اکتوبر 2005ء… نورخان ایئر بیس سے

چودہ سال قبل ماہ رمضان کے ابتدائی دنوں میں آٹھ بجکر پچاس منٹ پر زمین تھرتھرائی تو سحری کے بعد کی گہری نیند میں ڈوبے لاکھوں پاکستانیوں کی طرح ہم بھی ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھے۔ میں نے پہلو میں پڑی دو سالہ بیٹی کو بازوؤں میں لپیٹا اور سوتے جاگتے میں مکان سے باہر…

Read more

سچن ملہوترہ کی پیشن گوئیاں اور عمران خان کا مستقبل!

سچن ملہوترا ایک معروف بھارتی آسٹرولوجسٹ ہیں۔ 18 اگست 2018 ء میں منعقدہ تقریبِ حلف برداری کو انہوں نے اپنے علم کی کسوٹی پر پرکھا اور نتائج کی روشنی میں اپنی آراء حسب معمول ایک اورمضمون میں مرتب کی ہیں۔ سچن کا کہنا ہے کہ ملکی وسائل کی کمیابی کی بناء پر اپنائی گئی سادگی اور بدعنوانی کے مرتکب سابقہ حکمرانوں کے خلاف عمران خان کے اقدامات ان کی پیشن گوئیوں کے عین مطابق ہیں۔ سچن کا خیال ہے کہ آنے والے سالوں میں وزیراعظم عمران خان تاریخ کے سب سے کامیاب، قابلِ احترام اور دوراندیش پاکستانی رہنما ثابت ہوں گے۔

اس دوران وہ اپنے انتظامی، معاشی اور احتسابی اقدامات کو پورے پانچ سال پر پھیلانے میں بھی کامیاب رہیں گے۔ اپنے عرصہ اقتدار میں ان کو ملک کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی غیر مشروط حمایت حاصل رہے گی۔ سچن کے تجزیے کے عین مطابق وہ تمام سیاسی پارٹیاں کہ جن کے خلاف عمران خان انتخابات میں دھاندلی کے نام پر احتجاج کرتے رہے، اگرچہ وہ سب کی سب اب ان کے خلاف صف آراء ہیں، تاہم سال 2021 ء کے بعد بلاول بھٹو ہی عمران خان کے سامنے موثر مزاحمت کرنے والے واحد رہنما کے طور پر رہ جائیں گے۔

Read more

جنرل لِدھر سے جنرل بپن رَوت تک۔ بھارتیوں سے متعلق چند یادیں

میں ان چندپاکستانی فوجی افسروں میں سے ہوں جنہیں بھارتی فوج کے ساتھ بہت قریب سے کام کرنے کا موقع ملا۔ چنانچہ میں بھارتیوں کے عمومی رویوں، عادات اور مزاج سے قدرے واقف ہوں۔

صدیوں کی غلامی، غربت اور ذلت کے بعد حال ہی میں دستیاب مالی آسودگی میں پلنے بڑھنے والی متوسط طبقے سے وابستہ بھارتی نسل اسی خمار و تکبر میں مبتلا ہے جو ہمارے مشرقی معاشروں میں نو دولتیوں سے وابستہ ہے۔

Read more

گیس ٹیکس کی واپسی: شاہد خاقان عباسی اور عمران خان کے فیصلے

فرمایا۔ بنو انصاف کی گواہی دینے والے کہ لوگوں کی عداوت تمھیں بے انصافی پر آمادہ نہ کردے۔ فرمایا سچ میں نجات اور جھوٹ میں ہلاکت ہے۔ وطنِ عزیز میں کہ روّیے بغض، عناد اور بے انصافی پر مبنی ہو چکے۔ جھوٹ سے کراہت مٹ چکی۔ معاشرہ گروہوں میں بری طرح تقسیم ہے۔ افراتفری کاعالم ہے کہ کھلی آنکھوں سے حقیقت کو دیکھتے ہیں مگر اپنے اپنے گروہی حصاروں میں ڈٹے کھڑے ہیں کہ یہی اب وفاداری اور بہادری کا پیمانہ ٹھہرا۔

Read more

کرۂ ارض اور سورج کے ٹکرانے سے پہلے!

ڈاکٹر فاسٹس کی قدیم المیہ جرمن لوک داستانوں میں کرہ ارض کی پیدائشکی بنیادی وجہ آسمانوں پر فرشتوں کے غول در غول کی ناختم ہونے والی بے لوث عبادت سے خدا کی اکتاہٹ بیان کی گئی ہے۔ آخر خدا نے بھی تو ان فرشتوں کو ہر نعمت سے نواز رکھا تھا۔ چنانچہ ابدی یکسانیت سے نجات کے لئے خدا نے فیصلہ کیا کہ کیوں نا ایک کھیل کھیلا جائے۔ چنانچہ اس نے حکم دیا کہ کائنات کی اتھاہ گہرائیوں میں بے مقصد گھومنے والے آگ کے گولے کو ٹھنڈا کر کے اس کے اوپر ایک ایسی مخلوق آباد کی جائے کہ جسے عقل ودیعت کر کے آزمایا جائے کہ وہ زمین پر تمام تر افتاد اورآزمائشوں کے باوجود بھی اس کا شکر بجا لاتی ہے یا کہ نہیں!

Read more

’جمہوری لبرلز‘ کی خدمت میں ایک عامی کی گزارشات

سوال یہ نہیں کہ وطن ِ عزیز میں لوگوں کو انصاف مل رہا ہے یا نہیں، معاملہ یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں سے انصاف اٹھ چکا ہے۔ جس طرح کفر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے مگر وہ کہ جو ظلم پر استوار ہو، اسے قرار ممکن نہیں۔ بالکل اسی طرح وہ معاشرہ کہ جہاں انفرادی اور معاشرتی معاملات پر انصاف برتنے کی صلاحیت اور جھوٹ سے نفرت مٹ جائے تو اس کے لوگوں کے نصیب میں بھی دن رات چھینا جھپٹی، رونا دھونا اور چیخ پکار ہی رہ جاتے ہیں۔

Read more

طویل تعطیلات، بے ترتیب ورق گردانی اور بکھرے خیالات

عید کی طویل چھٹیاں گزارنا میرے جیسے تنہائی پسند شخص کے لیے بھی د و بھر ہو کر رہ گیا۔ ارادہ تھا کہ ان دنوں میں کچھ یادداشتیں قلم بند کرنے کی کوشش کروں گا۔ مودی نے مگر سب کچھ تلپٹ کر کے رکھ چھوڑا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے انسانوں پر بیتنے والے گزشتہ دس انسانیت سوز دنوں پر لکھنا چاہتا ہوں مگر لکھ نہیں پا رہا۔ ساری عمر لفٹینی میں پہلے پروموشن ایگزیمنیشن سے لے کر عشروں پر محیط چائے کے وقفوں، فارمیشن لیول پر منعقدہ سیمیناروں، مباحشوں اور تربیتی کورسز میں کشمیر کو لگاتار پڑھا۔

Read more

چالیس سفید ریشوں کی خلیفہ کے دربار میں شہادت!

مسلمانوں کی اکثریت بالعموم چار خلفائے راشدین کے نام سے واقف ہے۔ تاہم مسلم اکابرین کی ایک بڑی تعداد بنو امیّہ خاندان کے آٹھویں خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو بھی راشد خلیفہ کے طور پر دیکھتی ہے۔ آپ کی والدہ حضرت عمر بن خطابؓ کی پوتی تھیں۔ فاروقِ اعظمؓ اکثر فرماتے کہ میری اولاد میں سے ایک شخص ابھرے گا جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ بنی امیّہ کے بانوے سالہ دورِملوکیت میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کا دور، آمریت کی طویل صدی میں ڈھائی سالہ فقرو درویشی پر مبنی خلافت کا ایسا زمانہ سمجھا جاتا ہے کہ جس نے خلفائے راشدین کی یاد تازہ کر دی ہو۔

Read more

استاد کو یہ مقام تو اٹلی میں بھی حاصل نہیں!

جیسا کہ کسی گزشتہ مضمون میں میں نے عرض کیا تھا کہ بچپن میں مجھے بھی کسی اخبار یارسالے کا مدیر بننے کا شوق لاحق تھا۔ میری والدہ مرحومہ مگر چاہتی تھیں کہ میں ڈاکٹر یا انجینئر بنوں۔ آٹھویں جماعت میں جب پیچیدہ سائنسی مضامین سے واسطہ پڑا تو میرا ہاتھ تعلیمی کاکردگی میں تنگ پڑنے لگا! ستر کے عشرے میں عطا محمد اسلامیہ ہائی سکول گوجرانوالہ میں داخلہ حاصل کرنا بڑے اعزاز کی بات سمجھا جاتا تھا۔ قبل از قیامِ پاکستان رئیسانِ شہر کی غیر سرکاری انجمن کے تحت قائم شدہ ہمارا سکول پر شکوہ تاریخی عمارت اور شاندار تعلیمی رکارڈ کے حامل ادارے کے طور پر جانا جاتا تھا۔

Read more

پپلانتری کے طلسمی گاؤں میں اڑتی تتلیاں!

بنی نوع انسان کی معلوم تاریخ کے قدیم ادوار میں عورت کو بالعموم مرد کے لیے عیش و عشرت کے سامان اور بچوں کی پیدائش کے محض ایک ذریعہ کے طور پر ہی دیکھا جاتا تھا۔ ایک ایسی جنس جسے مال مویشیوں کی منڈیوں میں خریدا اور پھر حسب ضرورت برتا جاسکتا ہو۔ قدیم واہیانہ مذاہب عورت کو گناہ کا سر چشمہ، معصیت اور اس سے تعلق رکھنا روحانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے تھے۔ قدیم تہذیبوں میں اگرچہ بعض خواتین نے اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر عنان اقتدار تک رسائی بھی حاصل کی، تاہم ایسی چند استثنائی مثالوں کو چھوڑ کر یہ امر ایک تاریخی حقیقت ہے کہ زیادہ ترمہذب معاشروں میں بھی عورت کی سماجی حیثیت بچپن میں باپ، پھرشوہر اور اس کے بعد اولاد نرینہ کی تابع و محکوم ہی کی سی رہی ہے۔

Read more