میں اپنے آنسوؤں کو کس کے حوالے کروں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرک کے دور افتادہ گاؤں غنڈی میرا خان خیل میں جس وقت عمر خٹک کو لحد میں اُتارا جا رہا تھا، عین اس وقت حیات آباد پشاور کے قبرستان میں ڈاکٹر پروین بھی خاک اوڑھنے لگی تھی۔
یہ دونوں بظاہر عام لوگ تھے کیونکہ پروین ایک گائناکالوجسٹ تھی اور عمر کرک کا ایک مقامی سیاستدان جو اپنے مقامی لوگوں میں اُٹھتا بیھٹتا اور وہ لوگ ہمیشہ اپنا ووٹ اس کی امانت سمجھتے رہے۔

پروین سے شناسائی اس وقت ہوئی جب وہ اور اس کا نوجوان شوہر ایک بڑے ہسپتال میں جونیئر ڈاکٹرز کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔
ان کا بڑا بیٹا غزن دو سال کا ( جس کے نام پر بعد میں میں نے اپنے چھوٹے بیٹے کا نام بھی رکھا )
جبکہ بیٹی چند ماہ کی تھی میں تب چوبیس پچیس سال کا ایک بے پرواہ اور لا اُبالی سا نوجوان تھا لیکن پلک چھپکتے میں اس چھوٹے سے لیکن حددرجہ نفیس خاندان کے اتنا قریب آیا کہ ایک طرح سے ان کا حصہ بنا۔

تصور بھی نہیں کیاجا سکتا کہ کوئی پرایا اتنا قریب بھی ہو سکتا ہے اور وہ بھی ایک اعتماد اور احترام کے ساتھ لیکن مجھے یہ عزت حاصل رہی اور ہمیشہ حاصل رہی۔ اِس کے تقریبًا ایک سال بعد ڈاکٹر پروین کا شوہر ( جو اِس وقت خیبر پختونخواہ کے ایک ممتاز آرتھوپیڈک سرجن ہیں ) سپشلائزیشن کے لئے انگلینڈ چلے گئے اور ڈاکٹر پروین اپنے بچوں سمیت پشاور میں اکیلی تھی کیونکہ ان کی سپیشلائزیشن شروع ہونے میں ابھی وقت تھا اس لیے میں نے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے فاصلہ بڑھایا مگر چند دن بعد اس کا فون آیا اور ایک باوقار اعتماد کے ساتھ مجھے ڈانٹ دیا سو فاصلے کی جگہ پھر سے اعتماد نے لے لی۔

اب گھر کے چھوٹے موٹے مسائل بھی میرے ذمے ہوتے اور میں انہیں پُر اعتماد طریقے سے پورا کرتا تقریبًا ایک سال بعد وہ بھی مزید تعلیم کے لئے اپنے شوہر کے پیچھے انگلینڈ بچوں سمیت روانہ ہوگئیں ان کے جانے کے بعدمجھے یوں محسوس ہوا جیسے ناز برداریاں اُٹھاتے بھرے پھرے خاندان سے بچھڑ گیا ہوں اور کسی لق و دق صحرا میں اکیلا کھڑا ہوں۔

وقت تیزی کے ساتھ گزرتا رہا اور چار سال کا عرصہ بیت گیا تھا ایک دن صبح صبح فون آیا میں نے ہیلو کہا تو دوسری طرف خلاف توقع ڈاکٹر پروین تھی اس کا قہقہہ گونجا اور شرارت آمیز لہجے میں کہا کہ تم بھی اپنے گھر کے بڑے بن گئے؟

کب آئی ہو؟
میں نے پوچھا۔

کل ہی واپسی ہوئی ہے یہ کہہ کر اس نے فون بند کردیا اور تھوڑی دیر بعد سب کے لئے بہت سارے تحائف لئے پہنچ گئی کچھ دن بعد ایک بڑے ہسپتال میں گائناکالوجسٹ کی حیثیت سے تعینات ہوگئی مگر محبت، احترام اور خلوص میں ذرہ بھر فرق نہیں آیا، سادگی اور معصومیت اسی طرح برقرار رہی جو پہلے دن تھی، چند ماہ قبل ایک خطرناک مرض نے حملہ کیا، اور پھر وہ سنھبل نہ سکی، اُنتیس جون کی شام کو اس نے اپنی زندگی کی آخری سانس لی تو اپنے پیچھے ایک ایسا ماضی چھوڑ گئی جس سے خلوص کی خوشبو اور احترام کی روشنی ہمیشہ ٹپکتی رہے گی۔

تیس جون میرے لئے دکھوں میں لپٹا ہوا دن تھا کیونکہ اس دن عمر خٹک نے بھی خاک اوڑھ لی اس سے بھی عین نوجوانی میں شناسائی ہوئی اور یہ شناسائی فورًا دوستی میں بدل گئی جو آخر تک قائم رہی، عمر خٹک فرید طوفان کا چھوٹا بھائی تھا لیکن اسے شہرت اپنی لاپرواہ طبیعت اور گونجدار قہقہے سے ملی، میرا بیٹا تب دو سال کا تھا اور معصومیت میں عمر خٹک کے قہقہے کی نقل اُتارتا تو عمرکا قہقہہ مزید گونجدار ہوتا۔

پتہ نہیں کتنی راتیں ہم پشاور کی ویران سڑکوں پر گھومے یاد بھی نہیں بس اتنا یاد ہے کہ وہ دوسروں کا دوست اور اپنی ذات کا دُشمن تھا۔ جو ہمیشہ دوستوں کا بھلا سوچتا اور اور خود سے غافل رہتا۔

اس کے بھائی فرید طوفان کی مضبوط سیاسی پوزیشن اور طاقتور وزارتیں بھی عمر کے گرد غربت کی مضبوط فصیل میں کوئی دراڑ نہ ڈال سکی۔ اس لئے کچھ عرصے بعد وہ اپنے گاؤں شفٹ ہوگیا جہاں وہ مقامی سیاست کرنے لگا اور حیرت انگیز طور پر ہمیشہ جیتتا رہا، موت کے وقت بھی وہ ڈسٹرکٹ کونسل کرک کا ممبر تھا۔ ایک عرصے سے جان لیوا بیماریاں اس کے مضبوط جسم کو لپٹ گئیں تھیں۔ دل نے ستر فیصد کام چھوڑ دیا تھا جبکہ شوگر اور بلڈ پریشر الگ سے حملہ آور تھے لیکن اس کے باوجود قہقہے کی فریکوئنسی میں ذرہ بھر کمی نہیں آئی تھی لا پروائی بھی اسی آن بان سے قائم تھی۔

کچھ عرصہ پہلے شدید بیماری کی وجہ سے اپنے بیٹے اسے پشاور لے آئے تو فون کیا کہ پشاور میں ہوں میں ملنے گیا تو حسب معمول بگڑی حالت میں بھی لاپرواہ اور غیر محتاط تھا، سو مجھے جتنی گالیاں یاد تھیں وہ سب کی سب نکال دیں تو اس کا ٹریڈ مارک قہقہہ گونجا اور کہا بے حیا آدمی میرا لحاظ نہیں کرتے تو نہ کرو لیکن کم از کم میرے نوجوان بیٹوں کا تو خیال کرو ان کے سامنے بھی بے عزت کرنے سے باز نہیں آتے۔

یہ زندہ دل اور یار باش دوست بھی اس نہوست بھرے دن کی نذر ہوا جس دن نے میری پلکوں کو خشک نہیں ہونے دیا۔
ڈاکٹر پروین اور عمر خٹک سے میرا رشتہ کوئی نہ تھا وہ صرف دوست تھے لیکن ایسے دوست جس پر میں خناس بانٹتے ہزاروں رشتے بھی قربان کردوں۔

الوداع ڈاکٹر پروین اور عمر خٹک آپ بہت عظیم لوگ تھے مجھ جیسے نالائق کو نہ صرف ہمیشہ برداشت بھی کیا بلکہ اپنے خلوص اور محبت سے محروم بھی نہیں ہونے دیا وہ بھی احترام کے ساتھ۔
اور ہاں جاتے جاتے یہ تو بتا دیتے کہ میں اپنے آنسو اب کس کے حوالے کروں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •