انصاف کی آستیں پر لہو کے چھینٹے نمودار ہو گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

الطاف حُسین قریشی اپنی کتاب ”ملاقاتیں کیا کیا“ میں جسٹس حمود الرحمن کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جب اُن سے انٹرویو کے لیے وقت مانگا اور مقررہ وقت پر پہنچا تو جسٹس حمود الرحمٰن نے اپنی گفتگو کا آغاز ان الفاظ سے کیا کہ ”انگلستان میں جج قطعی طور پر الگ تھلگ رہتے ہیں اور معاشرتی روابط سے گریز کرتے ہیں۔ انصاف کے تقاضوں کی خاطر وہ از خود گھر کی چاردیواری میں مقید رہتے ہیں اور بڑی سختی سے ان روایات کی پابندی کرتے ہیں جو صدیوں سے قائم ہیں۔ کتنا اچھا ہو کہ آپ ہمیں گوشہ عافیت میں ہی رہنے دیں۔ ایک منصف کو ان ہنگاموں سے دور رہنا چاہیے۔”

جسٹس سر عبدالرشید فیڈرل کورٹ آف پاکستان کے پہلے چیف جسٹس تھے۔ سماجی تعلقات اور حکومتی شخصیات سے دور رہنے والے سر عبدالرشید حکومت کے خلاف بعض مقدمات کی سماعت کر رہے تھے اس وقت کے وزیراعظم خان لیاقت علی خان نے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا مگر اصول پسند منصف نے انھیں گھر آنے سے سختی سے منع کر دیا۔ فوج اور بیورو کریسی پر اعلی عدلیہ کے در کھولنے والے جسٹس منیر تھے۔ اُس کے بعد طاقتور لوگ عدلیہ کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے گئے جس کی وجہ سے عدلیہ پر عوام کا اعتماد روز بروز اُٹھتا گیا۔

جسٹس منیر کے دور میں اس وقت کے گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی کو تحلیل کر دیا۔ غلام محمد کے اس اقدام کو سندھ چیف کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ سندھ چیف کورٹ نے فیصلہ سپیکر اسمبلی مولوی تمیز الدین کے حق میں دیا۔ گورنر جنرل نے اسے سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کر دیا۔ جسٹس منیر نے دباؤ میں آ کر فیصلہ گورنر جنرل کے حق میں دیا اور اسے نظریہ ضرورت قرار دیا۔ اس کے بعد ہر عہد میں طالع آزما اور طاقتور لوگ عدالتوں سے اپنے حق میں فیصلے کرواتے رہے۔

ہماری عدالتی تاریخ کے فیصلے اُٹھا کر دیکھیں تو متنازع فیصلوں سے بھری پڑی ہے۔ سردار شوکت حیات خان نے اپنی کتاب ”گم گشتہ قوم“ میں لکھتے ہیں کہ ”اس قتل (احمد رضا قصوری کے والد کے قتل) کا الزام بھٹو پر لگا، لاہور ہائی کورٹ میں مقدمہ چلا، (مقدمہ) سننے والا بڑا جج ہمارا سابق مسلم لیگی کارکن چیف جسٹس مشتاق احمد (مولوی مشتاق حسین) تھا“ انھوں نے مزید یہ لکھا کہ ”مجھے پریس کی رپورٹوں اور دوسرے ذرائع سے احساس ہو گیا تھا کہ بھٹو کو ایک شریک جرم کی حیثیت سے پھانسی پر لٹکایا جائے گا۔ میں لاہور ہائی کورٹ میں کسی ذاتی کام سے گیا ہوا تھا۔ اتفاق سے میرا گزر چیف جسٹس کی عدالت کے پاس سے ہوا میں نے معلوم کیا کہ کیا چیف جسٹس موجود ہیں؟ جواب اثبات میں ملنے پر میں نے ان کے سیکریٹری سے کہا کہ وہ پوچھ کر بتائے کہ کیا میری ملاقات اس وقت ہو سکتی ہے۔ مشتاق نے مجھے فوراً اندر بلا لیا اور پورے احترام سے ملا۔ میں نے پوچھا ”مشتاق! میں نے سنا ہے کہ تم پانچ آدمیوں کو ایک آدمی کے قتل میں پھانسی پر لٹکا رہے ہو، کیا یہ برطانوی ضابطہ قانون یا اسلامی قانون کے تحت انصاف ہو گا؟ اگر یہ خبریں درست ہیں تو کیا اسے احساس نہیں کہ اگر اس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا تو وہ اپنی ذات کو پیپلزپارٹی کی انتقامی کارروائی سے کیسے بچا سکے گا؟”

اس نے جواب دیا کہ فکر مت کرو مجھے سپریم کورٹ کے ججوں کی اکثریت نے حلف پر یقین دلایا ہے کہ اس کا فیصلہ سپریم کورٹ میں بحال رکھا جائے گا۔ جسٹس سجاد علی شاہ کا دور انتہائی ہنگامہ خیز رہا، انہوں نے جیوڈیشل ایکٹیو ازم کا بھرپور استعمال کیا۔ فاروق لغاری نے بے نظیر حکومت کو ختم کیا تو جسٹس سجاد علی شاہ نے اس فیصلے کو درست قرار دے دیا۔

نوا ز شریف کی حکومت قائم ہوئی تو جسٹس سجاد علی شاہ کے حکومت سے اختلافات شروع ہو گئے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کی منظور کردہ آئینی ترامیم کو منسوخ کیا۔ جس کے بعد ملک میں سنگین بحران پیدا ہو گیا۔ سپریم کورٹ کے ججوں نے جسٹس سجاد علی شاہ کے خلاف بغاوت کر دی، اور ملکی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ میں دو عدالتیں لگیں، جسٹس سجاد علی شاہ فیصلہ دیتے تو دوسری عدالت اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیتی۔ وزیر اعظم کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران نواز حکومت کے حامیوں نے سپریم کورٹ کی عمارت پر حملہ کردیا، جسٹس سجاد نے اس صورت حال سے بچنے کے لیے آرمی چیف کو خط لکھ کر فوج سے مدد طلب کی مگر آرمی چیف نے وہ خط احکامات کے حصول کے لیے وزارت دفاع کو بھیج دیا۔

جسٹس سجاد علی شاہ کی چیف جسٹس کی حیثیت سے تقرری کو چیلنج کیا گیا۔ جس کا فیصلہ دیتے ہوئے جسٹس سعید الزماں صدیقی کی سربراہی میں قائم بنچ نے جسٹس اجمل میاں کو قائم مقام چیف جسٹس مقرر کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ اس بحران کا نتیجہ جسٹس سجاد علی شاہ کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ تک رخصت کی صورت میں نکلا۔

ابھی کل کی ہی بات ہے کہ جسٹس افتخار چوہدری ایک طالع آزما کے سامنے ڈٹ گئے جو ایک جرات مندانہ اقدام تھا مگر اُن کی ناک کے عین نیچے ان کا بیٹا ارسلان چوہدری جو گُل کھلاتا رہا، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں مگر اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

ہماری عدلیہ کی تاریخ میں خال خال اپ کو ایسے منصف ملیں گے جنھوں نے حق کا علم بلند کیا۔ مصلحت پسندی سے کام لینے والے منصف اپنی اپنی پوسٹوں پر رہے اور جو مصلحت کا شکار نہیں ہوئے اُنھیں نشان عبرت بنا دیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی برطرف ہو چکے اور ان کی اپیل زیر سماعت ہے۔ اگرچہ شنوائی کا امکان موہوم ہے۔ سپریم کورٹ کے عزت مآب جسٹس فائز عیسیٰ کٹہرے میں ہیں۔ قومی ادارہ برائے احتساب (نیب) کے سربراہ کا دامن اگر تار تار نہیں تھا تب بھی کم از کم اس کا معائنہ تو ہونا ضروری تھا۔ ایک پریس ریلیز کے بعد سب کو گہری چپ نے آ لیا۔ اور اب احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کی ایک مبینہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد ایک اور پنڈورا بکس کھل گیا جو ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔

احتساب عدالت میں موجود ایک سینئر اہلکار نے اپنی تشویش کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ اس واقعہ کے بعد عوام کا ہمارے اداروں سے اعتماد اُٹھ گیا ہے۔ اصل حقائق کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن بنانا چاہیے جو آزادانہ تحقیقات کرے اور ان کرداروں کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دے جنھوں نے عدالتوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بشارت راجہ

بشارت راجہ رفاہ یونیورسٹی سے میڈیا سائسز میں ایم فل کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ بطور کورٹ رپورٹننگ کر رہے ہیں۔ مختلف ویب سائٹس کے لیے بلاگ اور کالم بھی لکھتے ہیں۔

bisharat-siddiqui has 89 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui