پنڈ والے جاٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ اپنی بات کے پکے ہیں اس پر کھڑے رہ سکتے ہیں تو آپ بلوچ ہیں۔ اگر آپ دوسرے کی بات پر کھڑے ہو سکتے ہیں تو آپ ٹھیک پختون ہیں۔ اگر آپ بغیر بات کے ہی کھڑے ہو سکتے ہیں تو پھر آپ سردار ہی ہیں۔

یہ سب خوار ہونے کے مختلف طریقے ہیں۔ جیسے دل چاہے ہو سکتے ہیں، ہو جائیں۔ قدرت نے فیاضی سے سارے آپشن دیے ہیں۔
زیادہ نہ سوچیں کسی کو نہ بتائیں کہ آپ اصل میں ہیں کیا۔ بندے کا کوئی پتہ لگتا وہ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

پنڈ میں بھا کے ساتھ اک بار سکولے پارسل کر دیا گیا تھا، شاید یہ سوچ کر کہ گھر رہے گا تو غدر کرے گا۔ ماسٹر صاحب نے سب کو مرغا بنا کر اپنی سوٹی ٹیسٹ کی، یہی سوچ کر کہ یا غدر کر کے آئے ہوں گے یا بڑے ہو کر کریں گے۔ ساتھ پوچھا اوئے جٹو ( جاٹو) تسی کد بندے بننا۔ بھا نے کان چھوڑ کر بتایا کہ ہم جاٹ نہیں ہیں۔ وہ ساتھ والے پنڈ ہیں جاٹوں کے۔

ماسٹر صاحب نے کہا ہر کاشتکار زمیندار پہلے جاٹ ہوتا ہے بعد میں ارائیں گجر راجپوت وڑائچ چیمہ چٹھہ حتی کے شاہ یا خان تک ہوتا ہے۔ بات تو ماسٹر صاحب کی ٹھیک ہی ہے۔ اگر غلط ہوتی تو پنجابی کے ہر گانے میں صرف جٹ ہی ہیرو کیسے ہوتا، کیوں اسی کی تعریف بڑھکیں مارتی گاتی دکھائی دیتی سنائی دیتی۔

شہری جٹ ہوا آپ کا، میری طرف سے اسے او ایل ایکس پر بیچ دیں۔ اپن پینڈو ہے تو پنڈ والے جٹ کی ہی بات کرے گا۔ پینڈو جٹ کی پہلی نشانی یہ ہوتی کہ اس کی یاری پکی ہوتی۔

پکی یاری بھی ایسی جس میں کوئی سیدھا کام کرنے کو کام ہی نہیں سمجھا جاتا۔ پٹھا کام کرنا مل کے کرنا پھر ہنستے کھیلتے اس کا نتیجہ اپنے سینے پر یا تشریف پر سہنا، غم بھگانے کو بڑھک مار کر اپنا ہی ڈر بھگا لینا۔

پینڈو جٹ جب وہ کچے فرش پر بیٹھا اپنی کمر درانتی کے ساتھ کھرک رہا ہوتا۔ اس سے تب پوچھیں ویرے کی کر دا۔ وہ بتائے گا موجاں کر دا۔
اگر کہیں وہ اپنی اس چارپائی پر بیٹھا ہے، جس پر بیٹھ کر پتہ نہیں لگتا کہ آپ بیٹھے ہیں لیٹے ہیں یا آپ کو کسی نے اس کے ساتھ باندھ رکھا ہے۔ اس چار پائی پر بیٹھے جٹ سے پوچھیں ویرے کی کر دا وہ بتائے گا حکومت کردا، رب دا شکر اے بھائی اپنی زمین اے اپنی ٹوہر اے اپنی ڈانگ اے تے اپنی گل ورگی کسے دی کوئی گل نہیں۔ (حکومت کر رہا ہوں۔ خدا کا شکر ہے بھائی اپنی شان ہے اور اپنا ڈنڈا ہے اور ہماری بات جیسی بات کسی کی بات نہیں)۔

ایسے میں سامنے فرش پر بیٹھا کوئی ٹوں ٹوں کرتا بولے گا۔ او چوھدری میرے پیسے دے دے پنج سال ہو گئے۔ اسے جواب دے گا ہمارا جٹ کے او میں کون سا دوڑا جا رہا۔ کہیں نہیں جاتے تیرے پیسے۔ اک تو تمھیں جلدی بہت ہے۔

ہمارا یہی حاکم جٹ جب اپنے مال ڈنگر کے ساتھ شام کو ڈیرے سے دھول اڑاتا گھر آ رہا ہوتا۔ تب اس کو پہچاننے کا سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ ڈنگروں میں جو سب سے ڈنگر لگے وہی اپنا جٹ ہو گا۔ ایسے میں اسے ڈنگر کہہ بھی دیں تو مائنڈ نہیں کرتا۔ الٹا آپ کو بتاتا ہے کہ اوئے میں ڈنگر نہ بنوں تو تم بھوکے مر جاؤ۔ اک اک دانے کی حفاظت کرتا ہو۔ جو اگاتا ہوں سب شہر پہنچاتا ہوں۔ میری محنتوں پر جان تم بناتے ہو۔

جب یہ رس جائے جو یہ اکثر رس جاتا ہے۔ تب، چھوڑیں اس کو رس جانے دیں۔ آپ کو بتاؤں کہ یاری کس جٹ سے لگانی ہے۔ جٹ تتا (گرم مزاج ) نہ ہو تو پھر پورا جٹ نہیں ہے۔ ابھی سٹارٹ نہیں ہوا۔ تتا جٹ ہی یاری کے لیے اچھا ہوتا۔

اسے جب کوئی تڑی دیتا ہے کہ خبردار اگر کبھی میری زمین کے پاس سے بھی گزرے۔ تو یہ کہتا ہے او کدھر ہے تیری زمین۔ وہاں پہنچتے دیر لگے گی۔ ادھر ہی لگا لکیر۔ پھر دیکھ یہ لکیر کراس کرتا میں کیسے آتا ہوں۔ جو تب کرنا ہو وہ اب کر لینا۔ ماہیے گاتا راتوں کو اپنے کھیتوں کو پانی لگاتا۔ وہیں نلکے پر کہیں ننگا نہاتا۔ اپنی کھیتی پر اکیلا پھرتا۔ اپنے لگائے پودوں فصلوں کو دیکھ کر خود ہی خوش ہوتا۔

آپ نے کبھی کسی بزرگ جٹ سے درختوں پر ہوئی شاعری سنی ہے۔ کچھ رکھ مینوں ماواں ورگے، کچھ رکھ بھراواں ورگے، کجھ ہندے نے یاراں ورگے، کجھ نے میریاں سچیاں محبتاں۔

اس کا مجھے ترجمہ نہیں کرنا۔ بس آپ کو یہ بتانا ہے کہ۔ وہ جٹ جو فصل کے اک اک دانے کی حفاظت کرتا ہے۔ جو اپنے ڈنگروں کی حفاظت کے لیے مرنے مارنے پر اتر آتا ہے۔ وہی جٹ اپنی نہیں اپنے یار کی محبت میں بھی اپنا کٹا بیچ آتا ہے کہ لے ویرے پھڑ کرایہ جا جا کر مل آ۔
کبھی کبھی جٹ ہو جایا کریں۔ خان بن جایا کریں، کچھ اور ہو جایا کریں۔ کہ سب انسان ہی ہیں، جو میں بھی ہوں اور آپ بھی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 369 posts and counting.See all posts by wisi