ڈزنی کی فلم الہ دین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریویو: صوفیہ کاشف

رنگ، انداذ، موسیقی، رقص اور عرب تہزیب میں خوبصورتی سے گندھی ہوئی محسور کن منظر نگاری، اور دلکش ڈائریکشن، ڈزنی کی الہ دین بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے والدین اور بڑوں کے لئے بھی ایک مکمل ٹریٹ ہے۔ الہ دین (میناء مسعود) ، یاسمین (مومی اسکاٹ) اور چراغ کا جن ( ول اسمتھ) اپنے کرداروں میں نگینوں کی طرح فٹ ہیں جو یقینا ڈزنی لینڈ کی روایت ہے۔

ڈزنی سیریز ہمیشہ اپنے اوج کمال پر ہونے کی وجہ سے بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کے لئے بھی تفریح مہیا کرتی ہیں۔

رنگوں سے بھرپورعرب کلچر کی اس قدر خوبصورت منظر نگاری شاید خود عرب بھی نہ کر سکیں۔ ڈزنی نے دنیا میں ماند ہوتے ہوئے عرب کلچر کو شاندار گلیمرس انداز میں پیش کر کے ان پر عریبین نائٹس کا سحر طاری کر دیا ہے۔ الہ دین، یاسمین، چراغ کا جن، عرب شہروں کے مناظر، غار کی منظر نگاری، قالین کی سیر، ایک ایک واقعہ اور منظر محسوس کر دینے والا ہے۔ جینی کے مزیدار کردار اور دلچسپ مکالموں نے سیر پر سوا سیر کا کام کیا ہے۔

ڈزنی کی تمامتر دوسری فلموں کی طرح الہ دین ایک شاہکار مووی ہے جو آپ کی عمر سے قطع نظر آپ کو بہترین تفریح مہیا کرتی ہے۔ 128 منٹ پر محیط یہ فلم ایک لمحے کے لئے بھی آپ کوبور ہو نے نہیں دے گی۔ الہ دین کی پھرتیوں سے یاسمین کے حسن تک، چراغ کے جن، ول سمتھ ( will smith) کی مستیوں سے ابو (بندر) اور طوطے کی جنگوں تک، ہر کردار اور منظر خوبصورتی اور دلچسپی کی انتہا پر ہے۔ خصوصا بڑی سکرین پر اس کی منظر نگاری مہبوت کر دیتی ہے۔ صرف یہی نہیں ڈزنی کی تمام سیریز کی طرح اس میں بھی بہت سے غیر محسوس طریقے سے کچھ اسباق دیے گئے ہیں جو بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کے لئے بھی دیانتداری، سچ، اور اپنے آپ پر یقین کی اہمیت کے ریمانڈر مہیا کرتے ہیں۔

فیملی کے لئے ایک مکمل بھرپور تفریح جو آپ کے وقت کی ضرور حق دار ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •