شغلِ اعظم کی شاندار نمائش جاری ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسے مملکتِ خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے چلنے والے تھیٹر کے تماشبینوں اور شائقین کی بدقسمتی کہئے یا ڈائریکٹرز، پروڈیوسرز اور ایکٹرز کی نالائقی کہ اس کے سیاسی سنیما کے سکرین پر روزِ اول سے ہی جو فلم چلائی چلائی جارہی ہے، اس کی سکرپٹ ستر سال بعد اور ملک میں تبدیلی آنے کے بعد بھی تبدیل نہیں ہوئی۔ جو کام، طریقہ، ہتھکنڈے اور سکرپٹ پچھلی حکومتیں اور ادارے مل کر سیاسی پارٹیوں، قائدین اور اپنے ناقدین پر آزمایا کرتے تھے، وہی موجودہ ہدایتکار اور اداکار اپنے سیاسی مخالفین پر بھی آزما رہے ہیں۔

اکیسویں صدی کے دو عشرے گزرنے کے باوجود ہماری سیاست کی فلم انڈسٹری ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کے فلموں کی نقل کرتے نظر آرہی ہے۔ بدقسمتی سے سیاست کے شوبز سے تعلق رکھنے والے بہت سارے اداکار اس میں مختلف کردار ادا کرتے ہوئے اور اپنا حصہ بقدر جثہ بٹورتے نظر آتے ہیں، لیکن جب بھی ڈائریکٹرز کسی کا ایک اداکار کا رول کسی دوسرے اداکار کو دینے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر رول ہاتھ سے جانے والے اداکار چیختے چلاتے نظر آتے ہیں اور فلم انڈسٹری کو لاحق خطرات سے اپنے شائقین اور تماشبینوں کو متنبہ کرتے ہیں۔

اس فلم کی البتہ سب سے بڑی ٹریجڈی یہ ہے کہ اس میں ہمیشہ سے ہدایتکار فلم کے ہیرو اور لیڈ رول کے حامل اداکار کو ٹائی ٹانک اور دیوداس کے ہیروز کی طرح یا تو مروا دیتے ہیں یا پھر انہیں ملازمت سے فارغ کرکے کسی اور کردار کو ان کی جگہ ری پلیس کردیا جاتا ہے۔ آپ پاکستان میں جاری اس سیاسی فلم کے ہدایتکاروں کی نالائقی یا اور رائیٹرز کی سکرپٹ پر تھوڑا سا غور کرلیں تو کہ پاکستان بننے سے لے کر آج تک اور ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم سے لے کر آخری وزیراعظم تک کو یا تو قتل کردیا گیا، یا کرپشن کے الزامات لگاکر انہیں پوری ٹیم کے ساتھ گھر بھیج دیا گیا اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔

البتہ اس فلم میں ہیرو جب بھی قتل ہوتا ہے، یا کرپٹ قرار دے کر اس کا کردار ہی چھین لیا جانا مقصود ہوتا ہے تو اس کے لئے ہمیشہ سے پارلیمان نامی تھیئٹر سے ہی اداکاروں کو کرائے پر لیا جاتا ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ عورت کی سب سے بڑی دشمن عورت ہوتی ہے۔ شاید اس زمانے میں جب یہ محاورہ تخلیق ہورہا تھا سیاست تخلیق نہی ہوئی تھی یا پھر پاکستان نہیں بنا تھا۔ پاکستان میں عورت کاسب سے بڑا دشمن عورت ہو نہ ہو، لیکن سیاستدان کا سیاستدان سے بڑا دشمن کوئی نہیں۔

اسے آپ اقتدار کی ہوس کہیے، یا پھر اقتدار تک رسائی کے لئے شارٹ کٹس استعمال کرنے ہوئے ٹریفک کے تمام قوانین اور تمام اخلاقی اصولوں کو بالائے طاق رکھنے اور سگنلز توڑتے ہوئے پہ اوورٹیک می خفا نہ شی ناوختہ کیگی د جانان دیدن لہ ذمہ والا ایٹی ٹیوڈ، کہ آپ کو لوگ اوورٹیک کرتے ہارن بجاتے، ایک دوسری کی گاڑیوں کو قصدا یا کسی کے کہنے پر ٹکر مارتے، دوسروں کو زخمی کرتے اور قتل کرتے اور کچھ عرصے بعد خود اس حادثے کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں، لیکن ٹریفک پولیس اور ٹریفک کنٹرول کرنے والے ہدایتکار اس سارے معاملے میں ایکسیڈنٹ کی سکرپٹ لکھتے، نقشے بناتے اور ٹریفک اس انداز مین کنٹرول کرتے نظر آتے ہیں کہ غلطی گاڑی چلانے والے ڈرائیوروں کی لگے اور لوگ سڑک اور ٹریفک کے نظام یا قوانین پر اعتراض ہی نہ کرسکے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پچھلے ستر سال سے جو فلم چلائی جارہی ہے اس کی تھیم ہمیشہ سے تین موضوعات یعنی کرپشن، مذہب اور حب الوطنی کے اردگرد گھومتی نظرآتی ہے البتہ سٹوری کبھی سسپنس کی شکل اختیار کرلیتی ہے، کبھی ہاررر کے جنرا کے مطابق ریکارڈ کی جاتی ہے تو کبھی ایکشن کا تڑکا لگایا جاتا ہے۔ آج کل فل کامیڈی چل رہی ہے۔ فلم کا نام شغلِ اعظم ہے جو سلطنتِ شغلیہ کے تاریخی پس منظر میں بنائی گئی ہے اور مسلمانوں خاص کر پاکستان کے مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ، بے کار حال، اور تابناک مستقبل کے بارے میں ترتیب دی گئی ہے۔ اس فلم کے ڈائریکٹرز اور پروڈویوسرز جانتے ہیں کہ یہی سکرپٹ سب سے بہترین ہے لیکن اداکاروں کی تبدیلی اس لئے ضروری ہے تاکہ بیس کروڑ تماشبنوں کی دلچسپی بھی برقراررہے اور شغل بھی لگا رہے۔ آج کل سکرین پر جو فلم چل رہی ہے اس کا نام شغلِ اعظم ہے۔

پاکستان کے سیاسی سنیما اور ماضی کے فلموں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ فلم میں کرپشن کی تھیم اور سکرپٹ کولے کر پاکستان پیپلز پارٹی کی کئی حکومتوں کو گرایا گیا، جس کے لئے پنجاب سے دو بھائیوں کی شکل میں بہترین اداکار لئے گئے، جنہوں نے بہترین ادکاری کے ذریعے لیڈ رول حاصل کیا۔ لیکن کچھ عرصے بعد ان کامیاب اداکاروں کی ڈائیرکیشن اور پروڈکشن میں دلچسپی پیدا ہوئی تو ہدایتکاروں نے ان کے ارادے بھانپتے ہوئے نئے اور پرانے اداکاروں کو جمع کرکے ان سے لیڈ رول بھی واپس لے لیا گیا اور انہیں ولن بناکر جیل میں ڈال دیا گیا۔ جیل میں ڈالنے کے لئے کرپشن کی سکرپٹ کا استعمال کیا گیا لیکن فلم میں بوریت کا عنصر پایا گیا کیونکہ کرپشن کے الزام میں گرفتار ہونے اور اپنے رول سے ہاتھ دھونے والے اداکاروں کا تجربہ بھی معمولی نہیں تھا۔

نیا لیڈ رول یعنی ہیرو کا کردارجس اداکار کو دیا گیا وہ ہینڈسم بھی تھا۔ ڈائیلاگ کہنے میں مہارت بھی رکھتا تھا اس کی فینڈم بھی کافی تھی، فلم سے پہلے بھی ٹی وی پر لوگ انہیں دیکھ چکے تھے، اس لئے انتخاب میں کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئی، لیکن انتخاب کے بعد لوگوں نے اس کے کردار میں دلچسپی لینا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ وہ جس فلم میں ہیرو کا کردار اور اداکاری کے جوہر دکھانے آیا تھا دراصل وہ فلم نہیں بلکہ ایک پتلی تماشا تھا اور اس کا کردار ایک کٹھ پتلی کا تھا اور اسے جن لوگوں نے منتخب کیا تھا وہ تماشبین، شائقین، اور فینز نہیں بلکہ ڈائیریکٹرز ہی تھے اور جب فینز پر یہ راز کھلا تو اس نے فلم میں لفظ منتخب یعنی سیلیکٹڈ پر پابندی لگادی، جس کا نقصان یہ ہوا کہ پابندی لگنے کے بعد شائقین نے فلم اور ہیرو کو چھوڑ کر ہدایتکاروں اور ان کے انتخاب پر سوالات اٹھانا شروع کیا۔

پاکستانی سیاست کی فلم اندسٹری پر نظر رکھنے والے ماہرین جانتے ہیں کہ اس انڈسٹری کے ہدایتکاروں نے وقتا فوقتا فلم بنانے، اداکاروں کے چننے، انہیں مختلف کردار نبھانے، اداکاروں کو ریپلیس کرنے، ان کی جگہ نئے اداکار لانچ کرنے، فلم کی ایڈورٹائزنگ کرنے، اپنی غلطیوں کو سینسر کرنے اور سکرپٹ لکھنے، ریکارڈ کرنے، اداکاروں کو منتخب کرنے سمیت فلم انڈسٹری پر اپنی ہیجمنی برقرار کھنے کے لئے ہمیشہ سے کرپشن، مذہب اور حب الوطنی کے کارڈز استعمال کیے ہیں۔

بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیاسی جماعتوں اور قوم پرست جماعتوں کو ہمیشہ مذہب کے استعمال سے ہی فلم سے باہر رکھنے کی کوشش کی گئی اور ہر بار اس فلم کو اسلامی فلم قرار دے کر انہیں اس سے باہر رکھا گیا اور جہاں پھر بھی ناکامی ہوئی تو غداری کے آخری کارڈکا استعمال کرکے انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فلم سے باہر کردیا گیا۔ وہ اپنے رول کے لئے چیختے چلاتے رہے لیکن انہیں ہر قسم کی وضاحتیں دینے اور قومی ترانے کا ورد کرنے کے بعد بھی رول نہیں ملا۔

اسی طرح دائیں بازو کے اکثرسیاسی اداکاروں کے خلاف بھی کرپشن اور غداری کے کارڈز کا استعمال کیا گیا، جس کی زد میں فاطمہ جناح سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو تک، اور شیخ مجیب الرحمان سے لے کر باچا خان سے ولی خان کے نابغہ روزگار آکر تاریخ میں غدار قرار پائے جو ہوتے ہوتے بے نظیر بھٹو سے نواز شریف تک کو اپنے ساتھ بہالے گئے اور موجودہ دور میں نوجوان قیادت اورپشتون قوم پرست تحریک کے خلاف اس کا رڈ کا بے دریغ استعمال ہورہا ہے۔

اس فلم کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ہدایتکاروں کے ہاتھوں ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہونے، ذلیل ہونے اور صعوبتیں برداشت کرنے کے باوجود بہت سارے اداکار پھر بھی کوئی نہ کوئی رول ملنے کی لالچ میں ہدایتکاروں کی چاپلوسی کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ پنجاب کے چھوٹے میاں بڑے میاں فلم کے چھوٹے میاں کو ہی دیکھ لیجیے کہ جوآخر تک پرامید رہا کہ کبھی تو اس پر ہدایتکاروں کی نظرِ کرم ہوجائے گی اور شاید انہیں پرانا والا کردار واپس مل جائے گا۔

دوسری طرف سیاست کے شطرنج کا ماہر سمجھا جانے والا کھلاڑی بھی آخر تک کبھی بلوچستان میں حکومتیں گراکر تو کبھی چئرمین سینٹ کو تبدیل کرکے اپنا محدود کردار مانگتا رہا، لیکن ہدایتکاروں کو اس کی سکرپٹ میں ترمیم کرنے کی وہ کوشش ابھی بھی یاد ہے، اس لئے باجود بہت ساری کوششوں کے ہیرو کی جگہ ولن بن کر جیل دیا گیا اور اب اس سے پرانے معاوضے کی واپسی کے لئے بھی شدید دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ تیسری جانب اس فلم میں مخالفین کے خلاف مذہب کا کارڈ استعمال کرنے والے اداکار مولو ی نے وہی کارڈ ہدایتکاروں کے منتخب اداکار کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ ہدایتکار جتنا بھی بے کار ہو جائیں، اداکاروں سے بڑے ہوتے ہیں اس لئے ناکامی ہوئی۔

پاکستان میں شغلِ اعظم کی نمائش زور و شور سے جاری ہے۔ شائقین سمیت فلم کے ہدایتکار، اداکار اور ماضی کے اداکاروں سمیت سب تھوڑے بہت پریشان لگ رہے ہیں لیکن ہینڈسم ہیرو اب بھی پرامید ہے اورفلم میں تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد اپنے مشہور ڈائیلاگ دہر ا رہا ہے کہ گھبرانا نہیں ہے۔ ماضی کے اداکار اپنی غلطیاں ٹھیک کرنے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ کس طرح سے وہ اپنی غلطیاں ٹھیک کریں، فلم کے ہدایتکار یہ جانتے ہوئے بھی کہ فلم اس مرتبہ فلاپ ہوسکتی ہے، شائقین سے کہہ رہے ہیں کہ پکچر تو ابھی باقی ہے اور فلم پوری دیکھیں، لیکن شائقین پوری فلم دیکھنے کے موڈ میں نظر نہیں آرہے اور ابھی سے سیٹیاں بجانا شروع کردیا ہے، جبکہ شغلِ اعظم کے سارے اداکار شائقین سمیت ہدایتکاروں کو باور کرا رہے ہیں کہ فلم ختم ہونے تک سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا اور شائقین کو ان کا کوئی نہ کوئی کردار پسند آجائے گا لیکن ایسے معلوم ہوتا ہے کہ فلم جس انداز میں بنائی گئی ہے اس کی سکرپٹ اور اداکاروں کے انتخاب میں میں شائقین اور ماضی کے اداکاروں کے لئے کچھ نہیں، اس لئے جلدی یا بدیر اداکاروں اور ہدایتکاروں کو بھی یقین ہوجائے گا کہ ان سے سکرپٹ اور اداکاروں کے چناؤ میں بہت بڑی غلطیاں ہوئیں ہیں۔

جب تک انہیں یہ احساس نہیں ہوتا تب تک شائقین سے درخواست ہے کہ پاپ کارن اور کوک لے فلم دیکھیں۔ انتہائی بوریت کے باوجود بھی اس کا ہیرو ہینڈسم ہے، اس میں شہریار افریدی، فیصل واوڈا، بزدار، محمود خان، اسد قیصر و دیگر نے کمال کی ادکاری کی ہے، جبکہ فواد چودھری اور فردوس آنٹی سمیت اربوں ڈالر منہ پر مارنے اور پانچ ہزار لوگوں کو ٹپکانے کے مزاحیہ کردار وں کو خاص طور پر بوریت پر قابو پانے کے لئے شامل کیا گیا ہے۔

اگرچہ کہانی وہی ہے، فلم وہی ہے، سکرپٹ وہی ہے، ہدایتکاروہی ہیں، لیکن اس بار جن اداکاروں کو چنا گیا ہے وہ سکرپٹ کے مطابق تو بہت بورنگ کردا ر ہیں لیکن ان کی اداکاری کمال کی ہے۔ شغلِ اعظم کی شاندار نمائش جاری ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ اگر حکومتِ پاکستان اس فلم کو آسکر کے لئے نامزد کردیں تو حقیقی فلم دیکھ کر یہ ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کو مات دے سکتی ہے اور یوں ہم امریکہ اور ہندوستان سے بھی اپنا پرانا حساب چکتا کرسکتے ہیں۔ شغل آن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ضیا اللہ ہمدرد کی دیگر تحریریں
ضیا اللہ ہمدرد کی دیگر تحریریں