بلوچستان کے میڈیکل کے اسٹوڈنٹس سراپا احتجاج
آج سے نہیں بلکہ قیام پاکستان سے لے کر بلوچستان کو صوبہ کا درجہ ملنے تک، شروع سے بلوچستان کے حوالے سے فیڈریشن کا یہی رویہ رہا ہے کہ تعلیم کے میدان سے بلوچستان کے نوجوان کو دور کیا جائے۔ المیہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی طلبا اپنے حقوق کے لیے جب تک سڑکوں پہ نہیں نکلیں گے، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کسی کی سُنی جائے یا کسی بھی امتحان یا ٹیسٹ کا نتیجہ بروقت نکلے۔
بلوچستان میں میرٹ کا یہ عالم ہے کہ چاہے پبلک سروس کمیشن ہو یا دیگر مقابلہ جاتی امتحانات ہوں، ایسا ممکن نہیں کہ ان کے نتائج سے متعلق شکوک و شبہات پیدا نہ ہوں اور امیدوار متاثرنہ ہوں۔ ہر جگہ تحفظات ہی تحفظات ہیں۔ حالیہ دنوں میں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے نتائج پہ بھی ہم سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر دیکھ رہے ہیں کہ بے شمار طلبا وطالبات متاثر ہوئے ہیں اور سراپا احتجاج ہیں۔
اب بلوچستان کی تعلیمی مسائل سے جڑا ہوا ایک اور مسئلہ سامنے آیا ہے۔ گذشتہ چند روز سے بلوچستان کے طلبا و طالبات ٹیوٹر و فیس بک پہ سب سے زیادہ اس پر بحث کر رہے ہیں کہ ستر سال بعد بلوچستان جیسے ہر لحاظ پسماندہ صوبے میں نیشنل پارٹی کے دورِ حکومت میں تین میڈیکل کالجز جھالاوان، مکران اور لورالائی قائم ہوئے، اور بولان میڈیکل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔ تمام کالجز کے پرنسپلز بھی تعانیات ہوئے اور داخلہ ٹیسٹ بھی ہوئے۔ ایک بیچ بھی انرولڈ ہے۔ مگر حالیہ ٹیسٹ کے بعد اچانک پی ایم ڈی سی نے بلوچستان کے لیے ایک مسئلہ کھڑا کیا ہے اور اس کو بنیاد بنا کر حتمی میرٹ لسٹ آویزاں کرنے میں رکاوٹ کھڑی کی جا رہی ہے۔
عجیب منطق ہے کہ یہ تینوں کالجز پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی ریکوائرمنٹس پورا نہیں کر رہے ہیں۔ حیرت ہے کہ جب رجسٹریشن نہیں ہے تو وہاں ملازمین کو کیوں اور کیسے بھرتی کیا گیا، جہاں ایک پرنسپل لاکھوں روپے تنخواہ لے رہا ہے اور باقی ملازمین اپنی جگہ۔ کیا یہ صوبے اور ملک کے کمزور بجٹ پہ بوجھ نہیں ہے؟ اس کا ازالہ کون کرے گا؟
جن طلبا و طالبات کو اپنی کلاسوں میں ہونا تھا، یہ سماج کا المیہ ہے کہ وہ معصوم نوجوان پریس کلب کوئٹہ کے سامنے بھوک ہڑتال پہ بیٹھے ہیں۔ ان کے والدین پہ کیا بیت رہی ہو گی کہ جس کے والدین نے معلوم نہیں کس ناز و نعم سے ان کی پرورش کی ہے اور کتنی جفاکشی، محنت اور مزدوری کر کے ان کو پڑھایا مگر اس بے رحم معاشرے کے حکمران اور افسر شاہی کو اس کی کوئی پروا ہی نہیں ہے۔
چند متعلقہ افسران اپنے ذاتی مفادات اور اپنی انا کی خاطر اسٹوڈنٹس کی تعلیم ضائع ہونے کی کوئی پروا بھی نہیں کرتے۔ ٹویٹر سرکار کو عوامی مسائل سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے۔ آخر یہ اسٹوڈنٹس جائیں تو کہاں جائیں۔ کیا یہ بلوچستان کی ہر نوجوان نسل کے مقدر میں لکھا ہوا ہے کہ اپنے جائز حقوق کے لیے بھی اسے سڑکوں پہ دھرنا دینا ہو گا! ۔
کوئٹہ پریس کلب کے باہر آل میڈیکل کالجز متاثرہ طلبا و طالبات کے کیمپ کے برابر میں ہی شعبہ طب سے تعلق رکھنے والے فارمسٹس بھی بھوک ہڑتال پہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ کہاں ہے آپ کی گڈ گورننس؟ بہتر طرزِ حکمرانی کے دعوے اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ ہی کے صوبے کا حال و مستقبل بجائے کلاسوں میں ہونے کے سڑکوں پر ہے۔ اس سے قبل بولان میڈیکل کالج بی ایم سی کے ایک طالب یوسف پرکانی نے اسی نظام سے تنگ آ کر خود کشی کر لی تھی۔
بلوچستان کے مظلوم طالب علم اس سے زیادہ قربانی نہیں دے سکتے۔ خدارا اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر ان معصوم اسٹوڈنٹس کا ذرا خیال کریں تاکہ آنے والی نسل کم از کم اس طرح کے مسائل سے دو چار نہ ہو۔ اس سے تو بس دو چیزیں نظر آ رہی ہیں ؛ ایک یہ کہ حکمران لوگ نہیں چاہتے ہیں کہ بلوچستان کی تعلیمی پسماندگی دور ہو سکے یا آپس میں انتظامیہ کی اپنی انا یا چپقلش ہوگی۔ مگر جو بھی ہے تمام فریقین کو صوبے کے عظیم تر مفاد کی خاطر اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ایک پیج پر ہونا چاہیے۔ ہم بھی یہی امید رکھتے ہیں کہ اگلے چند دنوں میں اس مسئلے کا حل تلاش کر کے جلد متاثرین کو خوش خبری دی جائے گی۔


