حامد میر سے ایک سوال جو پوچھا نہ جا سکا

بارہواں عالمی اردو کانفرنس کے موقع پر پاکستان کے معروف تجزیہ نگار، اور جرات مند صحافی جناب حامد میر اور عاصمہ شیرازی صاحبہ کے  ”سیشن: کیا اردو ادب اور صحافت زوال کا شکار ہے؟ میں پینل گفتگو میں حامد میر اور عاصمہ شیرازی نے صحافت اور ادب پہ نامعلوم قوتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا…

Read more

بلوچستان میں علم بانٹنے کی پاداش میں پروفیسر کے خلاف انتقامی کارروائی

اسوقت بلوچستان کئ حوالوں سے سب سے آگے ہوتا جارہا ہے۔ پسماندگی، غربت اور بے روزگاری کی اعلی مثالیں ملتی ہیں۔ بلوچستان میں شعوری علم پھیلانے اور آزادی اظہار پہ تو مدتوں سے قدغن لگی ہوئی ہے۔ نہ تو ادیب اور  شاعر کھل کے معاشرے کے اصل چہرے کو بیاں کرسکتا ہے اور نہ ہی…

Read more

کوئٹہ میں نجی اسٹوڈنٹس ہاسٹل ایک منافع بخش کاروبار

بلوچستان میں ہر چیز کمرشلائیزڈ ہوتا جا رہا، نجی اسپتالوں سے لے کر نجی تعلیمی اداروں تک، نجی اسپتالوں کی وجہ سے سرکاری اسپتالوں میں پرسٹامول ناپید اور نجی تعلیمی اداروں سے سرکاری سکول ویران اور غریب کے بچے بھی بنیادی انسانی سہولیات تعلیم سے تیزی کے ساتھ محروم ہوتا جا رہا۔ جس کی بنیادی…

Read more

اب کچھ کہنے کی ضرورت نہیں

بغیر کسی تمہید کے اپنی بات کا آغاز اپنے اردگرد کے حالات و واقعات سے کرتا ہوں کہ جہاں میں پیدا ہوا ہوں اور یہاں کے ہر حالات کو میں خود چشم دید گواہ بھی ہو۔ عماما انسان کسی معاشرے کے حوالے سے جب بات کریں گے تو سیکینڈری ڈیٹا کے ذریعے ریفرنس دیتے ہیں…

Read more

بلوچستان کا شعبہ تعلیم ایک مسائلستان

گزشتہ روز جامعہ بلوچستان کوئٹہ کے سٹی کیمپس میں تمام طلبا تنظیموں کا بلوچستان یونیورسٹی سمیت بلوچستان کے تمام تعلیمی اداروں کے مسائل کے حوالے سے مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جسمیں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے دونوں دھڑوں، پشتون اسٹوڈنٹس کے طلبا تنظیمیں اور دیگر محدود طلبا تنظیمیں شامل تھیں۔ اجلاس کا مقصد جامعہ بلوچستان میں…

Read more

بلوچستان کے میڈیکل کے اسٹوڈنٹس سراپا احتجاج

آج سے نہیں بلکہ قیام پاکستان سے لے کر بلوچستان کو صوبہ کا درجہ ملنے تک، شروع سے بلوچستان کے حوالے سے فیڈریشن کا یہی رویہ رہا ہے کہ تعلیم کے میدان سے بلوچستان کے نوجوان کو دور کیا جائے۔ المیہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی طلبا اپنے حقوق کے لیے جب تک سڑکوں پہ نہیں نکلیں گے، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کسی کی سُنی جائے یا کسی بھی امتحان یا ٹیسٹ کا نتیجہ بروقت نکلے۔

بلوچستان میں میرٹ کا یہ عالم ہے کہ چاہے پبلک سروس کمیشن ہو یا دیگر مقابلہ جاتی امتحانات ہوں، ایسا ممکن نہیں کہ ان کے نتائج سے متعلق شکوک و شبہات پیدا نہ ہوں اور امیدوار متاثرنہ ہوں۔ ہر جگہ تحفظات ہی تحفظات ہیں۔ حالیہ دنوں میں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے نتائج پہ بھی ہم سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر دیکھ رہے ہیں کہ بے شمار طلبا وطالبات متاثر ہوئے ہیں اور سراپا احتجاج ہیں۔

Read more