدبو شامل ہے، جو سمندر کے پانی میں مضر مادوں کی بھرمار کی وجہ سے پھیلی ہوئی ہے۔ یہ مناظر اور

Read more

ایک بھولی بسری محبت کی کہانی

یہ ایک سرد اور خاموش شام تھی۔ احمد اور اس کی بیوی، سارہ، آفس کے سالانہ ڈنر کے لیے تیار ہو رہے تھے۔ احمد کی ماں، جو زندگی کے طویل سفر سے تھکی ہوئی تھی، ایک کونے میں بیٹھی اپنے گھٹنوں کے درد سے کراہ رہی تھی۔ ”بیٹا، میری پین کلرز اور درد کی کریم نہیں مل رہیں اور میرے گھٹنوں میں کئی دنوں سے شدید درد ہو رہا ہے،“ اس نے نقاہت بھری آواز میں کہا۔ احمد نے گھڑی

Read more

مینوپاز، وزن میں اضافہ اور ازدواجی زندگی پر اثرات ( 3 )

مینوپاز خواتین کی زندگی کا ایک اہم مرحلہ ہے، جس میں جسمانی، نفسیاتی، اور سماجی تبدیلیاں آتی ہیں۔ اس سے پہلے کے دو مضامین میں مینوپاز کے نفسیاتی اثرات پر بات کی گئی تھی۔ اس تیسرے حصے میں ہم مینوپاز کی وجہ سے ہونے والے وزن میں اضافے، سیکس کی خواہش میں کمی یا کبھی اضافہ، اور ان کے ازدواجی زندگی پر اثرات پر تفصیل سے بات کریں گے۔ ساتھ ہی، ماہرین کی رائے اور عملی تجاویز بھی شامل کی

Read more

مینوپاز اور ذہنی صحت: خواتین کے لیے ایک گہری جھلک (2)

مینوپاز، خواتین کی زندگی کا ایک قدرتی مگر پیچیدہ مرحلہ ہے، جو نہ صرف جسمانی تبدیلیاں لاتا ہے بلکہ ذہنی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اگرچہ اس مرحلے کے جسمانی پہلوؤں پر مغربی معاشرے میں کافی بات کی جاتی ہے، لیکن ذہنی صحت کے مسائل پر یہاں بھی کم ہی توجہ دی جاتی ہے۔ کچھ معاشروں میں، خاص طور پر مشرقی، خصوصاً پاکستانی کلچر میں، خواتین کو ان کی جسمانی تبدیلیوں جیسا کہ بلوغت، حیض اور ہارمونز

Read more

مینوپاز: خواتین کی زندگی کا ایک نیا باب

مینوپاز، خواتین کی زندگی کا ایک دلچسپ مگر چیلنجنگ مرحلہ ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب عورت کی ماہواری ختم ہو جاتی ہے اور وہ قدرتی طور پر حاملہ ہونے کے قابل نہیں رہتی۔ عموماً یہ مرحلہ 45 سے 55 سال کی عمر کے درمیان ہوتا ہے، لیکن اس دوران کیا کچھ بدلتا ہے اور اس کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ آئیے اس پر ایک دلچسپ نظر ڈالتے ہیں۔ جسمانی تبدیلیاں : ایک نیا جسمانی سفر ہارمونز کی

Read more

نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئی ذہنی پریشانیاں اور معاشرتی بے پروائی

آج جب میں نے اپنی بیٹی کو اس کے کالج سے لیا تو وہ بہت خاموش اور پریشان نظر آرہی تھی۔ میں نے سوچا امتحانات کی وجہ سے تھکاوٹ ہو گئی ہو گی۔ لیکن اس کی خاموشی کچھ زیادہ ہی گمبھیر تھی۔ کیمبرج سے بیڈ فورڈ کا راستہ ہم دونوں کے لیے بہت طویل محسوس ہونے لگا، حلانکہ پچھلے ایک سال سے یہ کوئی 33 میل کا راستہ یا پھر یوں کہیں کہ ڈیڑھ دو گھنٹوں کی مسافت ہم دونوں کے لیے بڑی خوش گوار ہوا کرتی تھی۔ ہم سارا راستہ جاپانی اور کورین بینڈز کی موسیقی سنتے، اور ڈھیروں باتیں کرتے جن میں اس کی کلاس میں ہونے والے واقعات سے لے کر نئے دوستوں کی باتیں اور کالج کے اساتذہ کے قصے بھی شامل ہوتے تھے۔

Read more

نئی ماؤں میں ڈپریشن اور خودکشی کا رجحان

ماں بننا دنیا کا خوبصورت ترین احساس قرار دیا جاتا رہا ہے لیکن زچگی سے متعلق معاملات اب خواتین میں ذہنی امراض کے مسائل کا سبب بنتے جارہے ہیں۔ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروسز کی 2018 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پرانٹل مینٹل ہیلتھ ایشوزکافی تشویش ناک صورت اختیار کر چکے ہیں اور اگر فوری توجہ نادی گئی تو نئی ماثومیں خود کشی کے کیسزمیں اور اضافے کی پیشینگوئی ہے۔

سینٹر فار مینٹل ہیلتھ کی ایک رپورٹ دی کاسٹ آف پیرینٹال مینٹل ہیلتھ پرابلمز کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 20 فیصد کے قریب خواتین حمل کے دوران یا پھر بچے کی پیدائش کے ایک سال کے عرصے کے اندر مختلف قسم کے ذہنی مسائل کا شکار ہوتی ہیں جسے عام طورپر زچگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی ذہنی پریشانیاں کہا جاتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ریسرچ کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ حمل کے دوران یا پھر بچے کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد تک ماؤں میں شدید بے چینی کا ہونا بہت عام ہے۔ لیکن یہ بے چینی آکثراس حد تک بڑھ جاتی ہے وہ اپنے حالات سے تنگ آکر خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتیں ہیں۔

Read more