احساسات کا لفظیاتی مصور

دو یوم قبل میں قلم تھامے اپنی یادوں کی ڈائری کھولے بیٹھا تھا اور میرے ارد گرد کئی کاغذ بکھرے پڑے تھے۔ لفظ کے معنی اور مفہوم کی کھوج نے مجھے لکھنے کی ایسی عادت ڈالی کہ میں حروف سے الفاظ جوڑتا رہتا ہوں۔ دنیا میرے لیے ایک رنگین پہیلی ہے جو فلک سے زمین تک کسی پینٹینگ کی صورت میں اپنا دامن پھیلائے آویزاں ہے۔ اسی دوران بادل گھر گھر آنے لگے اور سورج بدلیوں میں چھپ گیا، شاید

Read more

افسانوں کا سائنسدان

یہ حقیقت ہے کہ ماہ مارچ میں بہار کی رت جواں ہوتی ہے اور یہ مہینہ شاعروں، لکھاریوں اور مصوروں کے لیے قدرت کا حسین تحفہ ہوتا ہے۔ اسی ماہ میں نوروز کی خوشیوں کا مزہ بھی دوبالا ہوجاتا ہے جب آکاش سے ہلکی ہلکی رم جھم اور پھوہار دلبستگی کا سامان پیدا کرتی ہے۔ اسی ماہ مارچ کے دلپذیر ماحول میں مشہور و معروف قلمکار، دوست نما بھائی اور درجن سے زائد کتابوں کے مصنف حمزہ حسن شیخ نے

Read more

تاریخی ورثے کا مذہب نہیں ہوتا

ہر معاشرہ اپنی مخصوص روایات، تہذیب وتمدن اور ثقافت رکھتا ہے اور کسی بھی معاشرے، خطے، قوم یا ملک کی تہذیب و ثقافت نہ صرف اس کی تاریخ کی ترجمان ہوتی ہے بلکہ یہ اس کے تاریخی طرز تعمیر اور معاشرے کی بودوباش کی بھی عکاس ہوتی ہے۔ یقیناً کوئی بھی معاشرہ اپنی تہذیب و ثقافت کے تحفظ کے بغیر اپنی تاریخ سے منسلک نہیں رہ سکتا۔ دوسرے تاریخی شہروں کی طرح ڈیرہ اسماعیل خان بھی ہمیشہ علم و ادب،

Read more

تجدیدِ عہد کا دن

تاریخ گواہ ہے، جو قومیں تاریخی واقعات کا مطالعہ کرنے اور اس سے سبق حاصل کرنے کا عمل جاری رکھتی ہیں، وہی زندہ رہتی ہیں۔ وہ لمحے جو تاریخ کے ماتھے کا جھومر بنتے ہیں ، وہ ساعتیں جو روز و شب کی مسافتوں میں سنگ میل بنتی ہیں۔ وہ گھڑیاں جو صدیوں کی دیواریں پھلانگ کر تمام زمانوں کو اپنی گرفت میں لے کر مسکراتی ہیں، انسانی عزم و ہمت اور جہد مسلسل کی پذیرائی و کامرانی کا معیار بن جاتی ہیں۔ ایسی ہی گھڑیوں، ایسے ہی لمحوں اور ایسی ہی ساعتوں میں قوموں کی تشکیل ہوتی ہے۔

Read more

پروفیسر شہاب صفدر کا مجموعہ کلام: ”گم گشتہ”

مجھے شاعری سے خصوصی شغف ورثے میں ملا ہے۔ بچپن ہی سے علامہ اقبال، مرزا غالبؔ، اکبر الہ آبادی اور میر تقی میر کا مداح رہا ہوں۔ میں شعر و شاعری پڑھنا اور سننا دونوں پسند کرتا ہوں ، قطع نظر اس سے کہ شاعری اردو، انگریزی یا سرائیکی زبان میں ہو۔ میر، غالب، داغ سے لے کر آج کے جدید دور تک، ہر دور میں شعرا نے اسی دور کی ترجمانی کی ہے اور غزل کو نئے نئے انداز

Read more

ادبی مرشد: سید حفیظ اللہ گیلانی

اس پر آشوب دور میں انسان اس قدر کرب کا شکار ہے کہ آپ انسانوں کے دکھ لکھنے کا ارادہ کر لیں تو آپ کے پاس روشنائی کم ہو جائے گی، صفحات کی قلت ہو جائے گی، لیکن لکھنے کو مواد کم نہیں ہو گا۔ یہ اس لیے بھی ہے کہ معاشرے نے ظاہری طور پر جو ترقی کا لبادہ اوڑھ لیا ہے، باطنی طور پر وہاں ایسے مسائل نے بھی جنم لیا ہے جو اسی ترقی کرتے معاشرے کو

Read more

جہان حیرت۔ ڈاکٹر شاہد مسعود خٹک

یوں تو دنیا میں بے شمار لوگ مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب آتے جاتے رہتے ہیں لیکن بہت ہی کم لوگ اپنی ان مصروفیات یا سیاحت کو قرطاس پر منتقل کرنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔ ادبی ذوق کی حامل شخصیات اپنی سفری مصروفیات کو خواہ مختصر ہی کیوں نہ ہوں قلم بند کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔ مایہ ناز سائیکاٹرسٹ، علمی و ادبی و فکری شخصیت جناب ڈاکٹر شاہد مسعود خٹک صاحب نے اپنی پہلی کتاب ”پاکستانی معاشرہ، ایک سماجی و نفسیاتی تجزیہ“ کے بعد اپنے پانچ ممالک، پانچ شہر اور پانچ چاندنی راتوں کے پرفسوں مناظر پر مشتمل مختصر سفر کو کتابی شکل ”جہان حیرت“ میں ترتیب دے کر سفرنامہ پڑھنے والوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے جب ”جہان حیرت“ عطا کی تو وہیں بیٹھے بیٹھے پیش لفظ کی قرات کے ساتھ ساتھ جب ورق گردانی کی تو الفاظ کی جڑت، نثر کی روانی، تاریخ اور منظر نگاری نے تو ایک ہی نشست میں کتاب پڑھنے پر آمادہ کر لیا۔

Read more

خوشحال ادب کی خوشحالی

پچھلے دنوں جب ہوا کی خنکی نے ائر کنڈیشنڈ کا بوجھ بانٹ لیا تو گرم کپڑوں کی مٹی کھاتی ایک پیٹی سے مجھے اپنی وہ ڈائری ملی جسے میں کبھی اپنی ”بیاض دل“ سمجھتا تھا۔ زوجہ محترمہ کو اس میں سے کچھ کلام سنایا تو انہوں نے تنک کر کہا ”چھوڑو شاعری اتنے دن ہو گئے ہیں آپ نے کالم نہیں لکھا“ ۔ بقول دانشوران ادب! کہ دنیا میں دو ہی طاقتیں ہیں ایک قلم کی دوسرے خنجر کی۔ لیکن میری شاعری کی بے قدری کے بعد میرا نکتہ نظر تبدیل ہو گیا کہ ”عورت کی طاقت“ قلم و خنجر سے بھی طاقت ور ہے۔ بحکم زوجہ کے صرف نثر ہی لکھا کرو، تو سوچا کیوں نہ اپنی ادبی دوستوں والی تسبیح کے ساتویں موتی یعنی خوشحال ناظر پہ کچھ لکھا جائے۔

Read more

مری غلیل کے پتھر کا کارنامہ تھا

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں تیسری یا چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا۔ یعنی یہ میرا وہ ”احوال“ ہے، جو اب ماضی بن چکا۔ مگر اس احوال کی فرحت ناکی سے آج بھی میرا دماغ معطر ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ماں باپ اپنے بچے کے بارے خوف زدہ نہیں ہوتے تھے کہ نہ جانے کب اسے کوئی درندہ اچک لے اور اس کی نوچی ہوئی لاش کسی قریبی کھیتوں یا کچرا کنڈی میں ورثا کی منتظر ہو۔ یہ اس دور کی کہانی ہے، جب بچوں کے ساتھ ساتھ نو جوان بھی بھی مٹی کے ساتھ کھیلتے تھے۔

تمام بچوں کے بچپن کی شرارتیں، شوق اور کھیل عموماً ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ ویسے ہی مجھے بھی تمام کھیلوں کے ساتھ ساتھ دو چیزوں کا زیادہ شوق تھا۔ ایک اپنے محلے کی مسجد کے بڑے اور گہرے کنویں سے چرخی چلا کہ پانی کے ڈول نکالنا اور دوسرا غلیل کو ساتھ رکھنا۔ یاد رکھیں بچپن میں میری دہشت گردی بھی افغانستان میں جاری جنگ کی طرح موسم بہار میں عروج پر آ جاتی تھی۔ جیسا کہ افغانستان کی ہر بہار امریکا اور اس کے پجاریوں کے لیے ایک نئی آفت لے کر آتی ہے۔

Read more

شہر خواب: موسیٰ کلیم دوتانی

چند دن پہلے گرمی کی شدت اپنے عروج پر تھی اور شام ڈھلنے کے باوجود تپش ابھی تک برقرار تھی۔ لیکن موسموں کی سختی ہمیشہ غریبوں اور مسکینوں کے لیے ہی ہوا کرتی ہے اور ان ہی کو جھیلنی پڑتی ہے۔ امراء کی لغت میں تو شاید اس چیز کا نام و نشان ہی نہیں ہوتا کہ ان کی دولت موسم گرما کو سرما اور جاڑے کو گرمیوں میں بدلنے کی قوت رکھتی ہے۔ اس وحشت خیز گرمی میں جہاں

Read more

باز سے بازی تک

قائد اعظم کے چودہ نکات کے بعد زرتاج گل کے انیس نکات سے متاثرہ افراد کے علاوہ کرونا میں سب سے زیادہ جو مخلوق ”متاثر“ ہوئی وہ خاوند حضرات ہیں جو کرونا کے بعد بیوی کی اس ”پیار بھری“ عادت سے تنگ ہیں کہ جانو یہ کرونا، یہ کر لیا ہے تو اب وہ کرونا، آسان مفہوم میں جانو جھاڑو لگا لیا تو برتن دھو لو نا، کپڑے دھو لئے ہیں تو جھاڑو پونچھا بھی لگا لو نا۔ بہرحال کرونا

Read more

گانمن سچار کون تھا؟

انسان کا کردار اس کے انداز فکر پر مبنی ہوتا ہے۔ انداز فکر اچھا ہے تو کردار کا اچھا ہونا لازم ہے۔ انسان کے نظریات ہی اس کے کردار کی تشکیل کرتے ہیں اور کردار کی بنیاد سچ پر ہوتی ہے۔ جو سچ لکھتا ہے، سچ بولتا ہے اور سچ سننے کی طاقت رکھتا ہے وہ دراصل کردار کا غازی ہوتا ہے۔ کیوں کہ اتنی تکلیف سچ بولنے میں نہیں ہوتی جتنی کے سچ سننے میں ہوتی ہے۔ یاد رکھیں

Read more

معاشقانہ زندگی اب ماسکانہ ہوگئی

کورونا جیسے بے رحم صیاد نے نے اچھلتے، کودتے وجود کو خوف کا ماسک پہنا کر ذات کی جیل میں سکڑ کر بیٹھے رہنے پر مجبور کر دیا۔ حکم ہوا، تازہ ہوا سے فاصلہ رکھو، اپنی ہی سانس کے چکر میں الجھے رہو۔ ٹڈی دل، بے وقت بارشیں اور دیگر بحران بھی کم نہ تھے مگر خوف کا بحران زیادہ شدید ثابت ہوا۔ فکر تک محصور کر لی گئی۔ اندیشوں کی سولی تھامے کھڑے وقت نے نئی نئی خبروں کی

Read more

کرونا نر ہے یا مادہ

کسی بھی تحریر و تقریر میں ذکر کیا گیا واقعہ جتنا اہم ہوتا ہے، اتنی ہی اہمیت اس میں استعمال کیے گئے الفاظ کی بھی ہوتی ہے۔ یعنی تحریر و تقریر کی خوبصورتی الفاظ کے انتخاب اور اس کے بعد صحیح اور برمحل استعمال میں ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ تحریر و تقریر تو بہت شاندار ہوتی ہے لیکن دو چار الفاظ اس کا مزا کرکرا کردیتے ہیں۔ نادانی یا نادانستگی میں ہم الفاظ کو صحیح طور ادا نہیں کر پاتے۔ کبھی مذکر و مؤنث کی چھوٹی سی غلطی تحریر و تقریر کو پھیکا کر دیتی ہے تو کبھی ”کا، کے، کی، ہے، ہیں“ وغیرہ کا غلط استعمال تحریر و تقریر کو اڑان بھرنے سے روک لیتا ہے۔ جیسا کہ ایک بار خان عبدالولی خان سے کسی صحافی نے اصلاح کی غرض سے کہا کہ جناب آپ نے اپنی تقریر میں ”قوم“ کو مذکر استعمال کیا ہے حالانکہ یہ مؤنث ہے۔ خان صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کہ بھئی آپ کی قوم مؤنث ہوگی ”ہمارا“ قوم تو مذکر ہے۔

Read more

شاعر کے بال اور فکر و فن کی جوئیں

اس جبری فرصت اور تنہائی (لاک ڈاؤن) کو جھیلنے کے لیے اپنے اپنے گھروں میں محصور مرد حضرات کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر ایک ہی طرح کے ذائقے کی چائے پی پی کر تھوڑا اپنی زبان کا ذائقہ خراب کر بیٹھے ہیں۔ لاک ڈاؤ ن سے پہلے ہر نیا دن، نیا ذائقہ۔ بہرحال خواتین لاک ڈاؤن اور شٹر ڈاؤن کے باوجود بھی عید کی شاپنگ میں مصروف ہیں۔ ان کو لاک ڈاؤن کی کوئی پرواہ

Read more

بننا تھا پائلٹ بن گئے جہاز

چند دن پہلے میرے ایک جاننے والے کا نوجوان بیٹا اپنا دماغی توازن کھو بیٹھا اور اسے اسلام آباد کے دماغی امراض کے ہسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ محلہ داروں سے معلوم ہوا کہ پہلے مرحلے میں وہ دوستوں کی محفل میں فلمی انداز سے شوقیہ سگریٹ سلگاتا تھا پھر ایک آدھ بار ”پکی سگریٹ“ کا کش لگایا اور پھر پکی سگریٹ کا کش پکا ہوگیا، پھر دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کی اور چھوٹی عمر میں علاقے کا

Read more

ڈبے میں ڈبا، ڈبے میں کیک – عید کارڈ کی روایت

میری یادوں کی پٹاری میں یادوں سے جڑی بہت سی خوبصورت چیزیں اب قصہ پارینہ بن چکی ہیں۔ عید کارڈ بھی ان میں سے ایک ہے۔ اب جہاں ہم ترقی یافتہ بن چکے ہیں، وہاں اپنی خوبصورت روایات کے حوالے سے قحط الرجالی بھی ہمارے مقدر میں آئی ہے۔ ماضی میں عید کے نئے کپڑوں اور جوتوں کی خریداری سے قبل لوگ اپنے پیاروں اور عزیز و اقارب کو عید کارڈ بھیجنے کے لیے کارڈوں کی خریداری کرتے تھے۔ ان

Read more

ہر گھر سے شاکا نکلے گا

کرونا کی وجہ سے دنیا بھر میں چلتی زندگی رک چکی ہے۔ کھیل ختم، ملنا جلنا ختم، باہر جانا ختم، دفتر بند، بازار بند۔ زندگی محدود ہو کے رہ گئی۔ ایک وائرس نے پوری دنیا کو روک دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم فخر کرتے رہیں کہ انسان نے چاند کو تسخیرکرلیا اور مریخ پر پہنچ گیا۔ اس وقت صرف کورونا کے مریض ہی خلوت خانوں یعنی قرنطینہ کا شکار نہیں ہوئے بلکہ پوری دنیا اسیر ہوکے رہ گئی

Read more

اے چاند یہاں نہ نکلا کر

کرونا کے طفیل لاک ڈاؤن نے ہمیں بتا دیا کہ ہم دھوکے کی زندگی گزار رہے تھے اصل زندگی تو یہی ہے۔ درحقیقت کرونا نے ہمیں ہمارے اصل سے ملا دیا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہر کوئی اپنے گھر میں موجود ہے۔ پہلے کی طرح صرف صبح و رات نہیں بلکہ ماضی کی طرح شام بھی پھر سے واپس آگئی ہے۔ بچے پھر سے نانی، دادی سے کہانیاں سننے لگے ہیں۔ ایک

Read more

مہان تخلیق کار

فنونِ لطیفہ کی عظیم دھرتی ڈیرہ اسماعیل خان نے ہر دور میں کیا کیا یگانہ روزگار ہستیاں پیدا کیں، ہر ستارہ اپنے ساتھ ایک کہکشاں لئے ہوئے ہے۔ اسی روشن کہکشاں میں عصر حاضر کا ایک چمکدار ستارہ حمزہ حسن شیخ بھی شامل ہے جس نے اپنے قلم کی روشنی سے اس کہکشاں میں مزید رنگینیاں بکھیر کے سرزمینِ ڈیرہ اسماعیل خان کو ملکی سرحدوں کے پار بھی پہچان دی۔ حمزہ حسن شیخ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے

Read more

کورونا کے ہاتھوں قتل

سورج اپنی مہربان واجلی دھوپ کے ذریعے زندگی کی حرارت کا احساس دلانے کے بعد آہستہ آہستہ اپنی آب و تاب کھونے کے ساتھ اپنی آخری پھیکی کرنیں ہر سو پھیلا رہا تھا۔ مغرب کی جانب آسمان پرشفق کی لالی دھیرے دھیرے نمودار ہو رہی تھی۔ فضاؤں میں مغرب کی اذانوں کی الوہی صدائیں گونجنے میں ابھی تھوڑا وقت باقی تھا۔ ڈوبتے سورج کی طرح دس سالہ رانی کی بھی پلکیں تھکن اور دن بھر کی بوریت و اکتاہٹ کے

Read more

کھئی کے پان بنارس والا

کل ایک ویڈیو دیکھی جس میں پان چباتے ہوئے ایک شخص دوسری اشیاء کی طرح پان میں ڈالی جانے والی چھالیہ کی مہنگائی کا رونا رو رہا تھا۔ کہ پچھلے سال جو چھالیہ ساڑھے تین سوروپے کلو تھی اب چار ہزار روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ چھالیہ اتنی مہنگی ہوگئی ہے کہ پان پچاس یا اس سے زیادہ کا بھی فروخت کریں تب بھی نقصان ہی ہورہا ہے۔ پان خوری اچھی ہے یا بری۔ پان کی فروخت ہونی

Read more

بہارو پھول برساؤ

ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کی خواتین کی زبانیں میزائل بن کے گولے داغنے والے موسم کے علاوہ سال کا ہر موسم اور ہر ماہ اپنے اندر کچھ الگ انفرادیت رکھتا ہے۔ پاکستان وہ ملک ہے جسے قدرت نے بہت دلفریب موسموں سے نوازا ہے۔ کبھی موسم سرما ہے تو کبھی گرما، کبھی خزاں ہے تو کبھی بہار۔ کبھی دھوپ کے گھٹتے بڑھتے سائے، کبھی سردیوں کی طویل، اداس راتیں، ٹھنڈی شامیں، پت جھڑ، پھولوں کے کھلنے کا موسم اور

Read more

آئینہ جھوٹ نہیں بولتا

یوں تو ہرقسم کی محفل میں ہر قسم کا موضوع زیرِبحث لایا جاتا ہے۔ سیاست، ادب، سماج سے لے کر جدید سائنسی ایجادات تک کم سے کم پڑھا لکھا آدمی بھی بات کرنا چاہتا ہے۔ لوگ انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز، روبوٹ، اسپیس شٹل، ڈرون اور کن کن اشیاء کا ذکر نہیں کرتے جو ان کی زندگیوں کو آسان بنا رہی ہیں۔ مگر آئینے کا کوئی نام نہیں لیتا۔ کوئی اس غریب آئینے کو شاباشی نہیں دیتا۔ اس کا شکریہ ادا نہیں

Read more

پپو یار جنگ نہ کر

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ دنیا کے کروڑوں افراد سوشل میڈیا کے جادو کے زیر اثر ہیں۔ سوشل میڈیا کو نہ صرف انفرادی طور پر استعمال کیا جا رہا ہے بلکہ اجتماعی طور پر بھی۔ لیکن اس سوشل میڈیا کے دور میں بھی رکشہ، ڈاٹسن، فلائنگ کوچ، بس اور ٹرک میڈیا اپنی اہمیت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ گھر یا دفاتر سے باہر وقت گزارنے والے ہر طبقہ فکر اور ہر عمر کے لوگ عوامی ٹرانسپورٹ

Read more

یہ کہانیاں پڑھنا منع ہے

جب مادی دور کی لعنتوں نے معاشرتی زندگی میں زہر گھول دیا ہو۔ ہوس زر نے نوع انساں کو خود غرضی، انتشار اور بے حسی کی بھینٹ چڑھا دیا ہو۔ مسلسل شکست دل کے باعث بے حسی پیدا ہو چکی ہو۔ عادی دروغ گو اور سادیت پسندی کے مرض میں مبتلا مخبوط الحواس درندوں نے رُتیں بے ثمر، کلیاں شرر، آہیں بے اثر، آبادیاں پُرخطر، زندگیاں مختصر اور گلیاں خوں میں تر کر دی ہوں۔ تو ایسے حالات میں اگر

Read more

کلماں چھوٹیاں رکھاں کہ وڈیاں؟

صنعت کے بطن سے جنم لینے والے انقلاب کی وجہ سے روایتی پیشے، ہنر، کاروباری مراکز یا پیسہ کمانے کے طریقے بدل گئے اور اس تبدیلی نے ہر معاشرے کو بے چینی اور خلفشار کا شکار کر دیا۔ پیسہ کمانے کے طور طریقے بدلنے سے معاشروں میں روایتی افراد اور پیشوں کی سماجی حیثیت شدید متاثر ہوئی اور اثر رسوخ، نام اور پیسہ صنعت کار لے اڑے۔ اس سماجی تبدلی کی زد میں کئی معاشرتی کردار اور پیشے بھی وقت

Read more

چمچہ

کسی بھی مہذب معاشرے میں فنکار، لکھاری، ادیب، شاعر، موسیقار، گلوکار اور اداکار کو عام انسان کے سانچے سے مختلف سمجھا جاتا ہے کیونکہ مہذب دنیا سمجھتی ہے کہ یہ لوگ وہ ”میوٹیٹیس“ ہوتے ہیں جو کسی بھی معاشرے میں اس لئے پیدا کر دیے جاتے ہیں کہ اس معاشرے کے لوگ کہیں اپنی زندگیوں کی بے رنگی سے تنگ آکر مر ہی نہ جائیں لیکن اب محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں ان شخصیات کو پس پشت ڈال کر

Read more

مرشد! پلیز، آج مجھے وقت دیجیے

کبھی کبھی لگتا ہے مجھ جیسے سفید پوش افراد بلاوجہ زندگی کو سنوارنے کے لئے اپنی خوشیاں تیاگ دیتے ہیں۔ اپنے جذبوں کو دبا دیتے ہیں اور اچھی بھلی دل کو لبھاتی ہوئی خواہشات کا گلہ گھونٹ دیتے ہیں۔ حاصل وہی روایتی سے سمجھوتے ہوتے ہیں، وہی روزمرہ کی ضروریات پوری ہوتی ہیں اور دلی خوشی تو خالی مٹھی سے ریت کی طرح سرک چکی ہوتی ہے۔ سچی بات ہے کہ باقی دنیا کے ساتھ ہمارا تعلق مجبوری کا ہی

Read more

کربلائے کشمیر

کبھی کشمیر اپنے حُسن ِفطرت، دلکش نظاروں، سر سبز پہاڑوں ”بلند و بالا سر سبز چناروں، جھاگ اڑاتے دریاؤں، جھلملاتی برفوں، گنگناتے جھرنوں، شور مچاتی آبشاروں، دل آویز موسموں، سکون و راحت، خوشیوں کے مسکن اور جنت ارضی کے طور پر مشہور تھا۔ مگر اب اُس کی پہچان یہ قدرتی حُسن نہیں، جو آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے، بلکہ بچّوں کی چیخیں، جوان لاشے تھامے ماؤں کی سِسکیاں، لہو روتی لاچار ممتائیں، گھروں سے اُٹھتے آگ کے شعلے، بے گوروکفن

Read more

مرشد! زبان ِ اردو کا دکھ بھی تو کوئی سنے

تین دن پہلے علاقائی ادبی تنظیم اردو بچاؤ تحریک کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں تمام مقامی ادیب، لکھاری اور شاعر حضرات حاضر تھے۔ معتمد نے تحریک کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ علاقے کی واحد ادبی تحریک ہے جو برسوں سے ادب کی خدمت کر رہی ہے۔ آج کے اجلاس کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ نئی نسل اردو ادب سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ نوجوانوں کو اپنی زبان سے قریب کرنا

Read more

مقدس بندھن

وقت کے ساتھ ساتھ اقدار کا بدلنا سماج کا ارتقائی عمل ہے۔ یہ نہ رکا ہے اور نہ ہی آئندہ اسے روکا جاسکے گا۔ لیکن ہمیں سوچنا چاہیے کہ سماجی اقدار کے ارتقا ء میں کیا ہمیں اپنی اُن بنیادی روایتوں کو بھی تبدیل کردینا چاہیے جن پر اس سماج کی بنیاد کھڑی ہے؟ یقیناًنہیں، لیکن افسوس کہ ایسا ہی ہورہا ہے۔ بہرحال موجودہ دور کے اہم ترین مسائل میں شادی، ایک سماجی عفریت بلکہ بچوں کے رشتوں کا معاملہ

Read more

شکر ہے کوئی کتا نہیں

پاگل کتوں نے شہر میں انت مچایا ہوا ہے، لوگوں کا جینا دو بھر ہے۔ ان کی خوفناک آوازیں سن کر گلی پر کوئی بچہ بھی نہیں نکلتا کہ کہیں کوئی پاگل کتا کاٹ ہی نہ لے۔ رانی بیٹی! زرہ غور سے سنو ناں گلی میں کسی کتے کے بھونکنے کی آواز آ رہی ہے۔ ماں اپنی پانچ سالہ ننھی رانی کو گود میں لٹائے سمجھا رہی تھی۔ رانی کا کھلتا ہواچہرہ کتوں کے خوف سے دھیرے دھیرے پیلا پڑنے

Read more

یہ فلٹر پلانٹ میری نظر میں ”پنگھٹ“ کی جدید شکل ہیں

گزرتا وقت بہت سی چیزوں کو بدل دیتا ہے۔ کئی چیزوں کی اہمیت کم ہو جاتی ہے یا ان کی جگہ نئی چیزیں لے لیتی ہیں اور ان سے منسلک افسانوی پہلو وقت کی دھول میں کھو جاتا ہے۔ جس طرح پینٹر کو بھی کسی دور میں بڑی اہمیت حاصل تھی۔ اس کے ہاتھ میں چھپا فن جب ظاہر ہوتا تھا تو کوئی نہ کوئی شہہ پارہ تخلیق ہو چکا ہوتا تھا۔ سڑک کنارے یا کسی دکان میں رنگوں کے

Read more

ادبی جمود، ادیب اور عادت

انسانوں کی تو کئی قسمیں ہو سکتی ہیں مگر میرے خیال میں لوگوں کی صرف تین ہی قسمیں ہوتی ہیں۔ خاص لوگ، عام لوگ اور ادیب لوگ۔ خاص لوگ ہمیشہ خاص باتیں، عام لوگ ہمیشہ عام باتیں اور ادیب لوگ ہمیشہ ادب پے چھائے جمود کی باتیں کرتے ہیں۔ ادیب لوگ جب بھی ادبی جمود کی بات کرتے ہیں تو مجھے شمالی علاقہ جات کے برف سے ڈھکے ہوئے بلکہ جَمے ہوئے پہاڑ یاد آ جاتے ہیں۔ پھر جب اس

Read more

گرم پکوڑے

نئے سال کے پہلے مہینے کی رم جھم پھوار اور گرتی بوندوں نے، سرمئی بادلوں کے کناروں پر قوس و قزح کے رنگوں سے جھانکتے سورج کی کبھی کبھی مدہم و نرم روشنی نے سردی کے موسم کو دلکش و حسین بنایا ہویا ہے۔ آسمان سے اترتی گنگناتی بوندوں نے شہر میں ہر اہل ذوق کو دعوتِ نظارا بخشا ہے، اس ہلکی پھوار اور سردی میں اپنوں کا ساتھ ہو تو موسم کا مزا دوبالا ہو جاتا ہے۔ ایسے موسم

Read more

دھند میں اندھا دھند محاورے

اتنی شدید سردی، واقعی سچ ہے، خدا دیتا ہے تو چھپّر پھاڑ کر دیتا ہے، سردی کی بدولت رگوں میں خون سفید ہو گیا ہے۔ سردی نے اس طرح آڑے ہاتھوں لیا ہوا ہے کہ بندہ اپنے گریبان میں بھی نہیں جھانک سکتا۔ ایسے موسم میں تو بندہ کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے محاورے کا عنوان نظر آتا ہے۔ سردی کی شدت میں ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز یا ایک توے کی

Read more

سنہ 2020 کے پہلے تھپڑ کی گونج

یہ خالصتا میرا ذاتی نظریہ ہے کہ کچھ لفظ بعد میں بنے ہوں گے، پہلے ان کی آواز بنی ہوگی۔ جیسا کہ لفظ ہے ’تھپّڑ‘ ۔ اس تھپڑ کے لئے ایک طاقتور بازو، توانا ہاتھ، کھلا پنجا اور غضب کا اشتعال ہونا لازمی ہے ورنہ تھپڑ کسی کام کا نہیں۔ ۔ بہرحال جب یہ ساری لوازمات پوری ہوں تو پھر تھپڑ ہوا میں زناٹے بھرتا ہوا جاکر کسی کے رخسارِ محترم پر پڑنے کے ساتھ ساتھ ایسی گونج پیدا کرتا

Read more

الو ہمارے بھائی ہیں

روٹھی ہوئی دھوپ، کُہر کی چادر اوڑھے تمازت سے محروم سورج، یخ بستہ اور کڑاکے کی سردی، دھند سے دھندلے منظر، زمین پہ کُہرے کی بچھی ہوئی سفید چادر، زرد پتّوں کی ”بُکل“ مارے بیمار درخت، سردی کی اُداس شامیں اوریخ بستہ طویل راتیں، صحن میں اگر رات کو پانی گر جائے تو صبح کے وقت وہ شیشے کی طرح جما ہوا نظر آتا ہے۔ سردی میں آنسو تو نہیں جمتے مگر سردی اتنی شدید ہے کہ رگوں میں خون

Read more

بھائی شاپر ذرا ڈبل کر دینا

انسان اپنی سہولت کے لئے جتنی بھی ایجادات کرتا چلا آرہا ہے وہیں اس کے بیشمار فوائد کے ساتھ ساتھ نقصانات بھی سامنے آتے جارہے ہیں۔ بہت ساری ایجادات ایسی بھی ہیں جس کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔ یہ بات طے ہے کہ ہر ایجاد کے منفی یا مثبت پہلو ضرور ہوتے ہیں جن پر نظر رکھنا اور نقصان پہنچانے والے پہلوؤں کو کم سے کم کرنا ہی تحقیق و جستجو کا دوسرا نام ہے۔ بہرحال آپ شہر

Read more

بھاگتے چور کی لنگوٹی سہی

کہاوتیں، ضرب الامثال، روزمرہ اور محاورے ہر زبان کا ایک اٹوٹ، نا گزیر اور دلچسپ حصہ ہوتے ہیں۔ دُنیا کی شاید ہی کوئی ایسی زبان ہو گی جس میں کسی نہ کسی صورت و حد تک ان کا استعمال نہ ہوتا ہو۔ جس طرح شعر و شاعری میں صنائع و بدائع، تراکیب و بندش، تشبیہات و استعارات، الفاظ کی نشست وبرخواست وغیرہ لطف زبان و بیان، معنی آفرینی، اثر پذیری، چاشنی اور چٹخارے کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں اسی

Read more

ڈاکیا اور خط

یہ سچ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ معاشرہ تغیر و تبدیلی کے عمل سے گزرتا رہتا ہے سماجی علوم کے ماہرین کے مطابق ہر تیس سال کے بعد معاشرتی اقتدار رسم رواج تک تبدیل ہوجاتے ہیں اگرآج سے تیس سال پہلے کا کوئی شخص زندہ ہوکر واپس آجائے تو اس کے ردعمل سے ہمیں یہ پتا چلے گا کہ سماج میں کیا تبدیلی آئی ہے کیونکہ ہم زندہ انسان ان تبدیلوں کو اس لئے محسوس نہیں کرتے کہ یہ

Read more

جوتے مارنا

کچھ پرانی بلکہ بے حد پرانی یادیں اکثر مجھ سے ملنے آ جاتی ہیں، کیونکہ یادیں انسان کا سب سے قیمتی اور خوبصورت سرمایہ ہوتی ہیں۔ جینے کا سہارا۔ ان میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ جتنی پرانی ہوتی ہیں اتنی ہی جگمگانے لگتی ہیں۔ پھر سنہری ہو ہو کے سونا سا بن جاتی ہیں۔ بے انتہا قیمتی۔ ہر انسان کے پاس یادوں کے قیمتی زیورات نوادرات کی طرح محفوظ ہوتے ہیں۔ اپنے انوکھے ہی ڈیزائین کے ساتھ،

Read more

مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے

دنیا بھر میں دسمبر کی آمد کو خوشیوں کی آمد کے طور پر تصور کیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ وہی مہینہ ہے جس میں پوری دنیا میں کرسمس، نئے سال کی آمد کی خوشیوں اور تیاریوں کا آغاز شروع ہوجاتا ہے۔ لیکن پاکستان کے لئے ملکی و سیاسی اعتبار سے پچھلے اڑتالیس سالوں سے دسمبر کی بہت تلخ یادیں وابستہ ہیں۔ تین سال پہلے 7 دسمبر کے پی آئی اے کے طیارہ تباہ ہونے والے واقعے نے دسمبر کو غم

Read more

جنت کا گمان اک خواب

سردیوں کی شامیں ہوں یا بدلتی رتوں کا المیہ، یا دھندیں لئے ہوئے کسی کے وعدے، یا کہ کسی آنکھ میں اترتے سنہری خواب، دراصل ان تمناؤں کا پژمردہ ہوتے ہیں جو نجانے کب ہاتھ سے پھسلی اور کھو گئیں اور سب کچھ جامد ہو کر رہ جاتا ہے۔ جبکہ دسمبر، صداؤں، وفاؤں، دعاؤں اور تمناؤں کا موسم ہے، نجانے کتنی آرزوئیں، تمنائیں اور خواب کسی لکھاری کی قلم سے صفحہِ قرطاس پہ اترنے لگتے ہیں۔ خیالِ تازہ خوشبودار ہوا

Read more

میری جرابیں کہاں ہیں

مجھے آج تک سمجھ نہ آ سکی کہ کیوں اور کس طرح لوگوں کے سردیوں کے موسم میں جذبات و احساست رومانوی ہو جاتے ہیں ِ؟ مجھے تو خالص کپاس کی بنی ہوئی رضائی کی گرم دنیا چھوڑ کر اور اس سے باہر نکل کر کام کی دنیا میں جانا پڑے تو چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔ سرد رُت کی سرد ہواؤں سے میرے جسمانی عناصر کے ظہور کی ترتیب کو شدید خطرات بھی لاحق ہو جاتے ہیں۔ پچھلے

Read more

چائے سے چاہ

اپنی جنم بھومی ڈیرہ اسماعیل خان سے دور شہر ِ روزگار میں دسمبر کا شروعاتی ہفتہ۔ یہی وہ دن ہیں، جب عجیب سی اُداسی اور ویرانی چار سُو پھیل جاتی ہے، راتیں طویل اور دن چھوٹے ہونے لگتے ہیں، شام کے بعد سڑکوں پر سناٹوں کا راج، شہروں میں جنگلوں کی سی خاموشی اور سرد ہوائیں ہڈیوں میں اترتی محسوس ہوتی ہیں۔ یہی منظر میری نگاہ کے سامنے تھا، شہر ِ روزگار میں کرائے کے مسکن سے ہر چیز کو

Read more

پتلی تماشہ جاری ہے مگر کہیں اور

دسمبر شروع ہو چکا ہے، ابھی بھی کئی لوگ سویٹر نہیں پہن رہے۔ گرم پانی سے نہیں نہا رہے۔ چلغوزے تو قوت خرید سے باہر ہیں لیکن مونگ پھلی نہیں خرید رہے۔ یخنی نہیں پی رہے۔ اُبلے انڈے نہیں کھا رہے۔ ائیر کولروں پر پلاسٹک شیٹ نہیں باندھ رہے۔ جوشاندہ نہیں پی رہے۔ دھوپ میں نہیں بیٹھ رہے۔ لنڈا بازار کا چکر نہیں لگا رہے۔ دستانے نہیں خرید رہے۔ اونی ٹوپیاں نہیں لے رہے۔ سردی سے کپکپا نہیں رہے۔ دانت

Read more

سیلفیاں رے سیلفیاں

آج ہر شخص اپنی مٹھی میں پوری دنیا لیے گھوم رہا ہے۔ جس کو دیکھو وہ اپنے قیمتی موبائل فون پر اترا رہا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کے بہت سے فیوض و برکات ہیں اور اگر ہم اس کا بہتر استعمال کریں تو فائدہ ہی فائدہ ہے۔ لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ ہر شے کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک اچھا دوسرا برا۔ اب یہ آپ کی صوابدید پر ہے کہ آپ اس کے کس پہلو کو

Read more

جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

آج ترقی پسند انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی برسی کا دن ہے۔ 13 فروری 1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ 20 نومبر 1984 کو دل کی شدید تکلیف کے باعث میو ہسپتال میں انتقال ہوا، ماڈل ٹاؤن لاہور کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیے گئے۔ ہر دور میں ایک نہ ایک آواز ایسی ضرور ابھرتی ہے جسے کوئی بھی صاحب دل اور اہل شعور نظر انداز نہیں کر سکتا۔ جس کا تاثر وسیع بھی ہوتا ہے اور دور

Read more

اقبال کے شاہین

ربِ کائینات جب کسی قوم پر رحم کرتا ہے تو اسے مدبّر انسانوں سے نوازتا ہے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں علامہ اقبال جیسی عظیم شخصیت عطا ہوئی جومعلم انسانیت کا درجہ رکھنے والے، جن کا فکروفلسفہ اور دستور العمل قرآن کے گرد گھومتا ہے۔ جن کا کلام آفاقی ہے۔ جن کے لفظ طاقتِ پرواز رکھتے ہیں اور سوچ و شعور کے شناور ہیں۔ علّامہ اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں میں ایک تلاطم پیدا کیا، جس کے نتیجے میں

Read more

متاع گم گشتہ۔ ٹھپے اور چھینبے کا کام

یادوں کا ایسا سفر ہے جیسے اونٹوں کی لمبی قطار جن کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دیا گیا ہے۔ ہر اونٹ پہ یادوں کا سامان لدا ہے۔ کہیں حسرتوں کے تھیلے لٹک رہے ہیں، کہیں خوشیوں کی پوٹلیاں، لگتا ہے ہر اونٹ کے کجاوے پہ دونوں طرف ماضی کی یادوں، ماضی کے لوگ، ماضی کے پیشے، حسرتوں پشیمانیوں اور خوشیوں کے تھیلے توازن کے ساتھ رکھ دیے گئے ہیں۔ میں نے اکثر لوگوں کو ٹھنڈی سانسوں میں جیتے دیکھا۔

Read more

مشہور اشعار، گمنام شاعر 2

ان تمام ادباء، شعراء اوراردو ادب پر تحقیقی کام کرنے والے طلباء کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ذاتی طور پر فون، میسجز اور مختلف ذرائع سے میرے اس تحقیقی کام کو سراہا اور حوصلہ افزائی فرمائی۔ بہر حال ان طلباء کے لئے عرض ہے کہ شعر کا لفظ تاریخی طور پہ شعور سے نکلا ہے یعنی کسی چیز کو جاننا اور جدید اصطلاح میں ایسا کلام جو کسی واقعے یا موضوع کی طرف اشارہ کرتا ہو۔ اور اس کے

Read more

مشہور اشعار، گمنام شاعر

ہمارے قابل فخر اور منجھے ہوئے لکھاری جناب سید ارشاد حسین شاہ صاحب کے کالم بعنوان ”شاعر اور انقلاب“ نے مجھ جیسے طفل مکتب کو تحریک دی کہ میں بھی اس بارے کچھ مستند حقائق کی روشنی میں گمنام شعراء کا تزکرہ کرسکوں۔ ۔ یہ حقیقت ہے کہ اردو شاعری کی تاریخ میں سیکڑوں شعراء کے کلام میں ایسی تہہ داری، گہرائی اور آفاقی حقائق کی دنیا پویشدہ ہے کہ ان اشعار کو بار بار دہرایا جاتا ہے اور یہ

Read more

گمشدہ سائیکل

وقت ٹھہرتا نہیں مگر لفظ وقت اور زمانوں سے ماورا ہوتے ہیں، دودھیا یادوں میں آزادی سے گھومتے پھرتے ہیں اور جب دل چاہے سر نکال کر سامنے آ جاتے ہیں۔ لفظ سادہ ہو سکتے ہیں مگر یادیں کبھی سادہ نہیں ہوتیں، ان کے اپنے رنگ اپنی خوشبو، بناؤ سنگار اور اک انوکھی سی چاشنی اور گہری اثر انگیزی ہوتی ہے۔ بھلے وقت کو پر لگ جائیں یادیں اپنی گہرائی کے حصار میں رہتی ہیں، یادیں اچھی ہوں یا تکلیف

Read more

فیل یا کم نمبر لینا جرم نہیں

مجھے یہ خبر پڑھ کہ دلی خوشی ہوئی کہ بھارت کے شہر بھوپال میں ایک ایسا شخص بھی ہے جس نے دسویں جماعت میں فیل ہونے والے اپنے بیٹے کو مارنا تو دور کی بات ڈانٹا تک نہیں اور اُلٹا اس کے اعزاز میں ایک شاندار پارٹی کا اہتمام کر کے اس کے تمام دوستوں کو بھی شرکت کی دعوت دی۔ اس پارٹی میں نہ صرف پٹاخے پھوڑے بلکہ پارٹی میں حصہ لینے والوں اور آنے والے مہمانوں میں مٹھائیاں

Read more

ادبی خواتین

فراغت کے لمحات میں جب آپ اپنے ماضی کو یاد کریں تو ایک کے بعد ایک یاد آپ کے ذہن پردستک دیتی رہے گی۔ ایسے ہی اپنے ماضی کا ایک رنگین ورق پیش کرتا ہوں، جب والد مرحوم محسن علی عمرانی کے دیرینہ دوست اور مہان شاعر و ادیب جناب خاطرغزنوی صاحب کے توسط سے کوہاٹ کے میاں راشد نذیر بمعہ اہلیہ کسی سرکاری کام کے سلسلے میں ڈیرہ آئے، کام سے فراغت کے بعد جب ہمارے گھر آئے تب

Read more

دامان آرٹس کونسل

تہذیب اور تخلیق کسی معاشرے کے بامقصد تشخص کی عمارت کے دواہم ستون ہیں۔ تہذیب سماج کے تنظیمی اصولوں کی عملداری۔ جب کہ تخلیق زندگی کے اخلاقی اور جمالیاتی رویوں کی کارپردازی ہے۔ تہذیب اور تخلیق دونوں آپس میں اس طرح گندھے ہوئے ہیں جیسے پھول میں رنگ اورخوشبو ایک ہی جگہ جمع ہیں۔ تخلیقی ادب اصل میں نیرنگء حیات کی عکّاسی کا نام ہے چاہے وہ افسانے ہوں شعر و شاعری ہو، کالم نگاری ہو، پینٹنگ ہو یا فنون

Read more

ملاوٹی اردو

آج کا معاشرہ اردو کے عروج کو بھول بیٹھا ہے۔ اس زبان کی مٹھاس، شائستگی، تہذیب اور ادب و آداب، تمام زوال کا شکار ہیں۔ جس کی نشان دہی اردو زبان اور اردوادب سے وابستہ لوگ ببانگِ دہل کرتے ہیں۔ موتیوں کی سی شکل کے الفاظ، انداز و بیاں کی مہارت، چنیدہ الفاظ کی شستگی اور مٹھاس، لب و لہجے کا اتار چڑھاؤ اس زبان کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ لیکن عصر حاضر میں بولی جانے ولی اردو زبان محض ایک

Read more

"ڈیرہ اسماعیل خان کا لاوارث ورثہ “چوگلیہ

زندہ قوم کی تہذیب و تمدن کا اندازہ اس کے شاندار ماضی سے ہوتا ہے۔ پرانا ورثہ و تہذیب اور عمارتیں جہاں ہماری ارتقائی جدوجہد سے آگاہ کرتی ہیں وہاں ہمارے لئے عبرت اور سبق کا سامان بھی فراہم کرتی ہیں۔ ہم جان سکتے ہیں کہ ہم کیا تھے، کیا ہیں اور کیا ہونا چاہیے تھا۔ کائناتی حقیقت اور سچ یہی ہے کہ دنیا کی مہذب قومیں اپنے اپنے ثقافتی اور تہذیبی ورثوں کو ہمیشہ سنبھال کر رکھتی ہیں اور

Read more

”ادب کی کستوری“ بیٹھک

جب سے انسان کو حرفوں کی پہچان ہوئی ہے تب سے عصر حاضر تک ہر دور میں لکھنے والے لکھتے رہے اور پڑھنے والے بھی موجود رہے۔ کچھ لوگ اس لیے لکھتے ہیں کہ ان کا لکھا بکتا ہے اور مجھ جیسے کچھ لوگ اپنا کتھارس کرنے کے لیے مجبور ہو جاتے ہیں اور اس بات کی قطعی پرواہ نہیں کرتے کہ ہمارا لکھا ہوا پڑھا بھی جائے گا یا نہیں۔ ہر شخص کا ماضی اسے ہمیشہ یاد رہتا ہے

Read more

سوشل میڈیا کے دانشور

وطن عزیز کے تمام ہم وطن جس طرح آج کل معیشت اور مہنگائی کے کوہ ِ گراں کو عبور کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں اور ابھی بھی معیشت کے قرض کے پہاڑ کو عبور نہیں کر پائے، ایسے میں فکر و ادب اور دانشوری جیسے روکھے اور خشک عنوانات پر بات کرنا یقینا مجھ جیسے فارغ بلکہ فارغ البال لوگوں کا خاصہ ہی ہو سکتا ہے۔ سو معیشت، مہنگائی، مسائل، سیاست جیسے تروتازہ عنوانات کسی اور وقت پہ اٹھا رکھتے ہیں۔

Read more