حکومتیں بدلیں پر سندھ کے حالات نہ بدلے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا سندھ میری جنت ہزاروں سال سے سندھ اپنی تحزیب اور تمدن اور مھمان نوازی کی وجہ سے مشہور ہے کوئی وقت ہوتا تھا جب سندھ کا نام آتے ہی ایک الگ دنیا سامنے آجاتی تھی جہاں امن تھا جہاں خوشیاں تھی جہاں شام کی ٹھنڈی ہواؤں میں آپ کو کسی جنت کا گماں سا ہونے لگتا تھا پر اب وقت اور حالات بدل گئے ہر سیاسی پارٹی سندھ کو اپنی ملکیت سمجھ کر اپنا حق تو جتاتی ہے پر حالات بہتر ہونے کے بجائے بدتر ہونے لگے۔

روڈس سے لیکے ٹرانسپورٹ پانی ہو بجلی ہو یا تعلیم ہر شعبہ ختم ہونے کے دہانے پہنچ گیا اس وقت سب سے برا حال سندھ میں شعبہ صحت کا ہے ایک طرف وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ سمیت ملک کے دوسرے صوبوں کے لئے صحت کارڈ کی سہولت دی جانے کے اعلانات ہورہے ہیں تو دوسری جانب سندھ حکومت نے یہ کیھ کر صحت کارڈ لینے سے منع کردیا کہ سندھ میں شعبہ صحت بہت بہتر کام کر رہا اور مریضوں کو دوائیں اور دوسی سہولیات مل رہی ہین۔

وزیر اعظم عمران خان کے معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اعلان کیا کہ 15 ملین غریب خاندانوں کو صحت کی انشورنس دی جارہی ہے جس میں پنجاب کے 36 اضلاع بلوچستان کے 32 اضلاع سندھ کے 29 اضلاع اور پورے تھر پارکر کے 3 لاکھ خاندان شامل ہیں کے پی کے کے 29 اضلاع آزاد جموں کشمیر کے 11 اضلاع کے ایک لاکھ خاندان گلگت کے 19 اضلاع بھی اس میں شامل ہیں اس ہیلتھ کارڈ میں 7 لاکھ 20 ہزار کی رقم مختلف بیماریوں کے لئے رکھی گئی ہے جس میں اوپن ہارٹ سرجری، دل کے اسٹنٹ، دماغی بیماری، شگر، گردے فیل ہونے، کینسر، کیمو تھراپی اور میٹرنٹی سمیت چھوٹی بڑی بیماریاں شامل ہیں ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ ہیلتھ کارڈ کی مد میں اب تک 24.3 ملین خاندان رجسٹرڈ ہوچکے ہیں سب سے اچھی بات یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات پر پورے تھر کو صحت کی سہولیات دینے کے لئے ہر گھر میں صحت کارڈ دینے کی ہدایات کی گئی ہیں اتنی سہولیات ملک کے ہر صوبے میں دی جائے گی پر پاکستان کے تین صوبوں نے صحت کارڈ پر حکومت کو اجازت دی پر سندھ حکومت نے یہ کہہ کر وفاق کو منع کر دیا کہ ہمارے سندھ میں صحت کی تمام سہولیات اسپتالوں میں موجود ہیں جو دواؤں کی مد میں ہوں یا اسپتالوں میں مریضوں کو اور سہولیات تمام میسر ہیں اس وجہ سے سندھ کی عوام کو صحت کارڈ کی ضرورت نہیں

وفاقی حکومت کے بار بار کہنے کے باوجود سندھ حکومت کی جانب سے کوئی گرین سگنل نہیں دیا جارہا اب اس کو سیاسی مداخلت کہیں یا پھر کچھ خدشات جو بھی ہو سندھ کے عوام غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ تھر میں خوراک کی کمی کی وجہ سے نومود بچوں کی اموات ہوں یا پھر سندھ کے پیرس لاڑکانہ میں بڑہتا ہوا ایڈز کا مرض لوگ علاج کے لئے تڑپ رہے ہمارے حکمران سیاست چمکانے کے چکر میں الزامات کے تیر چلانے میں لگے ہوئے ہیں حکومتیں بدلتی رہیں سندھ کے حالات نا بدل سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
صبا بجیر کی دیگر تحریریں
صبا بجیر کی دیگر تحریریں