شیث خان اور نیلم محل
نکہتِ زلف سے نیندوں کو بسا دے آ کر
میری جاگی ہوئی راتوں کو سُلا دے آ کر
فکر فردا و غم ِ دوش بُھلا دے آ کر
پھر اسی ناز سے دیوانہ بنا دے آ کر
ہر شعر پر واہ واہ اور مرحبا کا غلغلہ اُٹھتا۔ طبلے کی تھاپ اور دلوں کی دھڑکن تیز ہوتی جاتی، ستار کے سُرجاگ پڑتے اوربارہ دری کے ہر دروازے سے ایک ایک رقاصہ اس طرح نکلتی کہ جلترنگ کی رم جھم اورگھنگھرو کی جھنکار سے پورا محل جھنجھنا اٹھتا۔ حاضرین کو جام پر جام پیش کیے جاتے اور جوں جوں رات گزرتی، ان کی مدہوشی میں اضافہ ہوتا جاتا۔ آنکھیں کھلی رکھنا دشوار تر ہوتا جاتا اورگاؤ تکیوں پر دباؤ بڑھتا جاتا حتیٰ کہ محلے کی مسجد سے فجر کی آذان بلند ہوتی اور اس کے ساتھ ہی ساز خاموش ہوجاتے۔ نیلم بائی اٹھ کھڑی ہوتی، جھک کر داہنے ہاتھ کی پوروں کو پیشانی سے لگا کر حاضرین کو آداب کرتی اور رقاصاؤں کے جھرمٹ میں کمروں کی طرف مڑجاتی۔
نیلم بائی کا کوٹھا دوسری منزل پر تھا۔ نچلی منزل میں دوسری طوائفیں آکر بس گئی تھیں جن سے نیلم بائی اچھا خاصا کرایہ وصول کرتی تھی۔ زینے کے نیچے شیث خان پہرہ دیتے تھے جو لحیم وشحیم تھے۔ اگر کوئی اجنبی اوپر جانے لگتا تو باقاعدہ اس کا انٹرویو لیتے۔ اگر حلیے یا بول چال سے ایسا ویسا لگتا تو واپس کردیتے۔ ان کا ڈیل ڈول دیکھ کر کسی میں ہمت نہیں ہوتی تھی کہ ان سے بحث کرے اور چپ چاپ پلٹ کر نچلی منزل میں ہی کسی کوٹھے کا رخ کرتا تھا۔
شیث خان اپنے زمانے میں خود نواب ہوا کرتے تھے مگر نیلم بائی کے عشق میں مبتلا ہوکر کنگال ہوگئے۔ اچھے دنوں میں ان کی اور دلارے میاں کی خوب نبھتی تھی کیونکہ دونوں ایک ہی کوٹھے کے گاہک تھے اور نیلم بائی پر دولت لٹانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے چکّر میں رہتے تھے۔ جب شیث خان کا بُرا وقت آیا اور سب کچھ بِک بِکا گیا یہاں تک کہ خاندانی حویلی کی قرقی آگئی تو ایک دن وہ دلارے میاں کو ایک طرف لے گئے اور اِدھر ادھر دیکھ کر بڑی رازداری سے اپنے تھیلے سے ایک ہار نکال کر انہیں دکھایا۔
”کیا خیال ہے تمہارا اس ہار کے متعلق؟ “ وہ سرگوشی کے انداز میں بولے، ”گن لو، خالص سونے کی سات لڑیاں ہیں۔ “
”اچھا خاصا ہے، “ دلارے میاں نے اُلٹ پُلٹ کر دیکھا۔
”ایسا ست لڑا کبھی دیکھا ہے؟ “
”دیکھا تو نہیں مگر تمہارا مقصد کیا ہے؟ “
”خریدوگے؟ “
”کیا لوگے؟ “
”پانچ ہزار سے کم نہیں لوں گا۔ “
دلارے میاں نے ایک بار پھر لڑیاں گنیں، پوری سات تھیں۔ بولے، ”مگر تم بیچ کیوں رہے ہو؟ “
”یار اب میرا پائجامہ تو مت اتارو، بس بیچ رہا ہوں۔ “
”ٹھیک ہے، میں کسی سنار کو دکھا لیتا ہوں۔ “ دلارے میاں نے کہا۔
”شوق سے دکھاؤ۔ اگر ایک بھی ٹانکا نکلے تو میرا نام بدل دینا۔ “
جب دلارے میاں نے وہ ہار صرافے میں کئی سناروں کو دکھایا توانہوں نے اس کی قیمت کا تخمینہ پچیس اور تیس ہزار کے درمیان لگایا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سونا 32 روپیے تولہ بکتا تھا۔ انہوں نے گھر آکر وہ ست لڑا ہار اپنی بیوی کے گلے میں ڈال دیا اور اپنے کارندے کے ہاتھ شیث خان کو ایک تھیلی بھیج دی جس میں ایک ایک روپیے کے پانچ ہزار سِکے تھے۔
اگلے دن رات گئے جب نیلم بائی مجرے سے فارغ ہوئی اور حاضرین اٹھنے لگے تو شیث خان ہاتھ میں تھیلی لئے ہوئے دروازے میں کھڑے تھے۔ نیلم بائی انہیں دیکھ کر ٹھٹک گئی۔ سازندے بھی جا چکے تھے اور نیلم بائی وہاں تنہا رہ گئی تھی۔ شیث خان اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے تھے۔
”زہے نصیب، زہے نصیب۔ نواب صاحب، کہاں رہ گئے تھے؟ جب ہی تو میں کہوں کہ آج محفل میں چراغ تو تھے مگر ان میں روشنی کیوں نہ تھی، “ نیلم بائی نے جھک کر کہا۔
شیث خان خاموش کھڑے نیلم بائی کو گھورتے رہے۔ لگتا تھا کہ وہ اپنے حواسوں میں نہیں تھے۔ گریبان کھلا ہوا تھا، بال بکھرے ہوئے تھے اور آنکھوں سے عجیب وحشت جھانک رہی تھی۔
”فرمائیے نواب صاحب، آپ کی اور کیا خدمت کرسکتی ہوں؟ “ نیلم بائی آگے بڑھ کر بولی۔
شیث خان چونکے جیسے اچانک ہوش آگیا ہو، اور اختر شیرانی کی اس نظم کا مقطع پڑھا جس پر نیلم بائی نے اپنی محفل ختم کی تھی۔
کسی حسینہ کے معصوم عشق میں اخترؔ
جوانی کیا ہے میں سب کچھ تباہ کر لوں گا
یہ کہہ کر انہوں نے تھیلی کا منہ کھولا اور نچلے سرے کو پکڑ کر نیلم بائی کی طرف اچھال دی۔ پورے فرش پر ایک ایک روپیے کے سِکے چھن چھن کرتے ہوئے بکھر گئے اورقمقموں کی سنہری اور یاقوتی کرنوں کی روشنی میں ہر طرف جگمگ جگمگ کرنے لگے۔ شیث خان نے نیلم بائی کے سامنے وہی عہد کیا جو ایک نو بیاہتا، سسرال کی دہلیز پر پہلا قدم رکھ کر کرتی ہے۔
”میں یہاں سے جانے کے لئے نہیں آیا، “ شیث خان نے کہا، ”اب تو مر کر ہی نکلوں گا۔ “
”زہے نصیب، یہ گھر بھی آپ ہی کا ہے، “ نیلم بائی نے اپنی انگلیوں کی حنائی پوروں سے پیشانی کو چھوتے ہوئے جواب دیا، اور اگلے دن سے شیث خان کی ڈیوٹی زینے کے نیچے لگ گئی۔

