کیا غریب عوام کی چیخیں نکلوانے سے معیشت مستحکم ہوجائے گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں کبوتر کو اپنے گرد خطرہ نظر آئے تو وہ اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے حالانکہ ایسا کرلینے سے اس کی جان نہیں بچ جاتی۔ گزشتہ حکومتوں سے تنگ آخر عوام نے عمران خان کو منتخب کیا تو عمران خان نے عوام سے کہا میرے پاکستانیوں آپ نے گھبرانا نہیں ہے اور پاکستانیوں نے بھی وزیراعظم کے اس جملے کو سننے کے بعد اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ عمران خان نے آتے ہی قوم کو یقین دلایا کے چور لٹیروں کو جیل میں ڈالا جائے گا، کسی کو این آر او نہیں ملے گا اور ملک کے حالات ٹھیک ہوجائیں گے۔

تحریک انصاف کے دیگر نمائندوں نے بھی اپنے طور پر قوم سے مختلف وعدے کیے کسی نے کہا بیرون ملک سے لوگ پاکستان میں ملازمتیں کرنے آئیں گے، لوٹی ہوئی رقم واپس آئے گی جس کے بعد ملک میں مہنگائی کا خاتمہ ہوگا، ایک کروڑ نوکریاں دی جائیں گے، لاکھوں گھر تعمیرکئے جائیں گے، اہم عمارتوں کو جامعات میں تبدیل کردیا جائے گا، اسٹیل ملز اور پی آئی اے جیسے اداروں کو بحال کیا جائے گا۔

تحریک انصاف کی حکومت کو ایک سال مکمل ہونے کو ہے۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلینے والے عوام آج پریشان حال ہیں۔ نئے مالی سال کے آغاز کے موقع پر گاڑی مالکان کو ود ہولڈنگ ٹیکسز کی مد میں 600 فیصد تک اضافے کا بڑا دھچکا لگا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت آتے ہی بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا گیا جس کے بعد عوام پر ساڑھے 13 ارب روپے کا بوجھ پڑا۔ تبدیلی سرکار نے ایک سال میں پیٹرول کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ کردیا، پیٹرول کی موجودہ قیمت 113 روپے ہے جبکہ اس میں بھی مزید اضافے کا امکان ہے۔

عوام مہنگائی کے اس بوجھ تلے بری طرح دبے سانس لینے کی کوشش کر رہی رہے تھے کے سی این جی کی قیمت میں بھی اضافہ کردیا گیا۔ سی این جی کی قیمتوں میں فی کلو بیس روپے تک کا اضافہ کیا گیا تو ملک میں ایک بار پھر طویل عرصے بعد ہڑتال کی گونج سنائی دی۔ سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹر اتحاد نے ہڑتال کا اعلان کیا اور اس ہڑتال کے باعث عوام کو شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑا۔ تاجر اتحاد کی جانب سے بھی ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

گذشتہ حکومت کے مقابلے میں تیزی سے بڑھتے ہوئے افراط زر سے پاکستانی عوام کو کافی دھچکہ لگا ہے۔ حکومتی وزیر تو کہہ سکتے ہیں کے پیٹرول 200 روپے لیٹر ہو پھر بھی عمران خان کا ساتھ دیں گے لیکن پاکستان کے عام عوام کے حالات اس سے کچھ مختلف ہیں۔ صرف ایک سال میں پاکستانی روپے کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں قیمت 24 فیصد گھٹ گئی ہے۔ امریکی ڈالر نے تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔ اس تمام تر صورت حال کے باوجود حکومت کی جانب سے آئے دن عوام ہر نئے ٹیکس لاگو کردیے جاتے ہیں۔

جہاں عوام کو اس بحران کا درد محسوس ہو رہا ہے، بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی پاکستان کی معیشت کے اگلے دو سال مزید ہیبت ناک بتا رہے ہیں۔ حال ہی میں ورلڈ بینک کی ساؤتھ ایشیا اکانومک فوکس۔ اکسپورٹس وانٹڈنامی رپورٹ نے پیش گوئی کی ہے کہ اس مالیاتی سال پاکستان میں مہنگائی 7.1 فیصد بڑھے گی اور اگلے سال تک 13.5 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلینے والے عوام کپتان جی کے فرمان کے باوجود اب گھبرا بھی رہے ہیں اور اپنی جان بچانے کی سوچ رہے ہیں۔

حکومت نے دوست ممالک سے امداد بھی لے لی، تبدیلی سرکار آئی ایم ایف کے پاس بھی چلی گئی قرضہ بھی لے لیا لیکن کیا اس سب سے معیشت مستحکم ہوگئی؟ کیا ایک ٹیکسی ڈرائیور سے اس کی گاڑی کی سیٹوں کے اعتبار سے ہزاروں روپے ٹیکس لینے سے معیشت مستحکم ہوگی؟ کیا گیس کی قیمتوں میں دو سو فیصد اضافے سے معیشت مستحکم ہوگی؟ کیا ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے معیشت مستحکم ہوگی؟ عمران خان کو شاید کوئی غلط مشورے دے رہا ہے ایسا کرنے سے معیشت مستحکم ہو نہ ہوخودسوزی کے تناسب میں اضافہ ضرور ہوگا، اس جدید دور میں لوگ ایک بار پھر لکڑیاں جلانے پر مجبور ہوجائیں گے بیروزگاری میں اضافہ ہوگا، چوری ڈاکوں میں اضافہ ہوگا غربت کا تو معلوم نہیں لیکن غریب کا ضرور خاتمہ ہوگا۔

عمران خان کو اب عوام کا درد سمجھنا ہوگا۔ ان کو اس بات کو بھی تسلیم کرنا ہوگاکہ ان کی ان پالیسیوں سے ان کے پاکستانی گھبرا رہے ہیں، غریب کو غریب تر کرنیکی پالیسی سے ملک کبھی ترقی نہیں کرے گا۔ کسی بھی ملک کی ترقی میں اس کا کاروباری طبقہ خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے لیکن عمران خان کی پالیسیوں سے ملک میں چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور ہورے ہیں جس کے باعث بیروزگاری کی شرح میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔

وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو ایمنسٹی اسکیم کے ساتھ ساتھ پلی بارگین اسکیم بھی لانا ہوگی۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ جو ریکارڈ اس حکومت کے پاس ہے وہ کسی کے پاس نہیں۔ آخر اس ریکارڈ کو استعما ل کرکے بڑے چوروں کو کیوں گرفتار نہیں کیا جارہا؟ اور اگر گرفتار کیا جارہا ہے تو ڈیل یا پلی بارگین کیوں نہیں ہورہی جس سے ملک کو فائدہ ہو؟ چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والوں کو سہولیات مہیہ کرکے ان کے کاروبار میں آضافہ کیوں نہیں کیا جارہا تاکہ بیروزگاری میں کمی واقع ہو اور ٹیکس وصولی کی شرح میں اضافہ ہو۔ ملک بھر میں غیر آباد زمینیں موجود ہیں آخر ملک کے بیروزگار نوجوانوں کی مدد سے ان کو آباد کیوں نہیں کیا جارہا؟ چھوٹے ممالک سے تجارت میں اضافہ کیوں نہیں کیا جارہا؟ کیا غریب عوام کی چیخیں نکلوانے سے معیشت مستحکم ہوجائے گی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •