پڑوسیوں کو کیا منہ دکھائیں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وعدہ کرکے بھول جانا یا اس سے مکر جانا ہماری قومی بیماری ہے اور یہ بیماری سیاست کے ایوانوں سے ہمارے گلی محلوں تک بکثرت پائی جاتی ہے۔

2018 کے انتخابات سے پہلے حکمران جماعت کی جانب سے بھی بہت سے وعدے سنے کو ملے، خان صاحب کے بہت سے وعدوں میں سے ایک وعدہ اقلیتوں کو برابری کے حقوق دینا، ان کی جان ومال کا تحفظ اور ان کا خیال کچھ اس طرح سے رکھنے کی بات بھی ہوئی کہ مودی سرکار کو بتایا جائے کہ اقلیتوں کو اس طرح رکھا جاتا ہے وہ وعدہ سننے کے بعد تو یوں محسوس ہوا کہ ان کی حکومت آنے کے بعد شاید مودی یہاں کی اقلیتوں کی حالت دیکھ شرم سے پانی پانی ہو جائے گا۔

مگر افسوس تقریباً ایک سال گزارنے کے بعد بھی اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت دیکھنے کو نہیں ملی۔ گزشتہ ماہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے حکومتی ایم این اے جناب جمشید تھامس کی جانب سے ایک بل پیش کیا گیا جس میں اقلیتی طالب علموں کے لئے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں 5 فیصد سٹیں مختص کرنے کا ذکر تھا پر افسوس اس بل کی مخالفت حکومتی وزیر کی جانب سے آئی اور یوں یہ بل اپنی موت آپ ہی مر گیا۔

دنیا کی شاید ہی کوئی نوکری ہو جو تعلیم کے بغیر مل جائے اس لیے جب تک تعلیم کا کوٹہ منظور نہیں ہوتا تب تک اقلیتوں کی حالت پسماندہ ہی رہے گئی اور ان کے لئے مخصوص نوکریاں خالی ہی جاتے رہیں گئے۔

کہتے ہیں اچھی بات جہاں سے بھی ملے اس کو اپننا چاہیے آپ نے اپنی تقریر میں ذکر پڑوسیوں کا کر ہی لیا تو چلیں ایک تقابلی موزانہ کر لیتے ہیں پڑوسیوں کا اور اپنا جناب عالی ہمارے پڑوس میں تو محروم طبقات (شیڈول کاسٹ) کی حالت زار کو بہتر کرنے کے لئے پندرہ فیصد تک جاب اور تعلیمی کوٹہ مخصوص ہے۔

۔ ان محروم طبقات سے تعلق رکھنے والے امیدوار کے پاس مقابلے کے امتحانات کو پاس کرنے کے لئے لامحدود چانس ہوتے ہیں۔
۔ ان کو امتحانی فیسں سے مستثنی قرار دیا جاتا ہے۔
۔ ان کے لئے مختص نشستوں کو بار بار مشتہر کیا جاتا ہے جب تک اس کے لئے موزوں امیدوار مل نہ جائے۔

سرکاری تعلیمی اور نوکریوں میں ان کے لئے الگ میرٹ سیٹ کیاجاتا ہے۔

جناب عالی ان تمام نکات میں سے ہمارے ہاں بسنے والی اقلیتوں کو شاید اس کا آدھا ہی ملتا ہو گا اس لئے گزارش ہے کہ پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کی حالت زار پر توجہ دیں اور ان کے معیار زندگی بہتر کرنے کے لئے عملی اقدامات کریں اور تعلیمی کوٹے کے بل پر دوبار نظر ثانی کریں۔
تبدیلی کے اس دور میں اقلیتیں بھی مثبت تبدیلی کی خواہاں ہیں تاکہ ان کی حالت زار میں تبدیلی اقوام عالم میں پاکستان کی نیک نامی اور آپ کو پڑوسیوں سے نظریں ملنے کے قابل بنا سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •