تشددکی نفسیات اور ہمارا سماج

تشدد ایک ایسا رویہ یے جس میں نفرت یا غصے کے جذبے سے مغلوب ہو کے وکٹم کو اذیت پہنچائی جاتی یے۔ یہ رویہ ایک طرح کا ردعمل ہے جس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ یہ وجوہات فرد کی ذہنی، جذباتی، ذاتی تجربے کی بنیاد پہ بھی ہو سکتی ہیں اور سماج سے منسلک بیرونی عوامل بھی ان کا باعث ہو سکتے ہیں۔

Read more

کیا عورت کی شادی ہی اس کا حتمی مقصد زندگی ہے؟

زندگی میں بہت سےمعاملات اہم ہیں جو زندگی کی کامیابی کے لیے راستہ فراہم کرتے ہین۔ انسان کو جینے کے لیے اور ڈھنگ کی زندگی گزارنے کے لیے تعلیم، تربیت، اچھی ملازمت یا کاروبار اور ممکنہ بہتر مستقبل چاہیے۔ ہر انسان اس کی کوشش کرتا ہے۔ وقت کے ساتھ سب کچھ بدل رہا ہے تعلیم…

Read more

گھریلو تشدد، ایلڈرلی وومن تھنکنگ اور عورت کی بے مائیگی

گھریلو تشدید سماج کا ایک ایسا رخ ہے جس پہ واضح ظلم ہونے کے باوجود متضاد آرا دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ہمارے پدر سری سماج میں مرد جہاں ایک جانب حاکم ہے اور سماج کا کنٹرول اس کے ہاتھ میں ہے وہیں ایک مخصوص نفسیات کو پروان چڑھا کے اسے مظلوم بنا کے بھی پیش کیا جاتا ہے تاکہ اس کے ہر ظلم و زیادتی کا دفاع کیا جا سکے اور اس کے ظلم کے باوجود اس کے لیے ہمدردی کی فضا پیدا کی جا سکے۔ یہ عمل ہماری جڑوں میں موجود ہے۔ ہر گھر میں ایک بڑی بوڑھی خاتون اس کا پہ مامور ہوتی ہے کہ وہ بتا سکے کہ لڑکیوں کو کیسے اٹھنا بیٹھنا، بات کرنا ہے چلنا ہے، ہنسی دبا کے رکھنا ہے، اپنی خواہش کا بر ملا اظہار نہیں کرنا ہے۔ اور ساتھ ہی گھر کے مردوں کے سامنے دبو قسم کا رویہ اختیار کرنا ہے۔

Read more

ورچوئل منڈی

یہ فیس بک ہے یا کوئی بازار کھلا ہے۔ یہاں سب بکتا ہے۔ رنگ برنگی دکانوں پہ ملا بھی ہیں، ملحد بھی، قدامت پرست بھی اور جدیدیت کے گن گاتے لوگ بھی، کوئی بیچتا ہے سیاست تو کسی کی دکان پہ سائنس کا رنگ چڑھا ہے۔ فلسفیوں کی اپنی اک منڈی ہے الجھی سی سلجھی…

Read more

ہم مصنوعی کیوں ہوتے جا رہے ہیں

ایک عجیب سی افراتفری اور دوڑ ہے جس میں میں ہم سب شامل ہیں۔ ٹرینڈ فالو کرنے کی دوڑ، فیشن اور برینڈز کی دوڑ، کھانے پینے، گھومنے پھرنے، ریسٹورانٹ اور ریزارٹ کی دوڑ۔ ایک لگن ہے ڈھونڈیں دیکھیں اور خود پہ یہ برانڈ ٹیگ لگا کے خوش ہونے کا لبادہ چڑھا لیں۔ ہر پل، ہر لمحہ سوشل میڈیا کی زینت بنا دیں۔ بات کریں تو لازم ہے کہ کسی بہانے سے بتائیں کہ آج کون کون سے برانڈ کا اشتہار بنے ہیں۔ کون کون سے کزین سے لطف اندوز ہو چکے ہیں۔

Read more

بریک اپ کے بعد کیا کرنا چاہیے؟

تعلق کا ٹوٹنا ایک شدید نفسیاتی جھٹکا ہوتا ہے۔ ایک بے وقعتی کا احساس، رائگانی اور وقت کے ضائع ہونے کا پچھتاوا اتنا آسان نہیں ہوتا کہ اس سے آسانی سے نکلا جا سکے۔ یہ نفسیاتی جھٹکا انسان کی زندگی پہ گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ کچھ لوگ اس صدمے سے نکلنے میں بہت وقت…

Read more

تنہائی سب کی سہیلی کیوں نہیں ہوتی

ڈاکٹر خالد سہیل کا مضمون کیا تنہائی آپ کی سہیلی ہے نظر سے گزرا۔ اس میں انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی خوشی سے تنہا رہے ہیں اور وہ اس تنہائی سے لطف انداز ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ان میں تخلیقی صلاحیت کا ہونا ہے ایک تخلیقی ذہن کے لیے تنہائی بہتر اور وسیع امیجینیشن کا باعث ہوتی ہے۔ یہ وہ تنہائی ہے جو انگریزی شاعر ورڈز ورتھ کے ہاں نظر آتی ہے۔ جو اس کی من کی آنکھ کو کھول دیتی ہے۔ ایسی فرصت جہاں دماغ ہر فکر سے آزاد ہو کر ان ڈیفوڈلز کا تصور کرنے لگتا ہے جو شاعر نے فرصت میں چہل قدمی کے دوران دیکھے تھے۔ اور اس کے دل کو ایسی خوشی سے بھر دیتا ہے جو اسے دنیا کی ہر فکر و پریشانی سے آزاد کر دیتی ہے۔ یہ وہ تنہائی ہے جو روشن اور تخلیقی دل و دماغ کا خاصہ ہے۔ اور ہر وہ انسان جوتخلیقی صلاحیت رکھتا ہے یہ اس کی لاشعوری خواہش ہے۔ یہ بلاشبہ خوشی اور سکون کا باعث ہے۔

Read more

ہم اتنا منفی کیوں سوچتے ہیں؟

ہم جس دور میں زندہ ہیں اسے ٹرانزیشن کا دور کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ہماری زندگی اور سماج میں بہت تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ نئے ٹرینڈز کو اپنانے کا جنون ایک طرف ہے تو دوسری طرف روایات کو ساتھ گھسیٹنے کی کوشش۔ اس تبدیلی اور بدلاؤ کے دور کی ایک…

Read more

سائبر بلنگ، ذہنی دباؤ اور بے چینی، خودکشی تک لے جا سکتے ہیں

بلنگ کا مطلب کسی کو تنگ یا زچ کرنے کی غرض سے ذہنی، جسمانی یا جنسی تشدد کرنا ہے۔ بلنگ کا شکار ہمیشہ ذہنی دباؤ کا سامنا کرتا ہے جو بتدریج ڈپریشن میں ڈھل جاتا ہے۔ جسمانی یا جنسی تشدد ظاہر ہو جاتا ہے لیکن گالم گلوچ یا ٹرولنگ کے ذریعے کی جانے والی بلنگ جلد ظاہر نہیں ہوتی لیکن یہ اپنے شکار کو بری طرح سے گھیر لیتی ہے۔ سائبر بلنگ کسی کو ٹرول کرکے، بے جا تنقید کے ذریعے، نجی گفتگو کو پبلک کر کے، تصاویر کے ذریعے بلیک میلنگ، گروہ بندی کے ذریعے نفرت کے پیغامات یا کمنٹس لکھ کے اور کوئی ٹرینڈ سیٹ کر کے کی جاتی ہے۔

Read more

کی جاناں میں کون

شناخت، نام و نصب کے جھگڑے کرتے ہم سب آخر میں بے نام و نشان ہیں۔ ہم میں سے کتنے ہیں جنہیں اپنے پڑ دادا کانام یاد ہوگا۔ کتنے ہیں جو جانتے ہوں کہ ان کے اباؤ اجداد کہاں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور شاز ہی کوئی ہو گا جسے اپنے پڑ دادا سے محبت کا احساس ہوتا ہو۔ پھر بھی ہم جھگڑتے ہیں اپنی ”میں“ کے دائرے میں خود کو مقید کرتے ہیں۔ اپنی اناوں کو سنچتے ہیں اور دوسروں کی عزت نفس کو روندتے ہیں۔ دوسروں کے وقار کی لاش پہ اپنا قد بلند کرکے سینہ پھلا کے خوش ہوتے ہیں۔ کہیں رتبہ مل جائے تو اپنا حق سمجھتے ہیں کہ خود سے ادنی کو روندا جائے۔ کوئی کمزور نظر آئے تو اسے دھمکاتے ہیں کہ اپنی عزت کی دھاک بٹھا سکیں۔

Read more