کرکٹیریا کا مرض

کسی بھی معاشرے میں کھیلوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں لیکن جب کوئی چیز حدود سے لامحدود تجاوز کرنے لگے تو معاشرے پہ منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں کرکٹ کا کھیل کرکٹیریا نامی مرض کا باعث بنتا ہے۔ کرکٹیریا ایک سامراجی وبائی مرض ہے جو ایک فرد سے دوسرے اور پھر پورے معاشرے میں تیزی سے پھیلتا ہے۔ اس مرض کے اگر ٹیسٹ کروائے جائیں تو نوے فی صد افراد کی رپورٹ پازیٹو آئے۔ کرکٹ کے بیکٹیریا دو سو سال قبل انگریزوں نے برصغیر میں درآمد کیے۔

Read more

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر ”گیارہ“ ماہ کے بعد

ہمارے ہاں یہ سوچ عقیدے کی حد تک پختہ ہو چلی ہے کہ تمام غیر شرعی و غیر اخلاقی افعال سال کے گیارہ مہینوں میں جائز بلکہ ضروری ہیں اور صرف رمضان المبارک میں ممنوع ہو جاتے ہیں۔ گیارہ ماہ ہونے والے کالے دھندے تیس روز کے لئے تعطل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مساجد…

Read more

سرکاری چھٹیوں کے موسم

سرکاری اداروں کا سب سے خوشگوار، پسندیدہ، دلفریب اور محبوب موسم چھٹیوں کا موسم ہوتا ہے۔ تقریباً پورا سال ہی ان موسموں کا ہر پیروجواں، مرد و زن منتظر رہتا ہے۔ چھٹیوں کے شیڈول تعویذ کی مثل جیبوں میں موجود رہتے ہیں۔ حتٰی کہ چھٹیاں گزار نے کے بعد پہلے دن ہی آنے والی متوقع چھٹیوں پر بحث چھڑ جاتی ہے یہ سلسلہ پورے سال پہ محیط ہوتا ہے اور اس کے دورانیے اور مدت کا تعین کرنا مشکل ہے۔ پرانے ادوار میں بھی یہی موسم اکابرین کا پسندیدہ موسم رہا ہے ایک بزرگ شاعر چھٹیوں کی شان میں لکھتے ہیں۔

کاش چھٹیاں رہیں ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار

Read more

عالمی دِنوں کا لنڈا بازار

پوری دنیا میں پورا سال ہی کسی نہ کسی چیز کا عالمی دن منایا جاتا ہے بلکہ کسی دن کو تو کئی کئی حوالوں سے منسوب کرکے منانے کا رواج بھی ہے۔ تاہم ہر دن اس دن کے سورج کے ساتھ ہی غروب ہوجاتا ہے اور اس دن کی روح پھر سے دنیا کی بھیڑ میں اگلے برس تک کھو جاتی ہے۔ البتہ ہر منائے جانے والے دن کی نسبت سے مَنوں کے حساب سے کلچر ضرور برآمد ہوتا ہے۔ اکثر دن مثبت مقاصد کے حامل جبکہ کچھ متنازع بھی ہیں۔ ابھی یکم اپریل کو بے وقوفوں نے اپنا دن منایا۔

Read more

شرح ِ تبدیلی

موجودہ سیاسی حالات میں تبدیلی کی بابت ہر شخص اپنی رائے رکھنے کا حق رکھتا ہے۔ دیکھا جائے تو سالِ رواں میں تبدیلی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اولین تبدیلی تو یہ آئی کہ پچھلی سرکار، موجودہ سرکارِ میں بدل گئی۔ حکمران، وزیر، محکمے، نعرے اور تنخواہیں سب بدل گئے۔ پچھلا برس…

Read more

اشرف المشروبات – چائے

مشروب سے مراد پی جانے والی رقیق چیزہے جو ”شُرب“۔ بمعنی پینا سے مشتق ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ کچھ پئیے بغیر زندگی ممکن نہیں۔ اہم ترین مشروب پانی ہے جسے ہر جاندار، ہر وقت اور ہر جگہ استعمال کرتا ہے۔ چین جیسے ترقی یافتہ ملک کا قومی مشروب سادہ پانی ہے جسے سرکاری وغیر سرکاری اداروں میں بڑے فخر پیش کیا جاتاہے۔ ہمارے ہاں غریب سے غریب شخص یا ادارہ مہمانوں کی سادہ پانی سے تواضع خلاف آداب سمجھتا ہے۔ سافٹ ڈرنکس یا اور چائے دو ہی توچیزیں ہیں جو ہمارا بھرم رکھے ہوئے ہیں۔ڈرنکس سے بوجوہ کبھی کبھار سرد مہری ممکن ہے مگر چائے کی شان میں گستاخی یا انکار گناہِ صغیرہ کی حدود تک جاتا ہے۔ فی زمانہ کوئی چیز چائے کی مثل اور ثانی نہیں۔ چائے کو تمام ڈرنکس پہ ڈھیروں فضیلتیں حاصل ہیں۔ یہ سیاسی، مذہبی اور سماجی تقریبات کی شان اور جزوِ لا ینفک ہے۔ سرکاری اداروں میں تو جیسے SOPs کاحصہ ہے کہ احباب اپنے فرائض کی انجام دہی کریں یا نہ کریں، چائے نوشی کے ناغے کا تصور بھی ممکن نہیں۔ کسی مہمان یا افسر کی آمد کی صورت میں چائے کا آ نابھی ناگزیر ہو جاتا ہے۔

Read more

شیو کمار بٹالوی – پنجابی شاعری کا جان کیٹس

مائے نی مائے میرے گیتاں دے نیناں وچ برہوں دی رڑک پوُے
ادھی ادھی راتیں اٹھ رون موئے متراں نوں مائے سانوں نیند نہ پوُے

نصرت فتح علی خان کے گائے اس مشہور گیت پہ سبھی لوگ سر دھنتے ہیں مگر یہ بات کم لوگ جانتے ہوں گے کہ اس گیت کے خالق کون ہیں۔ یہ جان کیٹس کی طرح جوانی میں بھرے میلے کو چھوڑنے والے پنجابی شاعر شیو کمار بٹالوی ہیں۔ 23 جولائی 1936 میں ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد خاندان کے ہمراہ بٹالہ ضلع گورداسپور آباد ہوئے۔ رومانوی اور تخیلاتی مزاج کے حامل تھے۔

Read more

سیاست کا جغرافیہ

فی زمانہ سلطنتِ سیاست اک محیرالعقول ریاست کا روپ دھار چکی ہے۔ آئیے اس کی نوعیت، خدو خال اور لوازمات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

حدو د اربعہ : سلطنتِ سیاست کے مشرق میں اقتد ار کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر پوری آب وتاب سے موجزن ہیں جس کے ساحل پہ شاہینوں کے بسیروں کے واسطے قصرِسلطانی کے بے شمار گنبدبھی ہیں۔ مغرب میں اقتدار کی راہ میں روڑے اٹکانے والے پہاڑ اور نفرتوں کے منجمد گلیشئر ہیں۔ شمال میں بڑے بڑے ہمالے اور چھوٹے چھوٹے اڈیالے وجود رکھتے ہیں جبکہ جنوب میں مایوسیوں، دکھوں، انتقاموں اور طعن وتشنیع کے جھلستے ریگستان پھیلے ہوئے ہیں۔ جگہ جگہ وعدوں کے سبز باغات کے ساتھ ساتھ مایوسی کے کالے باغ بھی قابلِ ذکر ہیں۔ شمال مغربی کونے میں قرضوں کے کوہِ گراں اور مرکزی خطوں میں ترقی کی چٹیل ڈھلانیں ہیں۔ کہیں کہیں ڈیل اور ڈھیل کے ہرے بھرے صحت افزاء مقامات بھی ہیں۔

Read more

صیاد و باغباں میں ملاقات ہوگئی

ؔ تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم کو قرض کی مئے سے ریاستی انصرام چلانے کی عادت پڑگئی اس کے لئے اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونا مشکل ہو جاتاہے۔ کچھ یہی حال وطنِ عزیز کا ہے کہ قیام سے اب تک ہر حکومت آئی ایم ایف کے ہاتھوں مقروض سے مقروض ترہوتی گئی۔ ادھر آئی ایم ایف کا وتیرہ رہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو قرض کے جال میں یوں پھنساتی ہے کہ وہ قرض کے نشے کے عارضے میں مبتلا ہوکر عالمی معاشی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ افراطِ زر میں تیزی سے اضافہ مہنگائی کی سونامی کا موجب بنتا ہے اور گردشی قرضے بھی بڑھنے لگتے ہیں۔

Read more

دوسرا جنم گزارنے کے بعض دعویدار

انسان کا اس دنیا میں پیدا ہونا، زندگی گزارنا اور پھر موت کے منہ میں چلے جانا اک معما ہی رہا ہے۔ کوئی جانے والا لوٹ کے آئے تو بھید کھولے۔ بطور مسلمان، ہمارا ماننا ہے کہ زندگی ایک بار ہی ملتی ہے۔ ادھر کچھ مذاہب ایک سے زائد زندگیوں کا یقین رکھتے ہیں۔ ہندومت، بدھ مت، جین مت، سکھ ازم اور قدیم یونانیوں کے ہاں دوسرے جنم کا تصور پایا جاتاتھا۔ ہندو موت کے بعد دوبارہ دنیا میں دوبارہ آنا ثابت کرتے ہیں۔ اس عقیدے کو اواگان یا تناسخ کہا جاتا ہے۔

نیک آدمی کسی انسان اور پھول پودے کی شکل میں اور گناہ گار جانوروں کے روپ میں دنیا میں دوبارہ بھیجے جاتے ہیں۔ اسلام میں اس کے برعکس نیک روحیں، علیین اور گناہگار روحیں سجین بھیجی جاتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت میں بہت سے لوگوں نے دوسرے جنم میں زندگی گزارنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ ذیل میں کچھ ایسے واقعات ہیں جنہیں دوسرے جنم کے ثبوت میں پیش کیا جاتاہے۔ بھارت کی ریاست آندرے پردیش میں 1926 میں پیدا ہونے والے ستیا سائیں بابا نے دعویٰ کیا کہ وہ شیرڈی کے سائیں بابا کا دوسرا جنم گزار رہاہے۔

Read more