’ انصاف کے سیکٹر‘ کوبھی غیر سیاسی ہونا چاہیے!

انگریزی اخبار نے سرخی جمائی۔ ”سپریم کورٹ کی تاریخی جنگ کے لیے تیاری“۔ ملک میں ہیجانی کیفیت طاری تھی تودوروز تک معرکے کی ولولہ انگیزرپورٹیں اور آتشیں مضامین اخبارات کی زینت بنتے رہے۔ مخصوص ٹی وی چینلز کی تو جیسے چاندی ہو گئی ہو۔ ایک طرف سپریم کورٹ تو دوسری طرف اسلام آباد ہائی کورٹ…

Read more

ایک ہی سوراخ سے ڈسے جانے کا لطف

مولانا فضل الرحمن کا دھرنا جاری ہے، مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ وہ دھرنے کے مقاصد حاصل کرپائیں گے یا کہ نہیں۔ میں اس بحث میں بھی الجھنے کوتیار نہیں کہ دھرنے کے احداف کی قانونی، اخلاقی اور سیاسی حیثیت کیا ہے۔ مجھے یہ جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں کہ موجودہ دھرنا 2014…

Read more

ایک اور ’لشکر‘ کا سامنا تھا منیر مجھ کو!

7 مارچ 1977 ء کی شام پھیلتے اندھیرے میں ہمارے گھر کے پاس والے پولنگ سٹیشن پر انتخابی نتیجے کا اعلان ہوا تو خرم دستگیر کے والد خان غلام دستگیر خان، پی این اے کی ٹکٹ پر فاتح قرار پائے۔ نتیجہ سنتے ہی ایک منڈھی مونچھوں اور لمبی داڑھی والا شخص بازو فضا میں لہرا…

Read more

دھرنے کا منظر: دھرنے کے بعد کیا ہو گا

اس امر میں کوئی شک نہیں کہ جہاں عمران خان کے رومانس میں مبتلا، اب بھی ان سے امیدیں وابستہ کئے پاکستانی بے شمار ہیں، تو وہیں ان سے بے پناہ نفرت کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ ہر دوگروہوں کے رویے بظاہر عمران خان کی شخصیت، مگر درحقیقت کچھ دیگر عوامل کی بنا پر…

Read more

اکتوبر 2005ء… نورخان ایئر بیس سے

چودہ سال قبل ماہ رمضان کے ابتدائی دنوں میں آٹھ بجکر پچاس منٹ پر زمین تھرتھرائی تو سحری کے بعد کی گہری نیند میں ڈوبے لاکھوں پاکستانیوں کی طرح ہم بھی ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھے۔ میں نے پہلو میں پڑی دو سالہ بیٹی کو بازوؤں میں لپیٹا اور سوتے جاگتے میں مکان سے باہر…

Read more

سچن ملہوترہ کی پیشن گوئیاں اور عمران خان کا مستقبل!

سچن ملہوترا ایک معروف بھارتی آسٹرولوجسٹ ہیں۔ 18 اگست 2018 ء میں منعقدہ تقریبِ حلف برداری کو انہوں نے اپنے علم کی کسوٹی پر پرکھا اور نتائج کی روشنی میں اپنی آراء حسب معمول ایک اورمضمون میں مرتب کی ہیں۔ سچن کا کہنا ہے کہ ملکی وسائل کی کمیابی کی بناء پر اپنائی گئی سادگی اور بدعنوانی کے مرتکب سابقہ حکمرانوں کے خلاف عمران خان کے اقدامات ان کی پیشن گوئیوں کے عین مطابق ہیں۔ سچن کا خیال ہے کہ آنے والے سالوں میں وزیراعظم عمران خان تاریخ کے سب سے کامیاب، قابلِ احترام اور دوراندیش پاکستانی رہنما ثابت ہوں گے۔

اس دوران وہ اپنے انتظامی، معاشی اور احتسابی اقدامات کو پورے پانچ سال پر پھیلانے میں بھی کامیاب رہیں گے۔ اپنے عرصہ اقتدار میں ان کو ملک کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی غیر مشروط حمایت حاصل رہے گی۔ سچن کے تجزیے کے عین مطابق وہ تمام سیاسی پارٹیاں کہ جن کے خلاف عمران خان انتخابات میں دھاندلی کے نام پر احتجاج کرتے رہے، اگرچہ وہ سب کی سب اب ان کے خلاف صف آراء ہیں، تاہم سال 2021 ء کے بعد بلاول بھٹو ہی عمران خان کے سامنے موثر مزاحمت کرنے والے واحد رہنما کے طور پر رہ جائیں گے۔

Read more

جنرل لِدھر سے جنرل بپن رَوت تک۔ بھارتیوں سے متعلق چند یادیں

میں ان چندپاکستانی فوجی افسروں میں سے ہوں جنہیں بھارتی فوج کے ساتھ بہت قریب سے کام کرنے کا موقع ملا۔ چنانچہ میں بھارتیوں کے عمومی رویوں، عادات اور مزاج سے قدرے واقف ہوں۔

صدیوں کی غلامی، غربت اور ذلت کے بعد حال ہی میں دستیاب مالی آسودگی میں پلنے بڑھنے والی متوسط طبقے سے وابستہ بھارتی نسل اسی خمار و تکبر میں مبتلا ہے جو ہمارے مشرقی معاشروں میں نو دولتیوں سے وابستہ ہے۔

Read more

گیس ٹیکس کی واپسی: شاہد خاقان عباسی اور عمران خان کے فیصلے

فرمایا۔ بنو انصاف کی گواہی دینے والے کہ لوگوں کی عداوت تمھیں بے انصافی پر آمادہ نہ کردے۔ فرمایا سچ میں نجات اور جھوٹ میں ہلاکت ہے۔ وطنِ عزیز میں کہ روّیے بغض، عناد اور بے انصافی پر مبنی ہو چکے۔ جھوٹ سے کراہت مٹ چکی۔ معاشرہ گروہوں میں بری طرح تقسیم ہے۔ افراتفری کاعالم ہے کہ کھلی آنکھوں سے حقیقت کو دیکھتے ہیں مگر اپنے اپنے گروہی حصاروں میں ڈٹے کھڑے ہیں کہ یہی اب وفاداری اور بہادری کا پیمانہ ٹھہرا۔

Read more

کرۂ ارض اور سورج کے ٹکرانے سے پہلے!

ڈاکٹر فاسٹس کی قدیم المیہ جرمن لوک داستانوں میں کرہ ارض کی پیدائشکی بنیادی وجہ آسمانوں پر فرشتوں کے غول در غول کی ناختم ہونے والی بے لوث عبادت سے خدا کی اکتاہٹ بیان کی گئی ہے۔ آخر خدا نے بھی تو ان فرشتوں کو ہر نعمت سے نواز رکھا تھا۔ چنانچہ ابدی یکسانیت سے نجات کے لئے خدا نے فیصلہ کیا کہ کیوں نا ایک کھیل کھیلا جائے۔ چنانچہ اس نے حکم دیا کہ کائنات کی اتھاہ گہرائیوں میں بے مقصد گھومنے والے آگ کے گولے کو ٹھنڈا کر کے اس کے اوپر ایک ایسی مخلوق آباد کی جائے کہ جسے عقل ودیعت کر کے آزمایا جائے کہ وہ زمین پر تمام تر افتاد اورآزمائشوں کے باوجود بھی اس کا شکر بجا لاتی ہے یا کہ نہیں!

Read more

’جمہوری لبرلز‘ کی خدمت میں ایک عامی کی گزارشات

سوال یہ نہیں کہ وطن ِ عزیز میں لوگوں کو انصاف مل رہا ہے یا نہیں، معاملہ یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں سے انصاف اٹھ چکا ہے۔ جس طرح کفر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے مگر وہ کہ جو ظلم پر استوار ہو، اسے قرار ممکن نہیں۔ بالکل اسی طرح وہ معاشرہ کہ جہاں انفرادی اور معاشرتی معاملات پر انصاف برتنے کی صلاحیت اور جھوٹ سے نفرت مٹ جائے تو اس کے لوگوں کے نصیب میں بھی دن رات چھینا جھپٹی، رونا دھونا اور چیخ پکار ہی رہ جاتے ہیں۔

Read more