شرح ِ تبدیلی

موجودہ سیاسی حالات میں تبدیلی کی بابت ہر شخص اپنی رائے رکھنے کا حق رکھتا ہے۔ دیکھا جائے تو سالِ رواں میں تبدیلی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اولین تبدیلی تو یہ آئی کہ پچھلی سرکار، موجودہ سرکارِ میں بدل گئی۔ حکمران، وزیر، محکمے، نعرے اور تنخواہیں سب بدل گئے۔ پچھلا برس…

Read more

اشرف المشروبات – چائے

مشروب سے مراد پی جانے والی رقیق چیزہے جو ”شُرب“۔ بمعنی پینا سے مشتق ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ کچھ پئیے بغیر زندگی ممکن نہیں۔ اہم ترین مشروب پانی ہے جسے ہر جاندار، ہر وقت اور ہر جگہ استعمال کرتا ہے۔ چین جیسے ترقی یافتہ ملک کا قومی مشروب سادہ پانی ہے جسے سرکاری وغیر سرکاری اداروں میں بڑے فخر پیش کیا جاتاہے۔ ہمارے ہاں غریب سے غریب شخص یا ادارہ مہمانوں کی سادہ پانی سے تواضع خلاف آداب سمجھتا ہے۔ سافٹ ڈرنکس یا اور چائے دو ہی توچیزیں ہیں جو ہمارا بھرم رکھے ہوئے ہیں۔ڈرنکس سے بوجوہ کبھی کبھار سرد مہری ممکن ہے مگر چائے کی شان میں گستاخی یا انکار گناہِ صغیرہ کی حدود تک جاتا ہے۔ فی زمانہ کوئی چیز چائے کی مثل اور ثانی نہیں۔ چائے کو تمام ڈرنکس پہ ڈھیروں فضیلتیں حاصل ہیں۔ یہ سیاسی، مذہبی اور سماجی تقریبات کی شان اور جزوِ لا ینفک ہے۔ سرکاری اداروں میں تو جیسے SOPs کاحصہ ہے کہ احباب اپنے فرائض کی انجام دہی کریں یا نہ کریں، چائے نوشی کے ناغے کا تصور بھی ممکن نہیں۔ کسی مہمان یا افسر کی آمد کی صورت میں چائے کا آ نابھی ناگزیر ہو جاتا ہے۔

Read more

شیو کمار بٹالوی – پنجابی شاعری کا جان کیٹس

مائے نی مائے میرے گیتاں دے نیناں وچ برہوں دی رڑک پوُے
ادھی ادھی راتیں اٹھ رون موئے متراں نوں مائے سانوں نیند نہ پوُے

نصرت فتح علی خان کے گائے اس مشہور گیت پہ سبھی لوگ سر دھنتے ہیں مگر یہ بات کم لوگ جانتے ہوں گے کہ اس گیت کے خالق کون ہیں۔ یہ جان کیٹس کی طرح جوانی میں بھرے میلے کو چھوڑنے والے پنجابی شاعر شیو کمار بٹالوی ہیں۔ 23 جولائی 1936 میں ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد خاندان کے ہمراہ بٹالہ ضلع گورداسپور آباد ہوئے۔ رومانوی اور تخیلاتی مزاج کے حامل تھے۔

Read more

سیاست کا جغرافیہ

فی زمانہ سلطنتِ سیاست اک محیرالعقول ریاست کا روپ دھار چکی ہے۔ آئیے اس کی نوعیت، خدو خال اور لوازمات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

حدو د اربعہ : سلطنتِ سیاست کے مشرق میں اقتد ار کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر پوری آب وتاب سے موجزن ہیں جس کے ساحل پہ شاہینوں کے بسیروں کے واسطے قصرِسلطانی کے بے شمار گنبدبھی ہیں۔ مغرب میں اقتدار کی راہ میں روڑے اٹکانے والے پہاڑ اور نفرتوں کے منجمد گلیشئر ہیں۔ شمال میں بڑے بڑے ہمالے اور چھوٹے چھوٹے اڈیالے وجود رکھتے ہیں جبکہ جنوب میں مایوسیوں، دکھوں، انتقاموں اور طعن وتشنیع کے جھلستے ریگستان پھیلے ہوئے ہیں۔ جگہ جگہ وعدوں کے سبز باغات کے ساتھ ساتھ مایوسی کے کالے باغ بھی قابلِ ذکر ہیں۔ شمال مغربی کونے میں قرضوں کے کوہِ گراں اور مرکزی خطوں میں ترقی کی چٹیل ڈھلانیں ہیں۔ کہیں کہیں ڈیل اور ڈھیل کے ہرے بھرے صحت افزاء مقامات بھی ہیں۔

Read more

صیاد و باغباں میں ملاقات ہوگئی

ؔ تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم کو قرض کی مئے سے ریاستی انصرام چلانے کی عادت پڑگئی اس کے لئے اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونا مشکل ہو جاتاہے۔ کچھ یہی حال وطنِ عزیز کا ہے کہ قیام سے اب تک ہر حکومت آئی ایم ایف کے ہاتھوں مقروض سے مقروض ترہوتی گئی۔ ادھر آئی ایم ایف کا وتیرہ رہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو قرض کے جال میں یوں پھنساتی ہے کہ وہ قرض کے نشے کے عارضے میں مبتلا ہوکر عالمی معاشی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ افراطِ زر میں تیزی سے اضافہ مہنگائی کی سونامی کا موجب بنتا ہے اور گردشی قرضے بھی بڑھنے لگتے ہیں۔

Read more

دوسرا جنم گزارنے کے بعض دعویدار

انسان کا اس دنیا میں پیدا ہونا، زندگی گزارنا اور پھر موت کے منہ میں چلے جانا اک معما ہی رہا ہے۔ کوئی جانے والا لوٹ کے آئے تو بھید کھولے۔ بطور مسلمان، ہمارا ماننا ہے کہ زندگی ایک بار ہی ملتی ہے۔ ادھر کچھ مذاہب ایک سے زائد زندگیوں کا یقین رکھتے ہیں۔ ہندومت، بدھ مت، جین مت، سکھ ازم اور قدیم یونانیوں کے ہاں دوسرے جنم کا تصور پایا جاتاتھا۔ ہندو موت کے بعد دوبارہ دنیا میں دوبارہ آنا ثابت کرتے ہیں۔ اس عقیدے کو اواگان یا تناسخ کہا جاتا ہے۔

نیک آدمی کسی انسان اور پھول پودے کی شکل میں اور گناہ گار جانوروں کے روپ میں دنیا میں دوبارہ بھیجے جاتے ہیں۔ اسلام میں اس کے برعکس نیک روحیں، علیین اور گناہگار روحیں سجین بھیجی جاتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت میں بہت سے لوگوں نے دوسرے جنم میں زندگی گزارنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ ذیل میں کچھ ایسے واقعات ہیں جنہیں دوسرے جنم کے ثبوت میں پیش کیا جاتاہے۔ بھارت کی ریاست آندرے پردیش میں 1926 میں پیدا ہونے والے ستیا سائیں بابا نے دعویٰ کیا کہ وہ شیرڈی کے سائیں بابا کا دوسرا جنم گزار رہاہے۔

Read more

ماسٹر مدن: چودہ برس کی عمر میں لیجنڈ بننے والا فنکار

1940 کی دہائی برصغیر کی کلاسیکی موسیقی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ دور کندن لال سہگل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ پردیپ قوی، بیگم اختر، جوتھیکا رائے، مبارک بیگم، ثریا، اوما ں دیوی اور زہرا بائی انبالے والی بھی اپنی مثال آپ تھیں جبکہ نور جہاں، محمد رفیع…

Read more

شاعروں کا کلام اور عوام کی کشیدہ کاری

دنیائے ادب اور موسیقی میں بے شمار شاہکا ر ایسے ہیں جو قاری یا سامع تک موجودہ شکل میں تغیر ات کی مسافتیں طے کرتے پہنچے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی شعر کا پتھر پہ لکیر کی مانند سلامت رہنا ممکن نہیں۔ بہت سے مثالیں ملتی ہیں کہ اردو کے اساتذہ نے لکھا کچھ…

Read more

کہاں رہ گئی یہ زباں آتے آتے

اردو کی پیدائش بر صغیر میں ہوئی اور اس کے دورِ پیدائش اورجائے پیدائش کے بارے میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اردو کو پہلے پہل ریختہ کہاکرتے تھے جس کے معنی اختراع یا ایجاد ہے اور اس کی ترکیب میں آدھا مصرعہ فارسی اور اور آدھا ہندی کا ہوتا تھا۔ امیر خسرو کا“ذحال مسکین مکن تغافل“ ریختہ کی خوبصورت مثال ہے۔ نسوانی ذوق کے دلدادہ لکھنوی لوگوں نے اسے ریختی بنا دیا۔ پھر شاہ جہان کے دور میں اردوئے معلیٰ اور اب صرف اردو کہتے ہیں۔

چونکہ یہ بر صغیر کی افواج کے میل جول سے پیدا ہوئی اس لئے اسے اردو کا نام بمعنی لشکر دیا گیا۔ بہت سے لوگوں نے اس کا شجرۂ نسب مختلف خطوِں سے جوڑنے کی کوششیں کیں۔ محمود شیرانی اسے پنجابی زبان جبکہ سلمان ندوی سندھی زبان کی بیٹی کہا کرتے تھے۔ نصیر الدین ہاشمی دکنی اور شوکت سبزواری دہلوی وبِرج بھاشا کی اولاد سمجھتے تھے۔ یمین الدین المعروف امیر خسرو، قلی قطب شاہ، ولی دکنی مہ لقا چندا اور سراج اورنگ آبادی نے اردو کو اپنے کلام کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔

Read more

الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا

پاکستان ٹیلی وژن پہ بہت عرصہ قبل اک ڈرامہ نشر ہوتا تھا جس میں اک بھلے مانس کردار کا تکیہ کلام تھا۔
”الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا“

یہ جملہ وہ اس وقت بولتا جب وہ اپنے ارد گرد ظلم، بد عنوانی اور ناہمواری دیکھتا۔ یہ سیریل کئی ماہ چلی اور اس جملے کا تجسس بھی قائم رہا۔ آخری قسط میں لوگوں کے اصرار پہ وہ سب کو قبرستان لے جاتا ہے اور راز کھولتا ہے کہ یہ الکمونیا ہے۔ یہاں وہ کچھ بھی نہیں ہوتا جو ہماری آباد بستیوں میں ہور ہا ہے۔ قبرستان اِک ابدی حقیقت ہے۔ قبرستان خزانوں سے بھرا پُر اسرار مقام ہے جہاں بڑے بڑے شہنشاہ، پیر، پیغمبر، دانشور، لاڈلے، کج کلاہ، تاجر، معلم، فلسفی، شاعر، سائنسدان اور لیڈر بہت سے راز و نیاز سینوں میں لئے پڑے ہیں۔

وہ بے شمار خداداد صلاحیتوں سمیت زمین اوڑھے بے حس و حرکت سوئے ہوئے ہیں۔ یہاں بے شمار کھوپڑیاں بھی ہیں۔ یہاں تو ایسی ایسی کتابیں پڑی ہیں جو کبھی لکھی نہ جا سکیں یا جنہیں قابل اشاعت نہ سمجھا گیا یہاں بے شمار نغمہ سرائی سے محروم نظمیں بھی ہیں۔ ایسے نغمے ہیں جو گائے نہ جاسکے ایسے نسخہء ہائے کیمیاء جو استعمال نہ ہو پائے۔ یہاں بے شمار آہیں، سسکیاں، حسرتیں، تمنائیں اور شکائیتں دب چکی ہیں جو لبوں تک بھی نہ آسکیں۔

Read more