نرسوں کے موبائل فون اور سرکاری حکم نامہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک خبر کے مطابق پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں نرسوں کے دوران ڈیوٹی موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے علاوہ ازیں وہ یونیفارم پہننے اور محکمے کا کارڈ آویزاں کرنے کی بھی پابند ہوں گی۔ خلاف ورزی پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

جب سے سمارٹ فون ( ٹچ موبائل ) عام ہوا ہے ہمارے سماجی رویے بھی بدل گئے ہیں کیونکہ اس میں موجود ”دنیا“ اعصاب پر اثرات مرتب کرنے لگی ہے۔ آہستہ آہستہ یہ فون زندگی کا لازمی جزو بنتا جا رہا ہے۔ اس کے بغیر زندگی ادھوری اور بے کیف محسوس کی جانے لگی ہے لہٰذا موبائل فون نے بڑی حد تک افراد کے مابین فاصلے پیدا کر دیے ہیں جس سے مجموعی طور سے سماج کے اندر ایک ہیجان، احساس بیگانگی اور لاتعلقی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

اسی تناظر میں ہی نرسوں کو پابند کیا جا رہا ہے کہ وہ اس کے استعمال سے اپنی ڈیوٹی کے دوران گریز کریں بصورت دیگر وہ جواب دہ ہوں گی کیونکہ جب وہ مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے ہسپتال کے وارڈ میں ہوتی ہیں تو ان کی توجہ ان کی بجائے موبائل فون پر مرکوز ہونے سے انہیں ٹھیک طور سے نہیں دیکھ سکیں گی پھر ہو سکتا ہے ان میں سے کوئی مریض ان کی عدم توجہی کی بنا پر چل بسے یا پھر اس کی تکلیف میں اضافہ ہو جائے لہٰذا ضروری ہے کہ وہ پورے انہماک سے اپنے فرائض ادا کریں موبائل سے دل بہلانے کے لیے گھر ان کے لیے موزوں و مناسب رہے گا۔ !

حکومت پنجاب نے سرکاری درسگاہوں میں بھی اس طرح کا حکم نامہ جاری کر رکھا ہے کہ اساتذہ جب بچوں کو پڑھا رہے ہوں یا کلاس رومز میں موجود ہوں تو وہ موبائل فون سے دور رہیں تاکہ تعلیمی نشست متاثر نہ ہو مگر احکامات کا اجراء کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایسا نہیں ہو رہا اور نہ ہو سکتا ہے کیونکہ چھے سات گھنٹے مسلسل کوئی بھی استاد استانی پڑھانے کے عمل کو جاری نہیں رکھ سکتا رکھ سکتی انسانی مزاج میں یکسانیت اور ایک ہی کیفیت میں رہنا شامل نہیں۔

یعنی جس طرح کسی استاد کے لیے ایسا ممکن نہیں تو اس طرح طلبا کے لیے بھی نہیں ہو سکتا لہٰذا وقفہ بہت ضروری ہوتا ہے اور اگر موبائل فون پر نظر دوڑائی جاتی ہے تو کوئی حرج نہیں مگر اس پہلو سے بھی انحراف ممکن نہیں کہ اس موبائل سے صحت پر مضر اثرات پڑ رہے ہیں جن میں پٹھوں کا کمزور پڑنا بینائی کا کمزور ہونا اور سرخ خلیات کو نقصان پہنچا ہے۔ لہٰذا زور اس بات پر ہونا چاہیے کہ اسے زیادہ استعمال نہ کیا جائے۔

اب دوبارہ آتے ہیں نرسوں پر لگنے والی پابندی کی طرف، جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا ہے کہ یکساں کیفیت کو قائم رکھنا ممکن نہیں ہوتا تو کیا نرسیں ہر وقت کسی مریض کے پاس کھڑی ہو کر اس کو دیکھ سکتی ہیں یا اس کا فشار خون چیک کر سکتی ہیں تھرمامیٹر سے اس کے جسم کی حرارت دریافت کر سکتی ہیں۔ نہیں، ہر گز نہیں، ان کا ایک شیڈول طے ہوتا ہے۔ جس کے مطابق وہ یہ سارے کام کرتی ہیں ہنگامی طور سے البتہ وہ کسی شیڈول کو نظر انداز بھی کر سکتی ہیں مگر ایک تسلسل میں ان کا ڈیوٹی سر انجام دینا ممکن نہیں ہو سکتا اور اگر وہ جدید ایجا د سے مستفید ہوتی ہیں تو اس میں کیا مضائقہ ہے۔ چلیے۔ ان پر قانون کا شکنجہ کس بھی دیا جاتا ہے تو ارباب اختیار سے پوچھا جانا چاہیے کہ ڈاکٹروں بیوروکریٹس، پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کے ملازمین کو بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

کہ جو اکثر اوقات فیس بک، وٹس ایپ اور میسنجر میں مصروف پائے جاتے ہیں۔ انہیں بھی اس دائرے میں لانے کی ضرورت ہے مگر عمل در آمد نہیں ہو گا اور ہو گا بھی تو کیسے آج تک سرکاری اداروں میں وقت کی پابندی کو یقینی نہیں بنایا جا سکا۔ افسران اپنی مرضی سے دفاتر میں آتے ہیں اور جاتے ہیں ان کے ما تحت بھی اسی طرح کرتے ہیں یعنی چند گھنٹے کام باتی فیس بک وغیرہ پر دھیان مگر یہ بھی ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی بھی ادا کرتے ہیں اگرچہ وہ مختصر ہوتی ہے مگر کرتے ضرور ہیں۔

آپ ٹریفک پولیس والوں کے دیکھتے ہوں گے کہ وہ مطلوبہ چالان کرنے کے بعد سستانے کے طور پر ایک طرف کھڑے ہو کر موبائل فون سے چھیڑ چھاڑ کر رہے ہوں گے اور کبھی کبھی اوپر نظریں بھی اٹھا لیتے ہیں کہ کوئی مسئلہ تو نہیں۔ میں جب کسی صحافی دوست جو کسی انتظامی امور کا انچارج ہوتا ہے ملاقات کے لیے جاتا ہوں تو وہ موبائل یا کمپیوٹر کھول کر بیٹھا ہوتا ہے بس ہاں جی ہاں جی کرتا ہے۔ چائے پانی کا پوچھ لیتا ہے۔ یہ صورت حال دیکھ کر اس سے عرض کیا جاتا ہے کہ جناب میں آپ سے ملنے آیا ہوں۔ یہ تو میں بھی گھر بیٹھ کر کہ سکتا تھا، فون بھی انہیں کر سکتا تھا لہٰذا وقت چاہیے پھر وہ کچھ شرمندہ سا ہو کر کہتا ہے لو جی بند کر دیا، ہور سناؤ۔

عرض کرنے کا مقصد اس سماج کی تحلیل نفسی کی ضرورت ہے۔ اس کے احساس ذمہ داری کو ابھارا جائے۔ ان سرکاری احکامات سے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا پھر سوال تو یہ بھی ہے کہ احکامات دینے والے خود ایسا کرتے ہیں، نہیں۔ بقول جاوید خیالوی حکمران ایسے قوانین کے ذریعے اپنی واہ واہ کرانا چاہتے ہیں اور حزب مخالف کو بتانے سمجھانے کے لیے کچھ مواد اور اعداد و شمار بھی جمع کرنے کے خواہاں ہیں۔ عوامی بہتری کے لیے اس میں کچھ نہیں؟

نرسوں کو پابند کرنے سے فقط یہ تاثر دینا مقصود ہے کہ اہل اقتدار کو عوام کی بڑی فکر ہے۔ ہو گی بھی مگر لوگوں کو یقین تب ہو گا جب انہیں سرکاری شفا خانوں میں دوائیں، غذائیں، اور ہر نوع کے ٹیسٹ بلا معاوضہ میسر ہوں گے۔ یہ تو گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنا ہے کہ نرسوں کو موبائل فون کے استعمال سے روک دیا جائے۔ یہ کافی نہیں بلکہ لازمی نہیں۔ جو کام کرنے کا ہے وہ ہے مریضوں کو سہولتیں دینا جو اہل اختیار نہیں کر رہے اور وجہ اس کی یہ بتاتے ہیں کہ ان کے پاس بھاری رقوم نہیں جن سے وہ شفا خانوں میں ایک بڑی تبدیلی لا سکیں۔

تو پھر کیا نرسوں کی مریضوں کی طرف توجہ مبذول کروا کے ان کی تکالیف میں کمی لائی جا سکتی ہے بالکل نہیں ان کی بیماری میں بہتر دواؤں سے کمی آئے گی ان کے لواحقین کو بھی چین اس وقت ملے گا جب وہ اس بات سے پریشان نہیں ہوں گے کہ علاج کے لیے وہ رقم کا بندوبست کیسے کریں گے۔ لہٰذاحکومت کو جو لوگ مفت مشورے دیتے ہیں وہ حقائق کو بھی مد نظر رکھیں۔ ان کے مشوروں کی وجہ ہی سے آج ہر طرف بے چینی پھیلی ہوئی ہے یعنی پورا سماج حالت اضطراب میں ہے اور خود کو بے یارو مدد گار سمجھ رہا ہے۔

لہٰذا عرض ہے تو اتنی کہ صحت سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی جانب اہل اقتدار اور اختیار نظر دوڑائیں کہ جس کی خستہ حالی سے بیماری میں اضافہ ہو رہا ہے اور جب بیمار شفا خانوں کا رخ کرتے ہیں تو انہیں وہاں مختلف النوع قیمتی دواؤں کو لانے کا حکم ملتا ہے جو کہ غریب عوام کی پہنچ سے باہر ہوتی ہیں پھر ان میں سے مبینہ طور سے واپس میڈیکل سٹوروں کو بھیج دی جاتی ہیں باہر سے مہنگے ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں جو عام آدمی کے بس میں نہیں ہوتے اس حوالے سے کچھ کیا جائے یہ جو موبائل فون والا معاملہ ہے اس سے بیماروں کی صحت پر کوئی مثبت اثر نہیں پڑے گا اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ مریضوں سے چشم پوشی اختیار کی جائے ان پر توجہ دینا نرسوں کے فرائض میں شامل ہے لہٰذا ان کی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ انہیں بطریق احسن ادا کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •