کچھ ہم عصر جنگی دُکھڑے

  جنگیں سب سے پہلے اندر کے دشمن بے نقاب کرتی ہیں۔ کشیدگی بخیر، ہر دھڑے کے موجودہ حالات میں اپنے اپنے دکھڑے دیکھے جا سکتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں۔ بلوچستانی دکھڑے : مدت سے پنجابی ہمارا حق کھاتے آ رہے ہیں۔ اس جنگی صورت حال نے اب مزید واضح کر دیا ہے کہ پنجاب ہمارے حصے کے میزائل اور ڈرون تک کھا رہا ہے۔ پختون دکھڑے : صدیوں سے ہمارے بزرگ جب بھی اس خطے میں آئے تو کبھی

Read more

غالب جو ایک شاعر تھا عالم میں انتخاب

دنیا میں سخنوروں کی کمی نہیں لیکن غالب کا اندازِ بیاں واقعی اور ہے۔ کہیں نہ کہیں سب مغلوب ہوئے مگر غالب ہر جگہ، غالب ہی ہے۔ شاعری فقط قافیہ پیمائی اور لفاظی کا نام نہیں بلکہ ایک بڑا شاعر ایک ہی وقت میں دانشور، عیب جُو، مورخ، حاذق، سیاستدان، عالمِ، فلسفی، طنز کار، مصلح اور صوفی بھی ہوتا ہے۔ اقبال جوانوں کو متاثر کرتا ہے جبکہ غالب ادھیڑ عمروں کا شاعر ہے اور جوانوں کے واسطے چچا غالب ہے۔

Read more

انہیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے

خط دِلی خیالات کا روزنامچہ اور اسرارِ حیات کا صحیفہ ہے۔ تاریخی حوالے سے بغداد کے قریب پانچ ہزار سال پرانی تختیاں اصل میں خطوط ہی تھے۔ ملکہ سبا کو لکھا گیا حضرت سلیمان کا خط بھی تاریخی حیثیت کا حامل ہے۔ اردو میں رجب علی سرور اور غلام غوث بے خبر اولین مکتوب نگار سمجھے جاتے ہیں۔ غالب اور مولانا آزاد کے خطوط نے تو مکتوب نگاری کو صنفِ ادب بنا دیا۔ وقت کے ساتھ ڈاکیا اور قاصد نو

Read more

جب سردی میں جاڑے سے پالا پڑا

یقیناً سرد ناک سردی نے عام لوگوں کو چھَٹی تو کیا، گیارہویں کا دودھ بھی یاد دلا دیا ہو گا اور شعراء کو سردی کی بابت اپنے شعری نَظریات سے یوٹرن لینے پر ضرور مجبور کیا ہو گا۔ ماضی میں آتشیں حسد و عشق میں جلے بھُنے شعراء سرد اور برفاب موسم کو باعثِ راحت مانتے تھے۔ کبھی سرد ہوا یار کو یاد کرنے کا موجب بنتی تو کبھی سردی کی آمد پر محبوب سے ملاقات کی بِنتی کی جاتی۔

Read more

ہم ایک سال اور پرانے ہو گئے

عمر رفتہ کی مانند سن دو ہزار چوبیس بھی قصۂ پارینہ ہوا اور ہم ایک سال مزید پرانے ہو گئے۔ سال مہینوں میں، مہینے ہفتوں میں، ہفتے دنوں میں اور دن گھنٹوں میں ایسے بھاگ رہے ہیں جیسے کوئی پیچھے لگا ہو۔ کوئی صاحب تدبیر ایسا نہیں جو وقت کو روکے۔ صبح و شام کا اس تیزی سے ہونا، زندگی کے تمام ہونے کا پیش خیمہ ہی تو ہے۔ بے کار کی مصروفیت اور خود ساختہ عجیب و غریب لائف

Read more

تحریکِ انصاف بدست کاتب تقدیر

فلسفہ تقدیر ایمان کا حصہ ہے۔ روایات کی روشنی میں انسان کی قسمت اس کی پیدائش سے پہلے لکھ دی جاتی ہے۔ لہٰذا ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت تحریک انصاف کے عروج و زوال کے پیچھے بھی یقیناً قسمت کے لکھے کا پورا ہاتھ ہے۔ کاتب تقدیر نے ہزاروں سال پہلے لکھ دیا تھا کہ ملکِ جناح داد ایک خاص نظریہ پر وجود میں آئے گا اور انگریز یہاں کے مومنین کی مزید ذمہ داریاں اٹھانے سے آزادی پائے

Read more

مَین از اے سوشل میڈیا اینیمل

ارسطو کے زمانے میں انسان محض سماجی حیوان تھا مگر نظریہ ارتقاء کی بدولت آج وہ، سوشل میڈیا اینیمل، بن چکا ہے۔ لمحہ موجود میں سوشل میڈیا دلوں کی دھڑکن، آنکھوں کی ٹھنڈک، روح کی غذا اور آدابِ حیات کا جزوِ لاینفک اور رنگ، نسل، زبان اور علاقہ کی تفریق کے بغیر مرد و زن اور پیر و جواں کے لئے آن لائن مرجع خلائق ہے۔ اب کروڑوں کی تعداد میں مخلوق خدا اس کے اخلاقی، معاشرتی، روحانی اور سیاسی

Read more

ایکس ٹینشن اور اس کی اقسام (مزاح)

ہماری تاریخ ایکسٹینشن کے نشیب و فراز کا مجموعہ رہی ہے۔ مرغوب و مطلوب ہونے کے موجب بہت سے، حق، مشرف بہ ایکسٹینشن کے موجب، فائز، ہونے کی خاطر ”قمر بستہ“ رہے۔ تاہم ہر بار اس مقصد کے حصول کے لیے رحمان کے، فضل، کے حصول میں شدید مشکلات آڑے آتی رہیں۔ اصل میں ”ٹینشن، ڈی ٹینشن، ری ٹینشن، اَٹینشن اور ایکس ٹینشن ایک ہی سپیشی سے متعلق ہیں اور ایک ہی ڈنڈے یا ہتھوڑے کے پانچ رخ ہیں۔ تاہم

Read more

شاعروں کے تخیلات پر کچھ ادبی اجتہاد

بھلے عمل میں متحرک نہ سہی مگر شعراء معاشرے کے انتہائی ذہین لوگ ہوتے ہیں اور ان کی پر و ازِ تخیل، ماورائے ثریا ہوتی ہے۔ یہ بڑے بڑے انقلابوں، بلووں اور معاشقوں کے راہ ہموار کرتے ہیں۔ بس ذرا عائلی اور خاص کر مالی حالات ناگفتہ بہ رہتے ہیں۔ شعرا تعارف کے سوا ہر شے کے محتاج ضرور سہی مگر خودداری و وضع داری کے موجب اظہارِ احتیاج کے محتاج نہیں ہوتے۔ شیکسپئر نے تو مذاق میں کہا تھا

Read more

بندے کھول دو

خطے کی تاریخ میں، کھول دو ، کی اصطلاح، بڑی معروف رہی ہے۔ منٹو کے افسانے "کھول دو” میں سماج کی ستم گزیدہ سکینہ اس اصطلاح سے دردناک حد تک شناسا ہو گئی تھی۔ ایسے ہی کچھ عقیدت مند خواتین اپنے روحانی مرشدوں کی زبان سے مذکورہ اصطلاح سننے کی خوگر ہیں۔ لیکن دل لبھانے اور مرادیں بر آنے کے خوش کُن لمحات، کھانا کھول دو ، کے تین بول ہوتے ہیں۔ یہ تین لفظ نہیں بلکہ طبلِ جنگ ہے

Read more

امرتا پریتم ، وارث شاہ اور پنجاب کی دو مائیں

ستتر سال پہلے انسانی تاریخ کی بدترین ہجرت، خونریزی اور عصمت دری کی ہولناک ہولی کھیلی گئی تو پنجاب کی ایک بیٹی امرتا پریتم نے وارث شاہ کو مخاطب کر کے تقسیم کا نوحہ لکھا۔ اج آکھاں وارث شاہ نوں کِتوں قبراں وچوں بول تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول اک روئی سی دھی پنجاب دی توں لِکھ لِکھ مارے وین اَج لَکھاں دھیاں روندیاں تینوں وارث شاہ نوں کہن اُٹھ درد مندایا دردیا،اُٹھ تَک اپنا پنجاب

Read more

طاغوت کی منزل سے گیا کون سلامت سامان لُٹا راہ میں یاں ہر ”قمری“ کا

ایک مدت سے خلیل میاں غلیل کَسے فاختاؤں کے در پے تھے مگر آخر وہ تاریخی غلیل ٹوٹ گئی۔ ایسے جیسے کبھی نسیم حجازی کی تلوار ٹوٹی تھی۔ فاتح نسوانیت، محافظ ِاسلام، پیکرِ حیا، دانائے راز اور لسان العصر مولانا خلیل الرحمان قمر اپنی حیاتِ مبارکہ کے باسٹھ کیک اور بے شمار موم بتیاں ضائع کرچکے ہیں۔ بھلے ضرورت نہ سہی مگر ان کی سلامتی کی دعا کرتے ہیں کیونکہ دعا میں حرج ہی کیا؟ انھوں نے ہمیشہ اپنی اصلاح

Read more

شاعروں کی شاعرانہ خصوصیات

شعرا کبھی بھی تعارف کے محتاج نہیں ہوتے تاہم بقول ڈاکٹر اشفاق احمد ورک شعرا ”تعارف“ کے سوا دنیا کی ہر چیز کے محتاج ہوتے ہیں۔ شعرا اپنی زندگی کا کچا چٹھا ببانگِ دُہل کھول سکتے ہیں۔ ان کے ہاں کردہ تو کیا نا کردہ سر گرمیوں کا بیان بھی خلعتِ فاخرہ سے کم نہیں ہوتا۔ شاعرات تک اپنے دل کی بات کھلے بندوں کہہ کر طشت از بام کر دیتی ہیں مگر عملی زندگی میں اپنی ہی کہی یا

Read more

کہ از ساحل و خلیل، بوئے خرد نمی آید

جہالت سے مراد ناخواندگی نہیں بلکہ یہ ایک وکھری ٹائپ کی ذہنی کیفیت ہے جو اچھے خاصے تعلیم یافتاؤں میں بھی پائی جا سکتی ہے۔ ادھر کچھ چٹے ان پڑھ افراد انتہائی معاملہ فہم اور باشعور بھی ہوتے ہیں۔ جہالت جامعات و مدارس میں نہیں، صرف عملی تربیت سے کم ہو سکتی ہے۔ تربیت کی خشتِ اول کی کجی تا ثریا دھڑلے سے ساتھ نبھاتی ہے۔ ساحل (بروزن جاہل) نے جہالت کی جدید تعریف وضع فرمائی ہے کہ کسی علم

Read more

ان گرمیوں سے کہہ دو کہیں دور جا پڑیں

ابھی ہم ٹھنڈ گُزیدہ لوگ جاڑوں کی زمہریروں اور ان کے آفٹر شاکس سے بمشکل سنبھل پائے تھے کہ گرمی کے عذاب نے آن لیا۔ سردی میں بھی تنگ رہے، اب گرمی سے بھی نالاں ہیں۔ یوں ہم کوئی بھی موسم سہنے کے لائق ہی نہیں رہے۔ جب جنوری میں سردی سے پالا پڑتا ہے تو ہر مرد وزن، پیرو جواں یخ یخاہٹ، دندناہٹ اور کپکپاہٹ میں مبتلا رہتا ہے۔ شاعروں اور عاشقوں کے واسطے سردیاں نعمت جبکہ عمر رسیدہ

Read more

عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کو ساتواں جنم مبارک ہو!

صد شکر کہ ایک بار پھر سوشل میڈیا کے کذاب راویوں کو دھول چاٹنی پڑی اور لالہ نیازی کی سناؤنی حسبِ سابق جھوٹ نکلی۔ یوں وہ نہ صرف ان دورغ گوؤں اور فتنہ پروروں کی مذموم کوششوں کے باوجود دنیا میں ایک بار پھر اپنا وجود ثابت کرنے میں ثابت قدم رہے بلکہ اپنی موت کی خبر کی بنفس نفیس تردید بھی کی۔ ہم تہہ دل سے انھیں ساتویں جنم کی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ عالم ارواح سے شکمِ مادر

Read more

فضائل ماہ مئی

قومی تاریخ میں شمسی کیلنڈر کا پانچواں مہینہ، مئی المبارک، سید الشہور یعنی مہینوں کے سردار کی حیثیت رکھتا ہے جسے دیگر مہینوں پر ڈھیروں فضیلتیں حاصل ہیں۔ اکتیس ایام پر مشتمل مئی ہمیشہ مئی میں ہی آتا ہے۔ یہ مہینہ یوم پاکستان سے سوا ماہ اور یوم آزادی سے اڑھائی ماہ کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ مہینہ عجیب و غریب واقعات و سانحات، معجزات و کرامات، جشنیات و تہنیات اور واہیات و شطحیات کے امتزاجات کا حامل ہے۔

Read more

وردیوں، کلغیوں اور مرضیوں کے تصادم

تہذیبوں کے تصادم قصہ پارینہ ہوئے۔ آج ہم تہذیبوں کے اندر سے ہزاروں تصادم دریافت کر رہے ہیں۔ ویسے تو ہر قوم اپنے وقت پر اپنی اوقات اور آپے سے باہر نکلی مگر ہمیں تو کچھ زیادہ ہی ثبات حاصل رہا ہے۔ مسلمان کے پیدا ہوتے ہی اس کی گھٹی میں ممکنہ دشمنوں کی تلاش کی صلاحیت ودیعت ہو جاتی ہے۔ سو اس کی پوری زندگی دشمنوں کی کھوج میں کھپتی ہے۔ دشمن نہ ملیں تو خود تراش کر دشمنی

Read more

خیراتی ہجومیہ، فتاویہ، پلاٹستان

پاکستان اور اسرائیل نظریات کی بنیاد پر بنے۔ اسرائیل نے زوال سے ترقی کا سفر طے کیا جبکہ ہم نے زوال آمادہ قوم کی حیثیت سے شروعات کیں اور زوال پذیری کی حد کو عبور کرنے کے بعد بڑی کامیابی سے زوال یافتہ قوم کے اعزاز کا گولڈن بٹن بھی پا لیا۔ ادھر انڈیا نے آزادی لی تو ہم نے محض پاکستان حاصل کیا جبکہ انگریز بھی ہماری مزید ذمہ داری اٹھانے سے آزاد ہوا۔ ایک طرف ہم نے خودی

Read more

ہمارا جغرافیہ ( مزاح)

حدود اربعہ : دیس کے مشرق میں اقتدار کا سمندر ہے اور مغرب میں روڑے اٹکانے والے پہاڑ اور نفرتوں کے منجمد گلیشئر ہیں۔ شمال میں بڑے بڑے ہمالے اور چھوٹے چھوٹے اڈیالے ہیں۔ جنوب میں مایوسیوں، دکھوں، انتقاموں کے جھلستے ریگستان پھیلے ہوئے ہیں۔ وعدوں کے سبز باغات کے ساتھ مایوسیوں کے کالے باغ بھی قابل ذکر ہیں۔ شمال مغربی کونے میں قرضوں کے کوہ گراں اور ترقی کی چٹیل ڈھلانیں ہیں۔ کہیں کہیں ڈیل اور ڈھیل کے صحت

Read more

ضمیر نامہ

وطن عزیز میں ان دنوں سوتے، جاگتے اور اونگھتے ہوئے ضمیروں کے خوب چرچے ہیں۔ ضمیر سے مراد باطن، قلب، اخلاقی آگاہی اور خیر و شر میں تمیز کرنے کی حس ہے۔ انگریز لوگ اسے conscience کہتے ہیں۔ ہر شخص کے اندر ایک عدد ضمیر ہوتا ہے جو گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں ید طولیٰ رکھتا ہے۔ جی چاہا تو جاگ لیا، جی چاہا سویا کیا۔ قوم کے ہر فرد کا ضمیر اپنے تئیں بیدار اور زندہ ہوتا ہے

Read more

ٹاپ ٹین نیشنل ایشوز

کسی قوم کے شعور اور اوقات کا کچا چٹھا اس کے معمولات، مرغوبات، تقریبات، مشروبات، ماکولات اور محسوسات سے بآسانی کھل جاتا ہے۔ ہماری قوم کو دیکھیں تو خوشیاں نرالی تو غم عجیب اور نہایت غریب ہیں۔ پسند، نا پسند کے تو کیا ہی کہنی۔ :۔ کچھ المیے اور دکھ تاریخی حیثیت کے حامل ہیں۔ آئیے ان پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لونگ گواچنے کا سانحہ: چار عشرے پہلے قوم کی ایک بیٹی کے ناک کا لونگ سر

Read more

ان سردیوں سے کہہ دو کہیں دور جا بسیں

کہاں ہیں وہ دھوپ کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور سردیوں کو حرز جاں بنانے والے شاعر؟ کہاں ہیں، ماواں ٹھنڈیاں چھاواں، کا بیانیہ دینے والے اور، شا االلہ تینوں تتی ہوا نہ لگے، کی دعائیں دینے والے۔ نا جانے اقبال کا ادھر ڈوب کر ادھر نکلنے والا وہ خورشید کہاں روپوش ہے؟ یقیناً ان میں سے کچھ شعراء کنج مزار میں پاؤں پھیلا کر سو رہے ہوں گے تو باقی لحافوں میں دبکے پڑے ہوں گے۔ اس زمستاں کی سرد

Read more

بہشتی تیور

کتاب، بہشتی زیور، مسلم لڑکیوں کی تربیت کے لیے لکھی گئی جو استفادے کی خاطر انہیں جہیز میں بھی دی جاتی تھی۔ اس کتاب میں عورتوں کو بیک وقت دو خداؤں کو سہنے اور دیگر ازدواجی و سسرالی آداب سے بڑی شدت سے روشناس کرایا گیا تاکہ وہ اپنی ذاتی زندگی جہنم بنا کر اپنے مجازی خدا کے گھر کو جنت بنائیں اور حقیقی خدا کی خوشنودی پائیں۔ اس کتاب سے مردوں نے بھی مذہبی عورت سے ہی شادی کرنے

Read more

ہم ایک سال مزید پرانے ہو گئے

عمر رفتہ کی مانند سن تئیس بھی قصۂ پارینہ ہوا اور ہم ایک سال مزید پرانے ہو گئے۔ سال مہینوں میں، مہینے ہفتوں میں، ہفتے دنوں میں اور دن گھنٹوں میں ایسے بھاگ رہے ہیں جیسے کوئی پیچھے لگا ہو۔ کوئی صاحب تدبیر ایسا نہیں جو وقت کو روکے۔ صبح و شام کا اس تیزی سے ہونا، زندگی کے تمام ہونے کا پیش خیمہ ہی تو ہے۔ بے کار کی مصروفیت اور خود ساختہ عجیب و غریب لائف سٹائل نے

Read more

آبادیاتی ادب (مزاح)

نو آبادیاتی ادب کی اصطلاح سے اہل ادب یقیناً آگاہ ہیں۔ مگر ہم یہاں آبادیاتی ادب متعارف کروانے چلے ہیں۔ بڑھتی آبادی اور اس کے مسائل کو ہر دور میں شعراء اور ادباء نے اپنے اپنے انداز میں ادب کا حصہ بنایا۔ اب انکار نہیں کہ اپنے ہاں ادب کی جگہ بھی صرف بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اقبال نے اس مٹی کے نم ہونے کا مژدہ سنایا تھا پر اس قوم کے کارہائے نمایاں کو دیکھتے ہوئے دلاور فگار لکھتے

Read more

راستہ بھول گیا، یا یہی منزل ہے مری

ہم اردو سے محبت کرنے والوں، اردو کو سر سری لینے والوں، اردو کو غیر اہم کہنے والوں اور اردو کو انگریزی یا مقامی زبانوں سے کم تر سمجھنے والوں کے رویوں اور آراء کا یکساں احترام کرتے ہیں۔ اردو پر ملک کی قومی زبان ہونے کا الزام ہے۔ آئین کی شق نمبر 251 کے مطابق اردو ملک کی قومی زبان ہو گی اور یہ الفاظ بھی انگریزی زبان میں درج ہیں۔ 2003 ء تک اردو کی بے ادبی جاری

Read more

اگر حقیقی مطالعہ پاکستان ہو، تو کیا تماشا ہو

کہتے ہیں کہ کردار کے سوا تاریخ جھوٹ کا پلندا ہے۔ کیونکہ سماجی، سیاسی اور مذہبی تواریخ یا تو طاقت نے مرتب کیں یا پھر عقیدت کے قلم سے رقم ہوئیں۔ ہمارا خطہ ہمیشہ سے ہی روایت پرستی، شخصیت پرستی اور شاہ پرستی کا امین رہا ہے۔ وطن عزیز میں جب کسی طبقے کو مقتدر حلقوں کے مقابل ہزیمت کا سامنا ہوا تو اکثر اصلی مطالعہ پاکستان اور تاریخ کو منظر عام پر لانے کے مطالبے ہوئے۔ کاش ایسا ہو،

Read more

ہمارا وقت اچھا تھا

کسی حال میں بھی خوش نہ رہنا انسان کا فطری اور بنیادی حق ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت اس سے چھین نہیں سکتی۔ بچپن میں کھیل کود اور کھلونوں کی حسرت، بڑوں کی ڈانٹ اور سکول کا خوف، ٹین ایج کے رومانوی دکھ، جوانی و شادی کی شادمانیوں کا عارضی پن، بچے ہونے اور نہ ہونے کے شکوے، چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانے پہ کھلنے والے گل، رشتے داروں کے رویوں پر گلے، بزرگوں اور چھوٹوں سے فکری اختلاف،

Read more

وڈیو کریسی – اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے

سائنس کی بے پناہ بلکہ خدا پناہ کی حد تک ترقی سے ہر فرد کے ہاتھ جام جمشید لگ چکا ہے جس کے ذریعے دنیا و ما فیہا کی جملہ حرکات من و عن قابل سماعت و بصارت ہیں۔ یہ سب ویڈیو اور آڈیو کریسی کی ترقی و اخلاق باختہ شکلیں ہیں۔ اب خلوتوں کے آداب ریزہ ریزہ ہو کر بکھر رہے ہیں۔ جلوتوں میں معاذ اللہ کہنے والوں کے خلوتی، کرتوت ہائے سیاہ، کا منظر عام پہ آنا معمول

Read more

قصہ چہار درویش (جدید)

ہر دفعہ کا ذکر ہے کہ ملک خداداد پر، خاکان، خاندان کی حکومت ہوا کرتی تھی۔ جہاں سندھ جہلم نیلی چناب اور راوی چین ہی چین لکھا کرتا۔ شومئی قسمت کہ تا حال کے آخری فرماں رواں ”سالار بخت“ کو سلطنت بدحالی میں کمر کمر ڈوبی ملی۔ کنگال دیس منہ پھٹ رعایا، باغی راجے، شمال سے اترتا چڑھتا نسوار کش ہجوم اور اتری سیما کے سر اٹھاتے کشٹ ایسے روگ ہوئے کہ بادشاہ کو شورش دبانا پڑی۔ پر مایوسیوں کی

Read more

اردو کے کچھ جڑواں الفاظ

دیگر زبانوں کی طرح اردو میں بھی بہت سے ہم شکل، ہم صوت اور جڑواں الفاظ ہیں جو قاری کو مخمصوں میں ڈالے رکھتے ہیں۔ ان کی مشابہ اَشکال قاری کے لیے اِشکال کا موجب ہیں۔ چند الفاظ کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سرِ وَرَق، سر وَرَق سرِ ورق کا مطلب کسی بھی صفحہ کی اوپر والی یا پہلی سطر ہے۔ اس کے بر عکس ”سر وَرَق“ کسی کتاب کا پہلا صفحہ یا ٹائیٹل ہوتا ہے۔

Read more

آنکھ آئی ہے

دنیا بازیچۂ آفات ہے اور گزشتہ چند سالوں میں ڈینگی ہمارے پیچھے رہا تو کرونا نے آگے ہو کر شب و روز تماشے کیے ۔ اب ہماری قوم کی آنکھ آئی ہے۔ بلا شبہ آنکھ کو eye ہی کہتے ہیں مگر یہاں مراد آشوب چشم کا پھوٹنا ہے جبکہ فقط آنکھ کا پھوٹنا بالکل الگ معاملہ ہے۔ ویسے تو آنکھ کا آنا فطری امر ہے اور کسی پر کسی کی آنکھ ”آئی“ ہی رہتی ہے۔ آنکھ آنے کے فوراً بعد

Read more

خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کردے (مزاح)

نوے سال سے خطے کے مسلمان اقبال کی اس دعا کو فخر سے پڑھتے سنتے رہے مگر خوش قسمتی سے قبولیت کے ثمرات سے بال بال بچتے بھی رہے۔ بالآخر حضرت کی طوفانی دعا شرف قبولیت پا ہی گئی۔ آج ہماری نہ صرف متعدد متعدی طوفانوں سے کامل آشنائی ہے بلکہ عوام کے بحر میں اضطراب کی سونامی بھی برپا ہو چکی ہے۔ البتہ کچھ کے ہاں اب بھی، موجیں، موجزن ہیں۔ اس مقام کے حصول میں اقبال کے مرد

Read more

شعلہ ہی تو بجھ جائے ہے، آواز تو دیکھو

دنیائے موسیقی میں گائیکوں نے عشروں بعد پہچان بنائی لیکن سوشل میڈیا اور موجودہ سامعین کی بدولت، بائے بائے موسیقی، اور معروف خلاصیکل گائیک استاد چاہت فتح نے انتہائی قلیل مدت میں شہرت کے ایسے جھنڈے گاڑھے کہ اب اتارنا ممکن نہیں۔ ان کی آواز کا جادو نہ صرف موجبِ سمع خراشی ہے بلکہ کلاسیکل موسیقی کو خیر باد کہنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اسی لیے مذہبی طبقات ان کے ممنون ہیں کہ موسیقی کے خلاف ان کی

Read more

انجمن تقریب پسنداں

ادبی تقریبات کا مقصد لوگوں کو ادب اور ادبی سرگرمیوں سے جوڑنا اور ادب کو عملی زندگی کے لئے مشعل راہ بنانا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں باقی جملہ معاملات کی طرح ادبی تقریبات بھی بے ادبی کا شکار ہو چکی ہیں۔ قومی مزاج کے عین مطابق یہ محفلیں بھی وقت مقررہ پر آغاز و اختتام کی سعادت سے محروم رہتی ہیں۔ ان کے انعقاد کا انحصار آپسی اثر و رسوخ اور ستائش باہمی کے بنا ممکن نہیں ہوتا۔ حقیقی ادب

Read more

گرمی میں بھی سردی ہے

اس بار کا موسم گرما، گرمی بی سے بال بال بچا جا رہا ہے اور تا حال گرمیوں اور لو کا متہم نہ ہے۔ نا جانے اس بار موسم گرما کی گرمی سے مڈبھیڑ کیوں نہیں ہو پا رہی۔ ہم نے اپنی زندگی میں پہلی بار لوگوں کو جون کی راتوں میں کمبل میں دبک کر سوتے دیکھا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے موسمیاتی تبدیلیوں کا لمبا ہاتھ ہے۔ مگر ہم تو ہر تبدیلی، آفت اور ہر سر

Read more

ہے عیاں شورش انصاف کے افسانے سے

ہم حسب سابق، ہر کمال را زوال است، کے سبق سے سبق حاصل کرنے پر اب بھی آمادہ نہیں ہوئے۔ دیگر جماعتوں کی طرح تحریک انصاف بھی ایک طویل مایوس کن سفر کے بعد 2012ء میں باطفیل دست شفقت ظفر یاب ہوئی۔ مقبولیت و جنونیت کا جادو کچھ ایسے سر چڑھ کر بولا کہ خان صاحب تکبر و نرگسیت کا پیکر بن بیٹھے۔ ادھر چاہنے والوں نے شخصیت پرستی کے تمام ریکارڈ توڑے اور انہیں ہر خامی کے ساتھ قبول

Read more

کیا ویسٹ انڈیز کوئی ملک ہے؟

ویسٹ انڈیز کا نام سنتے ہی کسی طاقت ور اور بڑے ملک کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ مگر آپ سن کر حیران ہوں گے کہ ویسٹ انڈیز کوئی ملک نہیں بلکہ بحر اوقیانوس میں carribean sea کے آس پاس بکھرے ہوئے سات ہزار جزیروں پر مشتمل علاقے اور ایک مضبوط کرکٹ ٹیم کا نام ہے۔ ان جزیروں کے صرف دو فی صد علاقہ پر انسانی آبادی ہے جو لگ بھگ ساڑھے چار کروڑ ہے۔ یہاں 13 آزاد اور 18

Read more

تعلیم روسٹ پالیسیاں

معیشت، صنعت اور عوام کو روسٹ کرنے کے بعد تعلیمی نظام کی تباہی بھی نوشتہ دیوار ہے۔ بربادی کے دہانے پر پہنچا نظام تجہیز و تکفین کے بعد تدفین کے مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ ماضی میں رسمی ڈاک کی فضول بھرمار اور یو پی ای جیسی مضحکہ خیز پالیسیوں نے نظام کو کھوکھلا کیا تو آج آن لائن ایپس اور ڈینگی ایکٹیویٹیز کے ذریعے رہی سہی کسر نکالی جا رہی ہے۔ روزانہ سکول کا آغاز ڈینگی ایپس کے

Read more

دم نامہ: جو دم ہوتی تو کیا ہوتا؟

انسان کی تخلیق احسن تقویم پر ہے مگر انسان نے دوسروں سے الگ دکھنے کے شوق پال رکھے ہیں۔ تقریبات، ٹیلنٹ اور فیشن شوز میں خواتین و حضرات خاصے مضحکہ خیز روپ دھارے ملتے ہیں۔ کم لباسی سے لے کر اعضائے حیوانات مثلاً سینگ، پر اور دم وغیرہ کی جسد انسانی پر تنصیب سے حظ اٹھا کر سراہا جاتا ہے۔ سوچتا ہوں کہ ہمارے معمولات، ملبوسات، ماکولات اور مشروبات میں شامل ان گنت خرافات کی مثل کسی رول ماڈل کی

Read more

جہاں سے بے خبر ہو کر فنا فی الفیس بک ہو جا

  تاریخ عالم میں انسانوں کا تعلق شاید ہی کسی اور چیز سے اتنا مضبوط اور پر خلوص رہا ہو جتنا کہ انیس سالہ فیس بک سے طے ہو چکا ہے۔ آج فیس بک دلوں کی دھڑکن، آنکھوں کی ٹھنڈک، روح کی غذا اور آداب حیات کا جزو لاینفک بن چکی ہے۔ فیس بک رنگ، نسل، زبان اور علاقہ کی تفریق کے بغیر ہر مرد وزن اور پیرو جواں کے لئے آن لائن مرجع الخلائق ہے۔ یہ دنیا میں سب

Read more

یہ جو اتنی سردی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے۔

لاریب کہ دور رواں وطن عزیز کے لئے بیرونی سازشوں کا دور ہے اور حکومتوں کے ساتھ ساتھ موسم بھی، امپورٹڈ، ہوتے جا رہے ہیں۔ حالیہ یخ بستہ مغربی اور روسی ہوائیں ان سازشوں کا واضح ثبوت ہیں۔ مگر شاید ان ہواؤں کو یہ علم نہیں کہ ان کے جاڑوں کو کس قوم سے، پالا، پڑا ہے۔ لہٰذا اے میرے لذیذ ہم وطنو۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پوری قوم یک جاں ہو کر ، یہ جو اتنی سردی

Read more

Audiovisual war یا Sexth generation war

ابھی ففتھ جنریشن کے وار تھمے نہ تھے کہ سکستھ جنریشن کے سیاپوں کی طوطیاں اپنے طوطوں سمیت بولنے کے ساتھ ساتھ دکھنے بھی لگیں۔ لہٰذا اسے سیکستھ جنریشن وار کہنا زیادہ موزوں ہو گا۔ اردو سے محبت رکھنے والے اسے حریم شاہی یا ملک شاہی دور بھی کہہ سکتے ہیں۔ سائنس کی بے پناہ بلکہ خدا پناہ ترقی سے ہر فرد کے ہاتھ جام جمشید لگ چکا ہے جس کے ذریعے دنیا و مافیا کی جملہ حرکات من و

Read more

زبانوں میں دخیل الفاظ کی اصطلاحات

کسی زبان میں دیگر زبانوں کے الفاظ کا آنا ارتقائی عمل ہے اور ہر زندہ زبان دوسری زبانوں کے الفاظ کو قبول کرتی رہی ہے۔ زبان غیر سے کوئی مقبول لفظ جس کا اپنی زبان میں متبادل ملنا مشکل ہو تو اسے بغیر ترجمہ کیے قدرے لفظی تبدیلی کے ساتھ اپنا لیا جاتا ہے۔ ایسے الفاظ عطیہ دہندہ زبان سے وصول کنندہ زبان میں پوری طرح کھپ جاتے ہیں اور انہیں ”دخیل“ الفاظ کہا جاتا ہے۔ جن قوموں کا سیاسی،

Read more

گھڑی نامہ

گھڑی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ یہ وقت کے ساتھ ساتھ، اوقات، دیکھنے کے کام بھی آتی ہے۔ گھڑی بناؤ سنگھار اور جاہ و جلال کی علامت ہے۔ پہلے پہل گھڑیاں جیب میں رکھنے کا رواج تھا البتہ خواتین اپنی گوری کلائیوں پر گھڑی باندھا کرتی تھیں۔ پھر رسٹ واچ عام ہوئی تو مرد بھی رسٹ پر پہننے لگے۔ عرب دنیا کی گھڑیوں کا پاکستانیوں سے گہرا مذہبی و سیاسی ناتا رہا ہے۔ حجاج تسبیح، کھجور اور زم زم

Read more

مخنث، ٹرانسجینڈر اور سس جینڈر

صنفی اعتبار سے انسان مرد ہوتا ہے یا اور عورت تاہم معاشرے میں تیسری صنف، مخنث، کا وجود بھی ہے جنہیں خواجہ سرا، ہیجڑا، زنخا، خنثیٰ اور انگریزی میں eunuch کہا جاتا ہے۔ حقیقت میں یہ الگ سے کوئی جنس نہیں ہے بلکہ پیدائشی طبی خامیوں مثلاً کروموسومزx  اور y کی تعداد میں عدم مطابقت یا پیدائش کے بعد جنیاتی بیماریوں کے باعث بچہ کی جنس کا تعین نہیں ہو پاتا۔ یہ ایسی ہی بیماری ہے جیسے کسی خامی یا

Read more

” بڑے بے آبرو ہو کر نتائج نہم کے نکلے“

سنا کرتے تھے کہ ہمارے سکولوں میں سوائے درس تدریس سب کچھ ہوتا رہتا ہے مگر اب کے سال جماعت نہم کے رسوائے زمانہ نتائج نے اس پر مہر ثبت کردی۔ لہٰذا نظام تعلیم کی تجہیز و تکفین کا جاری عمل اب تدفین کے مراحل بھی طے کر چکا۔ جس نظام میں خشت اول کی تنصیب ہی کج روی کا شکار ہو تو خشت نہم کیونکر درست ہو سکتی ہے۔ محکمہ، والدین اور معماران قوم کی مشترکہ کاوشوں اور حکومتوں کی تعلیم روسٹ پالیسیوں کے باعث پورا نظام تعلیم پاتال نشین ہے۔

Read more

ایکس ٹینشن اور اس کی اقسام (مزاح)

ہماری تاریخ ایکسٹینشن کے نشیب و فراز کا مجموعہ رہی ہے۔ مرغوب و مطلوب ہونے کے موجب بہت سے، حق، مشرف بہ ایکسٹینشن ہونے کی خاطر ”قمر بستہ“ رہے۔ اصل میں ”ٹینشن، ڈی ٹینشن، ری ٹینشن، اٹینشن اور ایکس ٹینشن ایک ہی سپیشی سے متعلق ہیں اور ایک ہی ڈنڈے کے پانچ رخ ہیں۔ تاہم یہاں موضوع بحث صرف ایکسٹینشن ہے جس کے لغوی معنی پھیلنے اور مزید پھیلتے جانے کے ہیں۔ X کا ایک مطلب سابق یا پرانا بھی

Read more

افسر میرے پیچھے ہیں تو ڈینگی میرے آگے

الحمدللہ ہمارا محکمہ تعلیم خود کو ڈینگی ایکٹیویٹیز کی بدولت دنیا بھر میں active ترین شعبہ کے طور پر منوا چکا ہے۔ حکومت نے یہ تاریخی اور انقلابی ہدف اساتذہ کے سیل فون کے ذریعے حاصل کر کے دنیا بھر کو انگشت بدنداں کر رکھا ہے۔ زمانہ معترف ہے کہ ہم تعلیمی اداروں میں سوائے درس و تدریس سب کچھ کرنے کی خدا داد صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔ اس عظیم مقصد کے حصول کی خاطر ہر سکول میں مچھر

Read more

داستان غریب حمزہ

صدیوں پہلے کی بات ہرگز نہیں کہ ملک عدم سے کچھ ادھر اک مملکت خداداد نے صہونیت کی غلامی سے آزادی جبکہ صیہونیت نے اس قوم کی ذمہ داری مزید اٹھائے رکھنے سے نجات پائی۔ عوام اور حکمرانوں کی تعداد میں رات چوگنی ترقیاں ہوئیں پر کچھ بھی مثبت نہ بڑھا۔ اس پر ڈھیر سارے نوری، ناری، آبی، خاکی اور نیرو حکمرانوں نے شاہی کی پر شاہ سدھرے نہ رعایا۔ پھر، اتفاق، سے اقتدار باطفیل کفش پوشاں ایک نہایت، شریف،

Read more

ہجر کو بخشی دھڑکن

فیصل زمان چشتی سے بڑا دیرینہ تعلق ہے۔ بچپن میں مل بیٹھنا اور جون جولائی کی دوپہر تک کرکٹ کھیلنا معمول تھا۔ کاغذ کی کشتی اور بارش کا پانی ابھی تک بھولے نہیں۔ شعر و ادب کا غیر معمولی ذوق ان میں اس وقت بھی بدرجۂ اتم موجود تھا جس کا اظہار بزم فکر نو کی محافل میں ہوتا رہتا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ منزلوں کے حصول اور روز گار کی دلفریبیوں کی خاطر ہم نے بھی، بڑے، ہو

Read more

اشرف المشروبات کی شان میں سرکاری گستاخی

ایک وفاقی وزیر نے اشرف المشروبات یعنی چائے کی شان میں گستاخی کر کے گناہ صغیرہ کا ارتکاب کیا ہے۔ اسے علم نہیں کہ اس نے چائے نوشی میں مداخلت اور سازش کر کے اس قوم کو للکارا ہے جو ایسے بیسیوں نان ایشوز پر سر دھڑ کی بازی لگانے سے دریغ نہیں کرتی۔ اسے بتاؤ کہ چائے کو دنیا کی تمام ڈرنکس پہ ڈھیروں فضیلتیں حاصل ہیں۔ سرکاری اداروں میں تو جیسے SOPs کا حصہ ہے کہ فرائض ادا ہوں، نہ ہوں چائے نوشی کے ناغے کا تصور نہیں۔

Read more

سیاست کی چند ایمان لیوا بیماریاں (مزاح)۔

کرپشن۔ سیاست و معاشرت کی سب سے بڑی ایمان لیوا بیماری کرپشن ہے جس کی گود میں ہزاروں مہلک بیماریاں پرورش پاتی ہیں۔ کرپشن در اصل ”ام الامراض“ ہے ا ور انتہائی زرخیز کوکھ کی حامل ہے۔ ہمارے ہان کرپشن ہر بالغ شہری کا بنیادی حق ہے اور ہر صاحب اختیار، سرکاری ملازمین، صنعتکاروں اور چند خاص لوگوں پر فرض ہے۔ سیاسی اصطلاحات کی مایہ ناز لغت ”فرہنگ انصافیہ“ کے مطابق ایسے تمام افعال و اعمال جو ان کے حریفوں

Read more

کپتان کی مجلس شوریٰ

کیا ہوا گر دشمنوں کے خلاف کفر و غداری کا بیانیہ بار آور ثابت نہ ہوسکا۔ لیکن انہیں علم نہیں کہ میں لوگوں کو کس کس طرح سے رلا سکتا ہوں۔ کچھ ناہنجاروں نے تو ہمارے بارے میں اک بے ہودہ کہاوت، شامت اعمال ما با صورت کپتاں گرفت، بھی گھڑ رکھی ہے۔ وہ کیا جانیں کہ قوم کے نوجوان میری مٹھی میں ہیں۔ ہم نے اپنی شخصیت، حسن بیان اور وژن ان کے خون میں شامل کر دیا ہے

Read more

اردو بے ادبی کی رومنی تحریک

یاران سخن کی رومانوی تحریک سے شناسائی تو مسلم ہے البتہ آج اردو کی رومنی تحریک کا ذکر بطور ادبی بدعت ہو رہا ہے۔ زبان کی دیگر تحریکوں کی طرح اردو کو رومن رسم الخط میں لکھنے، احباب میں اس اسلوب کی ترغیب دینے اور اردو کو رومن میں ڈھالنے کا رومنی رجحان تمام تحریکوں پر بھاری ثابت ہو رہا ہے۔ عہد رواں میں با طفیل سوشل میڈیا، رومن لکھاوٹ سب سے بڑا رسم الخط بن چکا ہے۔ دل چسپ

Read more

تضحیکی سیاست

بھلے وقتوں میں عام لوگ بھی باہمی گفتگو میں آداب معاشرت اور حفظ مراتب کا خیال رکھتے تھے۔ کسی کی بد زبانی کا جواب بھی تہذیب کے دائرے میں سننے کو ملتا، جیسے ایک صاحب ہتک آمیز جملوں کے رد عمل میں کچھ یوں گویا ہوئے ”دیکھئے بھائی آپ حد سے بڑھ رہے ہیں، اعتدال میں رہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بھی آپ کی شان میں گستاخی کر بیٹھوں ”۔ واہ بھلا آج یہ سننے کو کہاں ملتے

Read more

ادبی سرقہ اور توارد

ادبی اصناف کی چوری کو ادبی سرقہ کہتے ہیں۔ اس کی دو قسمیں ہیں، 1 : سرقۂ معروف کسی معروف شاعر کے کلام کو خود سے منسوب کرنا سرقۂ معروف ہے جو ادبی سرقہ کی روایتی اور عام قسم ہے۔ اس سے بڑھ کر ادب کی بے ادبی کیا ہوگی کہ کسی کی ادبی تخلیق کو چرا کر اپنی ادبی اولاد ثابت کیا جائے۔ ادبی سرقہ کی روایتی قسم میں دوسروں کے اشعار و نثر اپنے نام سے متعارف کروانا

Read more

اہل ادب کے مزاروں کے کتبے (مزاح)

فقۂ ادب میں اہل ادب جیتے جی مر کر دیکھتے رہتے ہیں اور پھر مر کر جینے کی باتیں بھی کرتے ہیں۔ بھلے غالب بخوف رسوائی اپنے مزار کی بجائے دریا میں غرق ہونے کو ترجیح دیں مگر مردہ جب بدست زندہ ہو تو زندہ لوگ اسے دبا کر چل دیتے ہیں اور بعضے قبر پر کتبے بھی لگا دیتے ہیں۔ شعرا، ادبا اور دیگر شناسان سخن کے مزاروں پر یقیناً ایسے ہی کتبے جچتے ہوں گے ۔ ، 1۔

Read more

راستہ بھٹکے اشعار

اردو شعر و ادب کے ساتھ ساتھ کچھ شعرا کرام کی بھی بے ادبی ہوئی جب ان کے کہے شہرۂ آفاق شعروں کو ظالم سماج نے کسی اور کے نام کر دیا اور ایسا کیا کہ پتھر پر لکیر ہوئے۔ یہ امر حقوق العباد اور حقوق الادب کے یکسر متصادم ہے لہٰذا ان بھٹکے ہوئے ء اشعار کو ان کے خالقوں اور وارثوں تک پہنچانا ہمارا ادبی فریضہ ہے وگرنہ ہم بھی اردو بے ادبی کی تاریخ کا حصہ شمار

Read more

عالمی دنوں کا لنڈا بازار

پوری دنیا میں پورا سال ہی کسی نہ کسی چیز کا عالمی دن منایا جاتا ہے بلکہ کسی دن کو تو کئی کئی حوالوں سے منسوب کر کے منانے کا رواج بھی ہے۔ ہر دن اس دن کے سورج کے ساتھ ہی غروب ہوجاتا ہے اور اس دن کی روح پھر سے دنیا کی بھیڑ میں اگلے برس تک کھو جاتی ہے۔ البتہ ہر منائے جانے والے دن کی نسبت سے منوں کے حساب سے کلچر ضرور برآمد ہوتا رہتا

Read more

محاوراتی تذکیر و تانیث

زندہ دلان کا ذوق جمالیات انھیں ہر چیز میں جنس کی تخصیص سے محظوظ ہونے پر اکساتا رہتا ہے۔ مگر یہاں اس موضوع سے مراد محض ادبی ترویج سمجھا جائے۔ اردو ادب میں کئی ایسے محاورات و ضرب الامثال ہیں جن میں حقیقی تذکیر و تانیث کے مباحث چھیڑے جا سکتے ہیں۔ مثلاً نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی۔ ہم سوچتے ہیں کہ بلی کی جگہ کبھی کسی بلے کو اہمیت کیوں نہ ملی۔ اور اس کی

Read more

کپتان کا علم البیان

تاریخ میں بہت کم راہ نما ایسے ہیں جنھیں بیک وقت متعدد علوم پر دسترس تھی۔ تہنیت کہ پون صدی نرگس دھاڑیں مار کر روئی اور کچھ کھا، پی کر سوئی تو اک وحید العصر دیدہ ور کا بھاری ”سایہ“ پڑ ہی گیا۔ جو علم سیاست، علم معیشت، علم تاریخ، علم دین و فقہ، علم جغرافیہ، علم روحانیت، علم ہندسہ و شماریات، علم کلام اور خاص کر علم البیان کی تمام حدود ایک ہی جست میں عبور کر چکا ہے۔

Read more

جوڑوں کا درد

فرشتوں کے لکھے پہ پکڑے جانے والے انسان کو عرش پہ بنے جوڑوں کی وساطت سے دنیا میں لانے کا اہتمام ہوا۔ پھر انسانی جسم میں تین سو ساٹھ جوڑوں کی موجودگی نے جوڑوں کی اصطلاح کو انسان سے لازم کر دیا۔ یوں انسان کے اندر کے جوڑوں اور عرش پہ بنے جوڑوں کے اپنے اپنے درد متعارف ہوئے۔ پر یہاں فقط اک دوجے کے لباس قرار دیے گئے جوڑوں کے گفتہ، شگفتہ و نا گفتہ دردوں کا تذکرہ ہے۔

Read more

مذبی محافل اور ادب کا فقدان

اک مسلمان کے لئے رسول اللہ کی اطاعت، محبت اور مدحت سرمایۂ زیست ہے۔ اس ہستی کی ثناء پہ کیا کہیں کہ جس پر خالق دو جہاں خود سلام بھیجتا ہے۔ آپﷺ افضل البشر اور افضل الانبیاء ہیں لہٰذا نعت گوئی، نعت خوانی اور محافل کے انصرام میں ادب کے قرینے اور تقاضے ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیر مہر علی شاہ جیسی ہستی نے مدحت لکھتے وقت عاجزی کا اظہار یوں کیا، کتھے مہر علی

Read more

با ادب، با ملاحظہ ہوشیار

  اردو کے مباحث میں غلط العام کا چلن عام ہے مگر چند ستم گزیدہ الفاظ تو معنویات کی دیوار میں ایسے چنوا دیے گئے کہ شراب سیخ پر اور کباب بوتل میں جا پڑا ہے۔ ان کے جہان معانی میں زمین و آسمان کا فرق ہے پر اپنے متضاد معنی میں طمطراق سے مستعمل ہیں اور خوب ہیں۔ چنداں ملاحظہ ہوں۔ مغوی و مغویٰ سب کا ادبی اجتہاد ہے کہ مغوی اغوا ہونے والے متاثرہ فرد کو کہتے ہیں۔

Read more

اردو کے چند الٹ مفہومئیے الفاظ

اردو کے مباحث میں غلط العام کا چلن عام ہے مگر چند ستم گزیدہ الفاظ تو معنویات کی دیوار میں ایسے چنوا دئیے گئے کہ شراب سیخ پر اور کباب بوتَل میں جا پڑا ہے ۔ ان کے جہانِ معانی میں زمین و آسمان کا فرق ہے پر اپنے متضاد معنی میں طمطراق سے مستعمل ہیں اور خوب ہیں ۔ چنداں ملاحظہ ہوں ۔ مُغوی و مغویٰ سب کا ادبی اجتہاد ہے کہ مغوی اغوا ہونے والے متاثرہ فرد کو

Read more

حیات واہیات

انسان دنیا میں حیات مستعار برائے بندگی لے کر آیا مگر اک واضح اکثریت اس حیات انسانی کو ”حیات واہیات“ بنانے کے در پے ہے۔ معاشرہ میں شر کا لفظ موجود ہے جبکہ بشر میں تو شر کا عنصر مزید واضح ہے، بقول شاعر طالب خیر نہ ہوں گے کبھی انسان سے ہم نام اس کا ہے بشر اس میں ہے شر دو بٹا تین قومی و مسلکی سطح پر ہم برہم مزاج ٹھہرے ہیں اور سوائے جذبات کے کچھ

Read more

مکافات محاورات

بے شک زمانے میں تغیرات کو کمال کا ثبات ہے اور وقت کے ساتھ اقدار، روایات سب کچھ بدلتا رہتا ہے۔ ایسے میں اردو محاورات و ضرب الامثال بھی مکافات سے دو چار کیوں نہ ہوں۔ آئیے چند محاورات کی بات کریں جن کے مفاہیم بدل چکے ہیں اور اب یوں لکھنے اور پڑھنے میں مضائقہ نہ ہو گا۔ 1۔ چراغ تلے اجالا۔ گئے وقتوں میں رات کو روشنی کے لئے استعمال ہونے والے دیے، چراغ، لیمپ اور لالٹین کی

Read more

سیکستھ جنریشن وار (مزاح)۔

ابھی ففتھ جنریشن کے وار تھمے نہ تھے کہ سکستھ جنریشن (sexth generation war ) کے سیاپوں کی طوطیاں اپنے طوطوں سمیت بولنے کے ساتھ ساتھ دکھنے بھی لگیں۔ لہٰذا اسے سیکستھ جنریشن وار کہنا زیادہ موزوں ہو گا۔ اردو سے محبت رکھنے والے اسے حریم شاہی دور بھی کہہ سکتے ہیں۔ سائنس کی بے پناہ بلکہ خدا پناہ کی حد تک ترقی سے ہر فرد کے ہاتھ جام جمشید لگ چکا ہے جس کے ذریعے دنیا و مافیا کی

Read more

تزک عمرانی (شفیق الرحمٰن سے معذرت کے ساتھ)۔

اہلیہ ء سوم اور ٹی وی کے توسط سے خبر پائی کہ ناقدین نے ہم پر طرح طرح کی افتراء پردازی شروع کر رکھی ہے۔ اگرچہ ہم مقامی مبصرین کی لگام بندی بطریق احسن فرما چکے ہیں تاہم غیر ملکی بک بک کا جواب از حد ضروری ہے۔ سنا ہے لوگوں نے ہمارے متعلق ایک نہایت بے ہودہ کہاوت، شامت اعمال ما با صورت عمراں گرفت، گھڑ رکھی ہے۔ خبر ہوتی کہ ہمارے اقتدار میں آنے پر یہ اودھم اور

Read more

لاک ڈاؤن یا لوگ ڈاؤن

کہتے ہیں پرہیز علاج سے بہتر ہے مگر ہم علاج کو پرہیز سے بہتر سمجھتے ہیں۔ پرہیز ہو یا علاج ہر دو میں اپنا انداز مضحکہ خیز ہی ہوتا ہے۔ اول تو کسی وبا کو سنجیدگی سے لینے کا رواج نہیں، گر بادل نخواستہ لینا پڑا تو محض رسما اور مجبوراً ہی لیا۔ لاک ڈاؤن کا مقصد بھیڑ اور اختلاط کو روکنا ہے۔ لیکن یہاں چند مخصوص ایام اور اوقات کے لئے لاک ڈاؤن ہوتا ہے جبکہ باقی دنوں میں

Read more

اساتذہ اور ڈینگی اپ ڈیٹس

حکومت نے محکمہ تعلیم کو انقلابی وژن سے دنیا میں ”ایکٹو“ ترین شعبے کے طور پر منوا لیا ہے۔ اس حسن کار کردگی کو برقرار رکھنے کے لئے کچھ مزید حشر سامانیوں اور خون آشامیوں کے عزم کا ارادہ کیا گیا ہے۔

1۔ ڈینگی ایکٹیویٹیز کے لئے دن رات، ماہ و سال، تعطیلات و تہوار اور شادی و مرگ کی تمیز یکسر ختم کر دی گئی ہے۔ اس سال اساتذہ عید الفطر سکولوں میں ادا کریں گے۔ لازم ہوگا کہ دس سر گرمیاں نماز عید سے قبل جبکہ بقیہ دس نماز کے فوراً بعد ادا کی جائیں گی۔

2۔ محض آئی ٹی کے کثرت استعمال سے ڈینگی مار بھگانے پر دنیا نہ صرف انگشت بدنداں ہے بلکہ ہمارے تعاون کی خواہاں ہے۔ کامیاب پالیسیوں کے موجب بدنامی کے خوف سے ڈینگی منہ چھپائے پھر رہا ہے۔

Read more

لائی حیات آئے، وبا لے چلی، چلے

عہدرواں میں دنیا بازیچۂ آفات ثابت ہوئی ہے جہاں ڈینگی مخلوق کے پیچھے تو کورونا آگے ہے۔ گلوبل ویلج میں وباؤں کا گلوبل ہونا اچنبھے کی بات نہیں۔ سبھی ہی خالق و مخلوق سے منہ چھپائے پھرتے ہیں۔ پچھلے برس کورونا کی پہلی لہر میں امیر، غریب، ابتر و حسیں سب لاک نشیں رہے۔ کچھ طبقات ابتلاء وبا سے بے مراد ٹھہرے تو چند بامراد بھی ہوئے۔ مزدور اور کاروباری حضرات فاقوں میں گھرے جبکہ طبی عملہ اور پولیس جان

Read more

”ڈبویا مجھ کو آموں نے اور ہوئے کٹ کے ہم جو رسوا“

عزیز اور بے حد لذیذ ہم وطنو! ملتان شہر حلوے اور آموں کی نسبت عالم میں انتخاب رہا ہے اور یہاں کی مینگو پارٹیوں کی دنیا میں دھوم ہے۔ مگر مشہور زمانہ رہائشی منصوبے کے پہلے فیز کے لئے ہزاروں ایکٹر باغات کے سر یوں قلم ہوئے کہ مابعد الآمیاتی ملتان ڈی ایچ اے کی کالونی نظر آنے لگا ہے۔ گویا ابھی تو مینگو پارٹیاں شروع ہی ہوئی ہیں۔ آموں کی ہولو کاسٹ پر ماتم کناں طبقات یاد رکھیں کہ ریاست مدینہ میں بھی آم کے باغات نہ تھے۔

Read more

چھانگے مانگے سے مانگے تانگے تک

ایک تلخ، لائق مذمت اور قابل مرمت امر ہے کہ ہماری چوہتر سالہ سیاسی تاریخ چھانگا مانگا اور مانگا تانگا سے آگے نہ بڑھ پائی ہے۔ چھانگا مانگا محض جیو پولیٹیکل ماڈل نہیں بلکہ survival of the fittest کا مظہر ہے۔ دستور میں اقتدار اعلیٰ عوام کے پاس جبکہ یلغار اعلیٰ کا سر چشمہ اسٹبلشمنٹ ہے۔ ہر دو تین سال کی ننھی منی مقبوضہ جمہوریت ہمیشہ ہی دس سالہ آمریت کا راہ ہموار کرتی گئی۔ دور ایوبی سے پنپنے والے

Read more

عمران، نواز، زرداری: سیاست کے تھری بِگز

ایک دور تھا جب بین الاقوامی سیاست میں ”تھری بگز“ ( THREE BIGS) کی طوطیاں بولتی تھیں۔ ہمارے ہاں بھی تھری بگز ہیں جن کی نہ صرف طوطیاں بولتی ہیں بلکہ وہ دوسروں کے طوطے اڑانے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ حروف کو دیکھیں تو ثابت ہو گا کہ جہاں عمران مکمل ہوتا ہے ، اس ”ن“ سے نواز شروع ہوتا ہے اور جس ”ز“ پہ نواز کی تکمیل ہے اسی ”ز“ سے زرداری کا آغاز ہے۔ اسی لیے زرداری

Read more

ہمارے رانگ نمبرز

مذہب، سیاست، معاشرت اور معیشت کے سبھی دعویدار تسلسل سے رانگ نمبرز ملائے جا رہے ہیں۔ قرآن محض ایصال ثواب یا پھر اپنی مرضی کے دلائل کی کتاب بن چکی ہے۔ اپنی اپنی مرضیوں کے تصادم ہیں۔ جہاد، عشق، کرپشن، غداری اور اہلیت کے اپنے اپنے پیمانے ہیں جنہیں سیاسی و سماجی سکورنگ کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ مخالفین کا دھڑن تختہ فرقہ واریت سے کیا گیا۔ تاریخ و تہذیب سے نا آشنا لوگوں کے پاس جذبات کے سوا کچھ

Read more

سلطنت سیاست کے مشہور شہر اور مقامات

سلطنت سیاست کے چند مشہور شہروں کا تعارف ذیل میں ہے۔

ٹیکس لا

تیزی سے پھیلتا شہر ”ٹیکس لا، مارشل لا سے بھی ڈراؤنی اصطلاح بن کر ابھرا ہے۔ اس شہر میں لوگوں پہ ٹیکس لاگو کرنے، خون نچوڑنے اور ٹیکس زنی کے جدید ترین ذرائع دریافت کیے جاتے ہیں تاہم ان ٹیکسوں کا غریبوں پر کوئی بوجھ نہیں پڑتا۔ ایف بی آر اس شہر کا مرکزی خون آشام چوک ہے۔ ٹیکس دو قسم کے ہیں۔ بلا واسطہ اور بالواسطہ۔

Read more

ہائے رے سردی

عشق کو تپتے ہوئے صحرا سے تشبیہہ دینے والے عشاق بھی جاڑے سے دانت بجانے لگے۔ گویا کپکپاہٹ، دندناہٹ اور یخ یخاہٹ کا دور دورہ ہے۔ حدت جذبات کے دعویداروں کے ہاں جذبات کی یخ بستگی نے عاشقی و مردانگی کو ہی مشکوک بنا دیا۔

Read more

اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے

اس سے بڑھ کر دکھ کی بات کیا ہوگی کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ وزیراعظم صاحب لاشوں کی تدفین سے قبل وہاں جانے سے انکاری یا پھر خائف ہیں کیونکہ مبینہ طور پر ان کے روحانی پیشواؤں نے کچھ عرصہ تک میتوں کے قریب جانا برا شگون بتایا ہے۔ مزید افسوس ناک امر یہ ہے کہ ایسی قیامت میں بھی سیاسی اور مسلکی سکورنگ جاری ہے۔ کچھ کینہ پرور حضرات ہزارہ برادری کے عقائد کو لے کر حکومت کا دفاع کر رہے ہیں۔ ان حالات میں جون ایلیا کا شعر کتنا صادق آتا ہے،

اب نہیں کوئی بات خطرے کی ، اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے

Read more

وزیر اعظم عمران خان کے چودہ نکات

لگ بھگ نوے سال قبل پرانے پاکستان کے بانی قائد اعظم نے اپنے مشہور چودہ نکات پیش کیے تھے۔ اسی طرح نئے پاکستان کے بانی اور موجودہ وزیر اعظم نے بھی اپنی مرضی کے چودہ نکات پیش کر ڈالے۔ ان کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔ 1۔ ملک سے موروثی سیاست کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ یہ صرف اسی صورت ممکن ہے کہ مستقل گھر نہ بسایا جائے۔ خدا نخواستہ گھر بس جائے تو بچوں کی پیدائش سے احتراز کیا جائے۔

Read more

Miss Management یا Mismanagement

خاندان کئی افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ مگر ہر خاندان کسی نہ کسی مس مینجمنٹ کے بل بوتے پہ ہی چل رہا ہوتا ہے۔ یہ مس مینجمنٹ ماں، بہن، بھابی یا بیوی کی صورت میں ہوتی ہے۔ اس کے بغیر خوشحال اور منظم فیملی کا تصور نہ ہے۔ اس تمہید کا مقصد عورت کا معاشرے میں کردار و اہمیت بیان کرنا ہے۔ اگر ہم غیر جانبداری سے انسانی رشتوں کا تجزیہ کریں تو عورت کو ہی روح رواں دیکھیں گے۔

Read more

ہماری حالیہ تاریخ کے سات بڑے قومی المیے

قوموں کی تاریخ بے شمار نشیب و فراز کا مجموعہ ہوتی ہے۔ وطن عزیز بھی کبھی کامیابیوں تو کبھی المیوں کا شکار رہا۔ مگر ہم ایشوز کو نان ایشوز اور نان ایشوزکو ایشوز بنانے میں کمال کا ملکہ رکھتے ہیں۔ ویسے بھی پریم چند کے مطابق تاریخ میں سوائے کردار کے کچھ بھی سچ نہیں ہوتا۔ آئیے چند مضحکہ خیز ایشوز کو کھوجنے کی کوشش کرتے ہیں جنہیں ہماری قوم نے قومی المییے بنا دیا ہے۔ 1۔ دانش کی موت۔

Read more

انسان اور گندم

انسان اور گندم کا تعلق بہت پراناہے اور ا بتدائے آفرینش ہی سے ان کے باہمی تعلقات کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ ایک طرف انسان کو جنت بدر ہونے پہ گندم سے شکایت ہے تو دوسری جانب گندم کے بغیر ایک دن گزارے نہ گزرے ہے۔ گویا بیماری کی موجب بننے والی بلا ہی انسانی زندگی کی خاطردوا ٹھہری۔ اب توگندم اپنے کیے کا خمیازہ بھگت رہی ہے اور جتنی گندم پیدا ہو، انسان کھا جاتا ہے۔ انسان کی خاطر

Read more

سیاست کا جغرافیہ ( باب نہم)کچھ روشن طبقات کے روشن نکات

ریاست میں بے شمار طبقے ایسے ہیں، جن کے ہر وقت چودہ طبق روشن رہتے ہیں۔ انہی میں سے کچھ کے وضع کردہ نکات با برکات کی تفصیل ذیل میں دی جاتی ہے۔

قائدین وکالت کے چودہ نکات:

1۔ وکلاء کی معاشرے میں امتیازی و دست درازی حیثیت ہر صورت تسلیم کی جائے۔

2۔ کسی بھی محکمے میں وکلا کے دفتری کاموں کو ترجیحی بنیادوں پہ حل کرنے کا یقین دلایا جائے اور عام لوگوں کے ساتھ قطار میں لگ کاروباری کے انتظار کی شرم ناک شرط ختم کی جائے۔

Read more

سیاست جغرافیہ: سلطنت میں نازل ہونے والی قدرتی آفات

سیاسی قدرتی آفات: سلطنت سیاست میں قدرتی سیاسی آفات کا آنا معمول کا کام رہا ہے۔ ٹیکسوں کی سر پھوڑ، مہنگائی کی کمر توڑ اور یوٹیلٹی بلز کی گردن توڑ امراض اور وبائیں پورا سال ہی عوام کے سر رہتی ہیں۔ ان کے علاوہ احتجاج، ہڑتالیں، دھرنے، آئی ایم ایف اور بد اخلاقی کے سیلاب نمایاں آفات ہیں۔ ماضی میں ایک خوفناک آفت ”آٹھویں ترمیم“ کا زور بھی رہا، جس پر اب سیاسی سائنسدانوں نے مکمل قابو پا لیا ہے۔

Read more

الجھے ہیں سکولوں میں ایس او پیز کے دھاگے

وطن عزیزمیں ہر کام کی انجام دہی کچھ اس قرینے سے کی جاتی ہے کہ ہونق نتائج کے سوا کچھ ہاتھ نہیں رہتا۔ تعلیم کے شعبے کو ہی دیکھئیے، لگتا ہے پورے ملک کا کرونا سکولوں میں گھس بیٹھا ہے جو نکلنے کا نام نہیں لے رہا۔ غور کریں تو اندھا دھند آبادی کے سبب ہر طرف انسانوں کا سیلاب ہے۔ بازاروں، منڈیوں، گھروں، گلیوں، سڑکوں، کھیل کے میدانوں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں۔ شادی بیاہ، جنازے اور ٹورنا

Read more

سیاست جغرافیہ ( قسط ششم )

قسط ششم میں سلطنت سیاست میں پائی جانے والی خوراک، پھل، جانور وں اور رسم و رواج کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ فصلیں، خوراک اور پھل سب سے پہلے کشت سیاست میں چاپلوسی اور منافقت کا گہرا ہل چلا کر سرمائے کے پانی سے سینچا جاتا ہے۔ تعلق اور سفارش کی کھاد ڈال کر ا ن کھیتیوں کو مزید زرخیز کر لیاجاتا ہے۔ پھر خیالی پلاؤ سے بات شروع ہوکر نقد آور فصلوں سے ہوتی ہوئی لنگر خانوں پہ لنگر

Read more

سیاست کی چند ایمان لیوا بیماریاں: کرپشن (ام الامراض)

سیاست و معاشرت کی سب سے بڑی ایمان لیوا بیماری کرپشن ہے جس کی گود میں ہزاروں مہلک بیماریاں پرورش پاتی ہیں۔ کرپشن در اصل ”ام الامراض“ ہے اور انتہائی زرخیز کوکھ کی حامل ہے۔ اسے اردو میں ”بد عنوانی“ اس لئے کہتے ہیں کہ اس ضمن کی تمام سرگرمیا ں اپنے نام و عنوان سے معیوب ہوتی ہیں۔ لہٰذا ان افعال کے لئے ان کے عنوان کے ساتھ بد کا لاحقہ لگاتے ہیں۔ یعنی یہ سب نام سے ہی

Read more

نو نیوز از گڈ نیوز

کسی چیز، کسی واقعہ یا کسی صورت حال کا علم اور معلومات نعمت سے کم نہیں پر بسا اوقات یہ واقفیت و آگہی وبال جان بھی ثابت ہوتی ہیں۔ اک دور تھا کہ انسان آج کی اندھا دھند ترقی کی معراج سے ناواقف تھا۔ وہ گرد و پیش اور عالمی حالات و واقعات کا علم رکھتا تھا نہ ہی مستقبل کے حادثات و سانحات کی پیش گوئیوں سے لرزاں تھا۔ انسان اپنے کام سے کام رکھتا اور شب کو اپنی نیند سوتا۔ مہلک بیمار یوں کی صورت میں ان کے بھیانک نتائج سے بھی نا آشنا رہتا۔

Read more

سیاست کا جغرافیہ (قسط چہارم )

محل وقوع، موسم اور باشندوں کے بعد اس قسط میں سیا ست کی اقسام پر روشنی ڈالی جارہی ہے۔ سیاست کی اقسام اہل مغرب حکومت کرنے کے فن کو سیاست کہتے ہیں۔ عرف عام میں سیاست، رسو ا ئے زمانہ اصطلاح ہے جسے ہیرا پھیری، دروغ گوئی، وعدہ شکنی، منافقت وغیرہ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ کچھ ڈیمو کریسی، کچھ ارسٹوکریسی، کچھ آٹو کریسی توکچھ محض ہیپو کریسی تصور کرتے ہیں۔ ماضی کے ایک بزرگ سیاستدان سے صحافیوں نے پوچھا

Read more

سیاست کا جغرافیہ ( قسط سوم )

”سیاست کا جغرافیہ“ کی تیسری قسط میں ریاست کے باشندوں پر روشنی ڈالی جارہی ہے۔ باشندے دنیا کے دیگر خطوں کی مانند مذکورہ ریاست میں بھی ہر قسم کے لوگ آباد ہیں۔ سب سے پہلے اک سروے کے مطابق دیکھیں گے کہ یہاں کی آبادی کا سماجی، سیاسی اور مذہبی ڈھانچہ کیسے وجود پاتا ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق اس قوم کاسب سے ذہین و فطین طبقہ مشکل تر ین مراحل کے امتحا نات سے گزرنے کے بعد ڈاکٹر اور

Read more

کچھ ذکر ریاست پاکستان کے موسموں کا

پہلی قسط میں سلطنت سیاست کے حدود اربعہ پر بات ہوئی تھی جبکہ آج کی قسط میں مذکورہ سلطنت کے موسموں پر بحث کیا جائے گی۔ جمہوریت کے موسم اقلیم سیاست میں کہنے کو تو جمہوریت کے بہتیرے موسم آئے مگر غیر جمہوروں کو نابالغ جمہوریت کے گن بھائے نہیں اور نہ ہی انہوں نے اسے بلوغت کا موقع دینے کا سوچا۔ یہ موسم سب سے کم دورانئے کا موسم ثابت ہوتا رہا۔ جمہوریت کی عمر کا جام ہمیشہ ہی

Read more

سیاست کا جغرافیہ

فی زمانہ سلطنت سیاست اک محیرالعقول ریاست کا روپ دھار چکی ہے۔ آئیے اس کی نوعیت، خدو خال اور لوازمات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ سلطنت سیاست اپنے وقوع کے اعتبار سے پون صدی قبل قریباً آٹھ لاکھ مربع کلومیٹر کے رقبہ پر آٹھویں برج کے چودہویں استھان پہ ظہور پذیر ہوئی۔ تاہم پچاس برس پہلے دوستوں کی بے وفائی، اپنوں کی نا اہلی اور غیروں کی مکاری کے موجب آنے والے بدترین تاریخی بھونچال سے ریاست کا پوربی حصہ

Read more

جوڑوں کے درد

فرشتوں کے لکھے پہ پکڑے جانے والے انسان کو عرش پہ بنے جوڑوں کی وساطت سے دنیا میں لانے کا اہتمام ہوا۔ پھر انسانی جسم میں تین سو ساٹھ جوڑوں کی موجودگی نے جوڑوں کی اصطلاح کو انسان سے لازم کر دیا۔ یوں انسان کے اندر کے جوڑوں اور عرش پہ بنے جوڑوں کے اپنے اپنے درد متعارف ہوئے۔ پر یہاں فقط اک دوجے کے لباس قرار دیے گئے جوڑوں کے گفتہ، شگفتہ و نا گفتہ دردوں کا تذکرہ ہے۔

Read more

گھبراہٹ کا فلسفہ

گھبراہٹ ایک جانی انجانی سی انسانی بحرانی کیفیت کا نام ہے۔ عمرانی نظریات کے تناظر میں گھبراہٹ کی اصطلاح لا فانی شہرت اور لا ثانی معانی رکھتی ہے۔ اکتاہٹ، ہچکچاہٹ، کپکپاہٹ، جھنجھلاہٹ، بوکھلاہٹ اورچڑچڑاہٹ سب گھبراہٹ کے ہم منصب وہم پلہ الفاظ ہیں۔ گھبراہٹ کی علامات میں درد کے ہمراہ سر کا چکرانا، پھیپھڑوں کا پھڑپھڑانا، دل کا بیٹھنا، ڈوبنا یا بڑھ جانا، شکم کا سکڑنا، ناک کا چڑھ جانا یا پھر کٹ جانا، آنکھ کا بھر کر جھک جانا،

Read more

عہد وبا اور ہم ( مزاح)

ا عہدرواں آفات اور وباؤں کا دور ہے۔ کرونا نے پوری دنیا کوہلا کر رکھ دیا تو کہیں ٹڈی دل اودھم مچائے ہوئے ہے۔ پھر پولٹری وائرس کی خبر بھی گرم ہے جبکہ خود انسان کی برپا کردہ آفات جیسے ایٹم، غربت، جنگیں، آبادی، نفرت اور مذہبی و سیاسی لڑائیاں پہلے ہی گل کھلا چکیں۔ قدیم مصر کی طرح یہاں بھی قسط وار آفات کا راج ہے یوں لگتا ہے کہ باقی سپیشیز کی مانند انسان بھی اپنی طبعی عمر

Read more

حضرت انسان حاضر ہو!

وکیل استغاثہ : : جناب والا، میری موئکلہ فطرت کو شکایت ہے کہ سیارہ زمین کے باسی انسان نے اسے داغدار، اپاہج اور بے حال کر دیا ہے۔ اس نے فضا مکدر کردی، پانی گندا کیا، ماحول تباہ کرکے میرے حسن کو گہنا دیا۔ ترقی کے نام پہ زہر یلے انسان نے فضا ؤں میں زہر بھر دیے کہ اوزون کی تہہ بھی مضمحل ہو چلی۔ جنگلات کاٹ کھائے۔ آبادی کے اژدھے اناج اور سونا اگلتی دھرتی ہڑپ کر رہے

Read more

زمانے کے انداز بدلے گئے

سیارہ زمین اور اس پر بسنے والے انسان یکسر بدل گئے ہیں۔ بے بسی کیا ہوتی ہے، اب اندازہ ہوچکا ہے۔ نا دِ کھنے والے کرونا سے انسان خائف ہے۔ نظر تو خدا بھی نہیں آتا مگر اس سے ڈرنے کا رواج کم ہے۔ لوگ تبدیلی لانے کے بے سود دعوے کرتے رہے مگر حقیقی تبدیلی قہرونہ ہی لے کر آیا۔ پہلے پہل یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا پر بعد ازاں جانوروں کی حاجت نہ رہی اور

Read more