اَگ گڈی، شعلہ ڈرائیور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نوٹ: یہ کہانی بچوں کے لئے لکھی گئی ہے اس لئے اسے بڑے نہ پڑھیں۔

پیارے بچو، یہ پرانے وقتوں کی بات ہے جب دنیا میں گاڑیاں نئی نئی چلنا شروع ہوئی تھیں۔ مختلف ملکوں میں بسنے والے بوڑھے لوگ اس تبدیلی کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ وہ بوڑھے جو گدھوں اور گھوڑوں پر سفر کیا کرتے تھے ان کے لئے بس اور ٹرک ایک ایسی حیرت انگیز ایجاد تھی جس نے دنوں کی مسافت کو سکیڑ کر گھنٹوں میں بدل دیاتھا۔ نوجوان اس تبدیلی پر بہت خوش تھے کہ بہر حال چمچماتی بسوں پر سفر کرنا ہنہناتے گھوڑوں اور ڈھینچوں ڈھینچوں کرتے گدھوں پر سفر کرنے سے ہزار گنا بہتر تھا۔

خواتین کو بھی یہ نیا پن بہت پسند آیا۔ ان کی شور مچاتے اور گھروں میں گند ڈالتے جانوروں سے جان چھوٹی۔ جانور تھوڑی تھوڑی دیر بعد چارہ مانگتے اور کچھ نہ کچھ کھاتے ہی رہتے تھے۔ بس کو بھوک لگتی نہ پیاس اور نہ ہی وہ تھکتی تھی۔ سارا دن ڈیزل کا نشہ کر کے سڑکوں پر فراٹے بھرتی رہتی اور دھول اور دھواں اڑاتی رہتی تھی۔

پیارے بچو، ان دنوں کوہ قاف سے پرے واقع ایک ملک کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک شخص یورپ سے بس خرید کر لے آیا۔ بس کے آتے ہی لوگوں کے سفر کا معیار بدل گیا اور وہ آہستہ آہستہ تبدیل ہوتے گئے۔ بس کی اگلی چند نشستیں عورتوں کے لئے مخصوص کردی گئیں جب کہ باقی نشستوں پر جو مرد پہلے دوڑ کر بیٹھ جاتا وہ اسی کی ہو جاتی۔ یوں لوگوں نے اپنے گدھے اور گھوڑے جنگل میں چھوڑ دیے اور بس میں سفر کرنے لگ گئے۔

جس طرح آج کل کسی بھی ریاست کو چلانے کے لئے ریا ست، ریاست میں رہنے والے لوگ اور عوام کے منتخب کردہ حکمران کا ہونا ضروری ہے اسی طرح ان دنوں بس کے سفر کو پانچ کردار مل کر ممکن بناتے تھے۔ ایک خود بس، اس کا مالک جسے ان دنوں نائیک کہا جاتا تھا، اس کو چلانے والا ڈرائیور جسے استاد پکارا جاتا تھا، بس کی سواریوں کو اتارنے، چڑھانے ان کے لئے بیٹھنے اور کھڑا ہونے کی جگہ بنانے والا بس کا کنڈکٹر اور عوام۔ ان میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو تو بس کا سفر ممکن نہیں تھا۔

جب کہ گدھوں پر سفر کرتے وقت صرف گدھے اور اس پر سوار اس کا مالک کافی ہوا کرتا تھا۔ وہ مسافر عوام جن کو اپنی عزت نفس عزیز تھی ان کو شروع شروع میں ڈرائیور، نائیک اور کنڈکٹر کی وجہ سے سخت پریشانی ہوئی۔ کسی مسافر نے بھولے سے ڈرائیور کو کہ دیا گاڑی ذرا دھیان سے چلاؤاور اپنا دماغ حاضر رکھو، اسے چلتی بس سے دھکا دے دیا جاتا۔ کوئی سرگوشی میں ساتھ بیٹھے شخص کے کان میں نائیک کے بارے میں بری بات کرتا اسے چلتی بس میں سگریٹ پینے کے جرم میں جیل بھجوا دیا جاتا۔ ڈرائیور تو بس اپنی دھن میں بس کودوڑاتا رہتا کہ جتنا جلد ممکن ہو یہ بس منزل مقصود پر پہنچ جائے لیکن نائیک اور کنڈکٹر عوام کو بہت تنگ کرتے تھے۔

پیارے بچو! گاؤں کے بہت سے لوگ ایک دو سال نئی بس پر سفر کرنے کے بعد اپنے گدھوں کو یاد کرنے لگ گئے۔ بس کا سفر ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے مہنگا ہوتا گیا اوپر سے نائیک بھی زیادہ کمانے کے چکر میں ڈرائیور کو ہر وقت ڈانتا رہتا کہ گاڑی تیز چلایا کرو تاکہ زیادہ سے زیادہ پھیرے لگ سکیں۔ گاڑی تیز چلنے کی وجہ سے اس کا سفر خطرناک ہوگیا اس لئے حادثات کی شرح بھی بڑھتی چلی گئی۔ استاد ڈرائیور، نہیں ڈرائیور استاد، سہمی بیٹھی سواریوں کو یقین دلاتا رہتا کہ ڈرنے اور پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں اپنے استاد پر اعتمادرکھیں لیکن جونہی ڈرائیور پر اعتماد آنے لگتا کنڈکٹر، نائیک کے بارے میں کڑوا سچ بولنے پر کسی معتبر شخص کو بس سے اتار دیتا۔ لوگ پھر سے سہم جاتے۔

جب سفر کی مشکلات بڑھتی گئیں تو عوام نے فیصلہ کیا کہ گدھوں پر سواری دوبارہ شروع کی جائے۔ جب وہ جنگل میں اپنے گدھوں کو واپس گھر لانے گئے تو انہیں معلوم ہوا کہ وہ تو کسی دوسرے ملک بھاگ گئے ہیں۔ یہ کون بچہ بولا، این آر او لے کر؟ نہیں بیٹا ان دنوں ایسی کوئی بات نہیں تھی اور ویسے بھی گدھے کوئی مجرم نہیں تھے اور نہ ہی وہ کسی قید میں تھے۔ وہ تو جنگل میں آزادانہ گھوم رہے تھے بس وہ نئے نظام سفر میں اپنی اہمیت کھو چکے تھے۔

جب نائیک کو پتہ چلا کہ اب گدھے نا پید ہو چکے ہیں تو اس نے ڈرائیور کوحکم دیا کہ گاڑی کو مزید تیز چلایا کرو۔ بے شک کوئی حادثہ ہو جائے لیکن اس کو رکنا نہیں چاہیے۔ کنڈکٹر کواجازت دے دی کہ اگر کوئی شخص فضول باتیں کرکے سفر کی رفتار کو آہستہ کرنے کا سبب بنے تو اسے تم اسے عمر قید کی سزا دے سکتے ہو۔ تب عوام سخت پریشان ہوئی لیکن گاڑی اپنی رفتار کی وجہ سے آگ اور ڈرائیور شعلہ بن چکا تھا۔ اب اس سے اترنا ممکن نہیں رہا تھا۔ باقی ساری دنیا اس بس کو دیکھ کر چلا اٹھتی تھی کہ وہ دیکھو،

اَگ گڈی، شعلہ ڈرائیور، بم کنڈکٹر، بے غم ”نائیک“

پیارے بچو، تھوڑے ہی عرصے میں گاڑی ٹوٹی پھوٹی روڈ پر تیز چلانے، شعلہ ڈرائیور کی لاپرواہی اور بم کنڈکٹر کی بے احتیاطی کی وجہ سے ”کھچک“ گئی۔ اب وہ کبھی اسٹارٹ نہ ہوتی اور کبھی چلتے چلتے رک جاتی۔ نائیک بے غم تھا اس لئے اسے کوئی فکر نہیں تھی۔ عوام بے چاری سخت پریشان تھی کیونکہ سفر کرنا اب بہت مشکل ہو چکا تھا۔ آخر قدرت نے عوام کی سن لی اور امریکہ سے ایک ہنر مند جن، بس کو ٹھیک کرنے گاؤں بھیج دیا۔ بچو، آپ سے سوال ہے کیا جن گاڑی کو ٹھیک کرکے پٹری پر چڑھا پائے گا یا نہیں؟ بتاؤ؟ بچو یہ کیا تم لوگ کہانی سنتے سنتے سوگئے؟ ابھی تو کہانی کا آغاز تھا اور تم لوگ اپنی نیند پر قابو نہیں رکھ سکے۔ چلیں یہی بہتر ہے کہ تم سب سوئے رہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •