بریک اپ کے بعد کیا کرنا چاہیے؟

تعلق کا ٹوٹنا ایک شدید نفسیاتی جھٹکا ہوتا ہے۔ ایک بے وقعتی کا احساس، رائگانی اور وقت کے ضائع ہونے کا پچھتاوا اتنا آسان نہیں ہوتا کہ اس سے آسانی سے نکلا جا سکے۔ یہ نفسیاتی جھٹکا انسان کی زندگی پہ گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ کچھ لوگ اس صدمے سے نکلنے میں بہت وقت…

Read more

تنہائی سب کی سہیلی کیوں نہیں ہوتی

ڈاکٹر خالد سہیل کا مضمون کیا تنہائی آپ کی سہیلی ہے نظر سے گزرا۔ اس میں انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی خوشی سے تنہا رہے ہیں اور وہ اس تنہائی سے لطف انداز ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ان میں تخلیقی صلاحیت کا ہونا ہے ایک تخلیقی ذہن کے لیے تنہائی بہتر اور وسیع امیجینیشن کا باعث ہوتی ہے۔ یہ وہ تنہائی ہے جو انگریزی شاعر ورڈز ورتھ کے ہاں نظر آتی ہے۔ جو اس کی من کی آنکھ کو کھول دیتی ہے۔ ایسی فرصت جہاں دماغ ہر فکر سے آزاد ہو کر ان ڈیفوڈلز کا تصور کرنے لگتا ہے جو شاعر نے فرصت میں چہل قدمی کے دوران دیکھے تھے۔ اور اس کے دل کو ایسی خوشی سے بھر دیتا ہے جو اسے دنیا کی ہر فکر و پریشانی سے آزاد کر دیتی ہے۔ یہ وہ تنہائی ہے جو روشن اور تخلیقی دل و دماغ کا خاصہ ہے۔ اور ہر وہ انسان جوتخلیقی صلاحیت رکھتا ہے یہ اس کی لاشعوری خواہش ہے۔ یہ بلاشبہ خوشی اور سکون کا باعث ہے۔

Read more

ہم اتنا منفی کیوں سوچتے ہیں؟

ہم جس دور میں زندہ ہیں اسے ٹرانزیشن کا دور کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ہماری زندگی اور سماج میں بہت تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ نئے ٹرینڈز کو اپنانے کا جنون ایک طرف ہے تو دوسری طرف روایات کو ساتھ گھسیٹنے کی کوشش۔ اس تبدیلی اور بدلاؤ کے دور کی ایک…

Read more

سائبر بلنگ، ذہنی دباؤ اور بے چینی، خودکشی تک لے جا سکتے ہیں

بلنگ کا مطلب کسی کو تنگ یا زچ کرنے کی غرض سے ذہنی، جسمانی یا جنسی تشدد کرنا ہے۔ بلنگ کا شکار ہمیشہ ذہنی دباؤ کا سامنا کرتا ہے جو بتدریج ڈپریشن میں ڈھل جاتا ہے۔ جسمانی یا جنسی تشدد ظاہر ہو جاتا ہے لیکن گالم گلوچ یا ٹرولنگ کے ذریعے کی جانے والی بلنگ جلد ظاہر نہیں ہوتی لیکن یہ اپنے شکار کو بری طرح سے گھیر لیتی ہے۔ سائبر بلنگ کسی کو ٹرول کرکے، بے جا تنقید کے ذریعے، نجی گفتگو کو پبلک کر کے، تصاویر کے ذریعے بلیک میلنگ، گروہ بندی کے ذریعے نفرت کے پیغامات یا کمنٹس لکھ کے اور کوئی ٹرینڈ سیٹ کر کے کی جاتی ہے۔

Read more

کی جاناں میں کون

شناخت، نام و نصب کے جھگڑے کرتے ہم سب آخر میں بے نام و نشان ہیں۔ ہم میں سے کتنے ہیں جنہیں اپنے پڑ دادا کانام یاد ہوگا۔ کتنے ہیں جو جانتے ہوں کہ ان کے اباؤ اجداد کہاں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور شاز ہی کوئی ہو گا جسے اپنے پڑ دادا سے محبت کا احساس ہوتا ہو۔ پھر بھی ہم جھگڑتے ہیں اپنی ”میں“ کے دائرے میں خود کو مقید کرتے ہیں۔ اپنی اناوں کو سنچتے ہیں اور دوسروں کی عزت نفس کو روندتے ہیں۔ دوسروں کے وقار کی لاش پہ اپنا قد بلند کرکے سینہ پھلا کے خوش ہوتے ہیں۔ کہیں رتبہ مل جائے تو اپنا حق سمجھتے ہیں کہ خود سے ادنی کو روندا جائے۔ کوئی کمزور نظر آئے تو اسے دھمکاتے ہیں کہ اپنی عزت کی دھاک بٹھا سکیں۔

Read more

باڈی شیمنگ ایک روایت

ہمارے ہاں ایک بات بہت عام ہے جسے کسی طرح سے بد تہذیبی نہیں سمجھا جاتا وہ ہے ظاہری خدوخال اور جسامت پہ رائے دینا۔ کسی دوست سے ملیں کہیں کوئی تصویر شئیر کریں یا روز مرہ کے ملنے والے لوگ ہوں سب کے نردیک یہ ایک لازمی جزو ہے کہ وہ جسمانی ساخت پہ…

Read more

سوچ بدل رہی ہے لیکن یہ کیسی تبدیلی ہے؟

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کسی ملک میں پڑھایا جانے والانصاب، دانشور، میڈیا، ادیب سب ہی عوام کہ سوچ کو بدلنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وہ عوامل ہیں جو غیر محسوس طریقے سے کسی خاص مکتبہ فکر کو پروان چڑھاتے ہیں یا پھر کسی مکتبہ فکر کے خلاف نفرت کی…

Read more

عورت مارچ مسائل، مطالبے، ردعمل

ایک کہانی پڑھی تھی ایک پتا پانی میں بہتا جا رہا تھا بہت خوش اچلتا کودتا۔ ایک پریشان حال آدمی نے اس سے پوچھا تم فنا کی جانب جا رہے ہو۔ درخت سے ٹوٹ چکے ہو۔ ساری زندگی تم نے درخت کی آبیاری کے لیے کام کیا اب جب تم بے جان ہوئے تو اس نے تمہیں جھٹک دیا۔ تمہیں دکھ نہیں ہوا؟ پتا بولا میں نے درخت کی آبیاری کا کام کیا تو درخت نے بھی مجھے سینچا میں نے اس نے مجھے پانی مہیا کیا اپنے جسم کا حصہ بنایا۔ میں نے قدرت کے رنگ دیکھے۔اس حسن کا حصہ رہا جسے قدرت نے لوگوں کے لیے باعث رحمت و فرحت بنایا۔ میں نے اپنے حصے کا کام خوشی سے کیا اپنی زندگی جی اور اب وقت آ گیا تھا کہ میں وہ جگہ کسی دوسرے کے لئے چھوڑ دوں۔ تاکہ زندگی کا نظام چلتا رہے۔ میں خوش ہوں کہ میں نے بھرپور زندگی گزاری۔ اب میں پانی میں تیروں گا پھر کہیں زمین کا حصہ بن کے مزید زندگی کا سبب بنوں گا تو اداسی کیسی۔

Read more

غیر معمولی عورت

حسین عورتیں حیران ہیں کہ میرے فخر کا راز کیا ہے۔ میں پیاری نہیں، نہ کسی ماڈل جیسی جسامت میرا خواب ہےلیکن جب میں یہ کہتی ہوںتو گمان کیا جاتا ہے میں جھوٹی ہوںمیں کہتی ہوںمیرے بازوں کے ہالےمیری پشت کا پھیلاومیرے لبوں کے ابھارسب یہی بتانے کے لیے ہیںکہ میں عورت ہوں

Read more