مجھے خوف کس بات کا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ایک عام نامعلوم شہری ہوں جس کا کوئی ایسا کاروبار نہیں جو اس کی شناخت ہو جیسا کہ منڈی والا، دانہ والا یا پھر کوئی ایسا برانڈ جو اس کے خاندان کے ساتھ منسوب ہو۔ نہ میں کوئی تاجر ہوں اور نہ کوئی زمیندار۔ مجھ پر بھی مہنگائی اور ٹیکس کے بڑھنے اور گھٹنے کا اتنا ہی اثر ہوتا ہے جتنا سب لوگوں پر تو پھر میں پریشان کیوں ہوں ؟

میں کوئی سیاست دان بھی نہیں جو اقتدار میں ہو تو مزے کرےاور جو حزب اختلاف میں ہو تو زیر عتاب ہو۔ نہ میں کسی سیاسی جماعت کے ساتھ انقلاب اور دنیا بدلنے کی نیت سے وابستہ ہوں۔ نہ مجھ ناتواں سے کسی کی سیاسی دشمنی ہے اور نہ مجھ بے ضرر سے کسی کی دوستی۔ مجھ جیسے لا چار پر نہ انتخاب کا اثر ہوتا ہے نہ احتساب کا تو پھر میں خوفزدہ کیوں ہوں؟

میری کوئی جائیداد ہوتی تو چھپانے کے بجائے میں ہر ایک کو بتاتا اور دکھاتا اس سے میرے ہم نشینوں میں عزت بڑھ جاتی۔ میری جب کوئی نامی جائیداد نہیں تو لوگوں کی بے نامی جائیدادوں پر حکومت کے قبضے سے مجھے تکلیف کیوں ہے؟ میرا جب ملک کے اندر کچھ نہیں تو بیرون ملک لوگوں کے اثاثوں پر حکومت کی جاسوسی سے ڈر کاہے کا؟

میں تو وہ ہوں جو زندگی بھر سگریٹ بھی اساتذہ ، والدین، بزرگوں اور بیوی بچوں سے چھپا کر پیتا رہا ہے۔ میرا تعلق اس درمیانی طبقے سے ہے جو نشے کا بیچنا اور کاروبار کرنا تو درکنار نشہ کرنے والوں کو بہت برا سمجھتا ہے تو پھر کسی امیر کبیر، وزیر، مشیر کے منشیات سمگل کرتے ہوئے گرفتار ہونے پر گھبراہٹ کیوں ہوتی ہے؟

میں ان میں شامل ہوں جن کا ٹیکس آمدنی کے منبع یعنی انکم کے سورس پر ہی کٹ جاتا ہے۔ جہاں سے مجھے پیسے ملتے ہیں چاہے تنخواہ ہو یا دیہاڑی وہاں پر ہی سرکار کا محصول کاٹ کر بقیہ رقم مجھےادا کردی جاتی ہے۔ میری کوئی ایسی آمدنی بھی نہیں جس پر مجھ سے اس کے ذرائع پر سوال کئے جائیں۔ لوگوں کے بنک اکاؤنٹ کی چھان بین اور ٹیکس نہ دینے پر چھاپوں اور گرفتاریوں پر مجھے پریشانی کیوں لاحق ہے ؟

شائد تاریخ کے اس سبق نے ہمیں اس خوف میں مبتلا کردیا کہ ہمیشہ عام، بے نام و نشان لوگ ہی جبر کا شکار ہوئے۔ پاکستان اور بھارت کی جب تقسیم ہوئی تو نامی گرامی لوگ اپنا انتظام پہلے سے کر چکے تھے۔ ہجرت کا پہلے سے تہیہ کئے لوگوں نے اپنی جائیدادوں کا قانونی طور پر بٹوارہ کرکے کلیم بھی بنوالئے تھے۔ افسر شاہی کی بڑی بڑی کرسیوں والوں نے پہلے سے ہی اپنی جگہ اور مقام کا تعین کیا ہوا تھا۔ سیاست دانوں نے اپنے لئے عہدے محفوظ کر رکھے تھے۔ اٹاری، واہگہ اور کھوکھرا پار کے راستوں میں پڑی لاشوں میں کوئی ایسا نامی گرامی نہیں تھا اور نہ ہی بنگال، لاہور اور کراچی کے کیمپوں میں رلنے والا کوئی نامور تھا۔

ایک نامور سیاستدان کا امتحان صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ جماعت بدلے اور گنگا نہائے۔ ملک میں اہل سیاست کو ہر دور میں بتیسمہ دینے کے لئے بنائے مسلم لیگ کے لاحقے میں اردو کی حروف تہجی ختم ہو گئی۔ ایک سیاست دان کو صرف ایک ملاقات اور ایک پریس کانفرنس کے بعد حب الوطنی، پاک دامنی، امانت و صداقت کی اسناد مع نئی کرسی کے جھولی میں ڈالی جاتی ہیں۔ براہ احتساب جیل اور براہ پریس کلب ایوان اقتدار میں انتخاب کرنا اتنا مشکل نہیں جتنا کسی عام کارکن کے لئے اپنی امید کا دامن چھوڑنا یا اپنے سیاسی نظرئے سے وابستگی بدلنا ، اس لئے کوڑے اسی کی پیٹھ پر پڑتے ہیں اور لاش بھی سڑک پر اسی کی بے نام و نشان پڑی ملتی ہے۔

ملک میں رائج قانون قبضہ کے مطابق جائیداد اسی کی ہوتی ہے جس کا اس پر قبضہ ہوتا ہے۔ بے نامی کا سوال تو بعد میں آئے گا پہلے عام شہریوں کی نامی جائیدادیں قبضہ گیروں سے چھڑائیں۔ تقسیم ہند کے وقت ہجرت کرنے والوں کی جائیدادوں کی بات ہی کیا ہے جب ملک کی خاطر جان دینے والے شہدا کی بیواؤں اور یتیموں کی نامی جائیدیں پلازوں میں بدل کر بے نامی ہو ئی ہوں۔ کچھ پتہ ان کا بھی کیجئے جن کو ان کی نامی جائیدادیں ہتھیانے کے لئے توہین مذہب اور فرقہ وارایت کی بھینٹ چڑھادیا گیا ہے۔ نہ ہتھیانے والے بے نام ہیں اور نہ وہ جائیدادیں بے نشان ہیں۔ ڈر یہ ہے کہ ایسی نامی جائیدادوں کا پتہ تو نہ چل سکےا مگر اس نئے قانون کے بعد کچھ اور غریبوں کے چولہے بجھ جائیں گے۔

ٹیکس چرانے والوں نے تو اس کا بندوبست بڑے سے بڑا گر جاننے والے گرو کی مدد سے کر رکھا ہے جن میں سے ایک استاد کی خدمات آج کل حکومت نے بھی محصولات کے لئے چھاپے مارنے اور گرفتاریاں کرنےکی مشاورت کے لئے لے رکھی ہیں۔ چوری کے گر جاننے والے کی مشاورت حاصل کرکے صدیوں سے آزمودہ طریقہ اپنایا گیا ہے کہ چور کے گھر تک پہنچا جائے۔ مگر اس کے باوجود بھی احتمال ہے کہ شامت اعمال اسی کی ہوگی جو نہ ٹیکس جانتا ہے اور نہ اس کا جمع کروانے کی تردد سے واقف ہے۔

 یہ بھی نظام زر کا اصول ہے کہ اہل زر سرمایہ کاری کے لئے ایسے ممالک کا انتخاب کرتے ہیں جہاں نسبتاً ٹیکس کی چھوٹ ہوتی ہے۔ محصولات کی نرمی کے ترغیب سے ان ممالک میں صنعتیں لگتی ہیں جس سے بے روزگاری میں کمی آتی ہے اور مسابقت کی فضا میں پیداوار کے قیمتیں کم ہوجاتی ہیں۔ خطرہ یہ بھی ہے کہ پکڑ دھکڑ اور چھاپوں سے دودھ دینے والی گائے تو زیادہ ہرے بھرے چراگاہوں کی تلاش میں نکل پڑے گی اور یہاں قحط سےلاغر جانوروں کو نوچنے والے گدھ رہ جائیں گے۔

پاکستان عالمی منڈی میں منشیات کے رسد کی بڑی گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ افغانستان اور قبائلی علاقوں میں لاقانونیت نے ملک میں منشیات کے کاروبار کو فروغ دیے رکھا ہے۔ ایوب خان کے دور سے ہی کالے دھن کو سفید کرنے کی جتنی سکیمیں متعارف کروائی گئیں ان پر ایک اعتراض منشیات کی تجارت سے کمائے پیسے کو سفید کرنے کا بھی رہا ہے۔ اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کی پہنچ اور طاقت بھی مسلمہ ہے اس لئے ان پر ہاتھ بھی نہیں ڈالا جاسکتا۔ ایک سابق وزیر پر منشیات کا کیس بنا تو امید پیدا ہوئی ہے کہ اب اس گھناونے کاروبار کرنے والوں پر ہاتھ ڈالا جائےگا۔ ایک وزیر کو جب منشیات کی سمگلنگ کے کیس میں پکڑا جائے تو اس کو مثال بنا کر اس مکروہ دھندے میں ملوث دیگر لوگوں پر ہاتھ نہیں ڈالا جائے۔ مگر عملاً عام بے گناہ لوگوں کو منشیات کا الزام لگا کر دھرنا پولیس کے لئے اور زیادہ آسان ہو جاتا ہے کیونکہ ہمارے تھانوں میں عام لوگوں کو پر چرس کا کیس بنانا ایک پرانی ریت ہے۔ شکوک یہ ہیں جن پر بیس کلو گرام ہیروئین کی سمگلنگ کا الزام لگایا جاتا ہے وہ تو بیس کروڈ خرچ کر کے اپنی رہائی اور باعزت برات بھی یقین بنا لے گااور پھر اقتدار میں بھی لوٹ آئے گا مگر جس پر بیس گرام کا الزام لگے گا وہ شائد اپنی ضمانت بھی نہ کرواسکے اور ضمانت ہو بھی گئی تو عزت بحال کروانا اس کے لئے زندگی بھر نا ممکن ہوجائے گا۔

مجھ جیسے عام لوگوں کو بیماری کی فکر نہیں رہتی نہ کسی ناگہانی حادثے کا خوف رہتاہے۔ ہمارا ملک گزشتہ دو دہائیوں سے خوفناک دہشت گردی کا شکار ہے جس میں ہمارے آس پاس کے لوگ بھی شکار ہوئے، کئی بار خود اس کا نشانہ بنتے بنتے بچ گئے مگر کبھی خوفزدہ نہیں ہوئے۔ مگر تاریخ میں اپنے چارہ گروں کے دئے زخموں نےہمیں ہمیشہ بے یقینی اور احساس عدم تحفظ کا شکار کئے رکھا ہے۔ ہمارے گھر کو آگ ہمیشہ گھر کے چراغ سے ہی لگی ہے اور یہ آگ آتش گل کی صورت آئی۔

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 186 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan