عورت مارچ مسائل، مطالبے، ردعمل

ایک کہانی پڑھی تھی ایک پتا پانی میں بہتا جا رہا تھا بہت خوش اچلتا کودتا۔ ایک پریشان حال آدمی نے اس سے پوچھا تم فنا کی جانب جا رہے ہو۔ درخت سے ٹوٹ چکے ہو۔ ساری زندگی تم نے درخت کی آبیاری کے لیے کام کیا اب جب تم بے جان ہوئے تو اس نے تمہیں جھٹک دیا۔ تمہیں دکھ نہیں ہوا؟ پتا بولا میں نے درخت کی آبیاری کا کام کیا تو درخت نے بھی مجھے سینچا میں نے اس نے مجھے پانی مہیا کیا اپنے جسم کا حصہ بنایا۔ میں نے قدرت کے رنگ دیکھے۔اس حسن کا حصہ رہا جسے قدرت نے لوگوں کے لیے باعث رحمت و فرحت بنایا۔ میں نے اپنے حصے کا کام خوشی سے کیا اپنی زندگی جی اور اب وقت آ گیا تھا کہ میں وہ جگہ کسی دوسرے کے لئے چھوڑ دوں۔ تاکہ زندگی کا نظام چلتا رہے۔ میں خوش ہوں کہ میں نے بھرپور زندگی گزاری۔ اب میں پانی میں تیروں گا پھر کہیں زمین کا حصہ بن کے مزید زندگی کا سبب بنوں گا تو اداسی کیسی۔

Read more

غیر معمولی عورت

حسین عورتیں حیران ہیں کہ میرے فخر کا راز کیا ہے۔ میں پیاری نہیں، نہ کسی ماڈل جیسی جسامت میرا خواب ہےلیکن جب میں یہ کہتی ہوںتو گمان کیا جاتا ہے میں جھوٹی ہوںمیں کہتی ہوںمیرے بازوں کے ہالےمیری پشت کا پھیلاومیرے لبوں کے ابھارسب یہی بتانے کے لیے ہیںکہ میں عورت ہوں

Read more

جینا ہے تو آگے بڑھنا ہے

نجانے ہم لوگ دکھ اوڑھ کے اتنا خوش کیوں ہوتے ہیں۔ صدیوں پرانی تہذیب کے کھوجانے کا دکھ ہو یا کسی اپنے پرائے کی کہی گئی کسی بات یا عمل کا دکھ۔ عجیب بات ہے ہمیں دکھ میں رہنا اتنا پسند ہوتا ہے کہ زندگی بالکل متوازن بھی ہو تو کوئی بھولی بسری یاد نکال کے خود کو دکھی کر لیتے ہیں۔ بات یہ نہیں کہ ہم حساس نہیں ہونا چاہیے بات یہ ہے کہ ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ احساس کس کیفیت کا نام ہے۔

ہم اپنے حوالے میں حساس نہیں بلکہ اوور سنسیٹو ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہر توجہ، ہر جذبہ، ہر خیال ہمارا حق ہو اور اس کے بدلے میں ہمیں کچھ نہ دینا پڑے۔ جہاں تھوڑی سی اس حق پہ ضرب پڑتی ہے ہم تڑپ اٹھتے ہیں۔ اور پھر تہیہ کر لیتے ہیں کہ اب کبھی اس بات کو معاف نہیں کرنا۔ پھر ہر جاننے والے سے ایک ہی شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ فالاں وقت یہ بات ہوئی۔ دراصل ہم بھلانا نہیں چاہتے نہ ہی اس کیفیت سے نکلنا چاہتے ہیں

Read more

بچوں پہ جنسی تشدد اور ہمارا سماج

پاکستانی تہذیب قدامت پسند تہذیب مانی جاتی ہے۔ یہاں بہت سے معاملات ایسے ہیں جو انسانی مسائل ہونے کے باوجود محض اس لیے زیر بحث نہیں لائے جاتے کہ ان سے معاشرتی اخلاقیات پہ ضرب پڑتی ہے۔ ایک بہت ہی بد صورت اور کریہہ مسئلہ بچوں پہ ہونے والا جنسی تشدد ہے۔ ایسا نہیں کہ یہ معاملہ نیا ہے۔ مسئلہ پرانا ہے لیکن اسے کارپٹ کے نیچے اسی لیے دبایا گیا کہ اس سے سو کالڈ اخلاقی معاشرے پہ سوالات اٹھتے ہیں۔ پچھلے دنوں چلنے والی می ٹو کی مہم نے جہاں خواتین کو زبان دی کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی زیادتوں پہ بات کر سکیں۔

وہیں کچھ لوگ اس بات پہ اعتراض کرتے بھی نظر آئے کہ اس واقعے کا ذکر کرنے کا فائدہ جو کبھی بچپن میں ہوا ہو یا اسے سالوں بیت چکے ہوں۔ یہ کہنے والے بے حس کہلائے جا سکتے ہیں ظلم چاہے جب بھی ہوا ہو ظلم ہی کہلائے گا وقت بدلنے سے اس کی حقیقت نہیں بدلتی۔ معاملہ صرف خواتین سے متعلق نہیں ہے بلکہ اس طرح کی تکلیف کا سامنا مردوں کو بھی ہو سکتا ہے۔ بلکہ بہت سے لوگ اس کا سامنا اپنے بچپن میں یا بعد زندگی کے کسی بھی مرحلے پہ ہو سکتا ہے۔

Read more

محبوب کے نام ایک اور خط

میرے پیار شاید تمہیں خبر نہ ہو کہ مجھے تم میں اپنا کھویا ہوا عکس دکھائی دیتا ہے۔ تمہاری نا سمجھ میں آنے والی الجھنوں میں، سکوت جیسی خاموشی میں، بے سبب اداسی میں میرا کھویا ہوا حصہ جھلکتا ہے۔ میں جو اب بدل گئی ہوں۔ مجھے جذبوں کو پیمانوں میں ماپنا آگیا ہے۔ مجھے تسلی ہوتی ہے جب کیں کسی الجھ کا آپریشن کر کے حتمی نتیجے پہ پہنچتی ہوں کہ یہ بے وجہ اداسی نہیں بلکہ ذہنی دباو، یہ بے کلی کسی کے کھونے کی یا غیر مرئی ذات کی نہیں بلکہ ڈپریشن کی علامت ہے۔

Read more

تنہائی کا ہجوم

بے تحاشا ہنگامہ ہے۔ میسجز کی ٹونز، وٹس ایپ، فیس بک، ٹوئیڑ، میسنجر، ای میل، ای بنکنگ کے نوٹیفیکیشن۔ وٹس ایپ دیکھتی ہوں۔ تمہارا میسج ہے مسکراتی ہوں کسی شوخ بات کا جواب ہے رپلائی کرتی ہوں۔ ایک کارپوریٹ میسج ہے، بھئی کس نے کہا کہ مجھے بھیجو میسج، کوئی دلچسپی نہیں آپ کی برانڈ سے معاف کر دو۔ طبعیت ہی گراں گزرتا ہے۔ پوپ اپ میں میسنجر کا نوٹیفیکشن ہے دیکھتی ہوں۔ یہ کس نے بھیجا کہا میں نے کہ مجھے لنک سینڈ کرو۔

Read more

ایک بار محبت کر کے تو دیکھو!

عرصہ ہوا کا فکا کی کہانی کایا کلپ پڑھی تھی۔ اس میں ایک ایسے شخص کا قصہ ہے جو ایک صبح سو کے اٹھتا ہے تو خود کو انسان کی بجائے ایک بڑے سے کیڑے میں تبدیل پاتا ہے۔ پہلے تو اس کایا کلپ کو وہ خود بھی نہیں سمجھ پاتا اس کے لیے سب…

Read more

مردوں کا عالمی دن

گزشتہ دنوں منایا جانے والا مردوں کا عالمی دن میرے علم میں نہیں تھا۔ کوئی شور ہے نہ ہی کوئی ایونٹ، نہ ان کی زندگی میں آنے والی مشکلات کا تذکرہ۔ یہ ابھی بلوغت کو بھی نہیں پہنچا محض 1994 میں اس کا آغاز ہوا اور تو ابھی بلوغت میں چار سال کا وقت باقی…

Read more

سوشل میڈیا پہ تعلق بناتی گوریاں اور ہمارے رویے

حال میں ایک خبر نظر سے گزری کہ ایک امریکی خاتون جن کی عمر 41 سال تھی پاکستانی 21 سالہ نوجوان کے عشق میں سیالکوٹ آ پہنچی ہیں۔ عام سی خبر ہے، عام ہی رہتی۔ ٹیکناکوجی نے ہمیں بدلا ہے، ہمارے رہن سہن کو بدلا تو ظاہر ہے دوستیاں، رشتوں اور تعلقات کو بھی وسعت…

Read more

می ٹو ایک ٹرینڈ ایک ذمہ داری

ایسا ہی کچھ انڈیا میں ہوا۔ 2014 میں بس میں سفر کے دوران دو بہنوں نے تین لڑکوں کی پٹائی کی اور الزام لگایا کہ انہوں نے چھیڑ چھاڑ کہ تھی۔ اس واقعے کی ویڈیو کسی نے سوشل میڈیا پہ اپ لوڈ کی بات گورنمنٹ تک پہنچی ہریانہ کی حکومت نے ریپلک ڈے پہ لڑکیوں کو ایوارڈ اور 31000 انعام دینے کا اعلان کیا۔ کسی نے لڑکوں کا موقف جاننے کی کوشش نہیں کی۔ کچھ عرصہ کے بعد انہیں لڑکیوں کی ایک اور ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ ایک اور لڑکے کو مار رہی تھیں۔

یہاں رائے میں تھوڑی تبدیلی آنا شروع ہوئی اور اسی بس میں جہاں پہلے تین لڑکوں کو مارنے کا واقعہ پیش آیا تھی 6 خواتین مسافروں نے بیان دیا کہ وہ جھگڑا ہراسمنٹ کا نہیں بلکہ سیٹ پہ ہو تھا جو وہ لڑکا بزرگ خاتون کو دینا چاہتا تھا۔ اس کے بعد یہ بات منظر عام پہ آئی کہ لڑکیاں لگاتار لڑکوں مار رہی تھیں اور انہیں بلیک میل کر کے رقم وصول کر رہی تھیں۔ 2017 میں جج نے لڑکوں کو بے قصور قرار دیا اور انہیں باعزت بری کیا۔ لیکن ان تین سالوں میں ان کا سماجی رتبہ ختم ہو گیا۔ وہ کوئی ملازمت حاصل نہ کر سکے۔ گھر کے معاشی حالات خراب ہو گئے۔ تین سال کے بعد حاصل ہونے والی آزادی ان کی عمر بھر کی بربادی تھی۔

Read more