اگر اس خطے میں مسیحیت کی بات کی جائے تو اٹھارہویں صدی کے آخر میں برصغیر میں مسیحیت کی ترویج میں لگے مشنریوں کو اہم کامیابی تب ملی جب ریورنڈ سموئیل مارٹن نے ایک اچھوت ”دت“ نامی شخص کو بپتسمہ دیا کیونکہ اس سے پہلے مشنریوں کی اس وقت کے اونچی ذات کی ہندوؤں میں تبلیغ کی کوشش زیادہ خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکی تھی لیکن ”دت“ کے بپتسمہ کی مخالفت بھی بہت ہوئی۔
اس کا اظہار سموئیل مارٹن کی بیٹی نے اپنی کتاب کے صفحہ 55 پر بھی کیا ہے وہ لکھتی ہیں کہ ”دت کو بپتسمہ دینے سے پہلے بہت سارے مشنریوں کا خیال تھا کہ اچھوتوں کو بپتسمہ نہ دیا جائے ایک تو رد کیے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ان میں قائدانہ صلاحیتوں کی کمی ہو گی اور ہمارے جانے کے بعد یہ کلسیا کی باگ ڈور ہرگز نہیں سنبھال پائیں گے“ ان تمام خدشات کے باوجود سموئیل مارٹن نے دت کو بپتسمہ دیا اور دت نے واپس جا کر اپنے گاؤں میں مسیحیت کی تبلیغ کا کام شروع کیا اور آنے والے تیس چالیس سال کے عرصے میں دت نے چار لاکھ کے قریب لوگوں کو مسیحیت میں شامل کرلیا۔
Read more