کرکٹیریا کا مرض

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی معاشرے میں کھیلوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں لیکن جب کوئی چیز حدود سے لامحدود تجاوز کرنے لگے تو معاشرے پہ منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں کرکٹ کا کھیل کرکٹیریا نامی مرض کا باعث بنتا ہے۔ کرکٹیریا ایک سامراجی وبائی مرض ہے جو ایک فرد سے دوسرے اور پھر پورے معاشرے میں تیزی سے پھیلتا ہے۔ اس مرض کے اگر ٹیسٹ کروائے جائیں تو نوے فی صد افراد کی رپورٹ پازیٹو آئے۔ کرکٹ کے بیکٹیریا دو سو سال قبل انگریزوں نے برصغیر میں درآمد کیے۔

بداخلاقی، کرپشن، رشوت، عریانی دہشت گردی کے خلاف جذبات اس قدر ابھارے نہیں جا سکتے جس قدر کر کٹ میچ او ر خصوصاً بھارت کے خلاف میچ میں اُ بھر سکتے ہیں۔ حالانکہ آج کرکٹ اور جوئے کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ہمارا قومی مزاج، جذباتیت، عدم توازن، خواہشات اور مفروضات کا غیر معقول امتزاج ہے۔ ہم حقیقت سے کوسوں دور خوابوں کی دنیا میں زندگی بسر کرنے کے عادی ہیں۔ ایشوز کو نان ایشوز اور نان ایشوز کو ایشوز بنانے کے از حد شوقین ہیں۔

اس مرض کے متاثرین کو اپنی ٹیم کی شکست تسلیم نہ کرنے کا عارضہ لا حق ہو جاتا ہے۔ کرکٹ میچ ہارنے پہ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں پہ عرصہ حیات تنگ ہو جاتا ہے۔ اُن کی سزا و جزا کے خوفناک فیصلے کیے جاتے ہیں۔ دورانِ میچ ناظرین کو دل کے دورے بھی پڑا کرتے ہیں۔ کبھی کبھی اپنے ہاتھوں سے ٹی وی سیٹ میچ ہارنے کے غم میں توڑ دیے جاتے ہیں۔ مذکورہ مرض کا المیہ یہ ہے کہ ہار کی صورت میں پوری قوم دشنام طرازانہ اور طعن و تشنیعانہ احتجاجی سوگ مناتی ہے جبکہ فتح پہ بھی جیت کا جشن کئی ماہ معاملاتِ حیات کو معطل کیے رکھتا ہے۔

گویا جیتنے پہ آتش بازی اور ہارنے پہ آتش گردی ہوتی ہے۔ اچھے حالات میں کرکٹر قوم کے سب سے بڑے ہیرو ہوتے ہیں۔ دوشیزائیں واری واری جار ہی ہوتی ہیں۔ گھر میں دادی اماؤں تک کا کرکٹ فین کلب موجود ہوتا ہے۔ میچ ختم ہونے کے دو چار روز بعد بھی تبصروں کی باز گشت سنائی دیتی ہے۔ سنا ہے ہٹلر اور کرکٹ کا اِینٹ کتے کا بیر رہا اور اس پہ جرمنی کی کرکٹ ٹیم مروانے کا الزام ہے۔

ہاکی، سکوائش کے ہم بادشاہ رہے مگر ان کے کھلاڑیوں کو پذیرائی نہ ملی مگر میڈیا کی نظرِ التفات کے طفیل کر کٹ کو جنتی کھیل بنا دیا گیا ہے۔ قومی ٹیم کے ترانے گائے جاتے ہیں اور انہیں ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا ہے۔ شا ئقین کرکٹ کے ہاں شکست کا لفظ ڈکشنری میں نہیں رہا۔ نوجوان طالب علم اپنی تعلیم اور امتحانات سے بے نیاز ہو کر کرکٹیریا کے خمار میں مدہوش نظر آتے ہیں۔ ان پر کچھ میچز دیکھنے فرض تو کچھ واجب ہوتے ہیں۔

لوگوں کے کاروبار رُک جاتے ہیں او ر صرف اور صرف ٹیم کی فتح کی نوید کے منتظر ہوتے ہیں۔ ہار کی صورت میں قوم جوتوں کے ہار سے ٹیم کا استقبال کرتی ہے۔ تحقیقاتی کمیشن بٹھائے جاتے ہیں جو بیٹھے ہی رہ جاتے ہیں۔ ہمارے نوجوان کو آج اپنے آباء، قومی ہیروز اور دانش وروں کے نام تو یاد نہ ہوں مگر دنیا کی تمام ٹیموں کے تمام کھلاڑیوں کے اسماء گرامی خوب ذہن نشین ہیں۔ کرکٹیریا ایسا سحر زدہ مرض بن چکا ہے کہ ہر کھلاڑی کی ہر گیند، ہر رنز، ہر وکٹ، ہر کیچ، ہر میچ اور ہر لمحے کا ریکارڈ یوں محفوظ کیا جاتا ہے جیسے نکیرین کے ہاں سرخ ر و ہونا ہو۔

ہمارے ہاں کرکٹیریا کی شدت کچھ ایسے ہے کہ اب معاشرت اور سیاست میں بھی گیند بلے کا راج ہے اور تمام علامات ہر دو میدانوں میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ کبھی کرکٹ میں امپائروں کی اجارہ داری تھی جو اب تھرڈ امپائر کے موجب صرف سیاست تک محدود ہے۔ اب بلائنڈ کر کٹ بھی کھیلی جاتی ہے۔ خواتین پہلے سے ہی میدان ِ عمل میں ہیں جبکہ صنف ِ میانہ نے بھی کرکٹ ٹیم بنانے کے ارادوں کا اظہار کر دیا ہے۔ آج گر کوئی جوان نماز پڑھتا پائیں تو جانئیے کہ امتحان سر پہ ہیں یا بھارت کے خلاف کر کٹ میچ۔

اوپر سے سوشل میڈیا کے شریرانہ انداز بیاں نے سونے پہ سہاگے کا کا م کیا ہے۔ حالیہ ورلڈ کپ (جہاں ہماری ٹیم محض آم لینے گئی تھی) خوب زیر بحث رہا۔ 92 ء کی طرح اس ٹورنامنٹ کو بھی جیت کے لئے کئی شرائط، مفروضوں اور خواہشات پہ چلایا گیا۔ مثلاً پاکستان پہلے چار سو رنز بنائے اور پھر مخالف کو ایک سو پہ ڈھیر کردے۔ یعنی نہ نو من تیل، نہ رادھا ناچے۔ پھر آج کی رادھا اتنی ڈھیٹ ہے کہ نو من سے کم پر ہرگز نہیں مانتی۔

ہماری جیت کے لئے کپتان کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کا بھی بخت رسا ہو نا ضروری ہوتا ہے۔ قومی ٹیم نے کبھی جیت کر تو کبھی ہار کر انگشت ِ بدندان کیا یعنی اپنی ٹیم رنگ بدلنے کی نسبت سے کرکٹ نہیں، گرگٹ ٹیم لگتی ہے۔ انڈیا سے شکست پہ غصہ یہ کہہ کر نکالا کہ ہم وکٹیں نہیں، جہاز گراتے ہیں او ر کیچ کی بجائے کلبھوشن پکڑا کرتے ہیں۔ جواب میں انڈ یا نے بھی ”اپنے میچ خود جیتو“ کا طعنہ دیا۔ کچھ چکر بازوں نے افریقی کھلاڑی کو سوشل میڈیا پہ پوری دنیا کا چکر لگوا دیا۔

ورلڈ کپ کے آخری عشرے میں تو مفروضوں پہ مبنی نئی نئی دعائیں بھی دریافت ہونے لگیں۔ بھارت کے بعد کرکٹ دشمنی میں افغانستان اک خوف صورت اضا فہ ہے۔ جن کو کرکٹ سکھائی، کو چنگ دی وہی آنکھیں دکھانے پہ تُل گئے۔ کیونکہ افغان اک سوچ نہیں بلکہ محض اک کییفیت کا نام ہے۔ پاکستان سے تو وہ میچ ایسے ہار گئے جیسے آٹھ ہزار کی قالین آٹھ سو میں دے کے راہ لیتے ہیں۔ اب کرکٹ کھیلنے والے ملکوں میں تین مسلمان ملک بھی ہیں جن کی ٹیمیں کم اور عوام کی دعائیں زیادہ کھیلتی ہیں او ر مخالفین کو بد دعاؤں سے بھی نوازتی ہیں۔

اک تاثر یہ بھی ہے کہ میچ اگر نیوزی لینڈ، انگلینڈ یا آسٹریلیا سے نشر ہو تو کھلاڑیوں کی نسبت تماشائیوں کو زیادہ ٹکٹکی باندھ کے دیکھا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے میچ میں پاکستان ہار جائے۔ مگر یہ دکھ یہ سوچ کر سہہ لئے جائیں کہ ورلڈ کپ کوئی جیتے، قبر میں تو خالی ہاتھ ہی جانا ہے۔ پھر اس کفار کے ایجاد کردہ کھیل کو دل پہ لینے کی کیا ضرورت ہے۔

کرکٹ کھیلتے ہوئے ایک باؤلر عجیب انداز میں بھاگ کر اِ ک ایسے شخص کو گیند مارتا ہے جو پہلے سے ہی رضائیوں، گدوں، دستانوں او ر ہیلمٹ میں پھنسا ہوتا ہے۔ اسے بیٹسمین کہتے ہیں۔ اپنے لباس اور وضع قطع سے انتہائی مذہبی او ر متقی انسان نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیف گارڈ پہن کر بہت سی چیزوں کی حفاظت کا شرعی فریضہ بھی انجام دیتا ہے۔ فیلڈرز سرخ و سفید گیند کا باؤنڈری لائن تک تعاقب کر کے لوٹ آتے ہیں۔ میدان میں سب سے کم گو اور ساکن شخصیت امپائر کی ہوتی ہے لیکن وہ آوٹ ہونے والے ہر کھلاڑی پہ انگلی اٹھا نا نہیں بھولتا۔

خیال ہے کہ امپائر اللہ کے محبوب بندے ہیں اور شاید شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر وحدانیت کا اظہار کرتے ہوں۔ البتہ چوکوں، چھکوں پہ اُ س کے ہاتھوں کی حرکت مجذوبانہ ہوتی ہے۔ ہزاروں لوگ یہ سب کچھ کھلے آسمان تلے دیکھتے ہیں جبکہ باقی لاکھوں افراد گھروں میں ٹی وی سکرین کے سامنے یہ لازمی فریضہ انجام دیتے ہیں۔ آج کی کرکٹ زد ہ نسل کو گر دین کی جانب لانا مقصود ہو تو علما ء کو چاہیے کہ مصلحتاً اپنے خطابات میں کرکٹ کا ذ کر شامل کریں۔

مثلاً جنت میں خوبصورت میدان اور معیاری Pitches ہوں گی۔ ایک چھکا ستر ہزار چھکوں کے برابر ہو گا۔ باؤلر کی گیند کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی گھنٹہ ہوا کر یگی۔ فیلڈر چوتھے آسمان تک کود کر کیچ پکڑ سکے گا۔ ہر کھلاڑی کا ذاتی پویلین ہو گا جو حد ِ نظر وسیع ہو گا۔ شائقین میں لاکھوں حوریں ہوں گی جن میں خوش قسمتی سے بیویاں شامل نہیں ہوا کریں گی۔ وہاں کوئی کھلاڑی ان فٹ نہ ہو گا اور کسی پہ میچ فکسنگ کا الزام بھی نہیں لگے گا۔ شکست کا نام و نشان نہ ہو گا او ر کھلاڑیوں کے خلاف احتجاج بھی نہیں ہو نگے۔ کھلاڑیوں کو اعلیٰ ترین مقامات پر فائز کیا جا ئیگا۔ جہاں حور و غلمان خدمت پہ مامور ہوں گے۔

اللہ ہماری قوم کو کرکٹ، کرکٹ کی حد تک رکھنے کی تو فیق عطا فرمائے (آمین)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •