کامیڈین یاسر حسین کا اداکارہ اقرا عزیز کو بوسہ دینے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کامیڈین یاسر حسین اور اداکارہ اقرا عزیز کی جانب سے ان کے شادی کے اعلان کا ان کے فینز کو تو کافی عرصے سے انتظار تھا لیکن شاید یہ کسی کو توقع نہیں تھی کہ وہ کسی ایونٹ کے دوران اقرا کو پروپوز کریں گے۔

لکس سٹائل ایوارڈ کی تقریب کے دوران یہ پروپوزل تو ہو گیا اور اقرا نے منگنی کی انگوٹھی بھی قبول کر لی۔ لیکن اسکے بعد جو ہوا وہ شاید اس جوڑے کے لیے خاصا مشکل مرحلہ ہو۔

پروپوزل کے بعد یاسر حسین نے اقرا کو گلے لگایا اور انہیں بوسہ بھی دیا۔ ان کی یہ ویڈیو اب انٹرنیٹ پر وائرل ہے اور جیسے ایک طوفان برپا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’اپنے جسم کے ذریعے توجہ حاصل نہیں کرنا چاہتی‘

’لوگوں کی کمزوریوں کا مذاق اڑانا غلط ہے‘

سوشل میڈیا پر ان کے کئی فینز نے انھیں مبارکباد تو دی مگر شاید کئی فینز ایسے بھی ہیں جنہیں ان کا محبت کا یہ اظہار ایک آنکھ نہیں بھایا۔

وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یاسر حسین نے اقرا عزیز کو منگنی کی انگوٹھی پیش کی، جسے انھوں نے قبول کیا جس کے بعد وہ گلے ملے اور یاسر نے اقرا کو اس موقع پر کِس بھی کیا۔ اسی بات پر عوام ان سے ناراض ہیں۔

کئی ٹوئٹر صارفین نے قانون کی جانب اشارہ کیا تو بیشتر نے ان کے اس عمل کو ‘غیر اسلامی’ ، ‘غیر اخلاقی` اور ’تہذیب کے خلاف’ قرار دیا۔

لیکن ہمیشہ کی طرح اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد میمز بھی شیئر کی گئیں۔ جن میں سب سے زیادہ بچوں کے مشہور کارٹون ٹام اینڈ جیری کی تھیں۔

شہزاد اخلاق نامی ٹوئٹر صارف نے ایسا ہی ایک کلپ شیئر کیا اور لکھا کہ یاسر حسین اور اقرا عزیز کی فل ویڈیو لیک ہو گئی ہے۔

نورین شمس کہتی ہیں کہ ‘ہم بس لوگوں کی خوشیوں سے جلتے رہیں گے’۔

وہیں کچھ اقرا عزیز کے فینز ایسے بھی تھے جنھیں اس منگنی کا ’دکھ‘ بھی تھا۔ جیسا کہ احمد ساندھو نے یہ ٹویٹ کی۔

احسن تبسم کی یہ میم سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین کی شاید درست ہی نمائندگی کر رہی ہے:

اسفندیار جہانگیر کہتے ہیں کہ ‘آپ کی دو، تین، چار بوائے فرینڈز یا گرل فرینڈز تو ہو سکتے ہیں، فرینڈز وِد بینیفٹس بھی ہو سکتے ہیں، اس میں کوئی شرم نہیں، آپ بند دروازوں کے پیچھے کچھ بھی کر سکتے ہیں لیکن آپ اپنی ہونے والی بیوی کو سب کے سامنے بوسہ نہیں دے سکتے کیونکہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ واہ ہیپاکریسی!’

اسرفیل آفریدی کہتے ہیں کہ ‘ہر پاکستانی لبرل میں ایک تنگ نظر مولوی چھپا ہوا ہے’۔

جبکہ انیقہ کہتی ہیں کہ اپنی منگیتر یا بیوی کو پبلک مقام پر بوسہ دینا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آپ کو اپنی منگیتر، بیوی کو ضرور بوسہ دینا چاہیے اور اور ان سے یہ سوچے بغیر محبت کا اظہار کرنا چاہیے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اور ویسے یہ ایک فرینڈلی کِس تھی۔ خود بھی جیئیں اور دوسروں کو جینے دیں’۔

لیکن ان کے اس عمل کی مخالفت کرنے والے خاصے غصے میں نظر آئے اور ان میں سے بیشتر پاکستان کے ‘اسلامی جمہوریہ پاکستان’ ہونے کی دلیل سامنے رکھتے رہے ہیں۔ جیسا کہ مختیار خان نامی صارف نے کہا کہ ’کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ ہم مسلمان ہیں اور ایسا عوامی مقامات پر نہیں ہونا چاہییے’۔

ایک ٹوئٹر صارف فاطمہ بٹ نے لکھا کہ ‘یاسر حسین نے اقرا عزیز کو ایل ایس اے کے موقع پر پروپوز کیا۔ استغفراللہ، انھوں (اقرا) نے کیسے یاسر کو ایسا کرنے دیا؟ میرا مطلب ہے کہ شادی شدہ افراد ہر کسی کے سامنے ایسا نہیں کرتے حالانکہ انہیں حق بھی حاصل ہے۔ کیوٹ کہنے والوں پر بھی افسوس ہے۔ یہ کیوٹ نہیں ہے۔ بے حیائی کی انتہا ہے’۔

دوسری جانب پاکستانی قوانین کے مطابق پی ڈی اے یعنی پبلک ڈسپلے آف افیکشن کی پاکستان میں اجازت نہیں ہے۔ قانون کے مطابق ‘کوئی بھی شخص جو دوسروں کے لیے اس وقت پریشانی کا باعث بنے جب وہ 1 کسی عوامی مقام پر کوئی قابل اعتراض عمل کرے، 2 کسی عوامی مقام پر یا اس کے قریب کوئی قابل اعتراض گانا، نظم یا الفاظ ادا کرے، ایسے شخص کو تین ماہ کی قید یا جرمانہ یا دونوں ہوں گے’۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9584 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp