شادی سے پہلے محبت، یاسر اور اقرا کا بوسہ اور ہمارا کلچر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں لکس سٹائل ایوارڈ کی تقریب میں قوم یہ دیکھ کر دم بخود رہ گئی کہ یاسر حسین نے اقرا عزیز کو پروپوز کیا اور کھڑے گھاٹ ہی نچوڑ ڈالا۔ قوم منتظر رہی کہ اس کے بعد لائیو ٹرانسمیشن میں مزید کیا اقدامات اٹھائے جاتے ہیں اور معاملات کس نہج کو پہنچتے ہیں مگر شکر ہے کہ معاملہ زیادہ عیاں نہیں ہوا اور پردہ پڑا رہ گیا۔ اس پر بجا طور پر احتجاج کیا گیا کہ شادی سے پہلے محبت کرنا ہمارا کلچر نہیں ہے۔ اس بات سے تو ہر ذی شعور مرد اتفاق کرے گا کہ شادی سے پہلے لڑکی کا محبت کرنا ہمارا کلچر نہیں ہے۔ ہاں بعض قوی شواہد موجود ہیں کہ شادی کے بعد محبت کرنا ہمارا کلچر ہے۔ مزید تفصیل کے لئے ہمارے کلچر کی عظیم رومانی داستانوں قصہ ہیر رانجھا اور سوہنی مہینوال سے رجوع کریں۔

مناسب بات بھی یہی ہے کہ جتنی محبت کرنی ہے شادی کے بعد ہی کی جائے۔ حیرت کی بات ہے کہ مغربی تہذیب میں شادی سے پہلے محبت کو اچھا جانا جاتا ہے مگر شادی کے بعد کوئی مرد کسی حسینہ سے محبت کرتا پکڑا جائے تو اس کی بیوی اس معاف نہیں کرتی۔ مشرق میں ایسا کرنے پر زوجہ صبر کرے تو اسے بہت اعلی اخلاقی اقدار کی حامل سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ کوئی زوجہ ایسا کرتے پکڑی جائے تو اسے غیرت مار ڈالتی ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ مشرقی اور مغربی تہذیب میں بعد المشرقین ہے۔

ہماری تہذیب کے مطابق طریقہ یہ ہے کہ کسی لڑکے نے شادی کرنی ہو تو اپنی اماں کو دبے الفاظ میں بتا دے۔ یا پھر کچھ ایسا بندوبست کرے کہ محلے والے گھر آ کر اس کی اماں کو بتا دیں کہ بہتر ہے کہ اپنے لڑکے کی شادی کر دو۔ اس کے بعد پورا خاندان مل کر لڑکی تلاش کرتا ہے۔ اس کے بعد ایک مبارک دن لڑکی اور لڑکے کو بتا دیا جاتا ہے کہ تمہاری شادی فلاں صاحب کی بیٹی سے ہو رہی ہے۔ یوں شادی ہو جاتی ہے۔ بلکہ ہماری مشرقی روایات میں تو اس حد تک شرم و حیا کا خیال رکھا جاتا ہے کہ ایک کہانی میں ہم نے خود پڑھا تھا کہ بادشاہ اور ملکہ باغ میں چہل قدمی کر رہے ہوتے ہیں تو ایک کنیز آ کر خوشخبری سناتی ہے کہ مبارک ہو ملکہ عالم، خدا نے ابھی ابھی آپ کو ایک چاند سا بیٹا عطا کیا ہے۔

لڑکی کا جنازہ تو ظاہر ہے کہ اسی گھر سے نکلے گا جس میں اس کی ڈولی گئی ہے، اور اس کے اپنے شوہر سے محبت نہ کرنے کا تو ہماری تہذیب میں تصور ہی نہیں ہے، ہاں اگر لڑکے کو لگے کہ اسے ملنے والی لڑکی اس کے لئے مناسب نہیں ہے تو وہ اسے اپنے ماں باپ کی پسند قرار دے کر دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کر سکتا ہے۔ بلکہ کوٹہ پورا ہونے پر طلاق دے کر مزید بھی کر سکتا ہے حتی کہ اسے اپنی سچی محبت مل جائے۔

گزشتہ دنوں ایک دوسرا بوسہ بھی بہت مشہور ہوا تھا مگر اس میں ہماری مشرقی اقدار کا بھرپور خیال رکھا گیا تھا۔ تمام معاملات سرتاپا ایک بند کمرے میں طے پائے تھے۔ اور ہماری تہذیب کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ایسا معاملہ یا اس کے بعد کے مراحل سے گزرنے کے دوران فریقین کے سوا کوئی تیسرا موجود نہ ہو ورنہ پانچ سات سال بعد کسی کو ویڈیو مل جائے تو پریشانی اٹھانی پڑ سکتی ہے۔ یہ محض مغربی ایجاد کا فساد تھا کہ اس بوسے کی ویڈیو بن کر لیک ہو گئی ورنہ کسی قسم کی پریشانی نہ ہوتی اور ہماری مشرقی اقدار مکمل طور پر محفوظ رہتیں۔ بہرحال اب بھی ان اقدار کا اور صاحب اقتدار کا کچھ نہیں بگڑا، ہاں وہ شر کی پتلی جس نے اس نہایت نجی معاملے کی خفیہ ویڈیو بنا کر عام کی تھی وہ کیفر کردار کو پہنچائی جا رہی ہے۔

یاسر حسین، اقرا عزیز اور لکس سٹائل والوں کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔ سٹوڈیوز وغیرہ میں بیک سٹیج روم ہوتے ہیں جہاں اداکار وغیرہ تیار ہوتے ہیں۔ یہ سب معاملات ادھر طے پانے کا بندوبست بھی کیا جا سکتا تھا۔ ان سب کو ہماری عظیم مشرقی روایات کی شرم و حیا کرنی چاہیے تھی۔

یہ بوسہ ہمارے کلچر کے خلاف ہے۔ لیکن اب غور کرنا شروع کیا ہے تو لکس سٹائل ایوارڈ ہی ہمارے کلچر کے خلاف ہے۔ یہ لڑکیاں ایسے نوٹنکیاں کیوں کر رہی ہیں؟ کیا یہ ہمارا کلچر ہے؟ اور بجائے اس قبیح فعل کی مذمت کرنے کے اسے ایوارڈ دیے جا رہے ہیں۔

ہمارا کلچر تو یہ کہتا ہے کہ لڑکیوں کو پردہ کر کے گھر بیٹھنا چاہیے چہ جائیکہ وہ سرعام اس طرح رقص کرتی پھریں۔ انہیں یہ ڈرامے کرنے کی بجائے صبح سویرے پنگھٹ سے پانی بھر کر لانا چاہیے۔ صبح صبح چکی چلائیں اور گندم سے تازہ آٹا پیس کر روٹیاں پکائیں۔ بچوں کو تیار کر کے سکول بھیجیں اور شوہر کو دفتر۔ اس کے بعد دوپہر کا کھانا بنائیں، سسرال والوں کی خدمت کریں، جھاڑو پوچا کریں، تکیوں کے غلافوں پر کشیدہ کاری کریں، رات کا کھانا بنائیں، اور ان سب فرائض سے فراغت پا کر امت میں اضافے کی سرتوڑ کوشش میں بھرپور تعاون کریں۔

ان سب لڑکیوں کا دماغ اس ٹی وی نے ہی خراب کیا ہے۔ اب ملکی حالات میں بگاڑ کا ذمہ دار بھِی ٹی وی ہی نکلا ہے۔ قوم کو کوشش کرنی چاہیے کہ ٹی وی پر یا تو مکمل پابندی لگا دی جائے، ورنہ جدید ریاست مدینہ میں مدنی ٹی وی کے ماڈل کو فروغ دیا جائے جو ”میڈیا کی تاریخ میں ایک ہی ایسا چینل ہے جو بے حیائی، فحاشی، میوزک اور عورت سے پاک ہے“۔ اگر کسی ہیرو نے ایسے پاک صاف ٹی وی پر بوسہ لینا بھی ہو گا تو اقرا کی بجائے اقرار کا لے گا جو کہ عربی تہذیب کے مطابق نہ صرف مباح ہے بلکہ عرب تو اپنے عزیز مہمانوں کے گال چوم چوم کر انہیں لال کر دیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1206 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar