طیارے کے نچلے حصے میں چھپ کر سفر: زندہ رہنا ممکن ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہوائی جہاز کا لینڈنگ گئیر

Getty Images

لندن میں اتوار کو ایک باغ سے ایک لاش ملی ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص ایک طیارے کے لینڈنگ گیئر میں چھپا ہوا تھا اور وہ ہیتھرو ہوائی اڈے میں آنے والی ایک پرواز سے گرا ہے۔

پولیس کے خیال میں یہ شخص کینیا ایئر ویز کی نائروبی سے لندن آنے والی پرواز سے گرا ہے۔

جائے وقوع کے قریب رہنے والے ایک شخص نے بتایا کہ لاش دھوپ سیکتے ایک مقامی شخص سے ایک میٹر کے فاصلے پر گری۔

لوگوں کا طیاروں میں چھپ جانا کتنا عام ہے؟

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی نے طیارے کے لینڈنگ گیئر میں چھپ کر برطانیہ میں داخل ہونے کی کوشش کی ہو۔ تاہم یہ کتنی عام بات ہے اور دورانِ سفر ایسے افراد کی حالت کیا ہوتی ہے؟

جنوری 2004 اور مارچ 2015 کے درمیان برطانیہ کے ہوائی اڈوں پر چھ ایسے لوگ پکڑے گئے جو طیاروں میں چھپے ہوئے تھے۔ ان کے علاوہ ایک اور شخص ایک برطانوی ایئر لائن پر ایک غیر ملکی ایئر پورٹ پر ملا۔

ادھر امریکہ میں ہوابازی کے وفاقی نگران ادارے ایف اے اے کے اندازے کے مطابق 1947 سے 2012 کے درمیان 85 پروازوں پر 96 افراد کے چھپ کر سفر کرنے کے واقعات پیش آئے۔

ایسے افراد میں سے کتنے ہلاک ہو جاتے ہیں؟

برطانیہ میں طیاروں میں چھپ کر آنے والوں کے ہلاک ہونے کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔

2001 میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ محمد ایاز کی لاش ہیتھرو ایئر پورٹ کے قریب ایک ہوم بیس نامی سٹور کے کار پارک سے ملی تھی۔ اس سے چار سال قبل ایک اور شخص کی لاش اسی سٹور کے قریب گیس کی پائپ لائن پر سے ملی تھی۔ یہ افراد لینڈنگ گیئر کے کھلنے سے طیارے سے گر جاتے ہیں۔

2007 میں لاس اینجلس میں برٹش ایئرویز کے ایک طیارے کے لینڈنگ گیئر سے بھی ایک نوجوان کی لاش ملی تھی۔

اگست 2012 میں ہیتھرو ہوائی اڈے پر ایک شخص کی لاش ایک طیارے کے نچلے حصے سے ملی تھی۔ یہ پرواز کیپ ٹاؤن سے آئی تھی۔ اس واقعے کے ایک ماہ بعد موزمبیق سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ ہوزے کی لاش مغربی لندن کی ایک گلی میں ملی۔ وہ انگولا سے آنے والے ایک طیارے سے گر کر ہلاک ہوئے تھے۔

اسی طرح جون 2015 میں ایک شخص کی لاش لندن میں رچمنڈ کے علاقے میں ایک آفس بلڈنگ کی چھت سے ملی جبکہ ایک دوسرا شخص ہیتھرو میں تشویش ناک حالت میں ملا۔ ان دونوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ برٹش ایئر ویز کی ایک پرواز پر جوہانس برگ سے چھپ کر آئے تھے۔

ایسے واقعات میں جو لوگ بچ پاتے ہیں وہ عموماً کم فاصلے کی پرواز پر چھپ کر سفر کرنے والے ہوتے ہیں اور قدرے نوجوان ہوتے ہیں۔

جون 2010 میں ایک بیس سالہ رومینیئن لڑکا ویانا سے لندن کی پرواز میں ٹائر کے خانے سے ملا تھا مگر اس واقعے میں طیارہ خراب موسم کی وجہ سے 25000 فٹ سے اوپر گیا ہی نہیں تھا۔

ایف اے اے کی جانچ کے مطابق 23 افراد یعنی تقریباً ایک چوتھائی افراد بچ پاتے ہیں۔


بچ جانے والوں کی کہانیاں

22 سالہ آرمانڈو سوکراس رامیریز 1969 میں کیوبا سے مڈرڈ کی ایک پرواز پر چھپ کر چڑھے اور فراسٹ بائٹ کے علاوہ انھیں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔

1996 میں 23 سالہ پردیپ سائینی دلی سے لندن کی ایک دس گھنٹوں پر محیط پرواز پر بچ گئے تاہم ان کے بھائی ہیتھرو کے قریب طیارے کے ٹائر کا خانہ کھلنے سے گر کر ہلاک ہو گئے۔

2000 میں فیڈل ماروہی نے تاہیتی سے لاس اینجلس کا 4000 کلومیٹر کا سفر ایک 747 پر چھپ کر کیا۔


ایسی پروازوں پر کیا ہوتا ہے؟

طیارے کے نچلے حصے میں چھپ کر سفر کرنے والوں کے لیے شدید خطرات ہوتے ہیں۔ ان میں لینڈنگ گیئر کے تلے دب جانے، فروسٹ بائٹ، قوت سماعت کھونا، ٹینیٹس اور ایسڈوس کے مرض شامل ہیں جو کہ کوما میں چلے جانے یا موت کا باعث بن سکتے ہیں۔

پرواز کے دوران طیارے کے نچلے حصے میں درجہ حرارت منفی 63 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔

18000 فٹ کی بلندی پر ہائیپوکسیا ہو جاتا ہے جس میں پورے جسم یا پھر اس کے کسی حصے کو آکسیجن نہیں ملتی اور اس کی وجہ سے کمزوری اور بینائی کے مسائل ہو جاتے ہیں۔

33000 فٹ کی بلندی یا اس سے زیادہ پر انسانی پھیپھڑوں کو کام کرنے کے لیے مصنوعی فضائی دباؤ کی ضرورت پڑتی ہے۔

جب طیارہ 22000 فٹ کی بلندی پر پہنچتا ہے تو اس کے ذیلی حصے میں چھپے کسی بھی شخص کو ہوش میں رہنے میں مشکلات ہوتی ہیں کیوں کہ خون میں آکسیجن کی سطح کم ہو جاتی ہے۔

اس کے بعد جب چند ہزار فٹ کی اونچائی پر اس حصے کے دروازے طیارے کے پہیے نکالنے کے لیے کھلتے ہیں تو اس طرح چھپے افراد گر کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔

لوگ طیاروں کے نیچلے حصے تک پہنچتے کیسے ہیں؟

دنیا کے کچھ ہوائی اڈوں پر سکیورٹی اتنی سخت نہیں ہوتی جتنی برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ہوتی ہے۔

اگر سکیورٹی اور حفاظتی اقدامات ٹھیک نہ ہوں تو لوگ طیاروں کے پہیوں کے خانے میں چھپ کر بیٹھ جاتے ہیں۔

اگست 2012 میں کیپ ٹاؤن سے آنے والی پرواز میں تو عملے کو اطلاع بھی دی گئی لیکن دیر سے۔ طیارے کے عملے کو دورانِ پرواز پیغام بھیجا گیا کہ ایک سکیورٹی باڑ کو نقصان پہنچایا گیا تھا اور کسی شخص کو طیارے کے نچلے حصے میں داخل ہوتے دیکھا گیا تھا۔

یہ افراد کون ہوتے ہیں؟

عموماً یہ مرد ہوتے ہیں جو کم ترقی یافتہ ممالک سے یورپ یا شمالی امریکہ جانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔

کچھ کیسز میں یہ لوگ اپنے ممالک میں تشدد یا جنگ سے بچنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں جبکہ دیگر بہتر معاش کی تلاش کے لیے جان کی بازی لگا بیٹھتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12293 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp