یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں تیسری یا چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا۔ یعنی یہ میرا وہ ”احوال“ ہے، جو اب ماضی بن چکا۔ مگر اس احوال کی فرحت ناکی سے آج بھی میرا دماغ معطر ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ماں باپ اپنے بچے کے بارے خوف زدہ نہیں ہوتے تھے کہ نہ جانے کب اسے کوئی درندہ اچک لے اور اس کی نوچی ہوئی لاش کسی قریبی کھیتوں یا کچرا کنڈی میں ورثا کی منتظر ہو۔ یہ اس دور کی کہانی ہے، جب بچوں کے ساتھ ساتھ نو جوان بھی بھی مٹی کے ساتھ کھیلتے تھے۔
تمام بچوں کے بچپن کی شرارتیں، شوق اور کھیل عموماً ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ ویسے ہی مجھے بھی تمام کھیلوں کے ساتھ ساتھ دو چیزوں کا زیادہ شوق تھا۔ ایک اپنے محلے کی مسجد کے بڑے اور گہرے کنویں سے چرخی چلا کہ پانی کے ڈول نکالنا اور دوسرا غلیل کو ساتھ رکھنا۔ یاد رکھیں بچپن میں میری دہشت گردی بھی افغانستان میں جاری جنگ کی طرح موسم بہار میں عروج پر آ جاتی تھی۔ جیسا کہ افغانستان کی ہر بہار امریکا اور اس کے پجاریوں کے لیے ایک نئی آفت لے کر آتی ہے۔
Read more