سندھو کی کہانی جیم عباسی کی زبانی

سندھو کا مصنف سیدھا، سچا اور خالص انسان ہے جس میں تصنع نہیں ہے نہ بیان میں نہ زبان میں۔ اسے الجھی ہوئی باتوں، سخت تنقید اور مشکل سوالات کا جواب سادگی سے دینا آتا ہے ایسے جیسے سندھ اپنی رو میں بہہ رہا ہو اسے کچھ پرواہ نہ ہو کہ کتنی رکاوٹ ہے کیا کٹھنائیاں ہیں بس یہ جانتا ہے کہ یہ اردگرد بستی دنیا اور اس کے اندر رہتی کائنات اس کی اولاد کی مانند ہے جن سے

Read more

پر تشدد ہجوم کی نفسیات

جب ایک فرد کسی گروہ کا حصہ بنتا ہے تو وہ اپنی انفرادیت کو بہت سے پہلووں میں کھو دیتا ہے۔ جیسے کے ذاتی شناخت کہ اس کی ذاتی عادات و اطوار کیا ہیں اور وہ کس طرح کی اخلاقیات کو مانتا ہے اور اس پہ عمل پیرا ہے۔ دوسرا اس کے جذبات، انسان کے احساسات اور جذبات جب وہ ہجوم کا حصہ بنتا ہے تو ہجوم کے ساتھ بہہ نکلتے ہیں یعنی گروہ جس طرح کے احساسات کا شکار

Read more

دشمن کی دیوار ڈھا دو، خواہ خود اس کے نیچے دب جاؤ

سرائیکی کی ایک مثال ہے، ”دشمن دی کندھ ڈھاوے بھانوے اپنے تے آوے“  مطلب دشمن کی دیوار گر جائے بھلے ہم پہ آگرے۔ یعنی دوسرے کا نقصان ہر صورت میں ہونا چاہیے ہم خود اس نقصان سے زیادہ متاثر ہوں اور خود کو زیادہ گزند پہنچا لیں۔ یہی حال ہمارے ملک میں ہر طرف ہے چاہے رشتے ہوں، دوستیاں، ورک پلیس، سیاست یا نظریات لوگ ایک دوسرے کی ٹانگ کھنچنے میں اس قدر کھو جاتے ہیں کہ یہ تک بھول

Read more

رقص کا عالمی دن، پنجاب حکومت اور الحمرا آرٹس کونسل

رقص کو اعضا کی شاعری کہا جاتا ہے۔ ردھم وہ توازن ہے جو خوبصورتی کہلاتا ہے۔ کوئی بھی چیز جس کا توازن بگڑ جائے اس کا حسن مانند پڑ جاتا ہے۔ رقص پرفارمنگ آرٹ کی وہ قسم ہے جس کی تاریخ پاک و ہند میں کافی گہری اور پرانی ہے۔ وہ خطہ جس کی ثقافت کا رقص ایک اہم حصہ ہو وہاں اس کی اہمیت اور موجودگی لازم ہے۔ لیکن اسی خطے میں مذہب کی ہی بنیاد پہ کلچر سے

Read more

خواتین کے مسائل اور ردعمل کی نفسیات

مسئلے کے حل کا پہلا مرحلہ اس کے وجود کو قبول کرنا ہے کہ واقعی ہی وہ مسئلہ موجود ہے۔ جب یہ مان لیا جائے اس کے بعد اس کے حل کی ممکنات کو کھوجا جاتا ہے۔ ہمارے سماج میں مسائل کو یا تو نظر انداز کیا جاتا ہے یا پھر جھوٹی روایات، غیرت، عزت اور بوسیدہ رواجوں کے مد نظر اس سے شدت سے انکار کر دیا جاتا ہے کہ یہ تو سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ ایسا

Read more

کابوس

وہ ایک تیز، چیختی ہوئی آواز تھی جو پھیلتی ہی چلی جا رہی تھی۔ اس قدر دھار دار کے کانوں کے پردے پھاڑ رہی تھی۔ شاید اوزون کی تہہ آوازوں کے شور سے پھٹ گئی تھی وہ آوازیں جو رنگ برنگ تھیں۔ بے ہنگم موسیقی کی آواز جو رات کے خاموش اندھیرے میں کسی کے لیے فرط و مسرت اور دیوانگی کا باعث تھی تو کسی کے لیے سیاہ شور جیسی بد ہیئت و بے رنگ۔ ان سیاہ لفظوں کی

Read more

کیا ہمارے معاشرے میں بوڑھے والدین، اولاد کی ذمہ داری نہیں ہیں؟

آج کل ایک ٹرینڈ بہت زیادہ دیکھنے اور سننے میں آ رہا ہے کہ والدین بچوں کو اپنی انوسٹمنٹ سمجھتے ہیں جو وہ بڑھاپے میں کیش کروانا چاہتے ہیں۔ اولڈ پیپلز ہاؤس کے تصور کو عام کرنا چاہیے۔ ”جب پال نہیں سکتے تھے تو پیدا ہی کیوں کرتے ہیں۔ اولاد نے تو نہیں کہا کہ ہمیں پیدا کرو۔ اگر تربیت کی تو کون سا احسان کیا ہے یہ تو ذمہ داری تھی۔“ یہ اور اس طرح کے ملتے جلتے جملے

Read more

کشمیر: جنت ایسی ہی ہو گی

بہت سنا تھا جنت دیکھنا ہو تو کشمیر دیکھو۔ لیکن اندازہ نہیں تھا کہ ایسا کیوں کہا جاتا ہے۔ جون کے پہلے ہفتے کشمیر جانے کا پروگرام بنا۔ لاہور سے کشمیر کا سفر بہت طویل ہے اس لیے ایک رات اسلام آباد میں قیام کیا۔ کشمیر شروع ہوتے ہی ہماری ملاقات وہاں موجود ٹورسٹ گائیڈ پولیس سے ہوئی۔ انہوں نے ہمیں ویلکم کیا باغ کا نقشہ دیا اور ہمارے ساتھ موجود وہاں کے مقامی کولیگ کو تاکید کی کہ ہمیں

Read more

عورت ہونا جرم ہے

عورت ہونا بذات خود ایک جرم ہے جس کی سزا موت ہے۔ یقین نہ آئے تو خبر دیکھ لیجیے ایک سات دن کی بچی کو اس کے باپ نے اس لیے پانچ فائر کر کے مارا کہ اسے بیٹے کی خواہش تھی۔ یہ میانوالی کا واقعہ ہے۔ اگر بچی کا پیدا ہونا جرم نہ ہوتا تو بھلا وہ ماری ہی کیوں جاتی۔ اس کی غلطی ہے کہ وہ پیدا ہوئی تو سزا ملی۔ ہر وہ عورت اور بچی جس سے

Read more

خواتین کی آزادی سے مراد کیا ہے؟

جب بھی خواتین کی آزادی کی بات کی جاتی ہے تو ایک گھٹن زدہ سماج میں اس سے مراد یہی لی جاتی ہے کہ گویا یہ کوئی ایسی آزادی ہے جو سماج کی بنیادیں ہلا دے گی۔ کیونکہ جس معاشرے میں عورت کو برابر کا انسان نہ سمجھا جائے اس کو اک فرد کی حیثیت میں قبول کرنا ہی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایک ایسی سوسائٹی جہاں عورت ایک جنس سے زیادہ کچھ نہیں، جس کا یہ خیال ہو کہ

Read more

لوگوں کا کام ہے کہنا

ہم اپنے بہت سے خوابوں، خواہشات اور آرزووں کو اس خوف سے پورا نہیں کر پاتے کہ لوگ کیا کہیں گے، یا کیا سوچیں گے۔ یہ بات ہم یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ یہ زندگی ہماری ہے اس پہ ہمارا حق ہے اور اسے اپنی مرضی سے گزارنے کا اختیار ہمیں حاصل ہے لیکن ایک ایسے معاشرے میں پیدا ہونا جو جانتا ہی نہیں کہ پرسنل سپیس کیا ہے، فرد کی انفرادی حیثیت کتنی اہم ہے، شخصی آزادی

Read more

نئی جگہ ہجرت کرنے والے سوشل سرکل بنا سوچے سمجھے کیوں بناتے ہیں

انسان ایک ایسا سماجی حیوان ہے جو چاہ کے بھی مکمل طور پہ تنہا نہیں رہ سکتا۔ سماج سے جڑ کے رہنا ایک جبلی مجبوری ہے۔ آغاز پیدائش سے ہوتا ہے جب بچہ خاندان سے جڑا ہوتا ہے پھر سکول اور باہر کے معاشرتی اداروں سے جڑتا ہے۔ بچے کو شروع کی تربیت والدین سے ملتی ہے کہ کیسے لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا ہے۔ تعلق کیسے بنانے ہیں دوستی کیا ہے۔ ہم جماعت کیا ہوتے ہیں پھر سکول کا ادارہ

Read more

لڑکیاں خاموش رہنا اور سب سہنا کیسے سیکھتی ہیں

ایک مکمل اور کامیاب عورت وہ ہوتی ہے جو صبر و برداشت سے سب کچھ سہ لے اپنی زبان پہ حرف شکایت نہ لائے۔ جھوٹی عزت بچاتے بچاتے خود کو وار دے۔ ایک مشرقی معاشرے میں عورت کی کامیابی اور تکمیل کی کسوٹی یہی ہے۔ گھر میں بیٹی کی تربیت شروع سے یہی ہوتی ہے۔ بھاگنا نہیں، اونچی آواز سے نہیں بولنا، چاہے کتنی کی چھوٹی ہو ٹانگیں کھول کے نہیں بیٹھنا کیونکہ آپ لڑکی ہو۔ بھائی نے مار دیا تو رونا نہیں ہے اونچی آواز نہیں نکالنی کیونکہ کوئی بات نہیں بھائی ہے۔ کھلونا چھین لے، توڑ دے احتجاج نہیں کرنا۔ مطلب شروع سے ہی گھٹی میں یہ ڈالا جاتا ہے کہ اپنے حق کو پہلے تو پہچاننا نہیں دوسرا کسی بھی حق تلفی کی صورت میں نہ احتجاج کرنا ہے نہ حق حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔

Read more

پاکستان خواتین کے لیے محفوظ ملک نہیں

ہمارا سماج وہ واحد کمیونٹی ہے جس میں نر اور مادہ برابری کی سطح پہ نہیں ہیں۔ یہاں مرد ایک ایسا کھلا جانور ہے جو مرضی سے جی سکتا ہے، اپنی مرضی سے تن ڈھانپ سکتا ہے یا چڈی پہنے گلی میں گھوم سکتا ہے، اونچی آواز میں چیخ سکتا ہے، خود کو حاکم سمجھتا ہے۔ اور یہ خیال کرتا ہے کہ یہ اسی کا اختیار ہے کہ وہ عورت کو پابند کرے کہ اسے کیا پہننا، کھانا، بات کرنا،

Read more

سوشل میڈیا اور ختم ہوتی ہوئی پرسنل سپیس

ہم سوشل میڈیا کے دور میں زندہ ہیں۔ ان پلیٹ فارمز نے ہمیں یہ سہولت دی ہے کہ ہم آسانی سے دنیا میں کہیں بھی رہنے والے افراد سے جڑ سکیں۔ ساتھ ہی یہ ایک سے انٹرسٹ رکھنے والے لوگوں کو قریب لانے میں مددگار ہے۔ سوشل سائٹس نے جہاں لوگوں ایک دوسرے سے جوڑا ہے وہیں ایسی سائٹس اور ایپس بھی وجود میں آئی ہیں جہاں آپ اپنے ٹیلنٹ کو ظاہر کر سکتے ہیں ویڈیوز، تصاویر یا کانٹینٹ شیئر

Read more

تنہا رہنے والے افراد نارمل انسان ہوتے ہیں

ہم ایک روایتی معاشرے میں رہتے ہیں جہاں خاندان کا تصور محض ایک کپل اور اس کے بچوں کی بجائے تین نسلوں کو ایک ہی جگہ پہ رہتے ہوئے تصور کرنا ہے۔ یہ ہماری خوشگوار زندگی کا ایک آئیڈیل ہے جس میں جوائنٹ فیملی سسٹم میں سب ساتھ رہ رہے ہوں۔ اگرچہ یہ خاندانی نظام انسانی فطرت سے مطابقت نہیں رکھتا اسے اتنے رشتوں میں بانٹ دیتا ہے کہ اپنی ذات کھو جاتی ہے۔ اور ذاتی زندگی میں رشتہ داروں

Read more

پیسہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت

انسان اس معاشرے میں رہنے پہ مجبور ہے کیونکہ وہ اکیلا اپنی تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکتا۔ اس کی میکینگ ہی ایسی یے کہ اسے اپنی بقاء کے لیے سماج کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اپنی مادی، جسمانی، ذہنی اور جذباتی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہمیں دوسرے انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہم کوئی بھی ذریعۂ معاش اپناتے ہیں اور اس اپنی زندگی کا قابل ذکر وقت دیتے ہیں۔ یہ ہماری

Read more

صحتمند معاشرے کی بنیاد ذہنی صحت ہے

محبت، وفا، دغا، نفرت، رشتے، ساتھ نبھانا یا چھوڑ جانا عالمی احساسات ہیں۔ انسانی جذبات بنیادی طور پہ بنا قید رنگ و نسل یکساں ہیں۔ لیکن یہ جذبات اگر گراؤنڈ ریالٹیز کے ساتھ نہ جڑے ہوں، غیر متوازن ہوں، ایک جانب تمام جھکاؤ ہو اور باقی ہر حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہوں تو نفسیاتی بیماریاں بن جاتے ہیں۔ ہمارے ارد گرد کتنے ایسے مردہ تعلق اور رشتے ہوتے ہیں جن کے تعفن سے زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ زندگی کی ہر سانس بوجھل اور ذہن مکمل بیمار ہو جاتا ہے۔ لیکن پھر بھی ان رشتوں کو سماجی دباؤ کے تحت نبھایا جاتا ہے۔

Read more

وبائی دور میں بے یقینی کی لہر

زندگی ایک ہی رو میں بہتی رہے اس کے حسن کا اندازہ ہی نہیں ہونے پاتا۔ نہ ہی یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم کتنی نعمتوں سے مالامال ہیں۔ ایک روٹین، لگی بندھی زندگی بوریت اور اردگرد سے نا محسوس لاتعلقی ذات کا حصہ بن جاتی ہے۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو اس بات پہ شکرگزار ہوتے ہوں گے کہ وہ ایک نارمل زندگی گزار رہے ہیں۔ سکون سے سوتے ہیں، بیماری سے بچے ہوئے ہیں، روزگار میسر ہے،

Read more

ہم اتنے اگڑم بگڑم کیوں ہیں؟

ہمارے تصورات اس قدر الجھے ہوئے اور پیچیدہ ہیں کہ ہم کسی بھی چیز کو اس کے درست مقام سے پہ نہیں رکھ سکتے۔ ہمیں دوستی اور محبت میں فرق کرنا نہیں آتا۔ ہم محبت کو قید مانتے ہیں، رشتوں کا تقابل کیرئیر سے کرنے لگتے ہیں، ایک فرد کی حیثیت میں اہمیت کو رشتوں کے کردار پہ تولنے لگتے ہیں۔

ہم فرض کیے بیٹھے ہوتے ہیں کہ ایک بیٹے یا بیٹی کا فرض یہ ہے کہ وہ خاندان کے سارے ریت روایات نبھائے، اپنی ہر خواہش اور خوشی کی قربانی دے کے والدین کی خواہشات میں ڈھل کے اپنی زندگی برباد کر لے لیکن فرمانبردار کہلائے۔ ہمیں اولاد اپنا اثاثہ لگتی ہے جس پہ انوسٹمنٹ ہوئی ہے اور ہمارا حق ہے کہ ہم اس سے پوری زندگی سود وصول کریں۔ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ ایک جیتا جاگتا انسان ہے آرڈر پہ بنوایا گیا روبوٹ نہیں جسے کیرئیر کا انتخاب کرنا ہو، دوست چننے ہوں یا رشتہ بنانا ہو تو وہ والدین کے طے کردہ اصولوں کے مطابق نہیں کرے گا۔ بلکہ اس کی ذمہ داری ایک اچھے بیٹے یا بیٹی کی حیثیت میں والدین کا خیال رکھنا ہے نہ کہ ان کی ہر بات کو ماننا ہے۔

Read more

جنسی جرائم، ہمارا سماج اور قانون

ہمارے سماج کی فرسٹریشن کا یہ حال ہے کہ ہم لوگ لباس، تصویر، مجسمے، جانور، کسی بھی اوبجیکٹ سے جنسی حظ اٹھانے کا طریقہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ باتوں سے، سنجیدہ بحث سے بھی ہم ڈارک ہیومر کے نام پہ اس فرسٹریشن کا اظہار کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک اے لیول کے سٹوڈنٹ سے بات ہو رہی تھی اس نے ریپ کا مذاق اڑایا اور جب میں نے ٹوکا تو اس نے اس بات پہ اسرار کیا یہ تو محض ڈارک ہیومر ہے۔ بات یہ ہے کہ ایسا نہیں کہ یہ فرسٹریشن صرف انہی لوگوں میں پائی جاتی ہے جنہیں جنسی آزادی نہیں ملتی بلکہ یہ ان لوگوں میں بھی موجود ہے جو اوپن ریلیشن میں ہوتے ہیں۔

Read more

تمہارے نام کچھ دل کی باتیں

میرے پیارے

بے یقینی کے موسم میں تم مجھے آ ملے ہو۔ اس کورونا کی عالمی وبا نے زندگی کے متعلق نظریہ بدل ڈالا ہے ایک طرف غیر یقینی صورتحال ہے تو دوسری طرف اسی بے یقینی نے زندگی کی قدروں کو اجاگر کر دیا ہے۔ بوریت، بے کیف طبعیت، یکسانیت جیسے کیفیات گویا الفاظ بن گئی ہیں۔ پہلی لہر کے دوران جب ایک دم پتہ چلا کہ کیسی عفریت آن پڑی ہے کہ سب کچھ یک دم بدل گیا ہے۔ نہ تو وہ کام کی روٹین ہے، نہ ویسا سونا جاگنا، نہ کوئی وقت کی پابندی نہ کسی سے ملنا جلنا ایک دم آنکھیں کھل گئی کہ یہ کیا ہوا؟ زندگی تو اسی رنگ و بو کا نام ہے۔ اسی چہل پہل کو زندگی کہا گیا ہے۔ محبتیں، نفرتیں، غصہ پیار، اختلاف اور اتفاقات اس کا حسن ہیں۔ ایک کیفیت جو خوف کی ہے ہر کیفیت کو اپنی دبیز تہہ میں ڈھانپ لے تو باقی کچھ نہیں بچتا۔

Read more

منزلوں کی خبر کیا راستے مبارک

زندگی میں سب سے اہم ہے خوش رہنا۔ ان لوگوں کا ساتھ ہونا جو آپ کی خوشی کا سبب بنیں۔ اور جن کی خوشی آپ سے جڑی ہوئی۔ ایسے لوگ کہیں اچانک مل جاتے ہیں ان کا ساتھ، باتیں، خیال، ہنسی اداسی ہر احساس اور خیال زندگی کے رخ کو بدل دیتا ہے ہر پل میں روح پھونک دیتا یے ہر لمحے کو زندہ کر دیتا ہے۔ زندگی تب ہی اہم اور خوبصورت لگتی ہے جب احساس پیدا ہو جائے

Read more

لوگوں کا خوف اور مصنوعی لبادے

ہمارے عوام کے عجیب طرح کے کمپلیکسز ہیں۔ روتے رہیں گے حکومت علاج معالجے کی سہولت نہیں دے رہی لیکن جہاں سہولت میسر ہو گی وہاں سرکاری ہسپتال نہیں جائیں گے جیب میں پیسہ ہو نہ ہو، پرائیویٹ ہسپتال سے علاج کروائیں گے کہ شو مار سکیں کہ ہم افورڈ کر سکتے ہیں۔ مہنگی سے مہنگی سوسائٹی میں گھر ڈھونڈیں گے چاہے آدھی سے زیادہ انکم کرائے میں نکل جائے اور روز مالک مکان سے لڑائی ہو۔ لیکن کسی ایسی سکیم

Read more

چائلڈ ابیوز: وجوہات اور ہماری ذمہ داری

خیر پور میں چائلڈ ابیوز اور پورنوگرافی کا کیس سامنے آیا ہے جس میں ایک ریٹائرڈ سکول ٹیچر اپنے ٹیوشن سنٹر میں یہ کام کرتے رہے لیکن کسی بچے کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ اس بارے میں گھر میں بتا سکے۔ جس کی وجہ سے اس گھٹیا آدمی کو اتنی جرات ملی کہ یہ بے دھڑک یہ قبیح کام کرتا رہا۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے نہ ہے پہ اٹھنے والا شور اور سوشل میڈیا کمپین نئی بات ہے۔ ایسے واقعات تواتر سے ہوتے ہیں اور کوئی ایک آدھ واقعہ ہی ہائی لائٹ ہو پاتا ہے۔ اور پھر کچھ ہی وقت کے بعد سب بھول جاتے ہیں اور ایک نئی نسل یہی کچھ بھگتنے کے لیے ان ہوس کے ماروں کے آگے ڈال دیتے ہیں۔

اس کی وجوہات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور ہم اس بارے میں شعور پیدا کرنے میں کیوں ناکام ہیں۔

Read more

ہم امن پسند اور مندر کی گھنٹی

ویسے تو ہم امن پسند اور روشن خیال لوگ ہیں۔ جن کی ہاتھ اور زبان سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچ سکتی۔ جو خود سے تعداد میں کم لوگوں کا محافظ بھی خود کو مانتے ہیں۔ ما سوائے اس کے کہ انہیں جینے، سانس لینے، اپنی مرضی سے شادی کرنے، کمیونٹی میں گھر بنانے دینے کے انہیں ہر طرح کے حقوق دیتے ہیں۔ کیونکہ ہم اچھے اور امن پسند لوگ ہیں۔

ہاں جہاں ہم اقلیت میں ہیں وہاں ہمیں ہر طرح کے بنیادی حقوق اپنی مرضی سے سڑک پہ بھی عبادت کرنے کی آزادی ہونا چاہیے۔ ہم اڑتے جہاز میں بھی صف باندھ لیتے ہیں۔ چلتی ٹریفک کے بیچ و بیچ نیت باندھ کے کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہاں پہ موجود اکثریت جو دھتکاری ہوئی اقوام خیال کی جاتی ہیں ہمارے اس شخصی آزادی پہ چوں تک نہیں کرتیں بلکہ حیرت سے دیکھ کے انتظار کرتی ہیں کہ کب یہ اپنی عبادت سے فرصت پائیں اور کب وہ اپنے کام کریں۔

Read more

الفاظ مار ڈالتے ہیں

لوگ کہتے ہیں کہ میری پرسنالٹی بور ہے۔ میں زیادہ دوست نہیں بنا سکا۔ صرف دو ہی دوست ہیں۔ یہ فقرے حال ہی میں خودکشی کرنے والے بھارتی اداکار سوشانت سنگھ کے ہیں جو ایک انٹرویو میں کہے گئے۔ ایسے کتنے ہی جملے ہیں جو ہم محض اپنی رائے دینے کے لیے دوسروں سے کہہ دیتے ہیں۔ اور کتنے ہی ہمارے اپنے پیارے ان باتوں کو دل سے تسلیم کر لیتے ہیں۔ اپنے دوستوں، ماں باپ، اساتذہ، قریبی لوگوں کے

Read more

پاکستان میں ریپ وکٹم سروائیو کیوں نہیں کر سکتا

ہمارا سماج ایک روایتی سماج ہے۔ یہاں بہت سی سو کالڈ روایات اور رواج ہیں جنہیں تہذیب اور اخلاق کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جس میں بہت سے ایسے موضوعات کو ٹیبو بنا دیا گیا ہے جو ہمارے ارد گرد عام موجود ہیں لیکن ان کے بارے میں بات کرنا، ڈسکشن کرنا شدت سے برا سمجھا جاتا ہے۔ انہیں معاملات میں ایک معاملہ سیکس کا بھی ہے۔ جس پہ بات کرنا سخت معیوب سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ ایک جبلی ضرورت ہونے کی وجہ سے ہر انسان اس کے متعلق اگاہ ہے۔

لیکن یہ آگاہی کسی بھی تربیت یا تعلیم سے بالکل نابلد ہے کیونکہ اس کے بارے میں بات کرنا منع ہے۔ تو یہ جذبہ ایک حیوانی شکل اختیار کر جاتا ہے جسے سدھایا نہیں گیا ہوتا۔ اس لیے اس کا اظہار بھی انتہائی غیر مہذب انداز سے کیا جاتا ہے۔ گلیوں کوچوں میں دی جانے والی گالیوں سے لے کر کسی کو سنجیدہ دھمکی دینے تک کہیں نہ کہیں سیکس کا ذکر ضرور ہوتا ہے جس میں محترم رشتوں کو گھسیٹا جاتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہے کہ محض دبائے جانے کی وجہ سے یا اس حقیقت سے آنکھیں چرانے کی وجہ سے ایک انسانی ضرورت کا اظہار کس قدر لازم اور بد صورت ہو چکا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ دس میں سے سات بچے پندرہ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے کسی نہ کسی قسم کی جنسی

Read more

وبا کے دنوں میں دوسرا محبت نامہ

شاید میں اتنی جلدی تمہارے نام دوسرا نامہ نہ لکھتی۔ لیکن جانتے ہو کیا ہوا۔ کھو جانے اور کھو دینے کا خوف صبر، ٹھہراو، بے نیازی سب کو ختم کرکے انسان کو اضطراری امپلسیو، بے صبرا اور لالچی بنا دیتاہے۔ اس موسم میں جو اپریل کا ہے مجھے الرجی ہوتی ہے چھینک چھینک کے بے حال ہو جاتی ہوں۔ آنکھوں سے پانی، چہرہ عجیب سرخ، اور اینٹی الرجی کی وجہ سے ایک عجیب کیفیت طاری رہتی ہے۔ کہ دماغ سویا

Read more

وبا کے دور میں محبت نامہ

میرے پیارے! لوگ کہتے ہیں وبا نفسا نفسی کا عالم پیداکر دیتی ہے۔ ہر انسان کو بس اپنی جان کی فکر ہوتی ہے کہ کسی طرح سے وہ خود بچ نکلے۔ لیکن میرے ساتھ عجیب ہوا مجھے تم شدت سے یاد آ نے لگے ہو۔ تمہارے ساتھ میری یادیں ہی کتنی ہیں نہ ہونے کے برابر۔ لیکن پھر بھی مجھے تمہارے متعلق ہر تفصیل ازبر ہے۔ مجھے تو ہر اس انسان سے انسیت محسوس ہوتی ہے جس نے تم سے

Read more

بے لوث پارسائیں اور مشرقی اقدار کے علمبردار

ہم سب پہ اقبال عباسی صاحب کا ایک بلاگ نظر سے گزرا عنوان تھا ”کرائے کی عورتیں اور لنڈے کے ارسطو“ بلاگ ادبی اور علمی شائستگی کا بہت ہی حسین امتراج ہے۔ زبان و بیان کی لطافت کا اس سے اعلی مظہر تخلیق کیا جانا ممکن نہیں ہے جو کہ بلاگ کے عنوان سے ہی عیاں ہے۔ بلاگر صاحب نے انتہائی خوبصورتی سے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ مشرقی اقدار کیا ہیں اور کس طرح بیرونی فنڈز کے زور پہ چلنے والے خواتین و حضرات ہماری عظیم اقدار کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

Read more

ماں کے نام

مجھے یاد ہے ہمارے بچپن میں ماں دن رات مصروف رہتی تھیں۔ صبح سے لے کر رات گئے تک لگاتار مصروف۔ ہمیں سکول بھیجنا ایک ایک چیزکا خیال رکھنا۔ سر کے بال بنانے سے جوتے کے تسمے باندھنے تک سب کام خود کرتیں۔ مجھے آٹھویں کلاس تک تسمے باندھنا نہیں آتے تھے سکول میں تسمہ کھل جاتا تو میں ملنگ بنی یوں ہی گھومتی رہتی۔ نہ بال بنانا آتا تھا۔ آٹھویں کلاس میں میری دوست اور کلاس فیلو نے مجھے

Read more

عورتوں کے محافظ مردوں سے چند سوالات اور گزازرشات

مارچ کا مہینہ شروع ہو گیا ہے عورت مارچ کا چرچا ہے۔ ایک طرف وہ ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ یہ بلاتفریق صنف برابری کا سوال ہے تو دوسری جانب وہ ہیں جو ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کہ ایسی کم عقل مخلوق کو انسان کہنا ہی غلط ہے۔ تو کیسی برابری اور کہاں کے حقوق۔ ایسے میں ایک جماعت چند نعرے لے کے اٹھی ہے۔ ”مرد عورتوں کے محافظ ہیں۔ “ سوال یہ ہے کہ کون

Read more

عورت آزادی مارچ کیا ہے؟

عورت آزادی مار چ ایک مانگ ہے بلا تفریق صنف کے برابری کی، برابری اس سماج میں، برابری تعلیم میں، برابری کھیل میں، برابری اس معاشرے میں بے فکری سے رہنے میں، برابری صحت و تعلیم کی سہولیات میں، برابری ملازمت میں، سیاست کے میدان میں، ہر شعبہ میں جہاں عورت کا ایک بائے نان کوٹہ مقرر ہوتا ہے، برابری گھر میں کہ ہر گھریلو کام صرف اس کی ذمہ داری نہیں ہے، برابری تنخواہ اور سہولیات میں۔ برابری ہر

Read more

محبت عورت کے لیے نہیں ہے

کہتے ہیں عورت محبت سے گندھی، محبت اس کی گھٹی میں ہے۔ وہ جذبات سے رچی ہے، نرمی، پیار، محبت جیسے الفاظ عورت سے منسوب ہیں۔ لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ وہی عورت نہ تو کھل کے محبت کر سکتی ہے نہ معاشرہ اس بات کی اجازت دیتاہے کہ عورت کھل کے کہہ سکے کہ اسے مرد پسند ہیں۔ اسے یہ گوارا ہی نہیں کہ عورت کہے کہ کوئی اسے اچھا لگتا ہے، اسے کسی پہ کرش ہے وہ

Read more

منفی سوچ کے حامل لوگوں سے بچنا کیوں ضروری ہے؟

منفی سوچنے والے یا قنوطیت پسند وہ لوگ ہوتے ہیں جو مثبت بات میں بھی تاریک پہلو ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ ایسے لوگں کی کچھ خاص نشانیاں ہوتی ہیں ان سے بچنا ضروری ہے کیونکہ ایسے لوگ آپ کی مثبت سوچ کو نگل لیتے پیں اور آپ کو ذہنی بیمار کر دیتے ہیں۔ پہلی نشانی یہ ہے کہ وہ آپ کے متعلق آپ سے زیادہ فکر ظاہر کرتے ہیں۔ انہیں اپنی زندگی سے زیادہ آپ کی زندگی پہ کمانڈ حاصل ہوتی

Read more

لہوڑی دی مبارکاں

لہوڑی ایک موسمی تہوار ہے جو موسم سرما میں منایا جاتا ہے۔ یہ سرما کا جشن ہے جسے پنجابی مہینوں کے حساب سے پوہ میں منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار کسانوں کی خوشی کو ظاہر کرتا ہے جو گنے کی فصل کی کٹائی اور اس کے ساتھ جڑے کلچر جس میں گڑ بنانا اور گڑ بننے کے دوران رو یعنی گنے کے گرم رس سے بننے والی ڈشیز جیسا کہ کھیر یا اسے ویسے ہی گنے پہ لگا کے کھانا

Read more

کچھ ان کہی باتیں

کچھ باتیں جو میں کہنا چاہتی تھی لیکن کہہ نہیں پائی۔ یہ جو لوگ کہتے ہیں عورت میں پیش قدمی کی صلاحیت نہیں ہوتی، وہ فیصلے کرنے میں پس و پیش کرتی ہے۔ عورت کے موڈ کا کچھ پتہ نہیں چلتا، عورت بے وقوف و جذباتی ہوتی ہے۔ جو عورت معاشی طور پہ مضبوط ہو جائے وہ اس سماج کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔ جب عورت ڈرائیونگ کرتی ہے تو وہ مسئلہ پیدا کرتی ہے وہ اچھی ڈرائیور نہیں

Read more

کیا ریپ یا جنسی ہراسمنٹ مذاق ہے

کہتے ہیں ادیب اپنے دور کا عکاس ہوتا ہے۔ جو کچھ اس کے اردگرد ہوتا ہے وہ اسے زبان دیتا ہے۔ جو دیکھتا، سنتا اورمحسوس کرتا ہے اسے بیان کرتا ہے۔ بات سچ ہے۔ اب ادیب کے اپنے رحجان پہ ہے کہ وہ کس جانب جھکتا ہے اور اس پہ بات کرتا ہے۔ پچھلے دنوں ڈائیلاگ لکھنے کے حوالے سے مشہور ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر نے خواتین کے برابری کے حقوق پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عورت کو

Read more

محبت وحبت کچھ نہیں ہوتی

ڈاکٹر خالد سہیل جب بھی لکھتے ہیں کمال کرتے ہیں۔  انہوں نے محبت کی نفسیات پہ ایک آرٹیکل لکھا ہے جس میں محبت کی نفسیات پہ بات کی گئی ہے اور اس کا جنس اور شادی سے تعلق بتایا گیا ہے۔  کوئی پانچ قسم کے ذہنی رحجانات کی اس آرٹیکل میں بات کی گئی۔ جس میں بنا محبت کے شادی جسے ارینج میرج کہا جا سکتا ہے۔  ناکام محبت، مطلب جس میں شادی نہیں ہوتی گو کہ میری رائے میں

Read more

فیض فیسٹیول: جہاں فیض ملا

عظیم اذہان خیالات پہ گفتگو کرتے ہیں، اوسط اذہان واقعات پہ اور عام اذہان لوگوں کے متعلق بات کرتے ہیں۔ فیض فیسٹیول میں ہر کیٹیگری تھی۔ آئیڈیاز پہ بھی بات ہوئی، واقعات پہ بھی اور لوگوں کے متعلق گوسپ کرنے والے بلکہ صرف اسی مقصد سے آئے لوگ بھی موجود تھے۔ خیالات شئیر کرنے سے ہی آپ کچھ سیکھتے ہیں۔ فیسٹیول کے سیشنز بھی ہر ایک اپنے ذوق کے مطابق سلیکٹ کرتا اور سنتا ہے ناپا کے طلبا کا داستان

Read more

مرد بھی عظیم ہوتے ہیں

سنا تھا مرد کا دل بڑا ہوتا ہے۔ وہ خرچ کرنے کے معاملے میں خواتین سے کہیں زیادہ حوصلہ رکھتا ہے لیکن سمجھا نہیں تھا۔ پچھلے دنوں میں زندگی میں پہلی بار الگ گھر میں شفٹ ہوئی۔ خاندان سے دور رہنا اور ہاسٹل میں رہنا ایک الگ تجربہ ہے لیکن الگ گھر میں رہنا ایک بالکل ہی مختلف تجربہ۔ پہلا اندازہ جو مجھے ہوا وہ یہ تھا کہ گھر کرائے پہ حاصل کرنا خواہ اکیلی خاتون ہو یا مرد انتہائی

Read more

زبان کو بطور زبان سیکھنا ضروری ہے یا اسے محض ذریعہ تعلیم سمجھنا

ایک بنیادی خوبی جو انسان دیگر تمام مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے وہ زبان ہے۔ انسان میں جو بولنے اور مختلف زبانوں کو سیکھنے کی جو جبلی صلاحیت ہے وہ دیگر جانداروں میں ناپید ہے۔ انسانی بچہ جس ماحول میں پیدا ہوتا ہے وہ اسی کی زبان کو خود کار طریقے سے اپنا لیتا ہے اسے کسی خاص تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے اردگرد بولی جانے والی زبان کو سیکھے۔ بلکہ وہ مادری زبان بغیر کسی سعی

Read more

تشددکی نفسیات اور ہمارا سماج

تشدد ایک ایسا رویہ یے جس میں نفرت یا غصے کے جذبے سے مغلوب ہو کے وکٹم کو اذیت پہنچائی جاتی یے۔ یہ رویہ ایک طرح کا ردعمل ہے جس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ یہ وجوہات فرد کی ذہنی، جذباتی، ذاتی تجربے کی بنیاد پہ بھی ہو سکتی ہیں اور سماج سے منسلک بیرونی عوامل بھی ان کا باعث ہو سکتے ہیں۔

Read more

کیا عورت کی شادی ہی اس کا حتمی مقصد زندگی ہے؟

زندگی میں بہت سےمعاملات اہم ہیں جو زندگی کی کامیابی کے لیے راستہ فراہم کرتے ہین۔ انسان کو جینے کے لیے اور ڈھنگ کی زندگی گزارنے کے لیے تعلیم، تربیت، اچھی ملازمت یا کاروبار اور ممکنہ بہتر مستقبل چاہیے۔ ہر انسان اس کی کوشش کرتا ہے۔ وقت کے ساتھ سب کچھ بدل رہا ہے تعلیم اور پروفیشنل ڈگری اب لڑکیوں کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ لڑکوں کے لیے۔ والدین اپنی بچیوں کو ہر ممکن طور سے

Read more

گھریلو تشدد، ایلڈرلی وومن تھنکنگ اور عورت کی بے مائیگی

گھریلو تشدید سماج کا ایک ایسا رخ ہے جس پہ واضح ظلم ہونے کے باوجود متضاد آرا دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ہمارے پدر سری سماج میں مرد جہاں ایک جانب حاکم ہے اور سماج کا کنٹرول اس کے ہاتھ میں ہے وہیں ایک مخصوص نفسیات کو پروان چڑھا کے اسے مظلوم بنا کے بھی پیش کیا جاتا ہے تاکہ اس کے ہر ظلم و زیادتی کا دفاع کیا جا سکے اور اس کے ظلم کے باوجود اس کے لیے ہمدردی کی فضا پیدا کی جا سکے۔ یہ عمل ہماری جڑوں میں موجود ہے۔ ہر گھر میں ایک بڑی بوڑھی خاتون اس کا پہ مامور ہوتی ہے کہ وہ بتا سکے کہ لڑکیوں کو کیسے اٹھنا بیٹھنا، بات کرنا ہے چلنا ہے، ہنسی دبا کے رکھنا ہے، اپنی خواہش کا بر ملا اظہار نہیں کرنا ہے۔ اور ساتھ ہی گھر کے مردوں کے سامنے دبو قسم کا رویہ اختیار کرنا ہے۔

Read more

ورچوئل منڈی

یہ فیس بک ہے یا کوئی بازار کھلا ہے۔ یہاں سب بکتا ہے۔ رنگ برنگی دکانوں پہ ملا بھی ہیں، ملحد بھی، قدامت پرست بھی اور جدیدیت کے گن گاتے لوگ بھی، کوئی بیچتا ہے سیاست تو کسی کی دکان پہ سائنس کا رنگ چڑھا ہے۔ فلسفیوں کی اپنی اک منڈی ہے الجھی سی سلجھی سی، آدم بیزاروں کی بھی اپنی بیٹھک ہے کہنے کو مردم بے زار لیکن اپنی ہر بات سنانے کو بے قرار۔ شاعروں نے بھی دکان

Read more

ہم مصنوعی کیوں ہوتے جا رہے ہیں

ایک عجیب سی افراتفری اور دوڑ ہے جس میں میں ہم سب شامل ہیں۔ ٹرینڈ فالو کرنے کی دوڑ، فیشن اور برینڈز کی دوڑ، کھانے پینے، گھومنے پھرنے، ریسٹورانٹ اور ریزارٹ کی دوڑ۔ ایک لگن ہے ڈھونڈیں دیکھیں اور خود پہ یہ برانڈ ٹیگ لگا کے خوش ہونے کا لبادہ چڑھا لیں۔ ہر پل، ہر لمحہ سوشل میڈیا کی زینت بنا دیں۔ بات کریں تو لازم ہے کہ کسی بہانے سے بتائیں کہ آج کون کون سے برانڈ کا اشتہار بنے ہیں۔ کون کون سے کزین سے لطف اندوز ہو چکے ہیں۔

Read more

بریک اپ کے بعد کیا کرنا چاہیے؟

تعلق کا ٹوٹنا ایک شدید نفسیاتی جھٹکا ہوتا ہے۔ ایک بے وقعتی کا احساس، رائگانی اور وقت کے ضائع ہونے کا پچھتاوا اتنا آسان نہیں ہوتا کہ اس سے آسانی سے نکلا جا سکے۔ یہ نفسیاتی جھٹکا انسان کی زندگی پہ گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ کچھ لوگ اس صدمے سے نکلنے میں بہت وقت لیتے ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ ان لوگوں کا ہے جو اس سے نکلنا ہی نہیں چاہتے۔ اس بات کا پچھتاوا جو گزرے ہوئے وقت کے

Read more

تنہائی سب کی سہیلی کیوں نہیں ہوتی

ڈاکٹر خالد سہیل کا مضمون کیا تنہائی آپ کی سہیلی ہے نظر سے گزرا۔ اس میں انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی خوشی سے تنہا رہے ہیں اور وہ اس تنہائی سے لطف انداز ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ان میں تخلیقی صلاحیت کا ہونا ہے ایک تخلیقی ذہن کے لیے تنہائی بہتر اور وسیع امیجینیشن کا باعث ہوتی ہے۔ یہ وہ تنہائی ہے جو انگریزی شاعر ورڈز ورتھ کے ہاں نظر آتی ہے۔ جو اس کی من کی آنکھ کو کھول دیتی ہے۔ ایسی فرصت جہاں دماغ ہر فکر سے آزاد ہو کر ان ڈیفوڈلز کا تصور کرنے لگتا ہے جو شاعر نے فرصت میں چہل قدمی کے دوران دیکھے تھے۔ اور اس کے دل کو ایسی خوشی سے بھر دیتا ہے جو اسے دنیا کی ہر فکر و پریشانی سے آزاد کر دیتی ہے۔ یہ وہ تنہائی ہے جو روشن اور تخلیقی دل و دماغ کا خاصہ ہے۔ اور ہر وہ انسان جوتخلیقی صلاحیت رکھتا ہے یہ اس کی لاشعوری خواہش ہے۔ یہ بلاشبہ خوشی اور سکون کا باعث ہے۔

Read more

ہم اتنا منفی کیوں سوچتے ہیں؟

ہم جس دور میں زندہ ہیں اسے ٹرانزیشن کا دور کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ہماری زندگی اور سماج میں بہت تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ نئے ٹرینڈز کو اپنانے کا جنون ایک طرف ہے تو دوسری طرف روایات کو ساتھ گھسیٹنے کی کوشش۔ اس تبدیلی اور بدلاؤ کے دور کی ایک خاص بات کنفوژن کا وجود میں آنا ہے ایک طرف ہم محنت کی عظمت کے گن گاتے ہیں تو دوسری طرف یہ اعتراض کہ کوئی

Read more

سائبر بلنگ، ذہنی دباؤ اور بے چینی، خودکشی تک لے جا سکتے ہیں

بلنگ کا مطلب کسی کو تنگ یا زچ کرنے کی غرض سے ذہنی، جسمانی یا جنسی تشدد کرنا ہے۔ بلنگ کا شکار ہمیشہ ذہنی دباؤ کا سامنا کرتا ہے جو بتدریج ڈپریشن میں ڈھل جاتا ہے۔ جسمانی یا جنسی تشدد ظاہر ہو جاتا ہے لیکن گالم گلوچ یا ٹرولنگ کے ذریعے کی جانے والی بلنگ جلد ظاہر نہیں ہوتی لیکن یہ اپنے شکار کو بری طرح سے گھیر لیتی ہے۔ سائبر بلنگ کسی کو ٹرول کرکے، بے جا تنقید کے ذریعے، نجی گفتگو کو پبلک کر کے، تصاویر کے ذریعے بلیک میلنگ، گروہ بندی کے ذریعے نفرت کے پیغامات یا کمنٹس لکھ کے اور کوئی ٹرینڈ سیٹ کر کے کی جاتی ہے۔

Read more

کی جاناں میں کون

شناخت، نام و نصب کے جھگڑے کرتے ہم سب آخر میں بے نام و نشان ہیں۔ ہم میں سے کتنے ہیں جنہیں اپنے پڑ دادا کانام یاد ہوگا۔ کتنے ہیں جو جانتے ہوں کہ ان کے اباؤ اجداد کہاں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور شاز ہی کوئی ہو گا جسے اپنے پڑ دادا سے محبت کا احساس ہوتا ہو۔ پھر بھی ہم جھگڑتے ہیں اپنی ”میں“ کے دائرے میں خود کو مقید کرتے ہیں۔ اپنی اناوں کو سنچتے ہیں اور دوسروں کی عزت نفس کو روندتے ہیں۔ دوسروں کے وقار کی لاش پہ اپنا قد بلند کرکے سینہ پھلا کے خوش ہوتے ہیں۔ کہیں رتبہ مل جائے تو اپنا حق سمجھتے ہیں کہ خود سے ادنی کو روندا جائے۔ کوئی کمزور نظر آئے تو اسے دھمکاتے ہیں کہ اپنی عزت کی دھاک بٹھا سکیں۔

Read more

باڈی شیمنگ ایک روایت

ہمارے ہاں ایک بات بہت عام ہے جسے کسی طرح سے بد تہذیبی نہیں سمجھا جاتا وہ ہے ظاہری خدوخال اور جسامت پہ رائے دینا۔ کسی دوست سے ملیں کہیں کوئی تصویر شئیر کریں یا روز مرہ کے ملنے والے لوگ ہوں سب کے نردیک یہ ایک لازمی جزو ہے کہ وہ جسمانی ساخت پہ بات کریں۔ مہذب معاشروں میں اسے بد تہذیبی سمجھا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں اسے ایک انداز سے تعلق یا پھر فرینکنس کے اظہار کا

Read more

سوچ بدل رہی ہے لیکن یہ کیسی تبدیلی ہے؟

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کسی ملک میں پڑھایا جانے والانصاب، دانشور، میڈیا، ادیب سب ہی عوام کہ سوچ کو بدلنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وہ عوامل ہیں جو غیر محسوس طریقے سے کسی خاص مکتبہ فکر کو پروان چڑھاتے ہیں یا پھر کسی مکتبہ فکر کے خلاف نفرت کی پرورش کرتے ہیں۔ یہ ادارے خود رو نہیں ہوتے نہ ہی یہ بے ترتیبی سے اس مقصد کے لیے کام کرتے ہیں۔ بلکہ یہ باقاعدہ

Read more

عورت مارچ مسائل، مطالبے، ردعمل

ایک کہانی پڑھی تھی ایک پتا پانی میں بہتا جا رہا تھا بہت خوش اچلتا کودتا۔ ایک پریشان حال آدمی نے اس سے پوچھا تم فنا کی جانب جا رہے ہو۔ درخت سے ٹوٹ چکے ہو۔ ساری زندگی تم نے درخت کی آبیاری کے لیے کام کیا اب جب تم بے جان ہوئے تو اس نے تمہیں جھٹک دیا۔ تمہیں دکھ نہیں ہوا؟ پتا بولا میں نے درخت کی آبیاری کا کام کیا تو درخت نے بھی مجھے سینچا میں نے اس نے مجھے پانی مہیا کیا اپنے جسم کا حصہ بنایا۔ میں نے قدرت کے رنگ دیکھے۔اس حسن کا حصہ رہا جسے قدرت نے لوگوں کے لیے باعث رحمت و فرحت بنایا۔ میں نے اپنے حصے کا کام خوشی سے کیا اپنی زندگی جی اور اب وقت آ گیا تھا کہ میں وہ جگہ کسی دوسرے کے لئے چھوڑ دوں۔ تاکہ زندگی کا نظام چلتا رہے۔ میں خوش ہوں کہ میں نے بھرپور زندگی گزاری۔ اب میں پانی میں تیروں گا پھر کہیں زمین کا حصہ بن کے مزید زندگی کا سبب بنوں گا تو اداسی کیسی۔

Read more

غیر معمولی عورت

حسین عورتیں حیران ہیں کہ میرے فخر کا راز کیا ہے۔ میں پیاری نہیں، نہ کسی ماڈل جیسی جسامت میرا خواب ہےلیکن جب میں یہ کہتی ہوںتو گمان کیا جاتا ہے میں جھوٹی ہوںمیں کہتی ہوںمیرے بازوں کے ہالےمیری پشت کا پھیلاومیرے لبوں کے ابھارسب یہی بتانے کے لیے ہیںکہ میں عورت ہوں

Read more

جینا ہے تو آگے بڑھنا ہے

نجانے ہم لوگ دکھ اوڑھ کے اتنا خوش کیوں ہوتے ہیں۔ صدیوں پرانی تہذیب کے کھوجانے کا دکھ ہو یا کسی اپنے پرائے کی کہی گئی کسی بات یا عمل کا دکھ۔ عجیب بات ہے ہمیں دکھ میں رہنا اتنا پسند ہوتا ہے کہ زندگی بالکل متوازن بھی ہو تو کوئی بھولی بسری یاد نکال کے خود کو دکھی کر لیتے ہیں۔ بات یہ نہیں کہ ہم حساس نہیں ہونا چاہیے بات یہ ہے کہ ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ احساس کس کیفیت کا نام ہے۔

ہم اپنے حوالے میں حساس نہیں بلکہ اوور سنسیٹو ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہر توجہ، ہر جذبہ، ہر خیال ہمارا حق ہو اور اس کے بدلے میں ہمیں کچھ نہ دینا پڑے۔ جہاں تھوڑی سی اس حق پہ ضرب پڑتی ہے ہم تڑپ اٹھتے ہیں۔ اور پھر تہیہ کر لیتے ہیں کہ اب کبھی اس بات کو معاف نہیں کرنا۔ پھر ہر جاننے والے سے ایک ہی شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ فالاں وقت یہ بات ہوئی۔ دراصل ہم بھلانا نہیں چاہتے نہ ہی اس کیفیت سے نکلنا چاہتے ہیں

Read more

بچوں پہ جنسی تشدد اور ہمارا سماج

پاکستانی تہذیب قدامت پسند تہذیب مانی جاتی ہے۔ یہاں بہت سے معاملات ایسے ہیں جو انسانی مسائل ہونے کے باوجود محض اس لیے زیر بحث نہیں لائے جاتے کہ ان سے معاشرتی اخلاقیات پہ ضرب پڑتی ہے۔ ایک بہت ہی بد صورت اور کریہہ مسئلہ بچوں پہ ہونے والا جنسی تشدد ہے۔ ایسا نہیں کہ یہ معاملہ نیا ہے۔ مسئلہ پرانا ہے لیکن اسے کارپٹ کے نیچے اسی لیے دبایا گیا کہ اس سے سو کالڈ اخلاقی معاشرے پہ سوالات اٹھتے ہیں۔ پچھلے دنوں چلنے والی می ٹو کی مہم نے جہاں خواتین کو زبان دی کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی زیادتوں پہ بات کر سکیں۔

وہیں کچھ لوگ اس بات پہ اعتراض کرتے بھی نظر آئے کہ اس واقعے کا ذکر کرنے کا فائدہ جو کبھی بچپن میں ہوا ہو یا اسے سالوں بیت چکے ہوں۔ یہ کہنے والے بے حس کہلائے جا سکتے ہیں ظلم چاہے جب بھی ہوا ہو ظلم ہی کہلائے گا وقت بدلنے سے اس کی حقیقت نہیں بدلتی۔ معاملہ صرف خواتین سے متعلق نہیں ہے بلکہ اس طرح کی تکلیف کا سامنا مردوں کو بھی ہو سکتا ہے۔ بلکہ بہت سے لوگ اس کا سامنا اپنے بچپن میں یا بعد زندگی کے کسی بھی مرحلے پہ ہو سکتا ہے۔

Read more

محبوب کے نام ایک اور خط

میرے پیار شاید تمہیں خبر نہ ہو کہ مجھے تم میں اپنا کھویا ہوا عکس دکھائی دیتا ہے۔ تمہاری نا سمجھ میں آنے والی الجھنوں میں، سکوت جیسی خاموشی میں، بے سبب اداسی میں میرا کھویا ہوا حصہ جھلکتا ہے۔ میں جو اب بدل گئی ہوں۔ مجھے جذبوں کو پیمانوں میں ماپنا آگیا ہے۔ مجھے تسلی ہوتی ہے جب کیں کسی الجھ کا آپریشن کر کے حتمی نتیجے پہ پہنچتی ہوں کہ یہ بے وجہ اداسی نہیں بلکہ ذہنی دباو، یہ بے کلی کسی کے کھونے کی یا غیر مرئی ذات کی نہیں بلکہ ڈپریشن کی علامت ہے۔

Read more

تنہائی کا ہجوم

بے تحاشا ہنگامہ ہے۔ میسجز کی ٹونز، وٹس ایپ، فیس بک، ٹوئیڑ، میسنجر، ای میل، ای بنکنگ کے نوٹیفیکیشن۔ وٹس ایپ دیکھتی ہوں۔ تمہارا میسج ہے مسکراتی ہوں کسی شوخ بات کا جواب ہے رپلائی کرتی ہوں۔ ایک کارپوریٹ میسج ہے، بھئی کس نے کہا کہ مجھے بھیجو میسج، کوئی دلچسپی نہیں آپ کی برانڈ سے معاف کر دو۔ طبعیت ہی گراں گزرتا ہے۔ پوپ اپ میں میسنجر کا نوٹیفیکشن ہے دیکھتی ہوں۔ یہ کس نے بھیجا کہا میں نے کہ مجھے لنک سینڈ کرو۔

Read more

ایک بار محبت کر کے تو دیکھو!

عرصہ ہوا کا فکا کی کہانی کایا کلپ پڑھی تھی۔ اس میں ایک ایسے شخص کا قصہ ہے جو ایک صبح سو کے اٹھتا ہے تو خود کو انسان کی بجائے ایک بڑے سے کیڑے میں تبدیل پاتا ہے۔ پہلے تو اس کایا کلپ کو وہ خود بھی نہیں سمجھ پاتا اس کے لیے سب کچھ بدل جاتا ہے ہر چیز ہر بات کے معنی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ وہ حیران ہوتا ہے اور خود کو بے بس محسوس کرتا

Read more

مردوں کا عالمی دن

گزشتہ دنوں منایا جانے والا مردوں کا عالمی دن میرے علم میں نہیں تھا۔ کوئی شور ہے نہ ہی کوئی ایونٹ، نہ ان کی زندگی میں آنے والی مشکلات کا تذکرہ۔ یہ ابھی بلوغت کو بھی نہیں پہنچا محض 1994 میں اس کا آغاز ہوا اور تو ابھی بلوغت میں چار سال کا وقت باقی ہے۔ مرد کا نام ذہن میں آتے ہی ایک بے حس، مضبوط، توانا اور جابر حکمران کا تصور ابھرتا ہے۔ ایک ایسا انسان جو احساسات

Read more

سوشل میڈیا پہ تعلق بناتی گوریاں اور ہمارے رویے

حال میں ایک خبر نظر سے گزری کہ ایک امریکی خاتون جن کی عمر 41 سال تھی پاکستانی 21 سالہ نوجوان کے عشق میں سیالکوٹ آ پہنچی ہیں۔ عام سی خبر ہے، عام ہی رہتی۔ ٹیکناکوجی نے ہمیں بدلا ہے، ہمارے رہن سہن کو بدلا تو ظاہر ہے دوستیاں، رشتوں اور تعلقات کو بھی وسعت دی ہے۔ ہم گلوبل ویلج میں رہ رہے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس نے ہماری رسائی کو تو بدلا ہے، سوچ کو نہیں

Read more

می ٹو ایک ٹرینڈ ایک ذمہ داری

ایسا ہی کچھ انڈیا میں ہوا۔ 2014 میں بس میں سفر کے دوران دو بہنوں نے تین لڑکوں کی پٹائی کی اور الزام لگایا کہ انہوں نے چھیڑ چھاڑ کہ تھی۔ اس واقعے کی ویڈیو کسی نے سوشل میڈیا پہ اپ لوڈ کی بات گورنمنٹ تک پہنچی ہریانہ کی حکومت نے ریپلک ڈے پہ لڑکیوں کو ایوارڈ اور 31000 انعام دینے کا اعلان کیا۔ کسی نے لڑکوں کا موقف جاننے کی کوشش نہیں کی۔ کچھ عرصہ کے بعد انہیں لڑکیوں کی ایک اور ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ ایک اور لڑکے کو مار رہی تھیں۔

یہاں رائے میں تھوڑی تبدیلی آنا شروع ہوئی اور اسی بس میں جہاں پہلے تین لڑکوں کو مارنے کا واقعہ پیش آیا تھی 6 خواتین مسافروں نے بیان دیا کہ وہ جھگڑا ہراسمنٹ کا نہیں بلکہ سیٹ پہ ہو تھا جو وہ لڑکا بزرگ خاتون کو دینا چاہتا تھا۔ اس کے بعد یہ بات منظر عام پہ آئی کہ لڑکیاں لگاتار لڑکوں مار رہی تھیں اور انہیں بلیک میل کر کے رقم وصول کر رہی تھیں۔ 2017 میں جج نے لڑکوں کو بے قصور قرار دیا اور انہیں باعزت بری کیا۔ لیکن ان تین سالوں میں ان کا سماجی رتبہ ختم ہو گیا۔ وہ کوئی ملازمت حاصل نہ کر سکے۔ گھر کے معاشی حالات خراب ہو گئے۔ تین سال کے بعد حاصل ہونے والی آزادی ان کی عمر بھر کی بربادی تھی۔

Read more

دانشوروں کے نام ایک خط

پیارے دانشورو! ایک گزارش ہے جب تم یہ لکھتے ہو کہ زندگی کو تنہا ہی جینا پڑتا ہے تو ساتھ ایک چھوٹا سا وضاحتی نوٹ بھی لکھ دیا کرو یہ لکھتے ہوئے تم اپنے گھر میں سکھ سے بیٹھے ہو۔ تمہارا ایک مکمل خاندان ہے تمہیں اپنی بیوی یا شوہر کی طرف سے مکمل ذہنی و جسمانی آسودگی حاصل ہے۔ تبھی تم یہ دانشوری بگھار رہے ہو۔ جب تم یہ راگنی الاپتے ہو کہ میں اپنے ہر عمل کاذمہ دار

Read more

کچھ گالی کی شان میں

گالی ایک ایسا لفظ ہے جو اپنے آپ میں معنی کی ایک کائنات لیے ہوئے ہوتا ہے۔ یہ غصہ کے اظہار کا مختصر ترین اور جامع انداز ہے۔ اس کے معنی کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ محض ایک لفظ میں تخلیقی عمل سے لے کر خاندانی حسب و نصب، ذاتی خصائص اور اعمال تک کو بیان کر سکتا ہے۔ اس کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ

Read more

ووٹ کو کیوں عزت دو؟

ووٹ کو عزت دو مطلب حق رائے دہی کو عزت دو۔ رائے کو اہمیت دینا آزادی اظہار کو ماننا ہی جمہوریت ہے۔ یہ ہر آزاد شہری کا بنیادی حق ہے۔ کل مجھے ایک دوست نے ایک پوسٹ میں ٹیگ کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ووٹ کو عزت دینے کی بجائے ریاست اور ریاستی ادارے شہریوں کو بنیادی ضروریات فراہم کرنے پہ توجہ دیں۔ بات یہ ہے کہ ان دو باتوں کا موازنہ نہیں بنتا۔ بلکہ یہ دونوں باتیں

Read more

انتخابی مہم، نعروں کی نفسیات اور حقیقی مسائل

الیکشن کا موسم سر پہ آتے ہی ہر سیاسی جماعت اپنی انتخابی مہم چلاتی ہے۔ اپنے منشور کے بارے میں لوگوں کو بتاتی ہے اور انہیں موٹیویٹ کرتی ہے کہ ان کے تمام مسائل کا حل اسی جماعت کے پاس ہے۔ ایسے لوگوں کو موٹیویٹ کرنا آسان کام نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ عوامی نفسیات کو سمجھیں۔ یہ گہرائی میں جا کے دیکھیں کہ لوگ کس چیز کو پسند کرتے ہیں کون سی ایسی بات ہے

Read more

شادی کرنے کا فیصلہ کب کیا جائے؟

شادی غالبا وہ واحد موضوع ہے، جس پہ ہمارے سماج میں بات کرنا، ہر فرد اپنا حق سمجھتا ہے۔ کسی کو کبھی اس بات سے دل چسپی نہیں ہوگی، کہ آپ کے رجحانات کیا ہیں؟ تعلیم کے لیے کیا چنا ہے؟ مستقبل کی پلاننگ کیا ہے۔ آپ کن حالات میں ہیں؟ زندگی کیسے گزر رہی ہے، لیکن جس بات میں لاشعوری دل چسپی ہوگی، وہ ہے شادی۔یہ سوال لڑکیوں سے کالج کے دور ہی میں کیا جانا شروع ہو جاتا

Read more

جھنڈے کے سفید رنگ کو سیاہ کر دیجیے

  گگن سنگھ کو ہیرو بنے تین دن بھی نہیں گزرے تھے کہ ہم نے بدلا دینا اپنا فرض سمجھا۔ ایک طرف فخر انسانیت کا گیت ہے کہ ہمارے بھائی کو وہاں بچایا گیا جہاں ہم اقلیت میں ہیں ۔اور ادھر ہم مذہبی ہم آہنگی کے لیے بڑھ کے کام کرنے والے کو سینے پہ گولی کا تمغہ سجانے پہنچ گئے ۔ایک چھوٹی سی خبر ہے کہ پشاور میں سردار چرن جیت سنگھ کو نامعلوم افراد نے قتل کر دیا۔

Read more

گگن سنگھ: فخر انسانیت یا ہماری منافقت

بھارت میں حال میں ہی ایک واقعہ ہوا۔ ایک مسلم لڑکے کو سکھ پولیس آفیسر نے مشتعل ہجوم سے بچایا۔ اس کا جرم یہ تھا کہ وہ مسلم ہونے کے باوجود ایک مندر میں اپنی ہندو دوست کے ساتھ سیر کی غرض سے موجود تھا۔ گگن سنگھ نامی اس پولیس آفیسر کو پاکستان میں فخر انسانیت کا خطاب دیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ خطاب ان لوگوں کی طرف سے دیا گیا ہے جنہوں نے ابھی چند

Read more