ہم مصنوعی کیوں ہوتے جا رہے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک عجیب سی افراتفری اور دوڑ ہے جس میں میں ہم سب شامل ہیں۔ ٹرینڈ فالو کرنے کی دوڑ، فیشن اور برینڈز کی دوڑ، کھانے پینے، گھومنے پھرنے، ریسٹورانٹ اور ریزارٹ کی دوڑ۔ ایک لگن ہے ڈھونڈیں دیکھیں اور خود پہ یہ برانڈ ٹیگ لگا کے خوش ہونے کا لبادہ چڑھا لیں۔ ہر پل، ہر لمحہ سوشل میڈیا کی زینت بنا دیں۔ بات کریں تو لازم ہے کہ کسی بہانے سے بتائیں کہ آج کون کون سے برانڈ کا اشتہار بنے ہیں۔ کون کون سے کزین سے لطف اندوز ہو چکے ہیں۔

اور اختتام ہفتہ پہ کس مشہور جگہ جانے کا ارادہ ہے۔ یہ اپنے ذوق پہ ہے کہ چناؤ کیسے ہوتا ہے۔ خود کو ادب و ادیب سے محبت کرنے والا ثابت کرنا ہے تو کوئی ایسی محفل جہاں ایسے لوگوں کا اکٹھ ہو۔ آرٹ سے دلچسپی ظاہر کرنی تو اس سے متعلقہ سرگرمی کا حصہ بننے کا ذکر۔ اپنی ذات کی گرومنگ کی بات ہے تو ظاہری خال و خد سے لے کر کوئی ایسی ورکشاپ جہاں جادو سکھایا جاتا ہو کہ آپ کیسے یک دم سوئٹ اور سافٹ ہو سکتے ہیں۔ بہرحال جیسا ذوق ویسی سرگرمی اور ضروری یہ نہیں جانے مقصد سیکھنا ہو لیکن بتانا اور تصاویر میں دکھانا بہر حال ایک طے شدہ مقصد ضرور ہوتا ہے۔

بنیادی بات یہ نہیں کہ آپ یہ سب اپنی خوشی اور تسکین کے لیے کر رہے ہیں۔ بلکہ کہیں شعور و لاشعور میں ایک بات بس گئی ہے کہ خود بظاہر خوش، مطمعن اور پرسکون دکھانا ہے۔ ان لوگوں کو جو ہمیں جانتے ہیں اور ان کو جو ہمیں نہیں جانتے۔ ایک فینٹسی پیدا کرنے کی کوشش کہ ہماری زندگی کو آئیڈلائز کیا جائے۔ درحقیقت ہم اپنی ذات سے خوش نہیں ہوتے۔ مطمعن نہیں ہیں سب بدلنا چاہتے ہیں۔ بلکہ اپنے اصل کو چھپاناچاہتے ہیں۔ اپنے بیک گروانڈ کو، رنگت کو، شباہت کو، سوشل سٹیٹس کو بس ایک ملمہ کاری ہے جس کے پیچھے سب چھپا ہوا ہے۔

ایسا کیوں ہے۔ کیوں سچے اور خالص لوگ نہیں ملتے۔ وہ جو اپنی حقیقت پہ خوش ہیں اس سے مطمعن ہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ورچوئل زندگی نے ہمیں بدلا ہے۔ ہمیں زبان دی ہے۔ جو بات پہلے کہتے ہوئے بلکہ آج بھی براہ راست کہتے ہوئے کہنے والے کہ پسنے چھوٹ جائیں وہ یہاں سکون سے کہہ سکتا ہے۔ گالی دے سکتا ہے، اپنی جنسی فرسٹریشن ظاہر کر سکتا ہے، خود کو جو چاہے وہ دکھا سکتاہے۔ وہ شناخت بنا سکتا ہے جو وہ چاہے۔ اس دنیا کی رنگینی جھوٹ کی بنیاد پہ ہے۔

ہم ایک ایسے سماج کا حصہ ہیں جو ٹشو پیپر کلچر کہلاتا ہے۔ یہاں احساسات، خیالات، جذبات اہم نہیں ہیں۔ بلکہ ضرورت اہم ہے۔ اسی ضرورت نے ہمیں سکھایا ہے کہ کیسے حالات کے مطابق ہمیں خود پوز کرنا ہے۔ کیسے اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے مقابل فریق کے انداز میں ڈھلنا ہے اور بھول جانا ہے کہ ہم اصل میں کیا ہیں۔ اور کام نکلنے کے بعد اس ٹشو پیپر کو کیسے ڈسپوز کرنا ہے۔

اب بات ہے خوش رہنے کی۔ ہم خوش نہیں رہتے لیکن خوش ہونے کی اداکاری ضرور کرتے ہیں۔ شدید برے حالات میں جب انسان خود سے بیزار ہو فلٹر والی سیلفی۔ کھانے کی تصویر، یوں ہی کوئی رینڈم کلک ہمیں خوش ثابت کرنے کو کافی ہے۔ اور مقصد بھی خوش ہونا نہیں خود کو خوش ثابت کرنا ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ کا ہالو مین یہی تو ہے اندر سے کھوکھلا لیکن بظاہر چاک و چوبند۔ اردگر سے کٹا ہوا لیکن من سے بھی خالی۔ بنا مقصد دن رات گزارتا لیکن ایک خول میں مقید جو اسے مصروف ظا ہر کرے۔ ایک بے کیف و بے مقصد زندگی گزارتا۔ لیکن بظاہر مطمعئن اور خوش۔

تخلقی کام کرنے کے لیے فرصت درکار ہوتی ہے۔ اور من کے خالی پن کے شور دبانے کو مصروفیت درکار ہے۔ یہ بھی جدید زندگی کا تحفہ ہے۔ من کے خالی پن کو بھرنے کے لیے احساسات، خیالات اور سب سے بڑھ کے امیجینشن کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ تب میسر ہوتا ہے جب آپ اپنے اصل کی بات سنیں۔ محسوس کریں کہ آپ کو کن باتوں سے خوشی ملتی ہے۔ کون سے ایسے کام ہیں جنہیں کرنے سے آپ کو تشفی کا احساس ہوتا ہے۔ جب انسان اس فکر میں مگن ہوکہ ہونا اہم نہیں نظر آنا اہم ہے تو بتدریج وہ اسی مصنوعی پن کا شکار ہو جاتا ہے۔ پھر جھگڑا مصروفیت کا ہوتا ہے کہ کوئی سوچ نہ آئے جو اس ملمع کی گئی زندگی کو گزند پہنچا کے خیال و احساس میں تکلیف پیدا کرے۔

ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو جیسے ہیں اپنے حال سے خوش ہیں۔ جنہیں یہ فکر نہیں کہ انہیں حسین، سمارٹ، ایکٹیو اور مصنوعی خوش نظر آنا ہے۔ اور کتنے ایسے ہیں جو اپنے کام سے کام رکھنا جانتے ہوں۔ اس بات کو اپنا فرض نہ سمجھتے ہوں کہ ا نہیں دوسروں کو کسی کمی احساس نہیں دلوانا کہ ان کے اپنے احساس کمتری کی تسکین ہو سکے۔ انسانی نفسیات بھی عجیب ہے اپنی زندگی کی محرومیوں پہ قابو پا لینے کے باوجود اس کی تسکین تبھی ہوتی ہے جب ہو کسی دوسرے کی خودداری پہ ضرب لگاکے اپنی احساس کمتری کو احساس برتری کا لبادہ پہنا کہ خود کو تسلی نہ دے لے کہ تم دوسروں سے بہتر ہو۔

ہم اپنی شناخت سے، حقیقت سے اور سچی سوچ سے بہت دور نکل آئے ہیں۔ عوامل سماجی ڈھانچے کے بھی ہیں اور انسان کے اپنے دل و دماغ کے بھی۔ یہ دونوں باہم منسلک ہیں۔ اسے میں المیہ نہیں کہوں گی بلکہ یہ فطرت کا بہاؤ ہے۔ ایک تبدیلی کا دور ہے جو ہر انسانی زندگی کے پہلو کو بدل رہا ہے اس پہ اثر انداز ہو رہا ہے۔ لیکن اس بات کی ضرورت ہے تھوڑا سا وقت نکال کے ہاتھ اور آنکھوں کو موبائل سے دور کر کے اپنے ساتھ وقت گزاریں۔

خود کے بارے میں سوچیں اور جو آپ ہیں اسے تسلیم کرلیں۔ دنیا پہ ثابت کرنا یا سے تسلیم کروانا بے معنی ہیں۔ خود سے کہہ لیں میں جو ہوں سو ہوں کسی کو مسئلہ ہے تو یہ اس کامسئلہ ہے میرا نہیں۔ اس ہجوم میں آپ تب تنہا محسوس نہیں کریں گے، اجنبی محسوس نہیں کریں گے جب تک آپ کے پاس سچی سوچ ہو، احساس ہو تخیل کی طاقت ہو اور کھوج نکالنے کا جذبہ ہو۔ آپ اپنی حقیقت سے خوش ہوں جب خوش ہونا خوش دکھنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •