مائنس نواز شریف فارمولہ سے ہونے والے اضافی نقصانات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں سیاسی بنیادوں پرچلاے جانے والے فوجداری مقدمات کی فہرست طویل ہے۔ سیاستدان جب لالچ اور دباؤ کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں تو ان پر اس طرح کے مقدمات بناے جاتے ہیں۔ ان تمام مقدمات میں سے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا قتل کا مقدمہ سب سے زیادہ پاکستان کی سیاست پر اثر انداز ہوا ہے۔ چالیس سال گزرنے کے باوجود ابھی تک یہ مقدمہ دنیا میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔ اس میں سزا یافتہ عوامی لیڈر پھانسی پر جھولنے کے باوجود آج بھی پاکستان کی سیاست میں موجود ہے اور اگلی کئی دہائیوں تک یا شایدکبھی بھی اسے پاکستان کی سیاست سے نہ نکالا جا سکے۔

اس کو مارنے والے مر گئے ہیں اور وہ زندہ ہے۔ بھٹو کی پھانسی ملک کی تاریخ کا سب سے اہم موڑ ہے۔ اس کیس میں بھٹو کے ساتھ جن دوسرے افراد کو سزا دی گئی وہ چاروں حکومتی سیکورٹی ایجنسی کے ملازم تھے۔ جن میں سے ڈائریکٹر انٹیلیجنس اینڈ اپریشن، ایف ایس ایف، میاں محمدعباس کے علاوہ باقی تینوں کو ڈرا دھمکا اور لالچ دے کر جرم کا اقرار کروالیا گیا تھا اور شاید وعدہ کیا گیا تھا کہ ان کو پھانسی نہیں دی جاے گی۔ ان کی پھانسی پر عمل درآمدکافی عرصہ تک رکا بھی رہا۔ حکومت کا اصل ہدف ٹھکانے لگ چکا تھا اور اب وہ ان کی سزا پر عمل نہیں کرنا چاہتی تھی۔ نصرت بھٹو نے جب اس حکومتی منافقت کو اچھالا تو ان کی سزا پر بھی عملدرآمد کرنا پڑا۔ اس طرح بھٹو کے ساتھ حکومت کے یہ چاراہلکار بھی قربان کر دیے گئے۔

اس عدالتی ظلم کے خلاف بہت سے جیالوں نے احتجا جاًخود سوزی کر لی۔ بہت زیادہ جیلوں میں پھینک دیے گئے۔ جس دن بھٹو کیس کا فیصلہ آنا تھا سپریم کورٹ کے سامنے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا جو کہہ رہا تھا کہ اگر بھٹو کو سزا دی گئی تو وہ کسی جنرل کو نہیں چھوڑے گا۔

اسی عدالتی قتل کے خلاف میر مرتضیٰ بھٹو نے الذوالفقارتنظیم بنائی جس نے پاکستانی جہاز کو اغوا کیا۔ اس جہاز میں موجود میجر طارق رحیم کوضیا الحق کے ساتھی جنرل رحیم الدین خان کا بیٹا ہونے کی غلط فہمی کی بنیاد پر قتل کر دیا گیا۔ جب 1982 میں تحریک بحالی جمہوریت کا آغاز ہوا توبہت سے سیاسی اور عام لوگوں کو الذوالفقار کے دہشت گرد قرار دے کر بے رحمی سے مارا گیا۔ 92 میں ٹنڈو بہاول میں مارے جانے والے ہاریوں کو بھی پہلے دہشت گردقرارد یا گیا تھا۔ طیارہ اغوا کیس کے تانے بانے مرتضیٰ بھٹو کے قتل سے بھی ملائے جاتے ہیں۔

اس طرح ایک بھٹو کو راستہ سے ہٹانے کے لئے پاکستاں کے بہت سے اہم افراد کی قربانی دی گئی۔

ایک بھٹو کا شکار جہاں بہت سے اعلیٰ افراد کو اپنے ساتھ لے گیا وہاں اس ملک کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے پہلے متفقہ آئین کے خالق تھے۔ بھٹو کا شکار کرنے والوں کا پہلا نشانہ یہ آئین بنا۔ جب مجبوراً یہ بحال کرنا پڑا تو اس کی ہئیت ایسے تبدیل کی جا چکی تھی کہ پہچانا ہی نہیں جا رہا تھا۔ اس بد صورتی کا نشانہ ایک صدراور دو منتخب وزیراعظم باربار بنے۔ دوسرا نقصان پارلیمنٹ کا ہوا۔

منتخب پارلیمنٹ صدر کے پاؤں کی ٹھوکر پر آگئی۔ گھوڑوں کے اصطبل سج گئے، راولپنڈی کے بازار سے ہانکا لگایا جاتا تھا اور قوم کے ووٹ سر پٹ چراہ گاہوں کی طرف بھاگ نکلتے تھے۔ منتخب ارکان کی عزت خاک میں رل گئی۔ تیسرا نقصان سیاست کا ہوا۔ بڑے بڑے اعلیٰ پاے کے سیاستدان نالی اور سولنگ کی باتیں کرنا شروع ہو گئے۔ ملکی مسائل پس پشت چلے گئے۔

بھٹو کیس میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کے نظام عدل کو پہنچا۔ وعدہ معاف گواہ مسعود محمود کا نام ”ننگ ملت، ننگ دیں، ننگ وطن، جعفر از بنگال و صادق از دکن“ کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ مولوی مشتاق اورجسٹس انوارالحق کا نام نا انصافی کی علامت بن گیا۔ ان کا یہ کارنامہ عدلیہ کی تاریخ میں کالے حروف میں لکھا جاتا ہے۔ دنیا اور حتٰکہ ہمارے اپنے ملک کی کسی بھی عدالت میں اس فیصلے کو حوالہ کے طور پر قبول نہیں کیا جاتا۔ بعد میں جسٹس نسیم حسن شاہ نے اپنی خود نوشت میں اس کیس میں دباؤ کا برملا اقرا ر کیا۔ سپریم کورٹ کی سفید بلڈنگ پر کالے داغ اسی کیس کے ہیں۔

پچھلے چالیس سال سے اعلیٰ عدلیہ ان داغوں سے آنکھیں چُرا رہی ہے۔ بھٹو کو شکار کرنے والے مر کر ’ویران‘ قبروں میں چلے گئے اوران کا برپا کردہ فساد آج بھی پوری قوم کو مشکلات میں الجھاے ہوے ہے۔

پاکستان کے سیاستدان پچھلی دو دہائیوں سے اس کوشش میں ہیں کہ اس قتل سے جو نقصان پہنچا اس کا ازالہ کیا جاے۔ آئندہ سے ایسے راستوں پر خود بھی چلنے سے گریز کیا جاے اور دوسروں کوبھی یہ راستہ اختیار کرنے کا کوئی موقع نہ دیا جاے۔ 58۔ 2 B کا خاتمہ، میثاق جمہوریت اور آٹھارویں ترمیم سیاست دانوں کی پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے اور باہم رضامندی سے پاکستان میں بسنے والے تمام لوگوں کو برابر کے حقوق دیے جانے کا آغاز ہے۔

لیکن جب سے جمہوری پارٹیوں نے حکومت سنبھالی ہے وہ تمام لوگ جو آمریت کے ادوار میں حکومت کے مزے لوٹتے رہے ہیں ان کو دوبارہ مائنس کرنے کی کوشش میں ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دور میں زرداری کو عدلیہ نے کام کرنے ہی نہ دیا۔ ہر کیس عدالت عظمیٰ اٹھا لیتی تھی اور اس کے کام میں رکاوٹ بن جاتی تھی۔ 2013 کے بعد نواز شریف کا دور شروع ہوا تو صرف چودہ ماہ کے بعد اس کے دروازے پر دھرنا بٹھا دیا گیا۔ بظاہر چار حلقوں کا آڈٹ لیکن اصل میں نواز شریف کا استعفیٰ مقصد تھا۔ وہ تو نہ مل سکا لیکن یہ دھرنا حکومت کو کمزور کر گیا۔ اور اس کا شکار آسان ہو گیا۔ اس کے بعد اس کو مستقل مائنس کرنے کے پروگرام کا آغاز ہوا۔

مائنس نواز شریف، یا اگر اداراتی زبان میں کہا جاے کہ ’شیر کے شکار‘ کے لئے کیا گیا پہلا فائرپاکستان کے اداروں کوہی گھائل کرگیا۔ وٹس ایپ کال، حسین نواز کی تصویر، اور اقامہ نے ساری کہانی بیان کر دی۔ عمران خان صاحب پہلے ہی ایمپائر کی انگلی کا حوالہ دے کر ادارہ جات کی شمولیت کی گواہی دے چکے تھے۔ جس طرح بھٹو کا عدالتی قتل کرنے کے لئے ایف ایس ایف کے افسروں اور اہلکاروں کے کندھے پر بندوق رکھی گئی تھی اسی طرح نواز شریف کو پکڑنے کے لئے بیوروکریسی کو استعمال کیا گیا۔ فواد حسن فواد، احد خان چیمہ، ظفرحجازی گرفتار ہوے اور پوری کی پوری سول انتظامیہ اب ڈر اور خوف کی وجہ سے کوئی کام کرنے کو تیار نہیں۔ عوامی مسائل کا انبار ہے، نا اہل حکمران ہیں اور افسر اپنی عزت بچانے کی فکر میں ہیں۔

الیکشن کمیشن کی ساکھ پاکستان میں پہلے ہی کوئی اچھی نہیں، اس مرتبہ پولنگ ایجنٹوں کو بزور طاقت باہر دھکیل دینا اور کمیشن کا اپنا آر ٹی ایس سسٹم اس کومکمل طور پر لے ڈوبا۔

مائنس نواز شریف کا ایک اہم نشانہ میاں بیوی اور ماں بیٹی کا جذباتی رشتہ بنا اور پچاس سالہ رفاقت زخمی ہوئی۔ وہ تو بھلا ہو کچھ سمجھدار لوگوں کا جنہوں نے آگ کو مزید بڑھکانے کی بجاے نواز شریف کو پیرول لینے پر راضی کرلیا ورنہ ایک اور بگٹی وارثوں کے بغیر دفن ہوجاتا۔

اس کھیل کا ایک اور زخمی سی پیک ہے جو اپنے گھاؤ ابھی صرف دیکھا رہا ہے۔

اب کی بار عدلیہ پھر نشانے پر ہے۔ اس کی عزت سب سے زیادہ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال اور اب احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو عدلیہ کو کٹہرے میں لے آئی ہے۔ مائنس نواز شریف: مہم میں مجروح ہونے والے اشخاص میں سے یہ صرف دو افراد نہیں بلکہ پوار نظام انصاف ہے۔ مریم نواز بہت جارحانہ چالیں چل رہی ہے، ابھی اس نے صرف دوشاٹ فائر کیے ہیں۔ حکومت نے صرف دو پریس کانفرنسوں کے بعد پیمرا کو نوٹس دے دیے ہیں۔ پورا میڈیا اور تمام سیاسی پارٹیاں اس کے ساتھ ہیں اور اس کے خوف کے عین مطابق اگر محمد مرسی کی طرح کا کوئی حادثہ ہو گیا تو یاد رہے کہ یہ نیاپاکستان ہے۔ اب ذوالفقار علی بھٹو گرفتاریوں، کوڑوں اورجیلوں کی مدد سے چند افراد کی موجودگی میں دفن نہیں کیا جا سکے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •