خواتین، دفتر اور گھر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ آج جب دفتر سے گھر آئی تو غصے سے اُس کا چہرہ سُرخ ہو رہا تھا۔ چھوٹی بہن نے جب وجہ دریافت کی تو پتا چلا آج پھر اس غصے کی وجہ ساتھ کام کرنے والے ارشد بھائی ہیں۔ جو مختلف حیلوں بہانوں سے اُس کے کام میں کیڑے نکالتے۔ غیرضرورری طور پر ہر چیز پہ نظر رکھتے اور بعد میں دفتر کے دوسرے لوگوں کو نمک مرچ لگا کے سناتے۔ یہ اُن کی پرانی عادت ہے کہ وہ موقع محل دیکھے بنا شروع ہوجاتے۔ کبھی کسی کے لباس کو لے کر تو کبھی کسی کی شادی شدہ زندگی پر تبصرے۔ علینہ ہی نہیں دفتر کی باقی لڑکیاں بھی اُن کو پسند نہیں کرتی تھیں۔

بات اگر دفاتر کی کریں تو وہاں اِس قسم کے مرد بکثرت پائے جاتے ہیں۔ جو خواتین سے نا مناسب طریقے سے بات کرتے ہیں، جس سے اُن کی تذلیل ہو یا اُن کو نیچا دکھانا مقصود ہو۔ یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں، آج کل ایسے افراد ہمیں اکثر داڑھی مونچھوں میں نظر آتے ہیں۔ اگر ہم اپنے کالج، یونیورسٹی، دفتر، محلے، یا خاندان میں نظر دوڑائیں تو کوئی نا کوئی ایسا شخص آپ کو مل ہی جائے گا۔ آج کل تو کرکٹرز، اداکار، سیاست دان، اینکرز اور مذہبی اسکالرز میں بھی ایسے جراثیم پائے جاتے ہیں۔

اکثر ایسی حرکتوں والے لڑکے وہاں پائے جاتے ہیں جہاں بیٹی کے بجائے چار پانچ بیٹے ہوں۔ مائیں بھی ان سے کاموں میں مدد مانگ لیتی ہیں۔ اس طرح ان کو رائتہ پھیلانا اور اچار ڈالنا بہت خوب آتا ہے۔ یا پھر تین چار بہنوں کے بعد ہونے والا بھائی کیونکہ اکلوتا ہوتا ہے اور بہنوں کے ساتھ رہتے رہتے ایسی باتیں سیکھ جاتا ہے۔

یہاں ایک چار بیٹوں کی ماں (ع) کاذکر کروں گی جس نے ہمیں بتایا کہ ہم بڑے کسی بھی حوالے سے کوئی بات کرتے ہیں تو بچوں کو بہانے سے ہٹا دیتی ہوں۔ کیونکہ اس سے ان کے ناپختہ ذہن پر ایک لکیر بن جائے گی۔ اور چونکہ بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں اُن کو کسی بھی معاملے میں مداخلت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ہم مائیں بہنیں ہی ایک اچھے خاصے بچے کے اندر اِس قسم کی باتیں ڈال دیتی ہیں جو آگے جا کر بہت سے دوسرے مسائل پیدا کر دیتی ہیں۔

اِس بارے میں نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بحیثیت ماں ایک عورت پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے (خاص طور پر بیٹے کی ماں ) کہ وہ اپنے بچے کی صحیح تربیت کرے اور معاشرے کو ایک اچھا انسان فراہم کرے۔ مگر افسوس کے ساتھ ہم اپنے بیٹے کو وہ باتیں اور مثالیں دیتے ہیں جو خوبی ہم اُن میں دیکھنا چاہتے ہیں اور مستقبل میں جس سے والدین کو فائدہ ہو۔ لیکن باقی باتوں پر قصداً پردہ ڈال دیتے ہیں۔ حقوقِ والدین تو بھر پور طریقے سے عمر بھر سکھاتے ہیں مگر حقوق العباد کے متعلق کچھ نہیں بتاتے۔

ماں باپ جنت، بہن بھائی خون، بھابھی (بھائی) کی عزت تو احترام لازم ہے، ان کے فرائض کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نا ہونے پائے۔ چلو یہاں تک تو ٹھیک مگر ساتھ یہ بھی سکھاتے ہیں کہ بیوی کے روپ میں جو عورت ہے وہ پاؤں کی جوتی جیسی ہے، جسے بدلا جا سکتا ہے، بیوی بہت مل جاتی ہیں وغیرہ۔ اِسی متعلق پروسی ملک کے مایہ ناز رائٹر شاعر جاوید اختر نے ایک بار کہا تھا کہ تمہاری ماں محترم تمہارے بچوں کی ماں دو کوڑی کی۔ یہ کیسا تضاد ہے ہمارے معاشرے میں۔ ہر عورت قابلِ احترام ہے۔

کالج اور یونیورسٹی میں بھی ایسے کئی خبری لڑکے پائے جاتے ہیں جو سب کی خبر رکھتے ہیں اور بڑھا چڑھا کے آگے پیش کرتے ہیں۔ ٹیچرز ہوں یا اسٹوڈنس انہیں ہر بات کا علم ہوتا ہے۔ اور جب تک بات آگے دس لوگوں کو نا بتا دیں پیٹ میں شدید درد رہتا ہے۔ دورانِ تعلیم ہمیں بھی ایسے کردار دیکھنے کو ملے جن کی باتوں میں صداقت آٹے میں نمک کے برابر ہوتی اور مبالغہ آرائی سے بھرپور گفتگو کرتے۔ ان کا نیٹ ورک بی بی سی نیوز سے بھی تیز تھا مگر ایسی خبریں بریک کرتے جو محض سنسنی پر ہی مشتمل ہوتیں۔

ایسے ہی ایک صاحب پڑوس میں بھی ہوتے ہیں جو ہر وقت اپنے گھر کی بالکونی یا چھت پہ لٹکے لوگوں کے گھروں میں نا صرف تاک جھانک کرتے ہیں بلکہ پھر محلے کے باقی افراد کو تفصیل فراہم کرتے ہیں۔ گھر میں کوئی دعوت ہو یا تقریب اُن کو سب پتا ہوتا ہے۔ جاسوسی میں اُن کا کوئی ثانی نہیں۔ آپ کہاں جا رہے ہیں اور کہاں سے آرہے ہیں انہیں سب پتا ہوتا ہے۔

یہی مرد جب شوہر بن جائے تو زندگی جہنم سے کم بھی نہیں ہوتی۔ کیونکہ اِس قسم کے مرد بیوی کو کسی کی کمی محسوس ہونے نہیں دیتے اور چونکہ اُن کی تربیت بھی کچھ اِسی ڈھنگ سے کی گئی ہوتی ہے اِس لیے اِن میں درگزر کرنا، چیزوں کو سلجھانا، بیتی باتیں بھول جانا جیسی خوبیاں تو پائی نہیں جاتیں۔ مگر یہ گڑے مردے اکھاڑنے والے ہوتے ہیں۔ بغض اور کینہ پروری کوٹ کوٹ کے بھری ہوتی ہے۔

بات بات پہ اینٹھ جانا، بحث و مباحثہ، نکتہ چینی کرنا، طنز کے بنا بات ہی مکمل نہیں ہوتی۔ معمولی باتوں پر لوگوں سے قطع تعلق کر لینا، باتوں کو طول دینا۔ عام طور پر ایسے آدمیوں کے سب سے اختلاف رہتے ہیں۔ اُ ن کو کوئی اچھا اور مخلص لگتا ہی نہیں کیونکہ وہ اپنی چالاکیاں رشتوں پہ لگاتے ہیں۔ ایسے مرد چاہے کسی روپ میں بھی ہوں گھر کے تمام فیصلوں کا اختیار اپنے پاس رکھتے ہیں، چاہے وہ باپ ہوں بھائی بیٹے یا شوہر۔ کس سے ملنا ہے کہاں جانا ہے کہاں نہیں عورتوں کو اپنے انگوٹھے تلے رکھتے ہیں۔ اپنے آگے کسی کی چلنے نہیں دیتے۔

ایسے مرد اگر بیوی کو درزی کے پاس لے جائیں تو بیوی چپ چاپ ایک کونے میں کھڑی ہوتی ہے اور شوہر حضرات ہدایت دے رہے ہوتے ہیں۔ جہاں اپنا فائدہ ہو وہ باتیں اُن کو فرفر یاد ہوتی ہیں۔ وہ رسم رواج جہاں لینا ہو وہ اُن کو پتا ہوتی ہے اور جہاں کچھ دینا ہو وہاں یہ یادداشت کھو بیٹھتے ہیں۔ کوئی تقریب ہو خوشی کا موقع جنم دن یا شادی کی سالگرہ یہ منہ بنا کے بیٹھ جاتے ہیں تاکہ کوئی خرچہ نا کرنا پڑ جائے۔

اپنی جیب ہمیشہ خالی ظاہر کرتے ہیں اور بیوی بچوں پہ خرچ کرتے تو پورا حساب کتاب ساتھ رکھتے اور وقتاً فوقتاً جتاتے رہتے ہیں۔ یہ دور اندیش ہرچیز میں خود کا فائدہ دیکھتے ہیں۔ دوسروں کی خوشی میں خوش نہیں ہوتے بلکہ جہاں اپنا فائدہ ہو وہ وہاں کا رخ کرتے۔ اور ایسے لوگوں سے ہی تعلق بناتے۔ یہاں میں ایک وضاحت کردوں کہ میرا تعلق کسی این۔ جی۔ او سے ہے نا میں کسی تحریکِ نسواں کا حصہ ہوں۔ (خدا نخواستہ، آپ جیسی عقل مند خاتون کا ان بکھیڑوں سے کیا تعلق؟ مدیر) میں اس بات کا برملا اعتراف کرتی ہوں کہ آج کا مرد مظلوم، عورت ظالم ہے۔ مرد عورت کو پورے حقوق ادا کرتا ہے جبکہ عورت اپنے فرائض میں کوتاہی برت رہی ہیں۔

ہماری ایک عزیزہ کے خاوند نیم نفسیاتی، لالچی اور شکی مرد ہیں، خود کو سید اور اعلیٰ خاندان کا کہنے والے ہر دم بے ہودہ گفتگو کرتے۔ غیر شائستہ زبان استعمال کرتے۔ بیوی کو پبلک میں ذلیل کرتے۔ جن کو یہ پتا ہے کہ بچے ننھیال میں پیدا ہوتے ہیں اُن کا پورا خرچ نانا نانی اٹھاتے ہیں۔ لڑکی کے ماں باپ جہیز نا صرف شادی کے موقع پر بلکہ شادی کے سالوں بعد بھی سامان بھرتے ہیں۔ لیکن جب بیوی اُن سے ڈبل روٹی یا کیلے لانے کو کہے تو کہتے ہیں کہ کیوں بھلا؟

پرانی والی پہلے ختم ہوگی پھر نئی آئے گی اور کیلے سڑ کے جاتے ہیں اب نہیں آئیں گے۔ حتیٰ کہ بیوی پرفیوم لگائے تو کہتے ہیں پورا آج ہی ختم کرنا ہے کیا؟ اس کا کہنا ہے وہ ہر چیز کا ریکارڈ جمع کرتے ہیں تصاویر اور ویڈیو بناتے۔ اور اچھا کمانے کے باوجود ایک روپیہ بیوی پہ خرچ نہیں کرتے اور کبھی غلطی سے مانگ لے تو کہتے ہیں کہ روٹی کپڑا ہے تمہیں بھلا اور کس چیز کی ضرورت۔ لالچی کہہ کر پھر ذلیل بھی کرتے ہیں اور دیتے تب بھی نہیں۔

ایسے مرد اپنی بیوی کو کبھی ہمسفر نہیں بناتے اُن سے اپنی چیزیں باتیں صیغہ راز رکھتے اور اگر بیوی سے کوتاہی ہو جائے تو بس تو تو میں میں آپا بوئا شروع۔ اور منہ پھلا کے بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ کسی رشتے یا اولاد کے آگے بھی بلیک میل نہیں ہوتے۔ گھر میں اگر لڑائی جھگڑے ہوں تو عورتوں کے بھی منہ با آسانی لگ جاتے ہیں۔ اور کافی نامناسب الفاظ استعمال کرتے۔ بہت عجیب سا منظر لگتا ہے جب ایک مرد عورتوں سے لڑ رہا ہوتا ہے۔

بات بات پہ فساد کرنے والے مرد کی اگر شخصیت کا جائزہ لیں تو وہ روانی سے بات کرتے اور ہر چیز پہ گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ میری یہ تحریر پڑھنے کے دوران قارئین کو اِس سے ملتے جلتے کئی کردار یاد آئیں گے۔ آپ بھی اپنی اطراف میں نظر دوڑائیں اور ایسے افراد کی دماغی حالت کے لیے دعا کریں۔ کیونکہ یہ بری طرح سے سماجی بیماری میں مبتلا ہیں جس سی معاشرے کو بالواسطہ اور بلا واسطہ نقصان پہنچ رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •