جاب کوٹہ اور مذہبی اقلیتیں

پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتیں، کل آبادی کا تقریباً تین فیصد ہیں۔ جس میں ہندو، سکھ، مسیحی، بہائی اور پارسی شامل ہیں۔ ملک کے قیام، دفاع اور صحت کے شعبوں میں تمام اقلیتوں نے اپنا بھرپور حصہ ڈالا اور آج بھی ڈال رہے ہیں لیکن سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی اقلیتوں کی حالت زار آج تک پسماندہ ہی ہے، آئین پاکستان اقلیتوں کو برابری کے حقوق اور بھرپور تحفظ فراہم کرتا ہے۔ 2009 میں پیپلز پارٹی اور محروم

Read more

دعا کے ساتھ احتیاط بھی ضروری ہے

کرونا کے چین سے نکل کر یورپ، سعودی عرب اور پاکستان سمیت 176 مملک کو اپنی لپیٹ میں لینے سے نسلِ انسانی کے لئے بے پناہ خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ سب سے زیادہ ابتر صورتحال اٹلی اور ایران میں اب تک سامنے آئی، جہاں ہزاروں لوگ اب تک لقمہ اجلِ بن چکے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ وبا آہستہ آہستہ پنجے گاڑنا شروع ہو گئی ہے، سندھ سے لے کر گلگت تک آہستہ آہستہ اِس خونی وبا سے متاثرہ

Read more

پڑوسیوں کو کیا منہ دکھائیں گے؟

وعدہ کرکے بھول جانا یا اس سے مکر جانا ہماری قومی بیماری ہے اور یہ بیماری سیاست کے ایوانوں سے ہمارے گلی محلوں تک بکثرت پائی جاتی ہے۔

2018 کے انتخابات سے پہلے حکمران جماعت کی جانب سے بھی بہت سے وعدے سنے کو ملے، خان صاحب کے بہت سے وعدوں میں سے ایک وعدہ اقلیتوں کو برابری کے حقوق دینا، ان کی جان ومال کا تحفظ اور ان کا خیال کچھ اس طرح سے رکھنے کی بات بھی ہوئی کہ مودی سرکار کو بتایا جائے کہ اقلیتوں کو اس طرح رکھا جاتا ہے وہ وعدہ سننے کے بعد تو یوں محسوس ہوا کہ ان کی حکومت آنے کے بعد شاید مودی یہاں کی اقلیتوں کی حالت دیکھ شرم سے پانی پانی ہو جائے گا۔

Read more

اقلیتوں کا طرز انتخاب ایسا ہونا چاہیے

پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کے طریقہ انتخاب میں مسائل تو ہیں اور یہ مسلئہ زیر بحث بھی بہت رہتا ہے۔ لیکن طریقہ انتخاب کیسا ہونا چاہیے، اس موضوع پر شاید بات کوئی نہیں کرتا۔ گزشتہ کالم میں موجودہ اور سابقہ انتخابی نظام اور ان میں موجود مسائل پر بات کی تھی اب ذرا بات ہو جائے کہ اقلیتوں کا طرز انتخاب ہونا کس طرح کا چاہیے۔ اس حوالے سے میرے خیال میں ایک تجویز پر ذرا بات کر لیتے ہیں۔

Read more

اقلیتی نمائندگی: الیکشن، سلیکشن یا کچھ اور؟

ہمارے کچھ مسائل موسمی ہیں جن پر بحث صرف ان کے موسمی دونوں میں ہی ہوتی ہے، عام دونوں میں اس پر نہ تو کوئی بات کرتا ہے اور اگر ہو بھی تو وہ کوئی خاص معنی نہیں رکھتی۔ اس ہی طرح کے مسائل میں سے ایک مسئلہ اقلیتی طرز انتخاب بھی ہے، الیکشن کے دونوں میں ہر طرف اور خصوصاً شوشل میڈیا پہ ایک طوفان برپا تھا کوئی مخلوط طرزِ انتخاب کا حامی تھا اور کوئی جداگانہ طرز کو اہمیت دے رہا تھا۔ لیکن انتحابات کے مکمل ہوتے ہی وہ بحث بھی ختم ہوگئی اور شاید اگلے انتخابات تک ختم ہی رہے گئی لیکن اس بحث سے ایک نتیجہ ضرور نکلتا ہے کہ پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کی بڑی تعداد اپنے طرز انتخاب سے مطمئن نہیں اور اس میں تبدیلی کی خواہاں ہیں، لیکن کون سا طرز اقلیتوں کے لیے بہتر ہو گا اس پہ بات کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ پرانے اور موجودہ طرز انتخاب کا موازنہ کر لیتے ہیں۔

Read more

مسیحی پیچھے کیوں رہتے جا رہے ہیں

اگر اس خطے میں مسیحیت کی بات کی جائے تو اٹھارہویں صدی کے آخر میں برصغیر میں مسیحیت کی ترویج میں لگے مشنریوں کو اہم کامیابی تب ملی جب ریورنڈ سموئیل مارٹن نے ایک اچھوت ”دت“ نامی شخص کو بپتسمہ دیا کیونکہ اس سے پہلے مشنریوں کی اس وقت کے اونچی ذات کی ہندوؤں میں تبلیغ کی کوشش زیادہ خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکی تھی لیکن ”دت“ کے بپتسمہ کی مخالفت بھی بہت ہوئی۔

اس کا اظہار سموئیل مارٹن کی بیٹی نے اپنی کتاب کے صفحہ 55 پر بھی کیا ہے وہ لکھتی ہیں کہ ”دت کو بپتسمہ دینے سے پہلے بہت سارے مشنریوں کا خیال تھا کہ اچھوتوں کو بپتسمہ نہ دیا جائے ایک تو رد کیے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ان میں قائدانہ صلاحیتوں کی کمی ہو گی اور ہمارے جانے کے بعد یہ کلسیا کی باگ ڈور ہرگز نہیں سنبھال پائیں گے“ ان تمام خدشات کے باوجود سموئیل مارٹن نے دت کو بپتسمہ دیا اور دت نے واپس جا کر اپنے گاؤں میں مسیحیت کی تبلیغ کا کام شروع کیا اور آنے والے تیس چالیس سال کے عرصے میں دت نے چار لاکھ کے قریب لوگوں کو مسیحیت میں شامل کرلیا۔

Read more

نیا پاکستان اور مذہبی اقلیتیں

گزرے وقتوں کی بات ہے ایک گاوں میں پیر بخش نامی ایک شخص رہتا تھا پیر بخش پیشے کے لحاظ سے قریبی قصبے میں ادنی سی ملازمت کرتا تھا وہ اپنے پانچ بچوں اور بیوی کے ہمراہ اپنے دو کمروں کے مکان میں رہتا تھا اس کا مکان پورے گاوں میں سفید پردے کی وجہ سے مشہور تھا جو اس نے اپنے مکان کے مرکزی دروازے سے لگایا ہوا تھا، اس کا مکان اندر سے کیسا تھا یہ کوئی نہیں

Read more