شیطان کی حمایت میں ایک بیان!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا کسی کو یاد ہے کہ اپنے رانا ثنا ء اللہ کس حال میں ہیں؟ یو ں لگتا ہے کہ ہم سب رانا ثناء اللہ صا حب کو بھول چکے۔ رانا ثناء اللہ کو ہم اس لیے بھول گئے کہ اب ہمارے ہاتھ جج ارشد ملک آ چکے ہیں۔ خفیہ ہاتھوں والی قوتیں کہ جن کے لِتّے ہم رانا ثنا اللہ کی گاڑی میں منشیات رکھے جانے کی پاداش میں لے رہے تھے، اب ہمیں بتایا جاتا ہے کہ وہی جج ارشد ملک کے ڈراؤنے خوابوں کے لیے بھی ذمہ دار ہیں۔

وطن عزیز میں بھیانک سیاسی تقسیم اس وقت پوری طرح واضح ہے۔ لکیر کے دو اطراف کھڑے متحارب گروہوں میں تقسیم کے خدو خال اور ان کے پیچھے کارفرما مفادات کسی تفیصل کے محتاج نہیں۔ جہاں ایک گروہ، مخصوص افراد اور مخالف جماعتوں پر ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے اداروں پر حملہ آور ہونے کا الزام دھرتا ہے، تو وہیں جمہوریت، سویلین بالا دستی اور انسانی حقوق کے سنہرے پھریرے اڑاتا دوسرا گروہ ہر اس فرد یا جماعت کے ساتھ صف آرا ہونے کو تیار ہے جو ’غیر جمہوری قوتوں‘ سے مخاصمت پر آمادہ ہو۔ دوسری جنگ عظیم کے ہنگام چرچل نے دارالعوام میں کھڑے ہو کراعلان کیا کہ اگر ہٹلر کبھی دوزخ پر بھی حملہ آور ہوا تو بحیثیت وزیراعظمِ برطانیہ وہ یہاں شیطان کی حمایت میں ایک بیان ضرور دے گا۔

رانا ثناء اللہ کبھی بھی ایسی بے داغ شخصیت کے طور پر نہیں جانے گئے کہ شائستگی، رواداری، اعلی انسانی اقدار وحقوق پر مبنی مروت و احترام کے لیے جن کو مثال بنا کر پیش کیا جا سکے۔ اس کے برعکس ہم نے ہمیشہ ان کا ذکر فیصل آباد میں ان سے منسوب سنگین معاملات، اخلاقی گراوٹ میں لتھڑی گفتگو، جعلی پولیس مقابلوں اور ماڈل ٹاؤن خون ریزی کے ماسٹر مائینڈ کے حوالوں سے ہی سنا ہے۔ رانا صاحب کو پرویز مشرف کے مارشل لاء کے دوران جسمانی بد سلوکی کا سامنا کرنا پڑا جس کے نشان ان کے جسم و جان پر یقیناً آج بھی ہوں گے۔

تاہم یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کا شاید ہی کوئی مرد و زن بچا ہو جس نے ان کا راستہ کاٹ کر گزرنے کی کوشش کی ہو اور باقی زندگی ان کی زبان سے کھائے زہریلے گھاؤ کو چاٹتے ہوئے نا گزاری ہو۔ پیپلز پارٹی سے رانا صاحب کو شریف خاندان کی عورتوں کے بارے میں انتہائی گری ہوئی گفتگو کی بناء پر نکالا گیا۔ تب سے رانا صاحب انہی شریفوں کی ترکش کا سب سے زہریلا تیر رہے ہیں۔ پاکستان کا کون سا سیاسی لیڈر ہے جس کے طبی معائنہ کے لیے رانا صاحب نے مطالبہ نا کیا ہو!

تاہم حیران کن طور پر اے این ایف کے ہاتھوں ان کی گرفتاری کے فوراً بعد ہمیں معلوم ہوا کہ رانا ثنا ء اللہ تو درحقیقت حاجی ثناء اللہ تھے۔ راتوں رات ٹویٹر کے اوپر جمہوریت اور آزادیٔ اظہار کے پھریرے اڑاتا گروہ حرکت میں آ گیا۔ ہر دوسرا ٹی وین اینکرپرسن رانا صاحب کی بیگم کو اپنے پروگرام میں لینے کو بیتاب تھا۔ سادہ لوح خاتون کے منہ سے رانا صاحب کی گرفتاری پر مبنی درد کی داستان اور ان کے حالاتِ زندگی ازسرِنو سنتے سنتے، جمہوریت پسند لبرلز رات گئے تک آبدیدہ ہوتے رہے۔ دوسری طرف یہی جانے پہچانے اینکر پرسنز، یو ٹیوب صحافی اورچند کل وقتی ٹویٹر کے جنگجو، سوشل میڈیا پر رانا صاحب اور بھٹو صاحب میں تقابل کرتے ہوئے دنیا کو بتا رہے تھے کہ پاکستان میں نادیدہ قوتوں کے ہاتھوں بولنے کی آزادی یکسر سلب ہو چکی ہے۔

تاہم چند روز سے ان سب کا موضوع اب رانا صاحب نہیں بلکہ جج ارشد ملک ہیں!

مبنی بر تعصّب انتہا پسند رویّے صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ فی زمانہ پوری دنیا نفرت اور شدت پسندی کی گرفت میں نظر آرہی ہے۔ ہمارے پڑوس میں مودی جی نے حالیہ انتخابات قوم کو واضح طور پر دو گروہوں میں بانٹ کر نفرت کے بیانیے پر جیتے۔ راہول گاندھی نے انتخابی شکست کے بعد قیادت چھوڑتے ہوئے کانگرس پارٹی کو اپنی نظریاتی اساس برقرار رکھتے ہوئے نئی قیادت چننے کا مشورہ دیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ بھارت میں انتہا پسند بیانیے کا ظہور ملک میں خاندانی سیاست کے خاتمے کا آغاز ہے۔

سات سمندر پار امریکہ میں صدر ٹرمپ بھی مودی کی طرح بظاہر سفید فام برتری اور اسلام مخالف جذبات کی منہ زور آندھی پر سوار ہو کر بر سراقتدار آئے تھے۔ تاہم ہندوستان کی نسبت، امریکہ میں صدر ٹرمپ انتہا پسندی کے بل بوتے پر حاصل کیے گئے اقتدار کو امریکی بادشاہت میں بدلنے کی شعوری یا غیر شعوری خواہش کے تابع نظر آتے ہیں۔ صدارتی محل میں آتے ہی صدر ٹرمپ نے اپنی بیٹی ایونکا ٹرمپ اوراس کے شوہر کو اہم حکومتی عہدوں سے نوازا۔

یقیناً ان کے پیشِ نظر ایونکا کی مستقبل میں مزید بھاری ذمہ داریاں ہوں گی۔ جیسے اپنے نواز شریف نے اپنی بیٹی مریم نواز کو بے روز گارپاکستانی نو جوانوں میں صاحبزادی کی صوابدید پر بانٹنے کو اربوں روپے تفویض کیے تھے، بالکل اسی طرح لاکھوں امریکی لوئرمڈل کلاس ورکرز کے لئے ایونکا کی تیارکردہ بہبود ی پالیسی کی رونمائی کے لئے منقعدہ تقریب میں ایونکا نے جب تعارفی کلمات کے بعد مائیک اپنے والدکی طرف ’جناب صدر‘ کہہ کر بڑھایا تو امریکہ کے صدر نے شفقت سے بیٹی کا ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے کہا ”میری بیٹی میرے ساتھ بہت فارمل (سنجیدہ) ہورہی ہے“۔ عین اسی وقت امریکہ کے طول وعرض میں پھیلے لاکھوں تنگ دست ورکرز، باپ بیٹی کو ٹی وی کی سکرینوں پر دیکھتے ہوئے بے حد سنجیدگی سے یہ جاننے کے منتظر تھے کہ ایونکا نے ان کی تقدیر میں کیا لکھا ہے!

حال ہی میں ایو نکا، جناب صدر کے ساتھ جی ٹونٹی کانفرنس کے لیے ٹوکیو گئیں تو اپنی رگوں میں دوڑتے ٹرمپ خون کی بنا پرلگاتار خبروں میں رہیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق تو عالمی لیڈرز ایونکا کی محبت میں گرفتار ہو گئے، تاہم مغربی عوام کا سوشل میڈیا پراس نسبت سے ردِعمل باپ بیٹی کے لئے انتہائی نا موافق نظر آیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیومیں ایونکا جب برطانوی، کینیڈین اور فرانسیسی وزرائے اعظم اور آئی ایم ایف کی سربراہ کے مابین جاری گفتگو میں بن بلائے ناک گھسیڑنے کی مضحکہ خیزکوشش کرتے ہوئے نظر آئیں تو ان کی اس حرکت پر کرسٹینا لوگارٹ بے زاری سے دیدے گھماتی ہوئے دیکھی گئیں۔

اسی لمحے سوشل میڈیا پر مغربی عوام نے پیار سے کرسٹینا کو ’دیدے گھمانے والی خاتون‘ جبکہ صدر ٹرمپ کو ’بادشاہ‘ ، جبکہ ان کی بیٹی ایونکا کو ’شہزاد ی‘ کے القاب سے یاد کرنا شروع کر دیا۔ تمام تر سفید نام برتری کے ظالمانہ احساس، مسلمانوں اور دیگر تارکین وطن سے حقارت اور ٹرمپ سے ہمدردی کے باوجود امریکی عوام نے یہ سوال شدومد سے اٹھا دیا کہ کیا کسی کو ایسے رویے کی اجازت محض اس بناء پر دی جا سکتی ہے کہ اس کی پیدائش کسی شاہی خاندان میں ہوئی ہو!

وطن عزیز میں مگر حق حکمرانی کے تعین کے لئے ہم ان باریکیوں میں نہیں پڑتے۔ جمہوریت اور انسانی حقوق کے سنہری پھریرے لہراتے لبرلز بھی ایسی بے مقصد پیچیدگیوں میں نہیں الجھتے۔ ان کی دلچسپی صرف یہ جاننے تک محدود رہتی ہے کہ جہنم پر کسی بھی حملے کے پیچھے کہیں وہی خفیہ ہاتھ تو ملوث نہیں کہ جسے وہ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری، عدلیہ اور میڈیا پر دباؤ ڈالنے اورعوام کے جمہوری حقوق کی جنگ لڑنے والے ٹویٹر اکاؤنٹس بند کرنے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ ایسا کوئی بھی شائبہ گزرنے کی صورت میں چرچل کے قول کی روشنی میں، شیطان کی حمایت میں فی جمہوری لبرل کم از کم ایک بیان تو بنتا ہے!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •