پرچہ سیاسیات و انتظامات

وقت۔ 5 سال کل نمبر۔ حسبِ لیاقت و منشاء ( حصہ معروضی ) نوٹ، تمام سوال لازمی ہیں۔ سوال چھوڑنے والوں کو ایف بی آر اور نیب کے حوالے کر دیا جائے گا۔ 1۔ پرانے دور میں بادشاہ کہاں پیدا ہوتے تھے؟ 1۔ چٹائی پر 2۔ چار پائی پر 3۔ کھیتوں میں 4۔ ہسپتال میں…

Read more

یومِ اقبال اوراقبالِ جرم

کیا ہر تہوار پہ چھٹی ضروری ہے؟ اپنے مشاہیر سے منسوب ایام پہ تعطیل عام ہر قوم کی معاشرتی اقدار کا حصہ ہوتی ہیں جن کا مقصد اپنے ہیروز کی یاد منانا اور ان کے افکار کو عام کرنا ہے۔ مگر ہمارے ہاں چھٹی کا مفہوم اکابرین سے استفادہ کی بجائے محض چھٹی ہی ہے۔…

Read more

تاریخی خطاب اور کچھ تاریخی حقائق

یو این او میں وزیر اعظم کا تاریخی خطاب شبِ یاس میں ضیائے آس سے کم نہیں۔ پریشان حالیوں اور جرمِ ضعیفی میں گھِری قوم کے لئے بقا کا پیغام اور مایوسیوں کا کتھارسس ہے۔ یہ خطاب نہ صرف کشمیر اور پاکستان بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی ترجمانی کرتا ہے۔ تاہم محض پُر اثر تقاریر…

Read more

کاسۂ چشمِ حریصاں پُر نہ شُد یا انسان کو آخر کتنا کچھ چاہیے؟

انسان کے اندر لالچ کے عنصر سے انکار ممکن نہیں مگر پھر بھی زندگی گزارنے کے لئے آخر انسان کو کتنا کچھ چاہیے ہے؟ ۔ کوئی حد تو ہوتی ہوگی۔ اگر ہم ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہزوروں کو اس کارِ شر میں مبتلا پائیں گے۔ سینکڑوں پہ لوگوں کا حق کھانے اور کالا دھن…

Read more

اُستا دِ محترم سے اوئے ماسٹر تک

معاشرے میں استاد کی قدر و منزلت ہمیشہ ہی قابلِ فخر عمل رہا ہے۔ رسالت مآب کو بھی انسانیت کے لئے معلم بنا کر بھیجا گیا۔ حضرت علی نے اپنے استاد کو آقا قرار دیا۔ چشمِ فلک نے شہزادوں کو استاد کی جوتیاں اٹھانے پہ جھگڑتے دیکھا۔ استاد جس راستے سے گزرتا لوگ آنکھیں بچھاتے۔…

Read more

ملزم لیگ ( نون غنہ ) بمقابلہ تَضحیک ِ انصاف

سیاسی جماعتوں کی با ہمی چپقلش، مخالفت اور الزام تراشی فطری عمل ہیں مگر ہمارے ہاں کا باوا آدم کچھ زیادہ ہی نرالا ہوتا جارہا ہے۔ یہاں سیاسی قائدین، کار کنان، اور سپورٹران اخلاقی طور پہ اس حد تک گر چکے ہیں کہ کہ شاید ہی اُٹھ کر سنبھلنے کی تا ب لا سکیں۔ ہر…

Read more

نظامِ تعلیم اور پریکٹیکل شوز

افسوسناک امر ہے کہ ہمارا نظام تعلیم اغیار کی پیروی اور امداد کے موجب تاثیر کی خوشبو سے محروم ایک کاغذ کاپھول بن چکا ہے۔ نمبرز اور گریڈ کی اندھی دوڑنے اخلاقیات، حقیقی ذہانت اور پیشہ ورایت کو روند کر تعلیمی انحطاط کی دلدل میں دھنسنے کا تہیہ کر لیا ہے۔ گویا ہم محض زوال…

Read more

کرکٹیریا کا مرض

کسی بھی معاشرے میں کھیلوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں لیکن جب کوئی چیز حدود سے لامحدود تجاوز کرنے لگے تو معاشرے پہ منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں کرکٹ کا کھیل کرکٹیریا نامی مرض کا باعث بنتا ہے۔ کرکٹیریا ایک سامراجی وبائی مرض ہے جو ایک فرد سے دوسرے اور پھر پورے معاشرے میں تیزی سے پھیلتا ہے۔ اس مرض کے اگر ٹیسٹ کروائے جائیں تو نوے فی صد افراد کی رپورٹ پازیٹو آئے۔ کرکٹ کے بیکٹیریا دو سو سال قبل انگریزوں نے برصغیر میں درآمد کیے۔

Read more

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر ”گیارہ“ ماہ کے بعد

ہمارے ہاں یہ سوچ عقیدے کی حد تک پختہ ہو چلی ہے کہ تمام غیر شرعی و غیر اخلاقی افعال سال کے گیارہ مہینوں میں جائز بلکہ ضروری ہیں اور صرف رمضان المبارک میں ممنوع ہو جاتے ہیں۔ گیارہ ماہ ہونے والے کالے دھندے تیس روز کے لئے تعطل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مساجد…

Read more

سرکاری چھٹیوں کے موسم

سرکاری اداروں کا سب سے خوشگوار، پسندیدہ، دلفریب اور محبوب موسم چھٹیوں کا موسم ہوتا ہے۔ تقریباً پورا سال ہی ان موسموں کا ہر پیروجواں، مرد و زن منتظر رہتا ہے۔ چھٹیوں کے شیڈول تعویذ کی مثل جیبوں میں موجود رہتے ہیں۔ حتٰی کہ چھٹیاں گزار نے کے بعد پہلے دن ہی آنے والی متوقع چھٹیوں پر بحث چھڑ جاتی ہے یہ سلسلہ پورے سال پہ محیط ہوتا ہے اور اس کے دورانیے اور مدت کا تعین کرنا مشکل ہے۔ پرانے ادوار میں بھی یہی موسم اکابرین کا پسندیدہ موسم رہا ہے ایک بزرگ شاعر چھٹیوں کی شان میں لکھتے ہیں۔

کاش چھٹیاں رہیں ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار

Read more