یہ عذاب نہیں، سنتِ الہٰی کا معاملہ ہے!

1918 ء میں انفلوئنزا خاندان کے ہی ایک وائرس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا تو پچاس کروڑ متاثرین میں سے پانچ کروڑ کے لگ بھگ جان کی بازی ہار گئے۔ انسانی تاریخ کی اس مہلک ترین وباء کو ’سپینش فلو‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کرونا وائرس کو اس کے پھیلاؤ…

Read more

’عورت مارچ‘ کے بعد!

کئی روز سے دھول اڑاتی ٹولیاں اور قافلے گھروں کو لوٹ چکے۔ عورت مارچ والوں کا مقصداگر تو شور شرابہ ہی تھا تو یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ وہ خوب زور سے بولے۔ 8 مارچ کے دن مگرخاموش دوسرے بھی نہیں رہے۔ ایک طرف ڈھول کی تھاپ پرمزاحمتی ترانے تو دوسری طرف ’حیامارچ‘…

Read more

یہ نہیں کہ مجھے روم سے محبت ہے، میں سیزر سے بیزار ہوں!

خلیل الرحمن قمر صاحب ہمارے معاشرے کا ایک عام کردار ہیں۔ وہی کردار کہ جس کی نمو صدیوں پر محیط ہے۔ موقع بہ موقع دین اور مشرقی اقدار کی ڈھال کے پیچھے چھپنے والا۔ بات بات پر حوالہ جو سرکارِ دو عالمؐ کی عورتوں کے احترام میں بچھائی گئی چادر کا دیتا ہے، روّیے جس…

Read more

27 فروری: میری اداس نسل کے مسکرانے کو اِک بہانہ ہے!

27 فروری کو ملک میں ’یومِ عزم‘ منایا گیا ہے۔ پچھلے سال اسی دن ہم نے بھارتی طیارے مار گرائے اور ان میں سے ایک کے پائلٹ کو گرفتار کیا۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اس دن جشن منانے کا کوئی جواز ہے بھی کہ نہیں! میں کہ اس باب میں سنجیدہ روّیوں کے…

Read more

بارے کچھ بیان پاکستانی پختونوں کا!

جنگل میں شیر کا بیٹا قتل کی اندھی واردات میں مارا گیا تو شک کی بنیاد پر کئی ایک طاقتوروں کو دھر لیا گیا۔ اسی ایف آئی آر میں کہیں سے ایک چوہیا کا نام بھی شامل ہو گیا۔ اب جب کہ سب نامزد ملزمان اپنی اپنی صفائیاں دیتے چھپتے پھرتے، چوہیا مگر سینہ پھلائے…

Read more

جب پاکستان کے دارالحکومت میں ایک بھی سینما گھر نہیں تھا!

نوے کی دہائی کے کسی سال، ایک معروف خاتون صحافی نے ’انڈیا ٹوڈے‘ میں پاکستان یاترا کے بعد لکھا تھاکہ پاکستان ملک نہیں، انتہا پسندوں کا معاشرہ ہے۔ اقلیتوں پرظلم ڈھانے والے ہمہ وقت تشدد پر آمادہ لوگ۔ جہاں جہادی تنظیمیں سرِ عام چندہ جمع کرتی ہیں۔ محلوں میں، بازاروں میں جہادی لشکروں کے ناموں سے بھرے جانے والے ڈبے، نا معلوم لوگ آتے اور خالی کر کے لے جاتے ہیں۔ اسی مضمون میں بھارتی خاتون نے جھرجھری بھرتے ہوئے پوچھا تھا، ’یہ کیسا ملک ہے کہ جس کے دارالحکومت میں ایک بھی سینما گھر نہیں! ‘ کم وبیش بیس پچیس سال گزر گئے، مضمون نگار کا نام تو مجھے یاد نہیں رہا مگر آخری فقرہ میرے دماغ کے اندر آج بھی چپکا ہے۔

Read more

تم پرچم لہرانا ساتھی، میں بربط پر گاؤں گا

سال گزشتہ کے وسط میں جب جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کاتحریری اعلان کیا گیا تو کسی قابل تذکرہ سیاسی رہنماء، پارٹی یا مفاد عامہ سے متعلق گروہ کی جانب سے اعتراض یا احتجاج کا حرف سننے میں نہیں آیا تھا۔ حتیٰ کہ مولانا فضل الرحمن جو کہ اُن دنوں ہمہ وقت عالم…

Read more

لانگ لیو، سیونٹی سیکنڈ پی ایم اے لانگ کورس!

فوجی میسوں کے اندر تقریبات، بالخصوص عشائیے، متانت ووقاراور نظم وترتیب کا دلکش مگر تکلف بھرا امتزاج ہوتی ہیں۔ ڈنر نائٹس (Dinner Nights) قدیم آداب و روایات کے تحت برپا کی جاتی ہیں۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں آمد کے پہلے ہی روز ’زیرو کٹ‘ حجامت کے علاوہ نووارد کیڈٹس کو جن آفات سے فوری واسطہ…

Read more

جنسی تشدد اور آزادیٔ صحافت، دو الگ الگ معاملات ہیں!

پاکستان کے باصلاحیت فلم ساز جامی آزاد نے ملک کے سب سے طاقت ور میڈیا ہاؤس کے مالک پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے بظاہر اپنا کیریئر داؤ پر لگادیا ہے۔ جامی 1998 ء میں امریکہ سے فلم سازی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد وطن واپس لوٹے۔ مستقبل پر نظریں جمائے نوخیزتخلیق کارکوایک…

Read more

قرونِ وسطٰی میں جینے والا قبائلی معاشرہ!

ڈی جی آئی ایس پی آر نے تفصیلی فیصلہ جاری ہونے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں ادارے کے خلاف جاری منظم مہم، اس کے پیچھے کارفرما بیرونی و اندرونی قوتوں، اور ان قوتوں کے مقامی آلہ کاروں سے مکمل آگاہی رکھنے کا دعوٰی کیا ہے۔ اسی شام حکومتی زعماء نے اداروں کے مابین تصادم…

Read more