باپ کی خون آلود قمیض سے چپکے بچے


\"abdul-hai-kakar\"

چار بھائی ہیں، دو قتل ہوئے، تیسرا قاتلانہ حملے میں زخمی ہوکر لب گور پڑا ہے اور چوتھا تین بھائیوں کا درد سینے میں لے کر زندہ ہے۔
پہلی بری خبر 19 اکتوبر 2014 کو گھر پہنچی جب مسلح افراد نے کوئٹہ میں فائرنگ کرکے اے ایس آئی حیات اللہ کو زخمی کردیا۔
ان کے سر میں گولی لگی، دم تو نہیں توڑا لیکن بدن مفلوج ہوگیا ہے۔
علاج معالجہ ہوا مگر کوئی افاقہ نہیں، اس وقت بھی گھر میں پڑا سانسیں گن رہا ہے۔
ایک ہاتھ اور پیر کو ہلکی سی جنبش دے سکتا ہے۔
علاج کے جو پیسے حکومت کو دینے ہیں وہ احسان اللہ کی طرح حکومتی فائلوں میں سانسیں لے رہے ہیں۔
اس واقعہ کا ایک سال بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ 13 جولائی 2015 کو خبر آئی کہ ان کے ایک اور بھائی پولیس اہلکار حفیظ اللہ کو افطار سے کچھ دیر قبل سیٹلائٹ ٹاون کوئٹہ میں مسلح افراد نے قتل کردیا۔
جتنی دقتیں تھیں، جتنا دکھ درد تھا اس کا سارا بوجھ بڑے بھائی عطاءاللہ خان ایڈوکیٹ نے اپنےکندھوں پر اٹھایا۔
لیکن پھر آٹھ اگست کا دن آیا، کوئٹہ کے وکلا پر حملہ ہوا جس نے گھر والوں کے سر سے یہ سایہ بھی چھین لیا۔
وہ میرے کلاس فیلو تھے۔ پچھلے سال دسمبر میں بلوچستان ہائی کورٹ کے احاطے میں ملاقات ہوئی تھی۔
ہم دونوں دس سال بعد ملے تھے، میں ان کے لئے اور میرے لئے وہ بدل چکے تھے صرف ایک چیز جو نہیں بدلی تھی ، وہ تھی عطاءاللہ کی بات کرنے سے پہلے مسکرانے کی عادت۔

\"ata-ullah-1\"یہ عادت ان کے چھوٹے بھائی بسم اللہ خان کو بھی اتنی پسند تھی کہ پوچھنے پر بتایا ان کے مسکراہٹ کی یاد آرہی ہے۔
ان کو اس بات کا بھی دکھ ہے کہ مرنے سے ایک دن قبل وہ دونوں ایک ہمسائی کی تدفین کے لئے قبرستان گئے تھے تو مرحومہ کو ان کے بھائی حفیظ اللہ امین کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
عطاءاللہ نے چھوٹے بھائی سے کہا \” مرنے والوں کو نہیں بھولنا چاہیئے۔\”
اور تقریباً چوبیس گھنٹے بعد ان کی قبر اسی جگہ کھودی گئی جہاں انہوں نے یہ الفاظ ادا کیے تھے۔
ان کے آٹھ بچے ہیں۔ چھوٹی بچی عمر کے اس حصے میں ہے جہاں شعوری طور پر زندگی اور موت کے درمیاں فرق کا ادراک ناپید ہوتا ہے۔
پرسوں رات اس نے پوچھا! بھائی جان کہاں گئے؟
بہن نے کہا، جنت۔
بچی نے یک دم کہا، چلیں ہم بھی ان سے ملنے جنت چلتے ہیں۔
مگر عطاءاللہ کے بڑے بچوں کو موت کی گہری سمجھ ہے۔

وکالت کی جس وردی میں عطاءاللہ کی موت ہوئی تھی، وہ خون آلود اور جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی تھی۔
امام مسجد نے قمیض چھوٹے بھائی کے حوالے کردی جس سے عطاءاللہ کے بچوں نے چھین لی اور سینے سے لگا کے رکھی ہے۔
ماں کی حالت دگرگوں ہے۔

\"عطا

ماں زندہ ہو اور دو بیٹے مر جائیں جبکہ ایک بستر مرگ پر پڑا سسک رہا ہو۔ اس کیفیت کو ایک ماں ہی سمجھ سکتی ہے۔
ان کو دورے پڑرہے ہیں اور ڈاکٹر مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔
گھر کے باہر کی دنیا سے ان کا اعتبار اس حد تک اٹھ چکا ہے کہ گھر کے کسی فرد کو باہر جانے کی اجازت ہی نہیں دے رہی ہے۔
مفلوج بھائی حیات اللہ کو جب عطاءاللہ کی موت کی خبر دی گئی تو ان پر بھی دورہ آیا۔
کبھی کبھار ایک ہاتھ کو ہلکی سی جنبش دے کر پوچھتا ہے کہ بھائی کو کس نے قتل کیا ہے؟
اس سوال کا جواب منہ میں زبان رکھنے والوں کے پاس بھی اگر ہے تو دے نہیں سکتے اور جس کسی نے یہ سوال اٹھایا بھی تھا تو وہ خود ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔
بس مرتے رہو مگر پوچھو مت کہ کیوں؟

( یہ تحریر پہلے مشال ریڈیو کی ویب سائٹ پر پشتو زبان میں شائع ہوئی تھی)

Facebook Comments HS

عبدالحئی کاکڑ

عبدالحئی کاکڑ صحافی ہیں اور مشال ریڈیو کے ساتھ وابستہ ہیں

abdul-hai-kakar has 42 posts and counting.See all posts by abdul-hai-kakar