مل مالک کے بیٹے کا انتظار کرتی پاگل لڑکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج دل کیا کچھ ہٹ کے لکھنے کو۔ بلکہ لکھنے کو نہیں آج تو دل کی بھڑاس نکالنے کو جی چاہ رہا ہے۔ اک شکوہ تھا جو لبوں پہ آکر رک جاتا۔ سوچتی تھی اگر لبوں پر آ بھی گیا تو بھلا کون سنے گا۔ سو آج بہتر جانا کہ اس شکوہ کو لبوں پر لانے کی بجائے لکھ دیا جائے۔ اس کو صفحہ قرطاس پر منتقل کرکے ”اخبار برد“ کردیا جائے۔ اور کوئی اسے موسیٰ کے صندوق کی طرح باہر نکال لے۔ اور اس پر توجہ دے اور پھر اس کے لفظ بالکل موسیٰ کے عصا کا سا کام کریں۔

قوی اًمکان ہے کہ اخبار کسی ردی والے سے ہوتاکسی پکوڑہ، سموسہ شاپ تک کا سفر طے کرتا کسی کے گھرپہنچ جائے اور یوں یہ شکوہ مخصوص طبقے سے نکل کر گھرگھر پہنچ جائے اور عام لوگ بھی اس سے اتفاق کرلیں۔ کہ ہمارے ہاں جو اخبار خرید کرپڑھتے ہیں ان کا حلقہ بہت محدود ہے لیکن اگر اس میں لپیٹ کر پکوڑے یا سموسے آجائیں تو اخبار کی قدرو منزلت میں اضافہ ہوجاتا ہے یوں اسے ہر کوئی پڑھ لیتا ہے۔ میرا شکوہ سوہنی کے موہنے حسن جیسا تو نہیں جو دل میں بس جائے گا۔

ہاں میرا شکوہ تو لیلیٰ کی رنگت جیسا ہے جو اخبار کے سفید صفحے پر بکھر کر اور سیاہ ہوجائے گا۔ اس شکوہ کا خیال مجھے ایک ماں کی فریاد کی وجہ سے آیا تھا۔ جس نے بتایا کہ اس کی بیٹی ناول پڑھ پڑھ کے پاگل ہو گئی ہے اور گھر آئے ہر رشتہ کو ٹھکرائے جاتی ہے۔ اس ماں نے بتایا کہ اس کی بچی کا کہنا ہے کہ فلموں، کہانیوں میں امیر لڑکا غریب گھر سے لڑکی بیاہ کے لے جاتا ہے۔ لہذا میرے لئے بھی کسی مل مالک کا بیٹا آئے گا اور مجھے لے جائے گا۔

میرا شکوہ قاری اور لکھاری دونوں سے ہے۔ لکھاری خواتین و حضرات سے یہ شکوہ ہے کہ وہ ابہام گوئی کی حد کر دیتے ہیں جو ناول نگار، افسانہ نویس ہیں یا شاعری پر طبع آزمائی کرتے ہیں۔ یہ لوگ گو کہ مختلف اصناف میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ لیکن اصل میں یہ ایک ہی قبیل کے لوگ ہیں، ان کا پیشہ ایک، ذریعہ معاش ایک۔ یہ سب قلم کے مزدورہیں۔ یہ دنیاکے ایسے مزدور جو پڑھنے والوں کو خوشی تو دیتے ہیں، انھیں خوابوں کی دنیا میں تو لے جاتے ہیں۔

لیکن ان کے خوابوں کی تعبیر دینے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اور کئی جگہوں پر نادانستگی میں قاری کی دل آزاری بھی کرتے ہیں۔ اب اپ پوچھیں گے وہ کیسے؟ قلمکار تو تخلیق کرتا ہے۔ اس کا قلم تو کہانی لکھتا ہے۔ حقیقی دنیا سے اٹھا کر خوابوں کی، تمناوں کی دنیامیں لے جاتا ہے جہاں چاہے چند پل کی سہی لیکن آسودگی ہوتی ہے۔ تو یہ قاری کی دل آزاری کیسے کرے گا۔ تو سن لیجیے وہ نالہ جو نوک زباں پر تھا وہ اب نوک قلم پر ہے۔ اور قلم ہے کہ لکھنے کومچل جاتا ہے۔

سو اب میں قلم اور شکوے کے بیچ رکاوٹ نہیں بنتی اور قلم کے ذریعے شکوہ ”اخبار برد“ کرتی ہوں۔ شاید کوئی اس پہ توجہ دے دے۔ گو کہ میرا شکوہ کرنا بنتا نہیں مگر لکھاریوں سے درخواست تو کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے ناولز میں ہیرو، ہیروئن کی صورت میں جو عجیب ماورائی مخلوق دکھاتے ہیں۔ وہ مخلوق حقیقت میں کم ہی پائی جاتی ہے۔ یہاں خوبصورت لڑکیوں کے علاوہ موٹی، ٹھگنی، کالی لڑکیاں بھی موجود ہیں۔ ناول کی ہیروئن تو انتہائی خوبصورت، نرم و نازک، لچکیلی کمر، یہ سرو کی طرح لمبی، ہرنی سی آنکھیں، دودھ سی رنگت لئے ایسی مخلوق دکھائی دیتی ہے۔

جیسے وہ کوئی اپسرا ہو۔ جس کی بدتمیزیاں بھی ٹھاہ کر کے دل کو لگتی ہیں۔ اور ہیروئن جتنی منہ پھٹ ہوتی ہے اسی قدر ہیرو کے دل میں جگہ بنا لیتی ہے۔ اور ہیرو ایسا سپر مین جس کو پڑھ کے گمان ہونے لگے کہ آیا یہ مرد بھی ہے کہ نہیں۔ میراطلب مردانہ وجاہت کا ایسا نمونہ جس کی مثال ہمارے اردگرد موجود مردوں میں شاید ہی ملتی ہو کہ زیادہ تر لڑکوں کی تعداد اپنے کندھوں پر غربت کا بوجھ اٹھائے ہوتی ہے منخنی سا وجود رکھنے والے لڑکوں کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ دن بھر مشقت کر کے کسی طرح گھر کی روٹی چلا رہے ہوتی ہے۔

بلکہ اگر قاری کوئی عام سے محلے کا ہے تو دس نسلوں میں بھی ایسابانکا سجیلا نوجوان پیدا نہیں ہواہوگا۔ جو امیر بھی ہوگا، خوبصورت بھی، ذمہ دار بھی ہوگا اور پارسا بھی۔ اور اگر یہ ناولز مخصوص قسم کی رائٹرز کے ہیں تو پہلے سے جان لیں کہ انتہائی غربت کے باوجود ہیروئن کی جلد چودہویں کے چاند کی طرح چمکتی ہے۔ اس کے چہرے پر فاقوں کے باوجود دلکشی موجود ہوتی ہے۔ غربت جو چاند چہروں کو بھی کمہلا دے۔ اسی غربت میں جب ناولز کی ہیروئن مبتلا ہو تو اس کی رعنائی ودلکشی برقراررہتی ہے۔

ہیروئن جتنی غریب ہوگی ہیرو اتنا ہی امیر اور پارس۔ اور غریب ہیروئن پر فریفتہ۔ اب آپ ہی فیصلہ کیجیئے جب قبول صورت قارئین کی تعداد جب ان ناولز کو پڑھے گی تو اس کا دماغ خراب نہیں ہوگا۔ جب لڑکیاں ایسی کسی بھی رائٹر کی کہانی پڑھتی ہیں تو وہ ہیروئن کی جگہ خود کو رکھ لیتی ہیں اور ان پر اک خواب کی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ کسی بھی لکھاری کی کامیابی اسی میں ہوتی ہے کہ اس کا قاری کہانی کو خود پہ طاری کر لے۔ لیکن لڑکیاں نازک ہوتی ہیں۔

وہ خواب دیکھتی ہیں اور خواب ٹوٹنے پر مقدر سے شکوہ کناں بھی ہوتی ہیں۔ وہ کہانی کے کسی ہیرو کی راہ تکتی رہتی ہیں۔ لیکن حقیقت میں کسی امیر زادے کو غریب گھرانوں میں انٹرسٹ ہوتا ہے نہ انھیں کوئی غریب لڑکی بھاتی ہے اور نہ ہی غربت میں اتنی کشش ہوتی ہے کہ وہ امیر زادوں کو کیھنچ لے۔ زیادہ تر لکھاری خواتین لیلیٰ کی سانولی رنگت کو فراموش کر کے سفید گوری رنگت کاذکر کر کے دنوں میں رنگ گورا کرنے والی فارمولہ کریم بنانے والی کمپنی کے مالکان کو تو امیر کر سکتی ہیں لیکن ان مالکان کو ایسے کسی گھر کی دہلیز نہیں پار کرواسکتیں۔

سو درخواست ہے ناول لکھتے ہوئے قبول صورت لوگوں کا بھی تھوڑا دھیان رکھا کریں۔ اور ان کے لئے بھی کچھ لکھ لیا کریں۔ جن کا دل تو ناولز کی ہیروئن کے ساتھ دھڑکتا ہے لیکن ان کی زندگی میں کوئی ناول کے ہیرو جیسا مرد شامل نہیں ہوتا۔ یہ گلی محلوں میں رہنے والی بچیاں جو گھر والوں سے چھپ چھپ کر خواتین کے ڈائجسٹ پڑھتی ہیں۔ جو ناول کے کرداروں کی زندگی میں خود کو دیکھنا شروع کردیتی ہیں۔ اور ایسے ہی کسی ہیرو کی منتظر رہتی ہیں۔

جبکہ نہ وہ حسین ہوتی ہیں، نہ کوئی امیر زادہ کسی فلم یا ناول کے ہیرو کی طرح سیوریج کے ناکافی انتظام کی وجہ سے ابلتے گٹروں والے محلوں میں آتا ہے نہ کسی ٍ فیکٹری کے مالک کے اکلوتے بیٹے کی گاڑی ان کے لئے آکر رکتی ہیں۔ یہ قبول صورت سانولی رنگت والی لڑکیاں گولڈن پرل جیسی کریمیں لگا کر چہرے کی رنگت تو بدل لیتی ہیں لیکن قسمت بدلنے سے قاصر ہوتی ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہنے والی ناول پڑھ پڑھ کر پاگل ہوئی عام سی لڑکیا ں بڑے بڑے خواب دیکھتی ہیں۔

تصوراتی دنیامیں رہتے حقیقت میں موجود اپنے ہی جیسے کسی گھرسے آئے ہوئے کسی فیکٹری میں کام کرنے والے عام سی شکل و صورت رکھنے والے کے رشتے کو ریجیکٹ کرتی جاتی ہیں وہ ناولز کی ہیروئن کی طرح منہ پھٹ ہونے کی جرات بھی کر لیتی ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جوانی بڑھاپے کی دہلیز پار کرجاتی ہے لیکن کوئی خوابوں کا شہزادہ ان کی جھونپڑی نما گھروں میں ان کو بیاہنے نہیں آتا۔ بلکہ پھر کوئی عمر رسیدہ بھی نہیں آتا۔

ناول، ڈرامہ اور فلم کی کہانیوں کے پیچھے پاگل ہوئی لڑکیوں کو اتنا سمجھنا چاہیے زندگی کوئی کہانی نہیں ہوتی۔ کہانی لکھنے والا یا والی قلم کے مزدور ہیں۔ وہ محنت مزدوری کرتے ہیں۔ اور اسی محنت، مزدوری کے عوض ان کے گھر کا چولہا جلتا ہے اب ہر کوئی منٹو نہیں جو سچ دکھائے اور اس سچ لکھنے کی پاداش میں عدالتوں کے چکر بھی کاٹے اور فاقے بھی۔ اس کا قلم اس کے پیٹ پہ پتھر رکھ دے اور وہ خون تھوکتا مرجائے۔ یہاں کوئی حبیب جالب بھی نہیں جو کہہ دے اس دستور کو، صبح بے نور کومیں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا۔ حق کا نعرہ لگائے اور پابند سلاسل ہو جائے۔ ۔

یہاں کہانی کا جتنا اچھا بنت کار ہوگا، جتنا اچھا تخیل دکھائے گا اتنا ہی بڑا لکھاری مانا جائے گا۔ اتنی ہی اس کی مزدوری کی اجرت بڑھتی جائے گی۔ یہ گلیمر کا دور ہے۔ ٹی وی سکرین پر اب وارث، اور تنہائیاں جیسے ڈرامے نہیں چل سکتے یہاں اب ماروی بھی دم توڑ چکی۔

یہاں گلیمر چلتا ہے۔ لیکن افسوس حقیقت آج بھی اتنی ہی تلخ ہے جتنی کل تھی۔ ان کچے ذہن کی خواب دیکھنے والی لڑکیوں کو پکی عمر تک پہنچنے سے پہلے زندگی کی تلخ حقیقتوں کا سامنا کر لینا چاہیے کہ زندگی فلم ہے نہ ڈرامہ، نہ کسی ناول کی کہانی جہاں آخر میں سب ٹھیک ہوجاتا ہے۔ یہاں زندگی کی آخری سانس تک جدو جہد کرنی پڑتی ہے۔ نادان بچیاں جان لیں یہاں زندگی ایک تلخ حقیقت ہے یہاں کوئی شہزادہ بھی نہیں آئے گا۔ سو بہتر ہے جو ہیرو ماں باپ نے ان کے لئے ڈھونڈا ہے اسی کی ہیروئن بن جائیں ورنہ عمر ڈھلنے پر کوئی ولن بھی دستیاب نہیں ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •