فسطائیت کی چودہ نشانیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی کانگریس کی ڈیموکریٹ رکن الیگزینڈریا اوکاسئیو کارتیز نے حال ہی میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے میکسیکو کی سرحد پر غیرقانونی تارکینِ وطن کو قید رکھنے کے لیے بنائے گئے حراستی مراکز کو کنسنٹریشن کیمپ قرار دیا تو اس کے ردِعمل میں واشنگٹن میں قائم ہالوکاسٹ میموریل میوزیم کی سربراہ سارہ بلوم فیلڈ نے خفا ہو کر کہا ہے کہ کنسنٹریشن کیمپ کی اصطلاح تیس اور چالیس کے عشرے کے ان نازی جرمن کیمپوں سے جڑی ہوئی ہے جو ساٹھ لاکھ یہودیوں کی قتل گاہ تھے۔ ان کیمپوں سے تارکینِ وطن کے حراستی مراکز کا موازنہ زیادتی ہے۔

سارہ بلوم فیلڈ کے اس بیان کی ہالو کاسٹ اور نسل کشی سے متعلق دنیا بھر کے ڈھائی سو محققین اور اساتذہ نے ایک اجتماعی خط میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غیر علم دوست بیان ہالوکاسٹ میوزیم کی انتظامیہ کو زیب نہیں دیتا۔ اتنا جامد موقف اختیار کرنے کے نتیجے میں دنیا بھر میں ماضی اور حال میں ہونے والے نسل کشی کے واقعات پر علمی و غیرجانبدارانہ انداز میں تحقیق مشکل اور ناقص ہوتی چلی جائے گی۔

خط میں حیرت ظاہر کی گئی ہے کہ جس ہالوکاسٹ میوزیم کی لابی میں فسطائیت سے خبردار کرنے کے بارے میں پوسٹر لگا ہوا ہے۔ اس میوزیم کی جانب سے اتنا بے لچک موقف سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس پوسٹر میں معروف سیاسی محقق ڈاکٹر لارنس برٹ کے ایک مقالے سے فاشزم کی چودہ نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔

ایک) جنونی قوم پرستی کا مسلسل پھیلاؤ اور ریاستی سرپرستی

دو ) انسانی حقوق کی گفتگو سے بیزاری

تین) اکثریتی گروہ کو متحد کرنے کے لیے مخصوص دشمنوں کی نشاندہی اور اس کے پردے میں اقلیتوں کو ہدف بنانے کی پالیسی

چار ) عسکریت کی بالا دستی اور اس کی شان و شوکت بڑھا چڑھا کے پیش کرنا۔

پانچ ) مردانگی کا مسلسل پرچار اور دیگر جنس کو کمتر سمجھنے کے رجحان کی حوصلہ افزائی۔

چھ ) ذرایع ابلاغ پر مکمل کنٹرول

سات) قومی سلامتی کے نام پر مسلسل ڈر پھیلاتے رہنا ( یعنی ہم تمہارا تحفظ نہیں کریں گے تو کالا بھوت آ جائے گا)۔

آٹھ) مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے مذہب کا سرکاری سطح پر استعمال۔

نو) سرمایہ دار کا تحفظ

دس) مزدور قوت کو کچلنا

گیارہ) فنون اور عقلیت پسندی سے نفرت و بیزاری

بارہ) جزا اور سزا پر زور اور سزائیں دینے کا جنون

تیرہ) اقربا پروری اور بدعنوانی

چودہ) انتخابی جعلسازی

گویا یہ وہ آئینہ ہے جس میں دیکھ کر کوئی بھی جانچ سکتا ہے کہ جس ریاست یا معاشرے میں وہ رہ رہا ہے اس میں فسطائیت کے کتنے جراثیم ہیں اور اس سے پہلے کہ یہ جراثیم جسم کو مکمل لپیٹ میں لے لیں ان سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔

جنوری دو ہزار سترہ میں ’’ واشنگٹن منتھلی ’’نامی ویب سائٹ پر مارٹن لانگ مین کا ایک مضمون خاصا وائرل ہوا۔ اس مضمون میں لانگ مین نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کے امریکا میں فاشزم کی چودہ میں سے بارہ ابتدائی علامات موجود ہیں اور اگر ان پر دھیان نہ دیا گیا تو مرض بے قابو ہوتا چلا جائے گا۔

دو ہفتے پہلے نئی بھارتی لوک سبھا میں ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر پہلی بار منتخب ہونے والی رکنِ اسمبلی ماہووا موئترا کی پہلی تقریر نے ایوان سے لے کر ذرایع ابلاغ تک بجلی دوڑا دی۔ انھوں نے گنواتے ہوئے کہا کہ بھارت میں اس وقت فاشزم کی چودہ میں سے سات نشانیاں ( ایک، دو، چھ، سات، آٹھ، گیارہ، چودہ) پوری طرح نظر آ رہی ہیں۔

ماہووا کی اس تقریر نے انتخابات کے بعد جامد اور بور بھارت میں تازہ بحث چھیڑ دی۔ لبرل میڈیا نے اس تقریر کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور بی جے پی کے حامی میڈیا نے ماہووا پر الزام لگایا کہ یہ ان کے اپنے خیالات نہیں بلکہ مارٹن لانگ مین کے مضمون سے چرائے گئے ہیں۔ چنانچہ مارٹن کو ٹویٹ کرنا پڑا کہ ’’ ان دنوں میں انٹرنیٹ پر بھارت میں بہت مشہور ہو گیا ہوں۔ کیونکہ ایک سیاستدان پر میرے مضمون سے سرقے کا الزام لگا ہے۔ یہ ایک بہت ہی بچگانہ الزام ہے۔ لگتا ہے دائیں بازو کے احمق بھلے کسی بھی ملک میں ہوں سوچتے ایک ہی طرح سے ہیں ‘‘۔

فاشزم کی نشانیاں صرف امریکا اور بھارت کی حد تک نہیں ہیں۔ یورپ میں ہنگری، آسٹریا، اٹلی اور ہالینڈ میں انتہائی دائیں بازو کا زور، اسرائیل، فلپینز اور برازیل میں انتہائی دائیں بازو کے رہنماؤں کا اقتدار میں رہنا یا آنا۔ برطانیہ میں بریگزٹ کی مہم کا انتہائی دائیں بازو کے ہاتھ میں ہونا اور بریگزٹ کے سرخیل بورس جانسن کے اگلا برطانوی وزیرِ اعظم بننے کے قوی امکانات، گلوبلائزیشن اور اقتصادی لبرلائزئشن کے بعد سرمایہ دار دنیا کا دوبارہ اقتصادی دیواروں کے پیچھے پناہ لینا، تارکینِ وطن اور پناہ کے لیے سرگرداں مصیبت زدگان سے بیزاری اور انھیں روکنے کے لیے قوانین میں سختی۔

اس پس منظر میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جاپان میں جی ٹوئنٹی اجلاس سے پہلے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو انٹرویو میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے ان پر بھی کان دھرنے کی ضرورت ہے۔

فرماتے ہیں ’’ لبرل نظریہ اپنی عمر پوری کر چکا ۔ لوگ اب تارکینِ وطن، کھلی سرحد اور کثیرالثقافت معاشرے کے مخالف ہو رہے ہیں۔ اینجلا مرکل نے دس لاکھ سے زائد پناہ گزینوں کے لیے اپنی سرحدیں کھول کے فاش غلطی کی ہے۔ جب کہ ٹرمپ میکسیکو کی طرف سے منشیات اور پناہ گزینوں کی آمد روکنے کے لیے قابلِ تعریف اقدامات کر رہے ہیں۔ مگر لبرل کہتے ہیں کہ چونکہ پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کے بھی حقوق ہیں لہذا وہ بے فکری سے قتل، ریپ اور لوٹ مار کر سکتے ہیں۔ ہر جرم کی سزا ہے۔ اکثریت یہی سمجھتی ہے۔ لہذا لبرل نظریہ اکثریتی مفادات سے متصادم ہونے کے سبب بے اثر ہو چکا ہے ‘‘۔

کے جی بی کا ایک سابق افسر جو شخصیت پرستی، جی حضوریوں کو وسائل پر تصرف اور مشرقی یوکرین اور کرائمیا پر قبضے اور شام میں بھرپور فوجی مداخلت کے نتیجے میں پانچ ملین شہریوں کو تارکینِ وطن بنانے کا سبب بن چکا ہو اور اپنی ریاست میں ہر اختلافی آواز کو کچل کے رکھا ہو اور بیرونِ ملک مقیم مختلف رائے رکھنے اور آواز بلند کرنے والے صحافیوں اور سوچنے والوں کا قلع قمع جائز سمجھتا ہو۔ اس کے نزدیک اگر لبرل ازم کی یہی تشریح ہے تو کچھ غلط نہیں۔ وہ اگر بظاہر بعد المشرقین ہونے کے باوجود اینجلا مرکل کو غلط اور ٹرمپ کو درست کہتا ہے تو کیسی حیرت؟

اقلیت کے جینے کے حق کی پامالی کی قیمت پر اکثریتی، نسلی، مذہبی یا علاقائی گروہ میں اپنی مقبولیت برقرار رکھنے کے لیے ہر ہتھکنڈا استعمال کرنا ہی اگر پاپولر ازم ہے تو پھر فاشزم کیا ہے اور جمہوریت کیا ہے؟ شائد پوتن بھی بھول چکے ہیں کہ دو کروڑ روسی فوجی اور شہری ہٹلر کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے کیوں مرے تھے۔ پوتن کی باتیں سن کر لگتا ہے کہ یہ شہری شائد روس کو فاشزم سے بچانے کے لیے قتل نہیں ہوئے بلکہ قتل کیے گئے۔ آج اگر ہٹلر ہوتا تو اسے ٹینکوں کی ضرورت نہیں تھی۔ سوشل میڈیا کی ٹرول سپاہ کافی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •