ماسٹر محمد حسین ولد غلام رسول

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بڑے دنوں کی بات ہے۔ لاہور کے مضافات پتوکی کے گاؤں میں ماسٹر محمد حسین ہوا کرتے تھے۔ مسلم لیگی کارکن ماسٹر محمد حسین ولد غلام رسول۔ نیک دل، سادہ طبیعت حق بات کہنے والے اور حق بات پہ ڈٹ جانے والے۔ جنرل مشرف صاحب نئے نئے صاحب اقتدار و اختیار ہوئے تھے۔ سوائے ان کے کسی کا بس نہ چلتا تھا۔ کل کے شاہ، آج گدا قصہ پارینہ ہوئے جاتے تھے۔ میاں صاحباں اور ان کے چند جانثار ساتھی پس زنداں تھے۔

ایسے میں مرحومہ کلثوم نواز جان ہتھیلی پہ رکھ کر نکلیں۔ چاہے لوگ اسے شوہر بچانے کی تحریک کہیں لیکن اس وقت وہ مزاحمت کی علامت تھیں۔ محترمہ کلثوم نواز نے ہر ایک کو پکارا جغادری سیاستدان، نامور لیڈر، ڈرنے والے نہ جھکنے والے، نڈر بے خوف، غرض ہر طرح کے سورماؤں نے سنی ان سنی کردی۔ بیشتر اندر کھاتے جنرل صاحب سے معاملات طے کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ میاں تیرا اک اشارہ حاضر ہے لہو ہمارا۔ میاں دے نعرے، میاں دے نعرے۔ جیوے جیوے۔ قدم بڑھاؤ نواز شریف۔ سبھی نعرے لگانے والوں نے اپنی اپنی راہ لی۔ چُوری کھانے والے مجنوں ٹھہرے۔ میاں صاحب کی سیاست کی کشتی اور سانسیں ڈوب رہی تھیں طوفان میں کوئی آیا نہ بچانے کو۔ ساحل پہ نظر آئے کتنے ہی تماشائی۔

محترمہ کلثوم نواز نے لاہور مال روڈ سے داتا دربار تک جلوس نکالے کا فیصلہ کیا۔ سب مخلص کارکنوں کو بلاوا آیا۔ اک نامہ ماسٹر محمد حسین ولد غلام رسول کے نام بھی آیا۔ چلو چلو مال روڈ چلو۔ بھٹی میں ایندھن کی ضرورت تھی۔

موسم آیا تو نخل دار میں میرؔ
سر منصور ہی کا بار آیا

ماسٹر صاحب نے حسب توقع رخت سفر باندھا اور مال روڈ کو چل دیے۔
قاضی ملّا متی دیندے
کھرے سیانے راہ دایندے
عشق کی لگے راہ دے نال

ماسٹر صاحب نے ساری عمر حق بات کہی تھی۔ حق بات پہ ڈٹ جانے کا سبق دیا۔ حق بات پہ ڈٹ جانے کا سبق لیا تھا نتیجہ معلوم۔ سر میں ایسا سودا سمایا اہل وعیال کا خیال بھی پاؤں کی زنجیر نہ بن سکا۔

جلوس بمشکل چیئرنگ کراس سے ریگل چوک پہنچا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری بھی فسادیوں سے نمٹنے کے لیے موجود تھی۔ ہونی ہو کے رہی۔ پولیس کا ڈنڈا لہرایا سبھی تتربتتر ہونے لگے۔ محترمہ کلثوم نواز گھر کو چل دیں اور ماسٹر محمد حسین اور ان جیسے دیوانے حوالات کی نذر ہوئے۔ حوالات میں سارے ماسٹر محمد حسین نہیں ہوا کرتے۔ حوالات میں ماسٹر جی کے ساتھ کن ٹٹے، چور، ڈاکو اور قبضہ گیر بھی بند تھے جن کی آپس میں تو تکار ہوئی ماسٹر جی بیچ بچاؤ کرانے لگے تو بات دست و گریبان تک پہنچ گئی۔

کس کا دست، کس کا دامن، کس کا گریباں کچھ خبر نہیں۔ مگر ماسٹر جی تار تار دامن لیے زخموں سے چور اک کونے میں پڑے تھے۔ اک آدمی راہی ملک عدم ہوا۔ تھانیدار کی تفتیش نے آسان ہدف ماسٹر صاحب کو قاتل قرار دیا۔ ساتھ میں کئی پرچوں میں مطلوب قرار دے کر اپنی ترقی کی راہ سیدھی کرلیں۔ باقی سب مال دے دلا کر نکل لیے۔ ماسٹر جی کی پاس سوائے خدا کا واسطہ دینے کو اور کچھ نہ تھا۔

میاں نواز شریف دس سالہ معاہدہ کرکے سرور پیلس کے ہو لیے۔ لاؤ لشکر میں خادم، خادمائیں، خانسامے، مالشیئے، مشقتی، اور ڈھیروں صندوق بھی ساتھ۔ میاں صاحب کو کسی کارکن کی یاد آئی نہ ہی معاہدے کی کسی شق میں یہ بات شامل تھی۔ ویسے بھی شاہوں کے ہاں پیادوں کی ذات اوقات ہی گیا۔ جان بچی سو لاکھوں پائے۔ اللہ اللہ خیر سلّا۔

ماسٹر جی کورٹ کچہریوں میں خاک چھاننے لگے۔ غرور عشق کا بانکپن جاتا رہا۔ ماسٹر محمد حسین کی ماں ہسپتال میں بستر مرگ پہ تھی مگرقانون میں اک استاد کے لیے نہ کوئی نرمی ہے اور نہ ہی پروٹیکشن آرڈر۔ ماسٹر جی کوئی اسمبلی ممبر تو تھے نہیں نہ ہی کروڑوں اربوں خرد برد کرنے والے جن کے لیے جیل تار عنکبوت سے زیادہ کچھ نہیں۔ ماں جی بھی رزق خاک ہوئیں۔ اور شریک حیات نے بھی ابدی حیات کی طرف سفر کیا۔ ماسٹر جی کی بیٹیوں کے ساتھ کیا ہوا راوی مصلحتاً اور مجبوراً خاموش ہے۔

میاں صاحب بارہا مسند نشین ہوئے زرداری صاحب نے بھی اس کوچے کی یاترا کی دونوں جیل بھی دیکھ چکے۔ کئی وزیر مشیر سیاستدان بھی بڑے گھر کے مہمان رہے۔ ہر چند جیل کا نام سنتے ہی بیمار ہوکر مہنگے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ اسی لیے کبھی کسی کو خیال نہیں آیا قیدی بھی انسان ہوتے ہیں۔ ان کو بھی علاج کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ ماسٹر صاحب ناقص علاج معالجے صحت کے پیچیدہ مسائل اور کینسر سے لڑتے لڑتے زیر ہوئے۔ قانون کی کتاب میں عام قیدی کے لیے صحت کی بنیاد پر رہائی کا پروانہ نہیں یہ سہولت کسی اور کے لیے ہے۔ میاں صاحب چھ ہفتے علاج کے لیے آزاد رہے۔ دوبارہ علاج کے لیے ریلیف نہ ملا تو مریم نواز نے ٹویٹ میں عوام سے سوال کیا اب ہمیں کیا کرنا چاہیے۔
ساہیوال سنٹرل جیل کی کسی گمنام قبر میں ماسٹر محمد حسین ولد غلام رسول قید سے آزاد ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •