نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئی ذہنی پریشانیاں اور معاشرتی بے پروائی

آج جب میں نے اپنی بیٹی کو اس کے کالج سے لیا تو وہ بہت خاموش اور پریشان نظر آرہی تھی۔ میں نے سوچا امتحانات کی وجہ سے تھکاوٹ ہو گئی ہو گی۔ لیکن اس کی خاموشی کچھ زیادہ ہی گمبھیر تھی۔ کیمبرج سے بیڈ فورڈ کا راستہ ہم دونوں کے لیے بہت طویل محسوس ہونے لگا، حلانکہ پچھلے ایک سال سے یہ کوئی 33 میل کا راستہ یا پھر یوں کہیں کہ ڈیڑھ دو گھنٹوں کی مسافت ہم دونوں کے لیے بڑی خوش گوار ہوا کرتی تھی۔ ہم سارا راستہ جاپانی اور کورین بینڈز کی موسیقی سنتے، اور ڈھیروں باتیں کرتے جن میں اس کی کلاس میں ہونے والے واقعات سے لے کر نئے دوستوں کی باتیں اور کالج کے اساتذہ کے قصے بھی شامل ہوتے تھے۔

Read more

نئی ماؤں میں ڈپریشن اور خودکشی کا رجحان

ماں بننا دنیا کا خوبصورت ترین احساس قرار دیا جاتا رہا ہے لیکن زچگی سے متعلق معاملات اب خواتین میں ذہنی امراض کے مسائل کا سبب بنتے جارہے ہیں۔ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروسز کی 2018 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پرانٹل مینٹل ہیلتھ ایشوزکافی تشویش ناک صورت اختیار کر چکے ہیں اور اگر فوری توجہ نادی گئی تو نئی ماثومیں خود کشی کے کیسزمیں اور اضافے کی پیشینگوئی ہے۔

سینٹر فار مینٹل ہیلتھ کی ایک رپورٹ دی کاسٹ آف پیرینٹال مینٹل ہیلتھ پرابلمز کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 20 فیصد کے قریب خواتین حمل کے دوران یا پھر بچے کی پیدائش کے ایک سال کے عرصے کے اندر مختلف قسم کے ذہنی مسائل کا شکار ہوتی ہیں جسے عام طورپر زچگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی ذہنی پریشانیاں کہا جاتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ریسرچ کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ حمل کے دوران یا پھر بچے کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد تک ماؤں میں شدید بے چینی کا ہونا بہت عام ہے۔ لیکن یہ بے چینی آکثراس حد تک بڑھ جاتی ہے وہ اپنے حالات سے تنگ آکر خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتیں ہیں۔

Read more