کہانی کو معانی کون دیتا ہے؟


\"jamshedکئی صدیاں پرانی بات ہے کہ رام داس جمنا کے کنارے رام کی کتھا کہا کرتے تھے۔ یہ کتھا اس قدر دلکش تھی کہ لوگ دُور دراز سے اسے سننے آتے۔ رام داس یہ کتھا کچھ ایسے ڈھنگ سے کہتے کہ سننے والے سر دھنتے اور وجد میں آجاتے۔ کہتے ہیں ایک روز ہنومان کا ادھر سے گذر ہوا ، اس نے مجمع لگا دیکھا ، قریب پہنچا اور پتہ چلا کہ رام داس وہ کہانی سنا رہے ہیں جس کا وہ خود ایک کردار ہے۔ اُسے رام داس کی زُبانی اپنی کہانی اس قدر پسند آئی کہ وہ خود سننے لگا۔

رام داس یہ کتھا اپنے انداز سے سنا رہے تھے۔ کہیں کہیں ہنومان کو لگتا کہ رام داس حقیقی واقعات کو توڑ موڑ کر پیش رہے ہیں۔ لیکن ان کا انداز پھر بھی اس قدر دل کش تھا کہ وہ سنتا اور سر دھنتا رہا۔ وہ سن رہا تھا کہ ایک مقام ایسا آیا کہ ہنومان سے نہ رہا گیا۔ رام داس کہہ رہا تھا کہ جب ہنومان لنکا پہنچا تو ہر طرف سفید پھول کھلے تھے۔ ہنو مان جانتا تھا کہ پھول سفید نہیں سرخ تھے۔ اس لئے وہ اٹھا اور کہنے لگا۔

رام داس اپنی کتھا درست کرلو۔ پھول سفید نہیں سُرخ تھے۔

’’کون ہو تم ؟ چپ کرکے بیٹھے رہو۔ مخل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں کہہ رہا ہوں پھول سفید تھے۔ تم کون ہوتے ہو ؟ ‘‘

اس پر ہنومان حیران ہوا۔ اس نے کہا۔ ’’میں ہنومان ہو اور تم میری ہی داستان سنا رہے ہو ‘‘۔

 رام داس نے پھر وہی جواب دیا۔ ’’چپ بیٹھے رہو۔ بولنے کی کوئی ضرورت نہیں ‘‘۔ اور وہ ایک بار پھر داستان سنانے لگا۔

یہ دیکھ کر ہنومان کو غصہ آگیا۔ اس نے رادم داس سے کہا کہ عجیب آدمی ہو تم۔ میں کہہ رہا ہوں کہ میں ہنومان ہو۔ میں ہی لنکا میں داخل ہوا تو پھولوں کا رنگ سُرخ تھا۔ میں بہتر جانتا ہوں یا پھر تم ؟ تم ہزاروں سال بعد یہ داستان سنا رہے ہو ، غلط بیانی کرتے ہو اور پھر اس داستان کے اصل کردار کی بات نہیں مانتے۔ اس کی بات نہیں مانتے جس کے ساتھ یہ سب ہوا ہے۔

یہ سن کر رام داس نے کہا کہ وہ جانتا ہے کہ اس کا سامع ہنومان ہے۔ لیکن پھول سفید ہی تھے۔ اگر ہنومان کو یقین نہیں آتا تو وہ رام کے پاس جاکر فیصلہ کرالے۔

ہنومان تیار ہو گیا کیونکہ اُس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھا تھا کہ پھولوں کا رنگ سرخ تھا۔ پھر رام داس کون ہوتا تھا انہیں سفید کہنے والا۔ رام داس نے داستان وہیں چھوڑی اور دونوں رام کے پاس جا پہنچے۔ ہنومان نے سارا واقعہ سنایا اور رام نے ہنومان سے کہا :

رام داس ٹھیک کہتا ہے۔ پھول سفید ہوں گے۔

’’لیکن میں نے خود دیکھا تھا۔ پھول سُرخ تھے۔ یہ شخص غلط کہہ رہا ہے اور آپ بھی اس غلط بیانی میں شامل ہو گئے ہیں ‘‘۔ ہنومان نے حیران ہو کر کہا۔

’’پھول سفید ہونگے۔ کیونکہ جب تم لنکا میں اترے تو تمہاری آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا اس لئے تمہیں سُرخ دکھائی دیے ہونگے۔ رام داس کتھا کا کردار نہیں۔ رنگ کا فیصلہ وہ کرسکتا ہے ‘‘۔

رام نے جواب دیا اور ہنومان خاموش ہوگیا۔

ہزاروں برس بعد اس سے ملتی جلتی یہودی روایت منظرِ عام پر آتی ہے۔ ہیکل کی تباہی کے بعد یہودی مذہبی پیشواؤں کی ایک جماعت رائبائی عائلیزا (Eliezer )کی قیادت میں تالمود کی تشریح و تفسیر کے لئے جمع ہوتی ہے۔ (واضح رائبائی عائلیزا کو یہودی مفسرین میں بہت بلند مقام حاصل ہے )۔ جماعت میں موجود ماہرین میں سے ایک صحیفے کا کوئی حصہ پڑھتا ہے ، عائلیزا اس کی تفسیر کرتے ہیں اور کاتبین اسے ضابطہ تحریر میں لاتے ہیں۔

تالمود کے کسی خاص حصے کی تشریح کے دوران مفسرین کی جماعت عائلیزا سے متفق نہیں ہوتی۔ وہ ہر بار اس پر مزید روشنی ڈالتے ہیں لیکن جماعت پھر بھی متفق نہیں ہوتی۔ عائلیزا کہتے ہیں کہ ان کی شرح خُدا کے مطلوبہ مطالب سے قریب تر ہے لیکن جماعت اپنے موقف پر ڈٹی رہتی ہے۔

 آخر کار سب فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ کوہِ طُور پرجاکر خُدا سے پوچھتے ہیں۔ جماعت کوہِ طُور پر پہنچتی ہے۔ عائلیزا خُدا سے رجوع کرتے ہیں اور آواز آتی ہے کہ آپ سب عائلیزا سے کیوں متفق نہیں ہیں۔ ان کی تشریح میرے مطلوبہ مطالب سے قریب تر ہے۔

اس پرعائلیزا خوش ہوتے ہیں لیکن پوری جماعت اسی صحیفے میں موجود گذشتہ حکم کی روشنی میں کہہ اٹھتی ہے :

’’تورات اب آسمان پر نہیں رہی زمین پر آگئی ہے۔ اب اس کی شرح زمین پر ہوگی۔ اب خُدا بھی کسی مفہوم پر مجبور نہیں کرسکتا ‘‘۔

ان دونوں کہانیوں سے ملتی جلتی سچویشن مارٹن سکورسیز کی فلم ’دا لاسٹ ٹیمپ ٹیشن آف کرائسٹ‘ میں دکھائی گئی ہے۔ فلم کے ایک مشہور سین میں مسیح علیہ السلام ایک بازار سے گذر رہے ہیں اور وہ دیکھتے ہیں کہ ایک جگہ پر سینٹ پال مجمع لگائے کھڑا ہے۔ حضرتِ مسیح غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان کے بارے میں بات کررہا ہے۔ وہ بھی لوگوں کے درمیان عام آدمی کی طرح پال کا خطاب سننے لگتے ہیں۔ لوگ پال کی کہانی سنجیدگی سے سن رہے ہیں لیکن حضرتِ مسیح اپنی اس کہانی سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔

وعظ ختم ہوتا ہے اور مجمع منتشر۔ حضرت ِ مسیح پال کو اپنے پاس بلا کر پوچھتے ہیں کہ وہ ان کے بارے میں بلا تصدیق کیا باتیں پھیلا رہا ہے۔ پال مسکرادیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر وہ ان باتوں سے متفق نہیں ہیں تو لوگوں سے خود بات کرکے دیکھ لیں۔ لوگوں کو بتانے کی کوشش کریں کہ پال غلط کہہ رہا ہے۔

’’میں مانتا ہوں کہ آپ ہی مسیح ہیں لیکن اب لوگ آپ کی بات کبھی نہیں مانیں گے۔ اب وہ اُس مسیح کو مانتے ہیں جس کا تعارف پال نے کرایا ہے۔ اگر آپ نے لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کہ میں جھوٹ بول رہا ہو ں تو ہوسکتا ہے لوگ آپ کو قتل کردیں ‘‘۔

حضرتِ مسیح کچھ دیر کے لئے بامعانی خاموشی اختیار کرتے ہیں اور پھر لوگوں سے دُور ہٹ کر چلے جاتے ہیں۔

ان تین میں سے دو کہانیاں صدیوں سے موجود ہیں اور تیسری کی بنیاد دُو پرانی کہانیوں پر رکھی گئی ہے جو صدیوں سے زندہ ہیں۔ کہانیاں سچی ہونے کی وجہ سے نہیں ان سچائیوں کی وجہ سے زندہ رہتی ہیں جنہیں بیان کرنے کے لئے کہانی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اگر کہانی میں سچائی مائع نہیں بلکہ ٹھوس ہو تو کہانی کا دم گھٹ جاتا ہے۔

ان کہانیوں کو کس سچائی نے زندہ رکھا ؟ اس کے لئے ایک سچی کہانی سنتے ہیں۔

مشہور برطانوی شاعر کالرج ابھی حیات تھے اور ان کا کلام کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھایا جارہا تھا۔ ایک دن کسی کالج کا ایک پروفیسر اپنے شاگردوں کے ساتھ ان کے چند مصرعوں کا مطلب ان سے سمجھنے پہنچ گیا۔ کالرج نے اپنے ہی مصرعے ایسے سنے جیسے وہ کسی اور کا کلام سن رہے ہوں۔ پھر انہوں نے یہ کہتے ہوئے پروفیسر کو مایوس لوٹا دیا :

’’میں ان کا مطلب عین اُسی لمحے سمجھا سکتا تھا جب میں نے یہ مصرعے کہے تھے۔ اب ان کی پرتیں کھولنا میرا نہیں، زمانے کا کام ہے۔ ۔ ‘‘

Facebook Comments HS

2 thoughts on “کہانی کو معانی کون دیتا ہے؟

  • 09/09/2016 at 7:54 شام
    Permalink

    بہت خوب۔ بڑی خیال انگیز تحریر ہے۔ عنوان نے مجھے اپنے محترم استاد پروفیسر آل احمد سرور کا ایک مطلع یاد دلا دیا:
    دل وہ معصوم کہ ہر شب کو کہانی مانگے
    عقل ہر صبح کہانی میں معانی مانگے

  • 09/09/2016 at 10:35 شام
    Permalink

    میں ریپلائی کرتا ہوا سپےم کو کلک کر بیٹھا،اب واپسی کایسای مئمکین ھای؟؟؟؟میں آی ٹی میں بہت برا ہوں

Comments are closed.