ہمارا سماج ایک روایتی سماج ہے۔ یہاں بہت سی سو کالڈ روایات اور رواج ہیں جنہیں تہذیب اور اخلاق کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جس میں بہت سے ایسے موضوعات کو ٹیبو بنا دیا گیا ہے جو ہمارے ارد گرد عام موجود ہیں لیکن ان کے بارے میں بات کرنا، ڈسکشن کرنا شدت سے برا سمجھا جاتا ہے۔ انہیں معاملات میں ایک معاملہ سیکس کا بھی ہے۔ جس پہ بات کرنا سخت معیوب سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ ایک جبلی ضرورت ہونے کی وجہ سے ہر انسان اس کے متعلق اگاہ ہے۔
لیکن یہ آگاہی کسی بھی تربیت یا تعلیم سے بالکل نابلد ہے کیونکہ اس کے بارے میں بات کرنا منع ہے۔ تو یہ جذبہ ایک حیوانی شکل اختیار کر جاتا ہے جسے سدھایا نہیں گیا ہوتا۔ اس لیے اس کا اظہار بھی انتہائی غیر مہذب انداز سے کیا جاتا ہے۔ گلیوں کوچوں میں دی جانے والی گالیوں سے لے کر کسی کو سنجیدہ دھمکی دینے تک کہیں نہ کہیں سیکس کا ذکر ضرور ہوتا ہے جس میں محترم رشتوں کو گھسیٹا جاتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہے کہ محض دبائے جانے کی وجہ سے یا اس حقیقت سے آنکھیں چرانے کی وجہ سے ایک انسانی ضرورت کا اظہار کس قدر لازم اور بد صورت ہو چکا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ دس میں سے سات بچے پندرہ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے کسی نہ کسی قسم کی جنسی
Read more