دامان آرٹس کونسل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تہذیب اور تخلیق کسی معاشرے کے بامقصد تشخص کی عمارت کے دواہم ستون ہیں۔ تہذیب سماج کے تنظیمی اصولوں کی عملداری۔ جب کہ تخلیق زندگی کے اخلاقی اور جمالیاتی رویوں کی کارپردازی ہے۔ تہذیب اور تخلیق دونوں آپس میں اس طرح گندھے ہوئے ہیں جیسے پھول میں رنگ اورخوشبو ایک ہی جگہ جمع ہیں۔ تخلیقی ادب اصل میں نیرنگء حیات کی عکّاسی کا نام ہے چاہے وہ افسانے ہوں شعر و شاعری ہو، کالم نگاری ہو، پینٹنگ ہو یا فنون لطیفہ کی کوئی بھی شاخ۔

، یہ بات تو واضح ہے کہ ادب مختلف شعبہ زندگی کے حالات و واقعات سے وجود میں آتا ہے کیوں کی ادب انسانی خیالات کا ترجمان ہوتاہے۔ ادب باعث تسکین ِ روح، معاشرے کی اصلاح کرنے کے ساتھ ساتھ انقلاب کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ ادب کی معاشرے میں اہمیت کی ایک مثال اس طرح سے بھی دی جا سکتی ہے جیسے اگر اندھیرا بہت گہراہو تو روشنی جو اس کی ضد ہے کو بہت زیادہ بڑھا دیا جا تا ہے تاکہ تیز روشنی سے اندھیرا مٹ جائے، بالکل اسی طرح ادیب، شاعر اور فنونِ لطیفہ سے وابسطہ شخصیات معاشرے میں پھیلنے والے اندھیرے میں چراغ کی مانند ہوتے ہیں جن کے تخیلات، الفاظ، شاعری، پینٹنگز، قلم اور فکر سے روشنی پھیلتی ہے اور اس سے نشتر کا کام بھی لیتے ہیں۔

کارل یونگ نے اپنی کتاب ’ماڈرن مین ان سرچ آف سول‘ میں لکھا ہے کہ شاعر، ادیب، آرٹسٹ کا کام ہے معاشرے کی ذہنی و قلبی ضروریات کو پورا کرے۔ اگر ہم ذہنی اور قلبی ضروریات کو وسیع تر مفاہیم میں پھیلا کر دیکھیں تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ کسی بھی قوم کی نفسیاتی صحت کا دار و مدار اس قوم کے شاعروں، ادیبوں اور فنکاروں کی قلم کی سچائی، برش کے رنگوں اور سماجی انصاف سے وابستگی پر ہے۔ یوں سمجھیں کہ ادیب، شاعر، قلمکار، آرٹسٹ اور فنون ِ لطیفہ سے منسلک شخصیات زمین کے گرد گھومتے سٹیلائیٹ کی طرح ہوتی ہیں جومعاشرے کے گرد گھوم گھوم کر اسے ہر زاویے سے دیکھتے ہیں اور ہر پہلو کا گہرا مشاہدہ کرتے ا ور ہر کردار کے ظاہر و باطن کو شدت سے محسوس کرتے ہیں اور معاشرے کی گلی سڑی تصویر سے ایک نیا مثبت اور روشن رخ کشید کرلیتے ہیں۔

یہ ایسا رخ ہوتا ہے جس سے معاشرے میں مثبت سوچ اور کردار کے پہلو نمائیاں ہوتے ہیں یا یوں سمجھ لیں کہ فنون ِ لطیفہ سے وابسطہ لوگ کسی معاشرے کے جراح ا ور ڈاکٹر ہوتے ہیں جو معاشرے میں پھیلتے مختلف قسم کے ناسوروں کو اپنی سوچ اور قلم سے کاٹ کر علیحدہ کرتے ہیں۔ اگر ہم ماضی کا مطالعہ کویں تو ہر دور میں معاشر ے کی ترقی و ترویج اور امن و یکجہتی میں شاعروں ِ، ادیبوں، آرٹسٹوں کے خوابوں نے اہم کردار ادا کیا۔ ایسے مثبت خواب ہمیشہ سے یہ دیکھتے چلے آئے ہیں اورلکھنے والوں نے، پینٹنگز بنانے والوں نے معاشروں کو ساکت و جامد اور مردہ ہونے سے بچایا اور انہیں ترقی کی روشن راہوں پر گامزن کیا اور ترقی کی راہیں ان کی حوصلہ افزائی اور ادبی محافل ہی سے جنم لیتی ہیں۔

زمانہ گواہ ہے کہ مشاعرے، ادبی کانفرنسیں، پینٹنگز کی نمائشیں جہاں معاشرے میں عوامی تفریح کے ذرائع تھیں وہیں تہذیب سیکھنے، ذہنی سکون حاصل کرنے، لاشعور سے شعور کا سفر طے کرنے، امن و آشتی، بھائی چارہ و یکجہتی لیے فنون ِ لطیفہ ہی سے مددلی جاتی تھی کیونکہ جذبات وخیالات کے اظہار کے لیے اس سے بہتر اورموثر ذریعہ کوئی دوسرا نہیں ہے۔ سر زمین ِڈیرہ اسماعیل خان تو ویسے ہی ہر دور میں ادب اور فنونِ لطیفہ کی مشہور و معروف شخصیات کا گڑھ رہی جنہوں نے ملکی و غیر ملکی سطع پہ امن، محبت، یکجہتی اور مثبت سوچ کا پیغام پہنچا کر ثابت کیا کہ ہم زندہ قوم ہیں۔

اسی مقصد کے لئے تقریبا دو عشرے پہلے ڈیرہ اسماعیل خان کے کمشنر محترم سید مظہر علی شاہ صاحب نے اپنی زیر صدارت اوراپنی سرپرستی میں دامان آرٹس کونسل (رجسٹرڈ) کی بنیاد رکھ کہ فنون ِ لطیفہ سے وابسطہ ڈیرہ اسماعیل خان کے تمام ادباء، شعراء پینٹرز، فنکار، کالم نگار اور لکھاریوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے علاقائی ضرورت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنی تمام توانائیوں کو استعمال کر کے، بہترین مقامی اور کل پاکستان مشاعروں کا انعقاد، پینٹگز کی نمائشیں، سٹیج ڈرامے، موسیقی کے پروگرام، ادبی کانفرسیں اور خاص کر لوکل شعراء کے کلام کی دامان آرٹس کونسل کے زیر اہتمام کتابیں چھپوا کر ڈیرہ اسماعیل خان کو جہاں ادبی، تہذیبی و تمدنی طور پر ترقی دی وہاں ڈیرہ اسماعیل خان کو ملکی سطح پر امن وآشتی اور یکجہتی کا ماڈل بنانے میں کامیاب ہوئے۔

کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان عزت مآب جناب جاوید خان مروت صاحب سے گزارش ہے کہ اپنی سرپرستی اور زیر صدارت عصر حاضر کی ضرورت کے تحت دامان آرٹس کونسل کو دوبارا فعال کر کے ان ادباء، شعرا، پینٹرز، دانشوروں، مفکروں، کالم نگار اور ایڈیٹرز حضرات کو اکٹھا کر کے پھر سے معاشرے کی سوچ میں مثبت تبدیلیاں لا کرامن، یکجتی، تہذیب و ثقافت کو اجاگر کرنے اور قومی یکجہتی کو مضبوط کرنے کا بھرپور طریقے سے تعمیری کام لے سکتے ہیں کیوں کہ ان شخصیات کے جذبوں کی شدت سے پھوٹنے والی خوشبو جو لفظوں کا بہترین لبادہ اوڑھ کہ اپنے خدوخال بناتی ہیں، ان کی قلم اور ہاتھ میں پکڑے ہوئے برش کاغذ اور کینوس پر امن کے سپاہی بنانتے ہیں جو دہشت گردی سے نفرت اور امن و یکجہتی سے پیار کا درس دیتے ہیں۔

کیونکہ وقت کا تقاضا ہے کہ نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں کی بجائے ادبی اور مثبت سرگرمیوں میں دلچسپی کی طرف راغب اور ملوث کرکے ان کی سوچ، کردار اور رویوں میں مثبت تبدیلیاں لانا ہوں گی اور یہ مثبت تبدیلیاں تب ہوں گی جب سرکاری سطح پر مشاعروں کا انعقاد، پینٹنگز کی نمائشیں، ادبی کانفرسیں، کتابوں کی پزیرائی، انعامات کی تقریبات، قلم و کتاب کی محفلیں وغیرہ منعقد ہوں گی تاکہ ہمارے نوجوان سماجی و معاشرتی زندگی میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے سے قاصر نہ رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •