فراڈ نہیں کیا تو پھر ہاہا کار کیوں، عدالتوں سے بے گناہی ثابت کر کے عوام کی نظروں میں سرخرو ہوں۔ چینی انکوائری رپورٹ پبلک ہونے کے بعد جگمگاتی سکرینوں پر دہائی مچی ہوئی ہے کہ رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں ہے ہم اس سیکنڈل میں ملوث نہیں ہیں ہمارے دامن کرپشن سے آلودہ نہیں ہیں ہم انھیں نچوڑتے ہیں تو فرشتے وضو کرتے ہیں۔
شوگر مافیا کتنا طاقتور ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے دو ہزار سات کی بات ہے جنرل شاید عزیز نیب کے طاقتور ترین سربراہ تھے۔ اوپر صدر بھی باوردی بیٹھا ہوا تھا جو سیاہ و سفید کا مالک تھا۔ جنرل شاید عزیز اپنی کتاب یہ ”خاموشی کہاں تک“ میں لکھتے ہیں ”صدر صاحب نے چینی کی انکوائری بند کروا دی ہے“ وہ لکھتے ہیں کہ ابھی تحقیقات شروع ہی کی تھی کہ جنرل حامد جو صدر کے چیف آف سٹاف تھے فون آیا کہ چینی پر ہونے والی انکوائری کو بند کر دیا جائے، میں نے حجت پیش کی سر اس کے بہت برے اثرات ہوں گے انھوں نے کہا یہ ایگزیکٹو آرڈر ہے اب یہ انکوائری نہیں ہو گی۔
وہ مزید لکھتے ہیں کہ میں نے اخبار میں خبر دے دی کہ چینی سیکنڈل پر مزید انکوائری نہیں ہو گی خبر کا پبلش ہونا
Read more