سیمی فائنل، احتساب، حاکمیت، حکومت اور پاکستان!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز بنگلہ دیش کے خلاف میچ سے پہلے یا اس میچ کے بعد یہ بیان دیتے ہیں کہ ”قوم ان پر بھروسا رکھے، وہ پاکستان کو سیمی فائنل میں پہنچا کر ہی دم لیں گے“، تو کتنے افراد ان کی بات پر یقین کریں گے؟ کپتان سرفراز احمد انگلینڈ میں بیٹھے ہیں جہاں غلط بیانی کو حکمت عملی کے طور پر اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم پاکستان میں غلط بیانی کو ایک موثر سرکاری، سیاسی اور سماجی حکمت عملی کے طور پر اختیار کیے جانے کا رواج ہے۔ کرو کچھ اور، کہو کچھ اور، کوئی آپ سے یہ نہیں کہے گا کہ ”میاں زمین پر مٹر گشت کرتے پھرتے ہو اور باتیں آسماں پر اڑتے ہوئے غوطے لگانے کی؟ پیچھے اورسامنے دیکھتے ہوئے دھیان سے چلو، کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی گڑھے میں جا گرو“ َ

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جاوید اقبال ( ریٹائرڈ جسٹس) کا کہنا ہے کہ ”نیب کی ہمدردی ان لوگوں کے ساتھ ہے جو زندہ رہنے کی جستجو کررہے ہیں، یقین دلاتا ہوں کرپشن ختم ہوگی“۔ چیئرمین نیب نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ نیب کوشش کر رہا ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے۔ پہلے پینتیس، چالیس سال اقتدار میں رہنے والوں کا پہلے حساب ضروری ہے۔ چند ماہ اقتدار میں رہنے والوں کا بھی احتساب ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی ذہن میں سیاسی انتقام نہیں آیا، نیب کا کسی سے کوئی جائیداد کا تنازع نہیں، نیب کیوں انتقام لے گا، نیب کی پہلی اور آخری وابستگی صرف پاکستان سے ہے۔

چیئرمین نیب کا یہ کہنا معنی خیزمعلوم ہوتا ہے کہ ان کی وابستگی صرف پاکستان سے ہے۔ نیب ادارہ آئین و قانون کا پابند ہے۔ پاکستان سے وابستگی اور پاکستان کا مفاد قرار دینے سے اختیارات کے ناجائز استعمال کا جواز نہیں مل سکتا۔ چیئرمین نیب کی پہلی اور آخری ذمہ داری آئین و قانون کے مطابق اپنے فرائض سر انجام دینا ہے اور ایسے موضوعات کا تدارک کرنا ہے جس سے اس ادارے کو ایک ’ٹول‘ کی طرح استعمال کرنے کے الزامات سامنے آئیں۔ چیئرمین نیب کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ”نیب جوڑ توڑ کا ادارہ نہیں صرف کرپشن کے خاتمے کا ادارہ ہے“، تاہم عمومی تاثر یہی ہے کہ مخصوص سیاسی عناصر کے خلاف کارروائی سے ملکی حاکمیت اور اس کے حصہ داروں کو ”جوڑ توڑ، پولیٹیکل انجینئرنگ“ اور جابرانہ اقدامات کا جواز فراہم کیا جاتا ہے۔

چیئرمین نیب کی اس بات نے بہت لطف دیا کہ ”جو لوگ اسی اور نوے کی دہائی میں ہنڈا سیونٹی پر تھے ان سے آج پوچھا جائے دبئی میں ٹاور کہاں سے آگئے اور لندن میں جائیداد کیسی بنی؟ تو اس میں نیب کا کیا قصور ہے؟ “۔ کیا واقعی نیب کو حکام کی طر سے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ملکی حاکمیت اور حکومت رکھنے والوں کے ایسے ساتھیوں، دوستوں کے خلاف کارروائی کر سکیں جو اسی، نوے کی دہائی میں کچھ نہیں تھے لیکن اب ان کی دولت اور جائیدادوں کا کوئی شمار نہیں۔ اس حوالے سے محض بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کی مثال ہی کافی ہے۔ نیب کے ایک سابق چیئرمین لیفٹنٹ جنرل (ر) شاہد عزیز نے اپنی کتاب ”یہ خاموشی کہاں تک“ میں نیب کے کام کرنے کے طریقہ کار کے خد و خال بڑی حد تک واضح کیے ہیں۔

چیئرمین نیب نے یہ کہتے ہوئے کہ ”ماضی میں اور جو ماضی قریب میں ہوا اگر یہ سب نہ ہوتا تو آپ کے ہاتھ میں کشکول نہ ہوتا، آپ فخر سے سر اٹھا کر چلتے“ واضح کیا ہے کہ ان کا یہ بیانیہ اورحاکمیت اور حکومت رکھنے والوں کا بیانیہ ایک جیسا ہے، بلکہ ایک ہی ”پیج“ پہ ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان تو تواتر سے یہ کہتے آ رہے ہیں کہ عوام سخت ترین حالات سے گھبرائیں نہیں، پاکستان جلد اقتصادی طاقت بن کر ابھرے گا۔ لیکن ان کی تضاد بیانی، کام کرنے کے انداز اور ان کے میرٹ سے عوام کی اچھی تسلی ہو چکی ہے۔ دو تین دن قبل ہی میڈیا میں شائع خبروں کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کور کمانڈرز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ”پاکستان امن اور ترقی کی مثبت سمت میں گامزن ہے، پائیدار امن اور خوشحالی کا یہ سفر جاری رہے گا“۔

دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ ’آئی ایم ایف‘ کی شرائط کے نفاذ سے پہلے ہی ملکی معیشت اور اقتصادیا ت کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ جسے ایک بڑے اقتصادی بحران کا دروازہ قرار دیا جا رہا ہے۔ بنیادی ضروریات کے مارے شہریوں کو ناقابل برداشت معاشی بوجھ تلے کچلا جا رہا ہے۔ حاکمیت اور حکومت والے چاہے ملک کی ترقی کا دعوی کرتے رہیں لیکن ملک اور عوام کے خیر خواہ حلقوں کی رائے یہی ہے کہ ملک کو غلط طریقے سے چلاتے ہوئے ناقابل تلافی نقصانات سے دوچار کرنے کے لوازمات پورے کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے استحکام اور ترقی کے دعائیں تو سب ہی مانگ رہے ہیں لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا کہ حاکمیت اور حکومت کے موجودہ طرز عمل سے یہ بنیادی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •