خاتون رہنما کے لئے ایک مشورہ

۔1986 ء میں منعقدہ کورس کی ایک صبح درجن بھر لفٹین معمول کی کلاسز کی بجائے کمپنی کمانڈر کے دفتر کے سامنے کھڑے تھے۔ گزشتہ نصف شب کے آس پاس یو بلاک میں رہائش پذیر کورس کے سینئیر سٹوڈنٹ کے کمرے پر ایک دو پتھر پھینکے گئے تھے۔ کورس سینئیر انجینیئرنگ یونیورسٹی لاہور سے ڈگری کے بعد کپتانی میں ڈائریکٹ کمیشن لینے کے بعد سیدھے لفٹینوں کے ساتھ کورس کرنے چلے آئے تھے۔ خشک مزاج تھے، چنانچہ چند ہی روز میں غیرمقبول ہوچکے تھے۔

ڈیوٹی پر موجود سنتری نے چہرے تو نا دیکھے تھے تاہم کمروں کی عمومی نشاندہی کر دی جن کی طرف پتھراؤ کرنے والے بھاگتے ہوئے غائب ہوئے تھے۔ صبح سویرے کمپنی کمانڈر نے دس بارہ مشتبہ لفٹینوں کو قطار میں کھڑا کر کے گزشتہ شب کے واقعہ کے ذمہ داروں کہ جن کے نام سے اب تک پورا کورس واقف تھا، کے بارے میں پوچھا۔ لفٹینوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ کمپنی کمانڈر نے انہیں بتایا کہ ’مجرمان‘ کے نام پتا نہ چلنے کی صورت میں دوپہر سے پہلے پہلے سب کا کورٹ مارشل کیا جائے گا جس کے نتیجے میں دو چار سال جیل تو معمولی بات ہے۔

Read more

ہمیں ایک بادشاہ چاہیے!

سیموئیل نبی سے قوم نے مطالبہ کیا کہ خدا سے کہو ہمارے لیے ایک بادشاہ اتارے۔ سب قوموں کے ہاں عظیم الشان درباروں میں شان و شوکت والے بادشاہ فروکش ہیں۔ ہمیں بھی ایسے ہی رعب و دبدبے والا بادشاہ چاہیے۔ نبی نے اپنی قوم کو بہت سمجھایا مگر سب مُصر رہے کہ انہیں تو بس ایک بادشاہ چاہیے جو بڑی شان اور کروفر والا ہو۔ نسل در نسل کی غلامی سے بنی اسرائیل کو نجات دلا کر حضرت موسیٰ ؑ چالیس سال کی مسافت کے بعد اپنی قوم کو اس آزاد سر زمین پر لائے تھے جس کا مقدس کتابوں میں ان سے وعدہ تھا۔ غلامی مگر ہڈیوں کے گودے میں اتر چکی ہو تو قوم کو ایک نجات دہندہ کی نہیں بلکہ ایک بادشاہ کی ہی خواہش ر ہتی ہے!

Read more

ایک ازکار رفتہ سپاہی کی ڈائری سے۔۔۔

1977 ء میں، میں بارہ سال کا تھا۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو قبل از وقت اسمبلیاں تحلیل کر کے انتخابات کا اعلان کر چکے تو ایک رات ہمارے گھر کے پاس سے ایک جلوس کسی شخص کا نام لے کر فحش گالیاں بکتے ہوئے گزرا۔ بھٹو صاحب کے نام سے یہ میری پہلی شناسائی تھی۔ فطری طور پر میرے دل میں اس شخص کے لئے کہ جسے میں جانتا بھی نہیں تھا، ہمدردی کے جذبات اُمنڈ آئے۔ کچھ ہی دن میں مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ میرے والد اور ہمارا سارا خاندان بھٹو صاحب اور ان کی پیپلز پارٹی کے حامی تھے۔

میرے والد اپنے اکلوتے اور عمر میں محض ایک سال بڑے بھائی کے ساتھ قیام پاکستان کے سال، گورو نانک خالصہ کالج گوجرانوالہ (حالیہ گورنمنٹ اسلامیہ کالج) میں گریجوایشن کے آخری سال میں تھے۔ تحریک پاکستان میں دیگر نوجوان مسلمانوں کی طرح جلسے جلوسوں میں حصہ لیتے۔ پولیس کبھی کبھار طالب علموں کے سالم جلسے کو ٹرکوں میں بھر کر شہر سے دور چھوڑ آتی۔ واپسی کا سفر ان نوجوانوں کے لئے الٹا تفریح طبع کا باعث بنتا۔ آزاد وطن کا قیام عمل میں آگیا تو طالب علمی کا دور بھی اختتام کو پہنچا۔

Read more

لار و بار، یو پاکستان

بعض حلقوں میں کہا جا رہا ہے کہ پی ٹی ایم تحریک طالبان پاکستان کا سیاسی ونگ ہے۔ جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس گروہ کو اے این پی کا عسکری جتھا کہنا زیادہ قرین قیاس ہے۔افغانستان تاریخی طور پر حملہ آور لشکروں کی آماجگاہ رہا ہے۔ مختلف ادوار میں افغانستان سے سکندر اعظم، موریا، عرب، منگول اور ترک لشکر گزرے، ٹھہرے اور قابض رہے۔ فاتح اقوام دریائے سندھ اور پھر اس کے پار لاہور سے دہلی اور اس سے آگے پھیلے اور آباد ہوتی چلی گئیں۔ اس دور میں اگرچہ سلطنتوں کی حدود کو شہری مراکز سے پہچانا جاتا تھا، افغانستان کی حد پشاور سے آگے دریائے سندھ تک پھیلی ہوئی بتائی جاتی ہے۔ کچھ عرصہ بعد پنجاب کے سکھ حکمرانوں نے پشاور پر قبضہ کر لیا اور اپنی راجدھانی کی حدود کو موجودہ افغانستان کی سرحد تک لے آئے۔

Read more

وزیرستان میں تاریکی کا سفر

راولپنڈی میں کسی ایک تقریب میں اپنے پیارے دوست بریگیڈئیر عبدالرشید سے ملاقات ہوئی۔ نقیب اللہ محسود کے قتل کو کچھ ہی دن ہوئے تھے اور پی ٹی ایم کا غلغلہ تھا۔ عبدالرشید جسے ہمارا کورس اس کے اصلی نام سے زیادہ پی ایم اے میں دیے گئے نام سے جانتا ہے، یاروں کا یار، اکھڑ فوجی، سچا پاکستانی اوربنوں کا خالص پٹھان ہے۔ پی ٹی ایم کی ابھرتی تحریک پر مجھے وہ متفکر نظر آیا۔ تقریب سے اٹھتے ہوئے میں نے اس سے درخواست کی کہ اگر وہ آج کی گفتگو کو چند نکات میں ڈھال سکے تو میں اس موضوع پر کچھ لکھنے کی کوشش کروں گا۔ بریگیڈئیر عبدالرشید نے اگلے ہی روز مجھے ترتیب وار نکات پر مبنی اپنا تجزیہ بھیج دیا۔ میں اس موضوع پر لکھنے کو سوچتا رہا تا ہم بوجہ خود کوآمادہ نہ کر پایا۔

اپنی فوجی ملازمت کے ساڑھے تین سال میں نے فاٹا کی تین ایجنسیوں بالخصوص شمالی اور جنوبی وزیرستان میں گزارے۔ دل وجان پر گزری ایک داستان ہے جو ایک عرصہ سے قلم بند کرنے کی جستجو میں ہوں۔ نوک پلک ٹھیک کرنے کو طویل اوربے ترتیب مسودے کو اٹھاتا ہوں تو کئی نئے چہرے، مقامات اور واقعات یادوں کے جھروکوں سے آن دھمکتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد تقریباً دو سال کے عرصے میں پچاس ساٹھ کے قریب کالم لکھ چکا ہوں، لیفٹیننٹ طیب پر لکھے گئے مضمون کے علاوہ ایک حرف بھی قبائلی علاقوں پر نہیں لکھا۔

Read more