جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کے نام کھلا خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محترم جناب جنرل باجوہ صاحب:

آپ نومبر 1960 کی پیدائش ہیں، اور میں ستمبر 1972 کی۔ آپ کی اور میری عمر میں محض 12 برس کا ہی فرق ہے۔ مگر آپ کے اور میرے جہانوں میں فرق سات زمینوں اور سات آسمانوں سے بھی زیادہ ہے۔ آپ جہاں ہیں، وہاں خوش ہیں۔ میں جہاں ہوں، میں بھی وہاں بہت خوش ہوں۔ آپ کے نام پہلے بھی دو خط لکھنے کی جسارت کی، تیسرا بھی اسی لیے لکھ رہا ہوں کہ آپ کے اور میرے درمیان مراتب کے بے پناہ فرق کے باوجود، آپ کی اور میری جنریش ایک ہی ہے۔ کیونکہ جنریشن گیپ کی کلاسیکی تعریف، اک نسل کو تقریبا 30 برس پر محیط رکھتی ہے۔

جناب والیٰ، کوئی چار روز قبل، اپنے اک دوست کے مسلسل اصرار پر پاکستان کے فاشسٹ ریاست بننے کے خوف پر اک یوٹیوب ویڈیو ریکارڈ کروائی۔ اس ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے سے مجھے میرے کئی دوستوں نے شغل میں اور چند ایک نے سنجیدگی سے کہا کہ احتیاط کیا کیجیے۔ کیونکہ آپ اسلام آباد میں رہتے ہیں جہاں سے آبپارہ اور راولپنڈی زیادہ دور نہیں۔ ان تمام دوستوں سے میں نے اپنی اس رجائیت کا اظہار کیا کہ تہذیب سے اور مہذب طریقے سے اپنی بات، بھلے اختلاف میں ہی ہو، کو کہنے میں کوئی حرج نہیں ہوتا، اور یہ بات، میری رائے کے مطابق، آبپارہ اور راولپنڈی، دونوں ہی سمجھتے ہیں۔

سچ مگر یہ کہوں گا کہ اپنی رجائیت کے باوجود، دل میں خوف کا اک ہلکورا تب بھی تھا، اور یہ کھلا خط تحریر کرتے ہوئے، اب بھی ہے۔

ایسا کیوں ہے؟

محترم جنرل صاحب، میرا بہت قوی قیاس ہے کہ آپ پاکستان کی گلیوں اور تھڑوں پر عین اس وقت موجود اس خیال سے آگاہی رکھتے ہیں کہ پاکستان کے موجودہ سیاسی نظام کو پاکستانی شہریوں کی اکثریت آپ کی آشیرباد اور آپ کا تحفہ گردانتی ہے۔

ریاست و سیاست کے ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے میں جانتا ہوں کہ پاکستان، جیسی بھی ہے، اک منظم ریاست ہے اور منظم ریاست لکھے ہوئے قانون اور میکنزم پر چلتی ہے۔ بھلے یہ کہیں بھی لکھا ہوا نہ ہو، مگر بحثیت اک پاکستانی شہری، مجھے کہنے دیجیے کہ جولائی 2018 کے الیکشنز میں پاکستانی عوام، ریاستی اداروں ریاستی اداروں کو ایک فریق کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ اک ایسے فریق کی حیثیت سے کہ جو پاکستان تحریک انصاف کی حمایت میں اپنی پوری طاقت اور قوت سے باہر نکلا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت میں آئے۔ اس کی مہریں الیکشن سے پہلے اور دوران بلوچستان، کراچی کے علاوہ پاکستان میں جگہ جگہ محسوس کی گئیں۔

میں خود عین اسی احساس کا چشم دید گواہ ہوں کہ جہاں میرے رشتہ دار اور احباب میں متعدد جونئیراور سینیر ریاستی اہلکارعین اسی موقف پر پائے گئے بلکہ کچھ تو الیکشن سے اک دن قبل موبائل پر پیغام بھیجتے رہے کہ عمران خان کو ووٹ دیجیے۔ بے شک میرے نہایت ہی محدود مشاہدے کا مطلب ادارہ جاتی پالیسی یا رویہ نہیں ہو سکتا۔ مگر اس عوامی احساس کا کیا کیجئے جو اوپر کے پیراگراف میں آپ کی نذر کیا ہے؟

جنابِ محترم، ایسا کیوں ہے، اور یہ بہت ادب سے عرض کر رہا ہوں، کہ پاکستان کے بالکل ابتدائی زمانے سے آج تک بیشتر اعلیٰ ریاستی منصب داروں کے ساتھ کوئی نہ کوئی متنازع گفتگو اور بحث جڑی ہوئی ہے؟

ایسا کیوں ہے سر؟

بہت ادب سے گزارش کرتا ہوں کہ موجودہ سیاسی انتظام کے ہاتھوں پاکستان کی بہتری ممکن نہیں، آپ بھلے حکومت کے ”مشکل“ فیصلوں کی داد دیتے رہیں اور یہ باور کرواتے رہیں کہ پاکستان اب درست سمت میں روانہ ہو چکا ہے۔ میں اپنے مشاہدے اور علم کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ موجودہ سیاسی نظام کی معاشی حلقوں میں کوئی کریڈیبلٹی موجود نہیں اور پاکستانی معیشت جو دو اعشاریہ سات پر سسک رہی ہے، بداعتمادی کی اس فضا میں رینگتی اور سسکتی رہے گی۔ معیشت، سیاسی استحکام کے بغیر ممکن ہو ہی نہیں سکتی، اور موجود ایکسیلنسی وزیر اعظم صاحب کی موجودگی میں یہ استحکام ممکن نہیں ہو سکتا۔

اس لیے بھی کہ مخالفین پر بھلے جو مرضی ہے فلمیں اور کہانیاں موجود ہوں، وہ خود کو حکومتی اور ریاستی طاقت کی بنیاد پر دیوار سے لگا ہوا محسوس کرتے ہیں، اور توہین کے مسلسل زخم سہ رہے ہیں۔ وہ بقا کی سیاست کریں گے اور بقا کی سیاست میں استحکام ممکن نہیں ہوتا۔ موجودہ سیاسی نظام اور اس کی ”پرفارمنس“ کی وجہ سے پاکستان پانچ اعشاریہ آٹھ کی معیشت سے تین درجے نیچے آ چکا ہے اور ورلڈ بینک نے کہہ دیا کہ پاکستانی معیشت کی ترقی نیپال اور مالدیپ سے بھی نیچے رہے گی۔

کیا اک مضبوط معیشت کے بغیر، اک مضبوط ریاست ممکن ہو سکتی ہے، سر؛ اور پھر وہ ریاست، کہ جس کے دفاع و تحفظ کے لیے آپ اور میرے وطن کے لاکھوں بیٹے اپنی جان ہتھیلی پر لیے پھر رہے ہیں؟

مجھے اپنے وطن کی خدمت کرنے والے ہر شخص اور ہر وردی کا دل سے احترام ہے۔ ریاستیں اور ریاستی ادارے لوگوں میں اپنا مقام خوف نہیں، عزت سے بناتے، بڑھاتے اور قائم رکھتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر کاروبارِ ریاست میں کسی رومانویت کا قائل نہیں، اور پاکستان کو مضبوطی کی پوزیشن سے اپنے مفادات کے بے رحمانہ تحفظ کا اہل دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں پاکستان کو اک مضبوط مگر خوشحال ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے وطن کا مقام، میرے پاسپورٹ کی عزت، میری شناخت کی اہمیت اگر دنیا میں نہ سہی، کم از کم اس خِطے میں ہی ممکن ہو، اور میری زندگی میں ہی ممکن ہو۔ یہ مگر اتنی افراتفری میں ممکن نہ ہو پائے گا، جس کا پاکستان پچھلے ایک سال سے شکار ہے، اور مستقبل قریب میں بھی حالات بدلتے نظر نہیں آتے۔

مجھ جیسے تو کچھ وفا اور کچھ خوف کا شکار بھلے ٹھہریں، آنے والی نوجوان نسلیں اس وطن کے ساتھ خود کو ایسے ماحول میں جڑا ہوا محسوس نہیں کریں گی۔ ایسے میں میرے وطن پر کیا عظمتیں نازل ہوں گی؛ ممکن بھی ہے؟

محترم جنرل صاحب، مضمون کی طوالت پر معذرت چاہتا ہوں، بات ختم کرتا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ موجودہ دائروی بھنور میں سے کیسے نکلا جائے گا۔ جب تک نکلا جائے گا، تب تک بہرحال نقصان کی کیفیت جاری رہے گی۔ مگر بحثیت اک پاکستانی، میں نے اپنا فرض سمجھا کہ آپ تک یہ بات بہت ادب سے کہہ دوں کہ میرے وطن کے بیٹوں کی وردی کا ٹھٹھا بن رہا ہے۔ عمومی عدم استحکام ہے۔ ریاستی ادارے بے توقیر ہو رہے ہیں۔ محترم جج، ارشد ملک صاحب کی ویڈیو ابھی تین روز قبل کی ہی بات ہے، اور اک اور صاحب تھے جو ڈیم بنانے پر مصر تھے۔ سنا ہے کہ وہ اپنے تمام فوائد کے ساتھ برطانیہ جا بسے ہی اور اکٹھے کیے گئے تیرہ ارب روپوں میں سے بس چند کروڑ ہی باقی رہ گئے ہیں۔

ریاستیں خود کو حاصل شدہ تشدد کے قانونی حق پر بھلے چلتی ہوں، مگر ریاستیں اندرونی طور پر اخلاقی برتری اور خدمت کے جواز پر کہیں بہتر چل سکتی ہیں۔
یہ سچ ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ آپ بھی اس سچ سے، مجھ سے زیادہ واقف ہیں۔
اللہ آپ کو خوش رکھے۔ اللہ میرے وطن کی حفاظت کرے۔

مخلص اور لاچار،
مبشر اکرم
اسلام آباد
جولائی 10، 2019

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •