بیانیوں کی جنگ اور موسمی بٹیرے

ماضی کے آمروں پر ہم سب جی بھر کر غصہ نکالتے ہیں۔ اپنے نواز شریف صاحب کو ہی لے لیجیے۔ سال 2018 ء سے جو آگے نہیں بڑھ پا رہے۔ ووٹ کو عزت دو کا جب دور دورہ تھا تو لندن میں بیٹھے ہر ایک سے پوچھتے تھے، ’یہ کون ہے جو منتخب وزرائے اعظم کے خلاف سازشیں کرتا ہے؟ یہ کون ہے جو ملک کو چلنے نہیں دے رہا؟‘ حالات ساز گار ہوئے تو جنہیں کوستے تھے، انہی کے

Read more

بقا کی کشمکش اور اداروں کی بے توقیری!

سابق سفارتکار توقیر حسین اپنے حال ہی میں شائع ہونے والے مضمون میں رقم طراز ہیں کہ ’پاکستان کا سیاسی جسد عشروں کی آمرانہ اور جمہوریت کی بگڑی ہوئی شکل میں نیم جمہوری حکمرانی کے باعث اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے۔ قومی ادارہ جاتی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ قومی اداروں کی شکست و ریخت کا ہی نتیجہ ہے کہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی اور معاشی و معاشرتی استحکام مفقود ہو چکے ہیں‘ ۔ قومی

Read more

عظمیٰ گل کی کتاب ’اسیرِ وفا‘ کی تقریبِ رونمائی

عظمیٰ گل کئی برسوں سے ایک قومی اخبار میں کالم لکھ رہی ہیں۔ حال ہی میں ان کے ان کالموں کا مجموعہ ’اسیرِ وفا‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ فیکٹ فورم کے زیرِ اہتمام، اکیڈمی ادبیات پاکستان میں کتاب کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا۔ سینئر سفارتکار عبدالباسط صاحب نے صدارت کی۔ حاضرین کی ایک بڑی تعداد میں جہادِ کشمیر اور افغانستان سے منسلک معروف شخصیات، ممتاز دانشور اور صحافی شامل تھے۔ ایک شاندار تقریب کے انعقاد پر

Read more

بنگلہ دیش: کچھ یادیں، خدشات اور امکانات!

کرنل صاحب کے والد مشرقی پاکستان میں ایک اہم سرکاری عہدے پر تعینات تھے۔ نوکری سے ریٹائر ہوئے تو مضافات میں چائے کا ایک باغ خریدا اور پنجابی خاندان وہیں گھر بنا کر آباد ہو گیا۔ سال 1971 ء کے پر آشوب مہینوں میں جب فضاء خون کی باس سے بوجھل تھی تو ایک رات مکتی باہنی والے کھانے کی میز کے گرد بیٹھے بے گناہ مرد و زن پر قیامت بن کر ٹوٹ پڑے۔ ٹھیک تین برس پہلے، میں

Read more

خطے میں اسلامی عسکریت پسندی کا بیج

جنگِ عظیم دوئم کے خاتمے پر عظیم برطانوی ماہرِ معیشت جان مینارڈ کینز اپنے ملک کی معاشی حالتِ زار پر بے اختیار بولے، ’ہم ایک غریب قوم ہیں‘ ۔ چند عشروں پہلے تک تاریخ کی سب سے بڑی استعماری طاقت کہ سورج جس کی سلطنت پر کبھی غروب نہیں ہوتا تھا، امریکی امداد کی محتاج بن چکی تھی۔ بدلے میں امریکی اپنے حلیف پر کالونیوں، بالخصوص ہندوستان کو آزادی دینے کے لئے مسلسل دباؤ بڑھا رہے تھے۔ شمال مشرق سے

Read more

عوام ہمارے فطری اتحادی ہیں

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات روز اول سے سودے بازی (Transactional) پر استوار رہے ہیں۔ خطے میں عالمی اہداف اور ہمارے عدم تحفظ کے دائمی احساس نے ہی دونوں ملکوں کو اکثر اتحادی بننے پر مجبور کیا۔ عشروں پر محیط گرم سرد پاک امریکہ تعلقات اکیسویں صدی میں داخل ہوئے تو سال 1999 ء میں بھارت امریکہ فطری اتحاد کی بنیاد بالآخر رکھی جا چکی تھی۔ چین اس اتحاد کا مشترکہ ہدف تھا۔ پاکستان کو امریکی اب ’پاک بھارت‘ نہیں

Read more

موجودہ حکومتی بندوبست کے ضامن

فیصلے کو آئے ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔ حکومتی زعماء کی جانب سے سپریم کورٹ پر تنقید کی شدت دن بدن بڑھ رہی ہے۔ پی ٹی آئی پر بطور سیاسی جماعت پابندی عائد کیے جانے کے حیران کن حکومتی اعلان کے بعد وزراء ایمرجنسی کے نفاذ جیسی در فتنیاں چھوڑ رہے ہیں۔ میڈیا میں موجود حکومتی کارندے اپنے طور پر عدلیہ کو دباؤ میں لانے کے لئے حکم عدولی کے پیغامات نشر کر رہے ہیں۔ معروف کورٹ رپورٹرز کے

Read more

حکمران جب کمزور پڑنے لگتے ہیں

ناکام یا ناکامی کے دہانے پر کھڑی ریاستوں میں وسائل اور اختیارات پر چند طاقتور گروہ قابض ہو جاتے ہیں تو اسے Elite capture کہا جاتا ہے۔ اِن الیٹ گروہوں کا پہلا ہدف آزاد عدلیہ ہوتی ہے۔ عدلیہ کو دباؤ میں لانے کے متعدد طریقے معروف ہیں۔ ریاستی دھونس دھاندلی حکمرانوں کے ہاں عام حربہ ہے۔ پاکستان کی تاریخ بظاہر طاقت کے زور پر ججوں سے من مانے فیصلے لئے جانے کی روایت سے داغدار ہے، تاہم ترقی یافتہ جمہوری

Read more

بقا کا یہی ایک راستہ بچا ہے!

حال ہی میں ’مجرم‘ قرار دیے جانے والے صدر ٹرمپ پر الزام محض کسی پورن سٹار سے ناجائز تعلقات استوار رکھنا، یا ’ہش منی‘ کے ذریعے اس کا منہ بند کرنا نہیں۔ بلکہ ان کا اصل جرم سال 2016 ء کی انتخابی مہم کے دوران اس ’ذاتی معاملے‘ کو پوشیدہ رکھتے ہوئے امریکی عوام کے ’حقِ انتخاب‘ کو متاثر کرنا ہے۔ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ عوام کے ’حق انتخاب‘ کو کسی بھی ’غیر قانونی عمل کے ذریعے متاثر

Read more

پاکستان کا مقدمہ کیا ہے!

گزشتہ پانچ صدیوں کے اندر ارتقاء پذیر ہونے والی ’قومی ریاستوں‘ کی تاریخ کو پڑھنے والے جانتے ہیں کہ ناکام یا ناکامی کے دہانے پر کھڑی ریاستوں میں وسائل اور اختیارات پر جس قدر الیٹ گروہوں کی گرفت سخت تر ہوتی ہے، اسی نسبت سے قومی ادارے غیر فعال ہوتے چلے جاتے ہیں۔ وہاں کے الیٹ گروہ امیر سے امیر تر اور عوام غربت کے گہرے سمندر میں غرقاب ہوتے چلے جاتے ہیں۔ فطری طور پر اِن الیٹ گروہوں کا

Read more

کنڈکٹ آف وار: ایک اجمالی جائزہ!

دس بارہ برس کی سروس کے بعد بیسیوں کی تعداد میں فوجی افسر کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ میں چلائے جانے والے ’سٹاف کورس‘ میں شمولیت کے لئے ’مقابلے کے امتحان‘ کی طرز پر منعقدہ سالانہ ’اینٹرنس ایگزیم‘ کی مہینوں جاں گسل تیاری کیا کرتے ہیں۔ اب کا ہمیں معلوم نہیں، ہمارے زمانے میں تو برطانوی جنرل فریڈرک فُلرکی ’کنڈکٹ آف وار‘ انٹرنس ایگزیم میں شامل ملٹری ہسٹری کے پرچے کا لازمی حصہ ہوتی تھی۔ بہر صورت، کتاب میں زیرِ

Read more

الیٹ گروہوں کا گٹھ جوڑ اور امکانات

پاکستان اس وقت الیٹ گروہوں کے آہنی شکنجے کی گرفت (Elite capture) میں ہے۔ آج کا پاکستان اسی گٹھ جوڑ کے نتیجے میں معاشی اور سیاسی اداروں کے غیر فعال ہونے کی ایک ’ٹیکسٹ بک‘ مثال ہے۔ یہ نہیں کہ ہمارے معاشرے میں مالی بدعنوانی کا عنصر نیا ہے۔ سیاست بھی روزِاول سے ہمارے ہاں سیاسی خانوادوں کے گھروں کی ہی لونڈی رہی ہے۔ پنجاب میں یہی وہ جاگیردار یونینسٹ تھے، ہندؤں کے کاروباری غلبے اور نہرو کی زرعی اصلاحات

Read more

صرف قومی مفادات مستقل ہوتے ہیں

دوسری جنگِ عظیم کے بعد جہاں یورپ کی سرحدوں پر نیٹو نامی فوجی اتحاد کھڑا کیا گیا تھا تو وہیں تاریخی سلک روٹ پر سرخ آندھی کو روکنے کے لئے جہادی تنظیموں کی آبیاری کی گئی۔ مسلح مذہبی تحریکیں ہوں یا تھیوکریٹک ریاستیں، یہ امر طے شدہ کہ وہاں بالآخر کسی ایک خاص مسلک کی ہی اجارہ داری قائم ہوتی ہے۔ صرف ایران ہی نہیں، کئی مثالیں موجود ہیں۔ یہ فطری عمل تھا کہ ایرانی انقلاب کے بعد وہاں قائم

Read more

کیا عدالتیں کام کر رہی ہیں!

احتجاجی شہریوں کے خلاف ہونے والی ریاستی کارروائیوں کا آغاز 9 مئی سے بہت پہلے ہو گیا تھا۔ چنانچہ یہ جانے بغیر کہ ایک حالیہ افسوس ناک واقعے میں قصور وار کون ہے، اس بات کا اندازہ لگانا کہ عوام کی غالب اکثریت کی ہمدردیاں کس طرف ہیں، ہرگز دشوار نہیں۔ مہینوں ریاست کے ہاتھوں معتوب رہنے والی سیاسی جماعت کے ہمدردوں اور سوشل میڈیا پر ان کے ’واریئرز‘ میں حسب توقع بہت جوش و خروش دیکھنے کو ملا ہے۔

Read more

انصاف کی بات کیوں نہیں کرتے!

وطنِ عزیز کو درپیش بحران معاشی نہیں، سیاسی یا قومی سلامتی کا بھی نہیں۔ مسئلہ اخلاقیات کے باب میں دیوالیہ پن کا ہے۔ سر زمینِ پاک کو اللہ نے ہر نعمت سے نواز رکھا ہے۔ مسلسل نا انصافی کے رویے مگر جس دھرتی پر روا رہیں، وہاں سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ خوشے خالی اور پھلوں میں سے رَس اُڑ جاتا ہے۔ نوجوان ہیں، منتظر ہیں کہ کسی سبز چراگاہ کو اُڑ جائیں۔ 8 فروری والے دن جو جوق در

Read more

راج نیتی کا کھیل اور ہمارے شہداء!

16 مارچ کی شب ماؤں کے جگر گوشے گھروں کی عافیت سے میلوں دور سنگلاخ گھاٹیوں میں وطن کی سرحدوں کی نگہبانی پر مامور تھے۔ اسی رات کے پچھلے پہر جب روشنیوں میں نہاتے شہر اور بستیاں سحری کے لئے بیدار ہوئے تو وطن کے بیٹے تاریکی میں حملہ آور ہونے والے دہشت گردوں کے ساتھ نبرد آزما تھے۔ معرکے میں سات خاکی پوشوں نے جام شہادت نوش کیا۔ ان شہیدوں کا تعلق کسی ایک صوبے، ایک شہر، ایک مسلک

Read more

پاک امریکہ عجب تعلقات، عجب مجبوریاں

مذہبی طبقے سمیت پاکستانیوں کی ایک معقول تعداد امریکہ کی مسلم مخالف عالمی پالیسیوں کی ہمیشہ سے ناقد رہی ہے۔ امریکی بھی پاکستان پر بھروسا کرنے سے کتراتے اور خطے میں اس کے عمومی طرز عمل پر شاکی رہے ہیں۔ امریکہ سے دوستی ہماری یک طرفہ کاوشوں کا نتیجہ تھی۔ پہلی فوجی آمریت کے دور میں مگر پاکستان امریکی امداد لینے والا ایک بڑا اتحادی بن چکا تھا۔ تاہم سال 1965 ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران جہاں ہمیں

Read more

نگران حکومتیں اور سینٹر صاحب کا شکوہ!

ن لیگ کے سینٹر عرفان صدیقی صاحب نے اگلے روز سینٹ کے فلور پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا، ’نہیں معلوم نگران حکومتوں میں شامل افراد کہاں سے آتے ہیں اور پھر کہاں چلے جاتے ہیں‘ ۔ جہاں تک سینٹر صاحب کے سوال کے پہلے حصے یعنی ’نگرانوں کے آنے‘ کا تعلق ہے تو اس باب میں ہم تو یہی جانتے ہیں کہ ان کا انتخاب آئین کے مطابق متعلقہ قائدین ایوان و حزب اختلاف خاصی چھان پھٹک کے بعد

Read more

عوامی حمایت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ

بات ان دو احمق ویلاگرز کی نہیں، خود کو جو سابقہ فوجی قرار دیتے ہیں۔ شیر افضل خان مروت نے بجا طور جنہیں ’رانگ نمبرز‘ کہہ کر پکارا ہے۔ فکر مندی ہمیں کروڑوں ہم وطنوں کی بے چینی اور ان کے طرز فکر میں برپا ہونے والی جوہری تبدیلی سے متعلق ہے۔ ان دو ویلاگرز اور ان جیسوں کی مغلظات کی پشت پناہی اور حوصلہ افزائی پہلے بھی ہوتی تھی، ضرور سرحد پار سے اب بھی ہوتی ہو گی۔ تاہم

Read more

جمہوریت کے دو چہرے

سال 2016 میں ریاستی مشینری پوری قوت کے ساتھ حکمران خاندان کے خلاف بروئے کار تھی۔ شنید یہی ہے کہ سال 2016 ء میں بھی اہم تعیناتی حکمران خاندان کی اسی قدیم خواہش کا مظہر رہی کہ جس کا ذکر معروف سکالر شجاع نواز نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’دی کراسڈ سوورڈز‘ میں تکرار سے کیا ہے۔ عام مڈل کلاس پاکستانیوں کی طرح ادارے کے اندر بھی چند خاندانوں کی حکمرانی سے متعلق اکتاہٹ مگر اس قدر زیادہ تھی کہ

Read more

پہلا ووٹ، جس کی قدر نہیں کی گئی!

جمال دین کا خیال ہے کہ جیل میں پڑا قیدی کوئی فرشتہ تو ہر گز نہیں۔ پاکستانیوں کے لئے امید کا مگر آخری چراغ تو ہے کہ چالیس عشروں سے دو خاندان جن کی پیٹھوں پر پیر تسمہ پا کی طرح مسلط ہیں۔ مصیبتوں میں گھرے شخص کی اب غلطیاں گنوانے سے کیا حاصل؟ گنواتے بھی رہیں تو ملے گا کیا؟ لاکھ عیب ڈھونڈو، پاکستانی مگر اب کچھ سننے کو تیار نہیں۔ 8 فروری کو ملک کے طول و عرض

Read more

نام نہاد جمہوریت پسند لبرلز کا دوغلا پن!

مغربی جمہوریت کہ جس شکل میں ہم اس سے واقف ہیں، اس کی آبیاری لبرل ازم کے فلسفے نے کی تھی۔ بیسویں صدی کے آغاز میں روس کے اندر سوشلسٹ انقلاب کے اثرات بھی مغربی یورپ تک پہنچنے لگے تھے۔ سرد جنگ کے عشروں کا آغاز ہوا تو مغربی ممالک نے امریکہ کی سربراہی میں خود کو آزاد دنیا جبکہ سوشلزم کو جبر کا نظام قرار دیتے ہوئے محکوم قوموں کی آزادی کا بیانیہ ترتیب دیا۔ آج ہم سب جانتے

Read more

مذاکرات کے طوطے اور محاذ آرائی کے الو!

9مئی کا المناک دن بے یقینی کے سائے چھوڑ کر ڈھلا تو اگلے روز کا سورج آگ اگلتا ہوا نمودار ہوا۔ نسیں خیموں کی تنابوں کی طرح تنی ہوئی تھیں تو جذبات کا پارہ آسمانوں کو چھو رہا تھا۔ دو چار روز کے اندر فضاء اس قدر بوجھل ہو گئی کہ سانس لینا تک دشوار ہو گیا۔ حالات کی سنگینی اور ادارہ جاتی غم و غصے کو محسوس کرتے ہوئے مفاد پرستوں کے غول در غول ’آدم بو، آدم بو‘

Read more

ایک جرنیل کی نئی جنگ

جنرل عابد لطیف خان دھیمے مزاج کے حامل ایک خوشگوار شخصیت کے مالک افسر ہیں۔ ہماری باہم شناسائی کا آغاز سال 2008 ء کے آس پاس اس وقت ہوا، جب ان کی تعیناتی منگلا کور میں ہوئی، جہاں میں پہلے سے موجود تھا۔ دو چار برسوں کے بعد اگلے رینک پر ان کی ترقی ہوئی تو وہ شمال مغربی سرحد کے ساتھ ایک بریگیڈ کی کمان سنبھالنے کے لئے چلے گئے، جبکہ کچھ ہی عرصہ بعد خود میری پوسٹنگ بھی

Read more

کمپنی کا ظلم، اور تاریخ کا سبق!

عصر حاضر کے نامور مؤرخ ولیم ڈلرمپل کی ’دی لاسٹ مغل‘ اٹھارہویں صدی عیسوی کے عظیم برطانوی فلسفی اور مدبر سیاستدان ایڈمنڈ برک کے اس قول پر ختم ہوتی ہے کہ ’جو تاریخ سے سبق سیکھنے میں ناکام رہتے ہیں، وہ ہمیشہ تاریخ کو دہراتے ہیں‘ ۔ ڈلرمپل کی مذکورہ کتاب تیموری خاندان کے آخری چشم و چراغ کی دلی پر حکمرانی کے آخری چند پر شورش مہینوں اور ملک بدری کے کچھ برسوں کی المناک داستان ہے۔ 1857 ء

Read more

ظلم کے خلاف نئی عالمی گروہ بندی!

فلسطین اب ایک مذہبی مقدمہ نہیں رہا بلکہ انسانی سانحے کا روپ دھار چکا ہے۔ تاریخی طور پر عرب اسرائیل تنازعے کے باب میں دنیا دو واضح حصوں میں تقسیم رہی ہے۔ ایک طرف جبکہ امریکی قیادت میں مغربی دنیا اسرائیل کی طرفدار رہی ہے تو وہیں دوسری جانب عرب ممالک سمیت مسلم دنیا فلسطینیوں کی حمایت کرتی رہی ہے۔ یقیناً سرد جنگ اور بعد ازاں امریکہ چین مخاصمت کے محرکات بھی اس گروہ بندی پر اثر انداز ہوتے رہے

Read more

اب سوشل میڈیا اگلا نشانہ ہے!

سال 1991 ء کا ذکر ہے۔ رات دیر گئے، ہم کیبل نیوز نیٹ ورک (سی این این) پر خلیجی جنگ کو براہ راست دیکھا کرتے تھے۔ ٹی وی سکرین پر فضاء میں اڑتے میزائلوں، صحراؤں میں بھاگتے ٹینکوں اور بلا تعطل جنگی مبصروں کو ہم متحیر ہو کر دیکھتے اور سنتے تھے۔ سال 1991 ء میں دنیا الیکٹرانک میڈیا کے ظہور کے دہانے پر کھڑی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ خلیجی جنگ امریکہ نے اپنے فوجی مروائے بغیر، اپنی ائر

Read more

آنسو پونچھیے، یہ کام کرنے کا وقت ہے!

اللہ قوموں کے مابین دنوں کو پھیرتا رہتا ہے۔ اس کے ہاں کا ایک ایک دن ہمارے دس، بیس اور پچاس ہزار کے برابر ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ ہمارے اور ہم پر ظلم ڈھانے والی قوموں کے مابین دنوں کو اب پھر کب پھیرتا ہے۔ لیکن اللہ قوموں کے درمیان دنوں کو یونہی نہیں پھیرتا۔ اس کام کے لئے اس نے کچھ مبادی و اصول طے کر رکھے ہیں۔ وہ قوموں کے عروج و زوال کو انہی قواعد

Read more

اب ہم یہ عیاشی افورڈ کرنہیں سکتے

بتایا گیا ہے کہ جمہوریت صرف ہمارے ہاں نہیں، پوری دنیا میں زوال پذیر ہے۔ ہر سال 15 ستمبر کو جمہوریت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس برس سویڈن کے V Dem Institute نامی ادارے نے عالمی جمہوریت پر اپنی سالانہ رپورٹ میں مختلف اعداد و شمار اور حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بتایا ہے کہ عالمی سطح پر جمہوریت زوال پذیر ہو کر اس وقت اس مقام پر کھڑی ہے جہاں سال 1986 ء میں تھی۔ تجزیے کے

Read more

میڈیا، بیانئے کی جنگ اور ہائبرڈ رجیم

یہ درست ہے کہ حالات کے جبر نے جستہ جستہ متروک ہوتے پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ ہمارے شتابی الیکٹرانک میڈیا کا بانکا پن بھی عین عنفوان شباب میں چھین لیا ہے۔ کچھ مجبوریاں قابل فہم ہیں۔ کئی معاملات میں بے حسی کی تاویل مگر کیا ہے؟ جمعۃ المبارک کا دن وطن عزیز پر بہت بھاری گزرا ہے۔ صرف ایک دن میں ہم نے بیسیوں بے گناہ پاکستانیوں کی لاشیں اٹھائی ہیں۔ ٹی وی دیکھے اب دن نہیں ہفتوں بیت

Read more

ڈیلی گیشن صاب، آپ ہمارے وائسرائے بن جائیں!

ایک زمانے کا ذکر ہے، ایک ملٹری اکیڈمی کے سیاہ ڈرل اسکویئر میں علی الصبح زیرِ تربیت کیڈٹس جسمانی مشقوں میں مصروف تھے، کہ کچھ گورے دور افقی کونے پر نمودار ہوئے۔ وہیں بلندی پر کھڑے وہ کیڈٹس کو ڈرل کرتے دیکھنے لگے۔ نیچے ڈرل سٹاف نے انہیں دیکھا تو کیڈٹس سے کہا، ’صاب، چست ہو جائیں، ‘ ڈیلیگیشن صاب ’آپ سب کو دیکھ رہے ہیں‘ ۔ لڑکوں نے شرارت میں پوچھا، ’سٹاف، یہ ڈیلیگیشن صاب کیا ہوتا ہے؟‘ سٹاف

Read more

چیئرپرسن اکادمی ادبیات پاکستان کے ساتھ ایک شام!

از کارِ رفتہ سپاہی کو برسوں پیشہ وارانہ میٹینگز، پریزینٹیشنز اور علمی تقریبات سمیت لاتعداد سرکاری و غیر سرکاری مجالس میں شرکت کے مواقع میسر آتے رہے۔ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ‘فیکٹ فورم’ کے زیرِ اہتمام، پاکستان اکادمی ادبیات کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف کے اعزاز میں منعقدہ تقریب ازکارِ رفتہ سپاہی کے لئے مگر ایک خوشگوار اور انوکھا تجربہ ثابت ہوئی۔ گاڑھے پروٹوکول اور ہٹو بچو سے دور، خاکسار اِس باراسلام آباد کے ایک ریسٹورنٹ کے ایک پرسکون

Read more

دورِ حاضر کی ایسٹ انڈیا کمپنیز!

سال 1993 ء سے اب تک طویل المدت معاہدات کے تحت 90 نجی پاور پلانٹس لگائے جا چکے ہیں۔ نوے سیٹھوں کو پاکستان اب تک 8000 ارب روپے ادا کر چکا ہے۔ ان آٹھ ہزار ارب روپوں میں خریدی جانے والی بجلی کی قیمت صرف تیس فیصد ہے۔ باقی ادائیگی کارخانوں کی کل پیداواری صلاحیت (capacity payment) کی مد میں کی گئی۔ سال 2013 ء میں نواز شریف صاحب نے حکومت سنبھالی تو اندھیرے دور کرنے خاطر پے در پے

Read more

دو افراد کی گرفتاریوں پرمختلف رد عمل!

اب یہ نہیں کہ ایمان حاضر مزاری کے ساتھ یہ ہو، تو آپ زور دار اداریہ لکھ دیں۔ ادھر آپ ایک زوردار اداریہ لکھیں، ادھر ہم گھروں میں بیٹھے آبدیدہ ہوجائیں۔ اگر انسانی حقوق ہیں تو سب انسانوں کے ہیں۔ یا کہ پھر یہ بھی آپ ہی نے طے کرنا ہے کہ کن کی گرفتاریوں پر منہ دوسری طرف کر لینا ہے اور کس گرفتاری پر سیخ پا ہونا ہے۔ مہینوں گزر گئے جو ہو رہا ہے، آپ نیم دلانہ

Read more

ایک طناب کے سہارے لٹکی قوم!

کیا ہمارے ہاں اسٹیبلشمنٹ کا طاقتور ہونا ہی سویلین معاملات میں اس کی مداخلت کا بنیادی سبب ہے؟ ریاستیں اپنی دفاعی ضروریات سے ہرگز غافل نہیں رہتیں۔ مگر ایسی ریاستیں جو جارحانہ عزائم رکھنے والے ہمسائیوں میں گری ہوئی ہوں، اپنے وسائل کا بڑا حصہ اپنے دفاع کے لئے مختص کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں ملک کو درپیش سیاسی، معاشی اور دیگر مسائل کو لے کر، ترقیاتی اور دفاعی اخراجات میں عدم توازن پر جو اعتراضات اٹھائے جاتے

Read more

حبس کے موسم کی ایک تاریک رات

رات کے پچھلے پہر کی اداس تاریکی۔ حبس کا موسم۔ جمال دین یادوں کی راہداریوں میں بھٹک رہا تھا۔ برسوں پہلے ایک مشنری سکول کی خاتون وائس پرنسپل نے افسردگی کے عالم میں اسے گھر بار بیچ کر سات سمندر پار منتقل ہونے کا بتایا تھا۔ کہنے کو مشنری سکول تھا، تدریسی اور انتظامی سٹاف سارا مسیحی، مگر طلبا کی اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ امتحانات میں جو ’بوٹیاں‘ سکول کے باتھ رومز میں کھولتے، وہیں گرا آتے۔ اسلامیات کا پرچہ

Read more

بے توقیری، ناامیدی اور امید کا چراغ

بشرطیکہ مایوسی کا اظہار قابلِ دست اندازی پولیس نہ قرار پایا ہو، ازکارِ رفتہ سپاہی کو یہ کہنے میں کوئی تامّل نہیں کہ وطنِ عزیز جس طرح آج یاس و ناامیدی کے گہرے سیاہ بادلوں میں گھرا ہے کم ازکم ہماری عمر کے پاکستانیوں کواپنے ہوش میں ایسا ماحول یاد نہیں۔ سیاست اورمعاشرت میں زوال، معیشت میں ابتری اور سلامتی کو لاحق خدشات۔سقوطِ پاکستان کا سیاہ ترین دن جنہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، بالخصوص اُن میں سے وہ کہ

Read more

کثیر القومی ریاست کو ایک قوم بنانا!

حال ہی میں ممتاز پولیٹیکل اکانومسٹ نیاز مرتضیٰ کا ایک دلچسپ مضمون نظر سے گزرا۔ اپنے اس مضمون میں نیاز صاحب نے اقوام عالم کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے حال ہی میں آزاد ہونے والی ان 26 ریاستوں کے عروج و زوال کا اجمالی جائزہ پیش کیا ہے جو جنگ عظیم دوئم کے بعد نوآبادیاتی تسلط سے نجات پانے کے بعد وجود میں آئیں۔ ان نوزائیدہ ریاستوں میں سنگاپور، مشرقی تیمور، بنگلہ دیش، پاکستان، لبنان، اریٹریا، جنوبی

Read more

کل سب لو کی دعا مانگیں گے!

جنرل مشرف کا استقبال دل و جان سے ہوا تھا۔ امریکی اتحادی بننے پر بھی کوئی خاص مزاحمت نہ ہوئی۔ جلد ہی مگر اتحادیوں کے مابین اعتماد کا رشتہ کمزور پڑنے لگا تو وطن عزیز میں اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت نے ایک وبا کی صورت اختیار کر لی۔ اکیسویں صدی کا دوسرا عشرہ طلوع ہوا تو بداعتمادی عروج پر تھی۔ اسی دور میں بھارت کے اندر سرکاری سرپرستی میں فیک نیوز نیٹ ورک کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مغربی دارالحکومتوں

Read more

مودی جی: تکبر کے گھوڑے پر !

کیا بھارت میں مسلمانوں سمیت اقلیتوں کی زندگی پہلے سے بہتر ہو گئی ہے؟ کیا مودی جی اتنے بڑے ’سٹیٹس مین‘ ہو گئے کہ امریکی ایوان نمائندگان کو ان کا خطاب سننے کا اعزاز بخشا گیا ہے؟ کیا امریکی مودی جی پر یونہی مر مٹے ہیں؟ بر صغیر سے بہتر امریکیوں کو کون جانتا ہے؟ امریکہ میں مودی جی کے خطابات سن کر برسوں پہلے چینی صدر کی لاہور میں کی گئی تقریر یاد آ گئی۔ چین کی خیرہ کن

Read more

کچھ خبریں اور ایک کتاب سے دو جملے!

ٹی وی کھولے کتنے ہی روز بیت چکے۔ اخبارات بھی سٹڈی کے کونے میں دھری چھوٹی سی میز پر جمع ہوتے رہتے ہیں۔ اردو اخبارات اب نیم جان ہیں۔ انگریزی اخبار ہی ہے جس میں کچھ سکت باقی ہے۔ اس پر ہاتھ ڈالنا آسان بھی تو نہیں۔ آئیے اس اخبار کا ایک پرچہ میز پر سے اٹھاتے ہیں۔ اخبار میں چھپنے والے ایک تجزیے کے مطابق پاکستان میں رواں برس مئی تک گیارہ مہینوں میں آنے والی بیرونی سرمایہ کاری

Read more

امریکی اخلاقیات اور ظلم پر مبنی عالمی نظام

کیا دنیا کی معلوم تاریخ میں طاقتور ترین سمجھی جانے والی سلطنت اوج کمال پانے کے بعد اب زوال پذیر ہے؟ قوموں کے مابین دنوں کو پھیرنا اللہ کی سنت ہے۔ اس کے ہاں ایک دن مگر ہمارے ہاں کے کئی ہزاروں کے برابر ہے۔ ہماری دینی تعلیمات کے مطابق، دنوں کے پھیرے جانے میں مادی عناصر کے علاوہ قوموں کی ’اخلاقیات‘ بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ فرمایا، ’کفر کا نظام چل سکتا ہے، ظلم کا نہیں‘ ۔ امریکہ

Read more

دوسرے آدمی کا فرار!

جمال دین رات کھانے کے بعد ٹھیک ٹھاک سویا تھا۔ کمرے کا ٹمپریچر بھی مناسب تھا۔ نیند میں خلل کا کوئی اور سبب بھی نہیں تھا۔ آدھی رات کو اچانک اس کی آنکھ کھلی تو طبیعت بوجھل تھی۔ اس کی کھال میں غیر معمولی تناؤ تھا۔ ٹھس ٹھسا کر جیسے کسی نے بھوسا بھر دیا ہو۔ جوڑ بندھوں پر سلائی جیسے کھنچ کر ادھڑنے کو ہو۔ جمال دین نے ہاتھ اپنے جسم پر پھیرا۔ جسم تو صحیح سلامت تھا۔ جمال

Read more

جمہوریت کیسے مرتی ہے!

دیکھنے میں آیا ہے کہ جاپان میں مغربی جمہوریت جبکہ چین میں یک جماعتی نظام اور سنگا پور میں فرد واحد کی حکومت ہونے کے باوجود ان سب ممالک نے حیران کن حد تک ترقی کی ہے۔ اس کے برعکس بے شمار جمہوری ممالک ہیں، جہاں جمہوریت کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچتے۔ بیسویں صدی میں اس امر سے قطع نظر کہ کس ملک میں کون سا طرز حکومت رائج رہا ہو، یہ طے ہو چکا ہے کہ وہی قومیں

Read more

فاشزم سے متعلق ’جمہوریت پسندوں‘ کا تاریخی رویہ!

ٓٓآج کل ’فاشزم‘ کی اصلاح ہمارے ہاں کثرت اور فراوانی سے استعمال ہو رہی ہے۔ سیاسی تقسیم کے دو اطراف لوگ ایک دوسرے کے دور حکومت کو ’فاشسٹ دور‘ کہہ کر یاد کرتے ہیں۔ فاشزم آخر ہے کیا؟ فاشزم بیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں یورپ میں اٹھنے والی ایک دائیں بازو کی تحریک تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس تحریک کا بنیادی تصور معروف جرمن فلسفی فریڈرک نطشے کی مذہب مخالف سوچ سے کشید کیا گیا تھا۔ عام تاثر

Read more

احساس زیاں جاتا رہا!

تمام تر اشاریوں کے مطابق وطن عزیز اپنی پچھتر سالہ تاریخ کے بدترین معاشی دور سے گزر رہا ہے۔ اکثر و بیشتر ماہرین معاشیات وقتاً فوقتاً صورت حال کی سنگینی سے خبردار کرتے رہتے ہیں۔ ہماری ترجیحات مگر کچھ اور ہی دکھائی دیتی ہیں۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد ممتاز ماہر معیشت عاطف میاں کا شمار دور حاضر میں عالمی سطح پر نامور پچیس بڑے معیشت دانوں میں ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں اپنے چند ٹویٹس کے ذریعے عاطف میاں نے

Read more

لی کیوان کا سنگا پور اور ہمارا پاکستان!

سنگا پور کہلائے جانے والا محض 733 مربع کلو میٹر پر مشتمل جزیرہ لگ بھگ دو سو برس قبل برطانوی تسلط میں آیا۔ سال 1923 ء میں یہاں برطانوی نیول بیس قائم کی گئی تو سنگا پور جنوب مشرقی ایشیا میں عسکری سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ جنگ عظیم کے خاتمے پر برطانیہ نو آبادیوں کو چھوڑنے پر مجبور ہونے لگا۔ سال 1959 ء میں سنگا پور میں محدود خود مختاری کے ساتھ پہلی مقامی حکومت قائم ہوئی تو سنگا

Read more

یوم پاکستان اور انتخابات کے التواء کا اعلان

کیا پاکستانی معاشرہ حد سے بڑھی پولرائزیشن کا شکار ہے؟ سیاسی پولرائزیشن تو جب سے ہوش سنبھالا، ہم دیکھ ہی رہے ہیں۔ بھٹو بمقابلہ ساری جماعتیں۔ پھر بے نظیر بمقابلہ نواز شریف۔ اور اب عمران خان بمقابلہ سٹیٹس کو کی ساری طاقتیں۔ پولرائزیشن سے زیادہ معاشرہ ہیجان کا شکار ہے۔ ظلم اور نا انصافی کا شکار ہے۔ معرکہ اب پاکستانیوں اور پاکستانیوں پر مسلط نظام کے مابین ہے۔ قوموں کی زندگیوں میں ایسے مواقع اکثر آتے ہیں۔ پورا سسٹم ایک

Read more

لندن آرکسٹرا اور ہمارے ہاں کا انتشار!

عشروں پہلے رات گئے، دوسری جنگِ عظیم کی یاد میں گولڈن جوبلی تقریبات کے حوالے سے لندن سمفنی آرکسٹرا کی پرفارمنس پی ٹی وی پر نشر ہوئی۔ (اس زمانے میں پی ٹی وی کو سرکاری ٹی وی نہیں پی ٹی وی ہی کہا جاتا تھا) ۔ نصف شب کا عالم تھا، رات کی خاموشی اور تنہائی۔ جنگِ عظیم کی دلخراش تباہ کاریوں کو دکھاتی خاموش ویڈیوز، جامد تصویریں اور بیسیوں سازوں اور اسی قدر سازندوں پر مشتمل دھنیں بکھیرتا آرکسٹرا۔

Read more

جمہوریت پسندوں کو عمران خان پر غصہ کیوں آتا ہے؟

ظلم رہے اور امن بھی ہو۔ ہم نہیں جانتے حبیب جالب آج زندہ ہوتے تو کیا ہوتے۔ جمہور دوست اور آمریت مخالفت باغی ہوتے، یا باقیوں کی طرح آج وہ بھی محض جمہوریت پسند ہی ہوتے۔ جمہوریت پسند آخر ہیں کون؟ سولہویں صدی میں جڑ پکڑنے والے لبرل فلسفے نے سیاست کی بنیاد استدلال، اصول اور منطق (Rationalism) پر رکھی۔ لبرلز ازم سے مراد ’آزاد معاشرے‘ کے اندر شہریوں کی زیادہ سے زیادہ آزادی ہے۔ لبرل ازم کو ماننے والے

Read more

جمہوری اقدار: مڈل کلاس اور مغرب زدہ لبرلز

جنرل ضیاء الحق کے نوے دن ’مثبت نتائج‘ کے انتظار میں برسوں پر محیط ہو گئے۔ فوجی حکمرانوں کا عام انتخابات سے انکار تو قابلِ فہم ہے۔ جمہوری حکومتیں مگر چاہے کس قدر بھی بُری ہوں، عوام کے پاس جانے سے کنی کتراتے ہوئے اچھی نہیں لگتیں۔ پچھتر سالہ ملکی تاریخ میں کسی جمہوری حکومت کی طرف سے مختلف حیلوں بہانوں کی آڑ میں انتخابات سے فرار ایک ایسی تہمت ہے جو صرف موجودہ حکومتی اتحاد کے سر آئی ہے۔

Read more

حادثات اچانک رونما نہیں ہوتے!

یہ لوگ سمجھتے کیوں نہیں؟ مسئلہ اب عمران خان نہیں۔ عمران خان کا ظہور تو محض ایک حادثہ تھا، جو اچانک رونما ہوا۔ حادثات مگر اچانک رونما نہیں ہوتے۔ عمران خان تو میرے آپ کی طرح محض ایک عام انسان ہے۔ خطا کا پتلا۔ بہتے جذبات کی رو میں جسے میں نے اور آپ نے اچانک اچھالا اور اپنا رہبر و رہنماء بنا لیا۔ ساری امیدیں اسی سے وابستہ کر لیں۔ یہ حادثہ مگر راتوں رات رونما نہیں ہوا۔ اس

Read more

اہم شخصیات کے ’اعترافات‘ اور ’انکشافات‘

برسوں پاکستان پر آہنی گرفت کے ساتھ حکمرانی کرنے والے جنرل ایوب خان نے اقتدار چھوڑا تو اسلام آباد کے ایک معمولی مکان میں رہائش اختیار کرتے ہوئے گمنامی کی زندگی میں گم ہو گئے۔ پاکستان کو دو لخت اور افواج پاکستان کو ہزیمت سے دوچار کروانے میں کلیدی کردار کرنے کے بعد بھی جنرل یحییٰ خان بمشکل اقتدار سے علیحدگی پر مجبور ہوئے تھے۔ تاہم بقیہ زندگی انہوں نے بھی اپنے گھر میں خاموشی کے ساتھ گزاری۔ جنرل ضیاء

Read more

ہمارے معاشرتی رویے اور موجودہ سیاسی گرداب!

کچھ اور نہیں، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عمومی معاشرتی رویے نا انصافی پر مبنی ہیں۔ نا انصافی کا سلوک اگر اربابِ اختیار کی جانب سے ہو تو ظلم کہلاتا ہے۔ چنانچہ اگر کہا جائے کہ وطنِ عزیز میں روزِ اوّل سے ہی ظلم کا نظام رائج ہے، تو کیا ایسا کہنا غلط ہو گا؟ برطانیہ ہے کہ جہاں آج بھی لکھا ہوا آئین موجود نہیں۔ صدیوں سے سینہ بہ سینہ روایات ہیں۔ وطنِ عزیز سر زمینِ بے آئین ہر گز

Read more

اماں ریاست کے نام ایک بیٹے کا خط!

پیاری اماں، امید ہے آپ خیریت سے ہوں گی۔ میں جانتا ہوں کہ آج کل آپ بہت دباؤ میں ہیں۔ آپ کی گود میں ہم جیسوں نے پرورش پائی۔ آپ کے دکھ کو محسوس کیے بغیر ہم کیسے رہ سکتے ہیں؟ وقت مگر کچھ ایسا آن پڑا ہے کہ کھل کر بات کرنا اب اس قدر آسان نہیں رہا۔ اماں، ہم سب جانتے ہیں کہ لالہ مودی رام کے بزرگوں کو آپ کا مسلم محلے میں الگ گھر بسانا ہرگز

Read more

استعماری فوج سے قومی ادارے تک کا سفر! (8)

بہاولپور حادثے کے بعد چیئرمین سینٹ نے صدر مملکت اور جنرل بیگ نے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا۔ ملک میں نئے انتخابات کا اعلان ہوا۔ انتخابات کے نتیجے میں سویلین وزیر اعظم کے منتخب ہو جانے کے بعد وردی پوش حکمرانی کی جگہ ’اقتدار کی تکون‘ نے لے لی۔ نوے کی دہائی کی تاریخ ابھی کل کی بات ہے، لہٰذا یہاں دہرائے جانے کی محتاج نہیں۔ تاہم سیاسی بے یقینی، لوٹا کریسی، مالی بدعنوانی، خام ریاستی پالیسیوں اور ان سب

Read more

استعماری فوج سے قومی ادارے تک کا سفر (7)

ستر کے عشرے میں کمیشن پانے والی ’پاکستانی نسل‘ کے افسران ’برٹش اور امریکی جنریشز‘ کے برعکس انڈین آرمی کے ساتھ معمول کے تعلقات کار کا تجربہ نہیں رکھتے تھے۔ انہیں برٹش اور امریکی افواج کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی نہیں ملا تھا۔ اس جنریشن کے افسروں کے رویوں میں عمومی طور پر بھارتیوں سے متعلق درشتگی اور دلوں میں بھارت سے بدلہ لینے کی خواہش پائی جاتی۔ یہ نسل پاکستان آرمی میں اس وقت شامل ہوئی تھی

Read more

استعماری فوج سے قومی ادارے تک کا سفر ( 6 )

یحییٰ خان کو امریکہ اور چین کی طرف سے مدد نہ آنے پر دکھ تھا۔ دوسری طرف چین پاکستان کے عسکری اور سیاسی رہنماؤں کی طرف سے معاملے کا سیاسی حل نکالے جانے میں تساہل پر اپنی جگہ سخت مایوس تھا۔ ایک خیال ہے کہ 3 دسمبر کو اگر تمام محاذوں پر جنگ کا اعلان نہ کیا جاتا تو بھارت بین الاقوامی سرحد پار نہ کرتا اور یوں ممکن تھا کہ معاملے کا کوئی سیاسی حل نکل آتا۔ سقوط ڈھاکہ

Read more

استعماری فوج سے قومی ادارے تک کا سفر! (5)

ایوب خان نے اقتدار سنبھالا تو نہرو حکومت کے ساتھ ان کا ’ورکنگ ریلیشن شپ‘ بن گیا۔ سندھ طاس معاہدہ ہوا۔ کشمیر پر بات چیت کسی نہ کسی شکل میں جاری رہی۔ بھارت اور چین کی جنگ کے دوران اگرچہ امریکی دباؤ کے زیر اثر ہی سہی، پاکستان نے موقع سے کوئی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کی۔ مشرقی پاکستان کے باب میں ایوب خان کا خیال تھا کہ اگر بنگالی اپنا راستہ چننا چاہتے ہیں تو انہیں اس کا

Read more

استعماری فوج سے قومی ادارے تک کا سفر (4)

ممتاز مورخ سٹیفن پی کوہن پاکستان آرمی کو تین جنریشنز میں تقسیم کرتے ہیں۔ نوزائیدہ مملکت کی فوج کا حصہ بننے والے افسران بنیادی طور پر برٹش انڈین آرمی کا ورثہ تھے، چنانچہ اسی بناء پر وہ انہیں ’برٹش جنریشن‘ کہا گیا۔ ان افسروں کی اکثریت کا تعلق جاگیر دارانہ پس منظر رکھنے والے، مغربی بود و باش کے حامل، نسبتاً سیکولر اور وفادار سمجھے جانے والے متمول گھرانوں سے ہوتا تھا۔ اس دور میں کہ جہاں پاکستان آرمی روایات

Read more

استعماری فوج سے قومی ادارے تک کا سفر! ( 3 )۔

ہمارے ہاں اسٹیبلشمنٹ کو اکثر ’طاقتور‘ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ کیا طاقتور ہونا ہی اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کا بنیادی سبب ہے؟ پاکستان جن سنگین معاشی اور سلامتی خطرات کے سائے تلے وجود میں آیا تھا، وسائل کی کمیابی کے باوجود ایک طاقتور فوج کا قیام ملک کی مجبوری تھی۔ دنیا کی تمام ریاستیں اپنے وسائل کا ایک بڑا حصہ اپنی دفاعی ضروریات پر صرف کرتی ہیں۔ یورپ کی ترقی کے پس پشت جہاں کئی عوامل کار فرما

Read more

استعماری فوج سے قومی ادارے تک کا سفر! ( 2 )۔

برٹش انڈین آرمی کی تقسیم کی طے شدہ سکیم کے مطابق پاکستانی علاقوں کے ہندو افسروں اور جوانوں کو چوائس دی گئی کہ وہ چاہیں تو انڈین آرمی میں شمولیت اختیار کر لیں۔ اسی طرح بھارتی علاقوں کے مکین مسلمان اہلکاروں کو پاکستان آرمی کے انتخاب کا موقع دیا گیا۔ انڈین آرمی کا حصہ بننے والی یونٹس کے مسلمان افسروں اور جوانوں کی اکثریت نے جہاں پاکستان آرمی میں شمولیت کا فیصلہ کیا تو وہیں ایک بڑی تعداد نے بھارت

Read more

استعماری فوج سے قومی ادارے تک کا سفر!

ازکار رفتہ سپاہی کسی کا ترجمان نہیں ہے۔ ٹھیک سے یہ بھی نہیں جانتا کہ ادارے کے اندر کیا سوچ پنپ رہی ہے۔ تاہم اپنے جیسوں میں رہتا ہوں۔ اسی لئے جانتا ہوں کہ ہم جیسے اکثر کیا سوچ رہے ہیں۔ ہمارے اندر سے ہی مگر آج کل کچھ ایسے بھی متحرک ہیں جو خود کو ’پوپ سے زیادہ پرہیز گار‘ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم جیسے مگر جانتے ہیں کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ رنجشیں گو

Read more

ارشد شریف کا زندہ رہنا اشد ضروری ہے!

ارشد شریف کو زمین میں دفن ہوئے چھ ہفتے گزر چکے ہیں۔ ارشد شریف مگر آج بھی مرنے سے انکاری ہے۔ معاشرہ ہے کہ بری طرح منقسم ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ آزادی صحافت کے بڑے بڑے علمبردار ارشد شریف کے حق میں یوں کھڑے نہیں ہوئے، جیسا کہ ابھی ہم نے پچھلے ہی برس ان میں کئی ایک کو اسلام آباد میں بازاری زبان استعمال کرنے والے ایک سڑک چھاپ یوٹیوبر کی پٹائی پر بیچ چوراہے میں منہ سے

Read more

نئے سپہ سالار کو در پیش تین بڑے چیلنجز!

کئی ہفتوں کی قیاس آرائیوں اور چند اعصاب شکن دنوں کے بعد بالآخر پاکستان آرمی کے نئے سپہ سالار کی نامزدگی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو سروس میں برقرار رکھتے ہوئے فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی ہے۔ یوں اب وہ 27 نومبر کو ریٹائر ہونے کی بجائے دو روز بعد اپنے نئے عہدے کا حلف اٹھا لیں گے۔ اگرچہ حکومت کا اصرار

Read more

ہولناک معاشی بحران اور آخری امید

ہیرالڈ لاس ویل نے ’گیریژن سٹیٹ‘ کے جو خد و خال سال 1940 ء میں بیان کیے تھے، کیا آج کا پاکستان اس تعریف پر پورا اترتا ہے؟ کیا طاقتور ملٹری اسٹیبلشمنٹ پاکستان کو در پیش سیکیورٹی چیلنجز کا بلا وجہ ہوا کھڑا کرتے ہوئے تمام ریاستی وسائل پر قابض ہے؟ کیا اسٹیبلشمنٹ ہی ہے کہ جو ملک میں جمہوریت حکومتوں کے استحکام کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہے؟ کیا حالیہ کچھ برسوں کے اندر مغربی ایماء پر برپا کی گئی

Read more

خطے کی سیاست اور پاکستان میں انتشار!

یوں تو امریکیوں کو ساٹھ کی دہائی کے دوران ہی احساس ہو چلا تھا کہ پاکستان نہیں، خطے میں بھارت ان کا فطری اتحادی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹیجک اتحاد کی بنیاد صدر کلنٹن کے دور حکومت میں اس وقت رکھی گئی، جب کارگل کی جنگ کے دوران امریکی خطے میں صورتحال کو قابو میں لانے کے لئے متحرک تھے۔ ایک طرف جب کہ جنرل زینی ہماری طرف سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتوں کے ذریعے ’ڈپلومیسی‘ میں

Read more

توہین مذہب کے نام پر فتنہ گری!

آج معاشرہ ایک شخص یعنی عمران خان کی محبت تو دوسری طرف ان کی نفرت کے شدید جذبات میں گرفتار، ہیجانی کیفیت کا شکا ر نظر آتا ہے۔ دوست ہوں یا دشمن، یہ حقیقت مگر سب مانتے ہیں کہ عمران خان ہیں تو پی ٹی آئی ہے۔ اسی حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے کچھ عناصر اگر یہ سوچیں تو غلط نہ ہو گا کہ عمران خان کو منظر سے ہٹا

Read more

عوام جو ذہن بنا لیں وہ راتوں رات تبدیل نہیں ہوتا

تاریخ کی معمولی سمجھ بوجھ رکھنے شخص والا بھی جانتا ہے کہ جب ایک فضا بن جائے، عوام اپنا ذہن بنا لیں یا وہ کسی ایک خاص شخص کو اپنا رہنما مان لیں تو مخالفت میں آپ دلائل کے ڈھیر لگا دیں، فرانزک سائنسدان بن کے ٹل کا زور لگا لیں، بات نہیں بنتی۔ عام آدمی آپ کی بات سننے کو تیار نہیں ہوتا۔ عوام جو ذہن بنا لیں وہ چند ’عقل مندوں‘ کے دلائل سے راتوں رات تبدیل نہیں

Read more

کئی سوالات: جواب مگر ایک ہی ہے

اس امر میں مگر کوئی دو آراء نہیں کہ حکمت اور تحمل کا راستہ ہی خان صاحب کے لئے کامرانی و کامیابی کا راستہ ہے۔ صرف خان صاحب ہی نہیں، لازم ہے کہ سب سیاستدان تدبر سے کام لیں۔ تین روز قبل جو ہوا، ضرور کچھ پرندے گھبرا جائیں گے۔ کیا بالآخر یہی مطلوب ہے؟ کہنے کو سب نے سبق سیکھا ہے۔ دکھائی تو یہی دیتا ہے کہ اب بھی نہیں سیکھا۔ افسوس کہ اپنے ہاں کے تو سرخے بھی

Read more

پاک امریکہ تعلقات:کچھ بھی نہیں بدلا

امریکی نیشنل سیکیورٹی سٹریٹجی ( 2022 ) کے مطابق امریکہ بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور اپنا فطری اتحادی قرار دیتا ہے۔ چین کو دشمن نمبر ایک اور ایران کو ایک ’چھوٹی بدمعاش ریاست‘ سمجھتا ہے۔ رپورٹ میں دو پرانے امریکی اتحادیوں یعنی سعودی عرب اور پاکستان کا مگر ذکر تک نہیں ہے۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد امریکی پالیسی ساز ’ٹرومین ڈاکٹرائن‘ کی روح کے مطابق نو آبادیات کو آزاد کیے جانے کے حق میں تھے۔ تاہم

Read more

خدا کا نہیں، یہ ہمارا کیا دھرا ہے!

نیب کی طرف سے تقریباً عدم پیروی کی بناء پر مریم نواز اور ان کے شوہر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں ’باعزت بری‘ کر دیا ہے۔ یاد رہے، یہ وہی مقدمہ ہے کہ جس میں محترمہ کی ضمانت پر رہائی کا حکم عام معمول سے ہٹ کر کئی صفحات پر لکھا گیا تو اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان نے پوچھا تھا، ’کیا کبھی ضمانت دیے جانے کا حکم اس قدر طویل بھی

Read more

اب بیچ بچاؤ کون کرے!

یہ نہیں کہ یہ سب راتوں رات ہوا ہے۔ یہ ہمارے پچھتر برسوں پر محیط اعمال کا نتیجہ ہے۔ گزشتہ تین عشرے مگر پاکستان پر بہت بھاری گزرے ہیں۔ آج ہم جن حالات سے دو چار ہیں، کیا یہ کہنا درست ہو گا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے؟ ہر گز نہیں۔ اللہ نے پاک سر زمین کو ہر نعمت سے نوازا ہے۔ سمندر ہے، صحرا ہے، دریا ہیں، آسمانوں کو چھوتے پہاڑ ہیں۔ اناج سے بھرے کھیت کھلیان ہیں۔

Read more

لبرل ازم کا بنیادی تصّور اور پاکستانی لبرلز

اکثرپاکستانیوں کے تصور میں ‘لبرل’ وہ ہوتا ہے جو خدا کے وجود سے انکاری ہو، مذہب سے بیزار ہو، سماج میں مغربی طرز کی جنسی آزادی کا خواہش مند ہو، مغربی اقدار کے مطابق عورتوں کے حقوق کا مطالبہ کرتا ہو، مقدس شخصیات یا آسمانی کتب کی توہین پر ‘کھلا ذہن’ رکھتا ہو، شراب پیتا ہو، رقص و موسیقی کا دیوانہ ہو، غرض کہ معاشرے میں مادر پدر آزادیوں کا علمبردار ہو۔ عام پاکستانیوں کی ‘مقامی لبرلز’ سے متعلق اس

Read more

پاکستان کی جیت اور شائقین کا رد عمل!

پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعصاب شکن مقابلہ آخری اوور تک پہنچا۔ نوجوان نسیم شاہ نے آخری دو بالوں پر جو دو چھکے جڑے تو افغانوں کے دماغوں کی شریانیں کھل گئیں۔ خون آنکھوں میں اتر آیا۔ جن کرسیوں پر بیٹھ کر میچ دیکھا تھا انہی کی سیٹیں اکھاڑ اکھاڑ کر نیچے بیٹھے پاکستانی تماشائیوں پر پھینکنے لگے۔ میچ میں دو کھلاڑی الجھ پڑے تو سوشل میڈیا پر بھی محاذ کھل گیا۔ پاکستانی شائقین نے افغانیوں کو آڑے ہاتھوں لینا

Read more

کیا ’ففتھ جنریشن وار‘ ابھی چل رہی ہے؟

سب جانتے ہیں، امریکہ بھارت کو خطے میں چین کے مقابلے میں کھڑا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کا چین کی طرف جھکاؤ بھی اسے ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ چنانچہ کلیدی مسائل کے حل کے بغیر ہی امریکہ پاک بھارت تعلقات نارمل کرنا چاہتا ہے۔ تاہم پاکستان کی دفاعی پالیسی تاریخی خدشات کی بناء پر روز اول سے ہی بھارت پر مرکوز رہی ہے۔ پاکستان کی اسی ’انڈیا سینٹرک‘ پالیسی کا نتیجہ تھا کہ افغانستان پر قبضے کی امریکی کوشش میں

Read more

دو سفیروں کی ’کافی ٹیبل‘ گفتگو!

قوموں کے عروج و زوال کے باب میں متعدد سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ کیا قوموں کے مابین معاشرتی اور معاشی اونچ نیچ کے پس پشت قومی تہذیب و تمدن کار فرما ہے؟ کیا جغرافیائی یا موسمیاتی اسباب قوموں کی ترقی یا پسماندگی کا باعث بنتے ہیں؟ یا کہ کچھ قوموں کی پسماندگی کی وجہ ’کم علمی‘ (Ignorance Theory) ہے؟ معلوم ہوا کہ ان سوالات کے جوابات بالعموم نفی میں ہیں۔ اس سب کے برعکس دیکھا گیا ہے کہ گزشتہ چند

Read more

کرپشن کا ناسور اور طبقاتی بے چینی!

کانگرس نے مسلم اکثریتی صوبے میں ارکان اسمبلی کو خریدنے کے لئے کروڑوں روپے جھونک دیے تو قائداعظم نے تاسف کے ساتھ گورنر ہیو ڈاؤ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’پوری کھیپ پانچ لاکھ میں خریدی جا سکتی ہے‘ ۔ گورنر نے جواب دیا، ’یہ کام اس سے بہت کم داموں میں ہو سکتا ہے‘ ۔ مذہبی آزادیوں کے حوالے سے پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس سے قائد اعظم کے خطاب کا اکثر حوالہ دیا جاتا

Read more

بدلی ہوئی دنیا میں زمانے کی ہوا ہے!

یہ ضرور ہے کہ پڑھے لکھے پاکستانی رنج و ملال کا شکار ہیں۔ رنج و ملال کے کچھ اسباب ظاہر ہیں تو کچھ ہماری نظروں سے اوجھل۔ کچھ میں سچ ہے تو کچھ ذہنوں کی اختراع۔ یہ البتہ ایک حقیقت ہے کہ درپیش بد گمانیوں کو کچھ عناصر، اپنی بقاء کی جو جنگ لڑ رہے ہیں، ہوا دینے میں جٹے ہیں۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ جن کی پشت پر کھڑی ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی، واحد وفاقی اور متحیر کر دینے

Read more

تاریخ سے کوئی سبق کیوں نہیں لیتا

انگریزی اخبار نے سرخی جمائی، ’عمران کو عبرت کی مثال بنا دیا جائے‘ ۔ دو دن کے اندر اندر 21 پریس کانفرنسز کی گئیں۔ درجن بھر جماعتوں کا اتحاد ایک قطار میں کھڑے ہو کر مشترکہ پریس کانفرنسوں سے پے در پے خطاب فرما رہا ہے۔ انگریزی اخبار نے سرخی وہیں سے مستعار لی ہے۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے ایک نکتے پر یکسو دکھائی دیتے ہیں، عمران خان کو گرفتار کیا جائے۔ ہو سکے تو فنا کر دیا

Read more

ہشیار ہشیار، ہم ہمیشہ کے لئے ہیں!

وطن عزیز میں یوں تو ادارے روز اول سے ہی عدم استحکام کا شکار رہے ہیں، تاہم شکست و ریخت کی جو صورت حال قومی سیاسی، معاشی اور عدالتی اداروں کو اب در پیش ہے، اس کی نظیر کسی سابقہ دور میں ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ ابتدائی دور میں ہمارے حکمرانوں کی ترجیح افواج پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا تھا۔ اس ریاستی پالیسی پر اعتراض میں وزن موجود ہے۔ تاہم دو اطراف سے ملکی سلامتی کو لاحق خطرات

Read more

ڈی چوک سے بھیرا تک: سوال ایک ہی ہے (2)۔

یہ تو طے ہے کہ گزشتہ کئی برسوں پر محیط متعدد معاشی اور معاشرتی عوامل کی بنا پر پاکستان کی مڈل کلاس بدل چکی ہے۔ سوال مگر یہی تھا کہ کیا معاشرے میں ظہور پذیر ہونے والی اس تبدیلی کی حدت اب تک نچلے طبقات تک بھی پہنچی ہے یا نہیں۔ بیس سیٹوں پر ہونے والے انتخابات نے بہت صراحت کے ساتھ ہمیں بتایا ہے کہ صرف بڑے شہروں تک محدود متوسط طبقے کے اندر ہی نہیں، نسل در نسل

Read more

ڈی چوک سے بھیرا تک: سوال ایک ہی ہے!

25 مئی کے دن ریاست نے اپنے ہی شہریوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا اور جس درجے پر پنجاب پولیس کو مڈل کلاس طبقے بالخصوص خواتین کے خلاف استعمال کیا گیا اس کی مثال ہماری تاریخ میں نہیں ملتی۔ 25 مئی کے دن ہم نے دیکھا کہ پڑھے لکھے طبقے کے افراد، بشمول کثیر تعداد میں ریٹائرڈ فوجی افسران، اپنے خاندانوں سمیت اسلام آباد کے لئے نکلے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ معمول سے ہٹ کر مڈل کلاس سے

Read more

دوزخ کے راستے سے واپسی

جوں جوں دن گزر رہے ہیں یہ حقیقت واضح ہوتی چلی جا رہی ہے کہ عمران خان کی حکومت کو امریکی ایماء پر گرایا گیا تھا۔ اگرچہ یہ کہنا مشکل ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس کھیل میں کس حد تک متحرک رہی، اس ’سازش‘ یا ’مداخلت‘ کے اسباب یا محرکات اب بچے بچے کی زبان پر ہیں۔ صدر کلنٹن کے دور صدارت سے لے کر عمران حکومت کے گرائے جانے تک کیپٹل ہلز میں یہ تصور راسخ ہو چکا تھا کہ

Read more

یہ کہانی ہم نے سُن رکھی ہے

سال 1943 ء میں لارڈ ویول نے وائسرائے کا عہدہ سنبھالا تو خیال یہی تھا کہ برطانیہ اگلے تیس سال تک ہندوستان کو اپنے زیر تسلط رکھے گا۔ پرل ہاربر پر جاپانی حملے نے مگر ساری صورت حال ہی بدل ڈالی۔ امریکہ جنگ کے بعد عالمی سٹیج پر ایک بڑے کھلاڑی کا کردار ادا کرتے ہوئے کمیونسٹ خطرے سے نبرد آزما ہو نے کو بے چین تھا۔ مارشل پلان کے ذریعے اقتصادی اور بعد ازاں نیٹو اتحاد کے نام پر

Read more

کہانی اب ہر ایک کی زبان پر ہے!

سوویت یونین شکست و ریخت کا شکار ہو کر سمٹ رہا تھا تو امریکیوں نے روس کو گھیرنے کے لئے یورپ کی سرحد پر واقع آزاد ہونے والی ریاستوں میں ’جمہوریت‘ اور ’انسانی حقوق‘ کے نام پر ’سرمایہ کاری‘ کا فیصلہ کیا تھا۔ ’سرمایہ کاری‘ کے ذریعے خود مختار ملکوں میں امریکی ’مداخلت‘ کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن یہ ابھی کل کی بات ہے جب نہرو کا بھارت افغانستان پر انخلاء کے بعد بھی تنہا روسیوں کے ساتھ کھڑا تھا۔

Read more

کسی کے حب میں یا کسی کے بغض میں!

جنرل مشرف، جنرل علی قلی خان کو سپر سیڈ کرتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف تعینات کیے گئے تھے۔ خود جنرل مشرف نے اپنی خود نوشت میں اعتراف کیا کہ ان کی تعیناتی کی ایک وجہ ان کا متوسط طبقے سے تعلق تھا۔ اس کے برعکس جنرل علی قلی یقیناً ایک با اثر سیاسی اور کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ فوج میں پروموشن کا طریقہ کار عمومی طور پر موثر اور انسانی کمزوریوں کی گنجائش رکھتے ہوئے ایک بہترین

Read more

راستہ یہی رہا تو زوال کا سفر جاری رہے گا!

سولہویں صدی کے اختتام تک چین، ہندوستان اور سلطنت عثمانیہ یورپ سے کہیں بڑھ کر دولتمند تھے۔ تاہم برطانیہ اور اس کی دیکھا دیکھی اکثر مغربی یورپی ممالک میں کسی نہ کسی شکل میں Representative ادارے قائم ہو چکے تھے۔ یورپ کے اندر رونما ہونے والی معاشرتی اور معاشی تبدیلیاں سترویں صدی عیسوی میں Glorious Revolution کی صورت اپنے عروج کو پہنچیں۔ بادشاہ اور زمینوں پر قابض اس کے پروردہ جاگیر داروں کے خلاف کسی اور نے نہیں درمیانے طبقے

Read more

کیا سابقہ فوجی Cult followers ہیں!

پشاور میں بیٹھ کر عمران خان نے لانگ مارچ کا اعلان کیا تو انہوں نے خاص طور پر سابقہ فوجیوں اور ان کے خاندانوں سے اپیل کی کہ وہ اسلام آباد پہنچیں۔ یقیناً انہیں پورا ادراک تھا کہ مڈل کلاس اور مڈل کلاس میں خاص طور پر سابقہ فوجی ان کی تحریک کے پر جوش حامی ہیں۔ ایسا کب ہوا کہ سابقہ فوجی اور ان کے خاندان عمران خان کے ساتھ کھڑے ہو گئے؟ اسٹیبلشمنٹ کے لاڈلے تو میاں صاحب

Read more

اسٹیبلشمنٹ کو در پیش مشکل صورت حال!

چند ہی ہفتوں میں سب کچھ الٹ پلٹ گیا ہے۔ کل تک جو اسٹیبلشمنٹ کے سر ایک ’سیلیکٹڈ‘ حکومت ملک پر مسلط کیے جانے کا الزام دھرتے تھے، حال ہی میں اس کے نیوٹرل ہو جانے کو عین آئین اور قانون کے مطابق قرار دے کر دوسروں کو بھی کچھ ایسا ہی مشورہ دے رہے تھے۔ تاہم صورت حال کچھ یوں بدلی ہے کہ اب صاف صاف الفاظ میں افواج پاکستان کو مدد کے لئے پکارا جا رہا ہے۔ جس

Read more

معاشی تباہی کے دہانے پر کھڑی قوم کا مخمصہ!

آصف زرداری آج کل بلند ہواؤں میں اڑ رہے ہیں۔ پاکستان آرمی کے ایک سینئر کمانڈر کے بارے میں بولا گیا بازاری جملہ اسی تکبر اور خود اعتمادی کا اظہار ہے جو ایک اندازے کے مطابق سال 2020 ء کے بعد شروع ہونے والی پسپائی کا نتیجہ ہے۔ فوج کی طرف سے آنے والا رد عمل مگر مجموعی طور پر صائب، متوازن اور عمومی طور پر مبنی بر حقیقت ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ

Read more

کیابالآخر اسٹیبلشمنٹ تنہا اور بے اثر ہو چکی

وزیر خارجہ کا حلف لینے میں بظاہر کچھ لیت و لعل کے بعد بلاول زرداری، نواز شریف سے ملاقات کے لئے لندن پہنچے۔ سامنے نظر آنے والی ملاقاتوں کے بعد بتایا گیا کہ قوم کے دو رہنماؤں نے ’چارٹر آف ڈیموکریسی‘ کے اعادے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم درون خانہ معلومات رکھنے والے کچھ اور ہی کہتے ہیں۔ پاکستان کے نامور صحافی ہارون الرشید صاحب نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران جہاں امریکی سفارت کار پاکستان

Read more

بہتر ہوگا کہ ایک اور غلطی نہ کی جائے

خلیل جبران نے لازوال نظم لکھی۔ نظم نہیں ہم جیسی قوموں کا نوحہ لکھا۔ حیف ہے اس قوم پر جو ہر نئے حکمران کا استقبال ڈھول پتاشوں سے کرتی ہے اور ہر جانے والے پر آوازے کستی ہے۔ اس بار مگر کچھ ایسا ہوا ہے کہ پاکستانی جانے والے کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔ اکتوبر 2021 ء میں ایک اہم تعیناتی کا اعلان آئینی استحقاق رکھنے والے وزیر اعظم کے دفتر نے نہیں بلکہ محکمے کی پریس ریلیز کے

Read more

خاندانوں کی حکمرانی اور مڈل کلاس کا رد عمل!

//5 عمران خان کی شخصیت اور ان کے طرز حکمرانی میں ہزار خامیاں ڈھونڈی جا سکتی ہیں۔ ہم کل بھی مانتے تھے۔ آج بھی مانتے ہیں۔ وقت مقررہ پر معمول کے مطابق انتخابات ہوتے تو محض ایک شخص کہ پورا پنجاب جس کے حوالے کر دیا گیا تھا، تنہا عمران حکومت کے زوال کے لئے کافی تھا۔ مہنگائی کے باعث حکومتی ارکان اسمبلی کے لئے اپنے ووٹروں کو عالمی حالات اور وبا کے اثرات سمجھانا دن بدن مشکل ہو رہا

Read more

صورتِ حال کو سنبھالنے کی ضرورت ہے

عمران خان کہ انتہائی پیچیدہ سیاسی، معاشرتی، سیکیورٹی حتی کہ سفارتی معاملات کو بھی بے حد سادہ بیانئے میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ’مراسلے‘ کو ایک ’ایشو‘ بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ چنانچہ کروڑوں پاکستانیوں کا خیال ہے کہ عمران خان کی حکومت کو ایک منظم سازش کے ذریعے گرایا گیا ہے۔ ٹویٹر پر ’امپورٹڈ حکومت نا منظور‘ کا ہیش ٹیگ مقبولیت کے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ چکا ہے۔ اسے سازش کہا جائے یا مداخلت، یہ بات

Read more

امریکی مفادات اور پاکستانیوں کا مستقبل!

چھوٹے ملکوں میں سی آئی اے کے ذریعے ’رجیم چینج‘ اور نا پسندیدہ شخصیات کو جسمانی طور پر راستے سے ہٹائے جانے جیسے واقعات تاریخ کا حصہ ہیں۔ خود ہمارے ہاں روز اول سے حکومتوں کے بننے اور گرنے میں امریکی اثر و رسوخ شامل رہا ہے۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں امریکی سفیر کو ’وائسرائے‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ نواز شریف اپنے دوسرے دور حکومت میں صدر کلنٹن کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار

Read more

اے طائر لاہوتی!

دنیا کے بیشتر پسماندہ ملکوں میں جہاں خاندان حکومت کرتے ہیں، طاقتور قومی افواج کو خاندانی اقتدار کے لئے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ سیرالیون کے اسٹیونز نے انگریزوں سے آزادی کے بعد ملک پر قبضہ کیا تو دو کام کیے ۔ ہیروں کی کانوں کو خاندانی قبضے میں لے لیا اور قومی فوج کو اپنے اقتدار کے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے کمزور کیا۔ خانہ جنگی شروع ہوئی تو اقوام متحدہ کی امن فوجوں کو بلانا پڑا۔ آزادی کے فوراً بعد

Read more

کیا مغربی تہذیب زوال پذیر ہے؟

ڈاکٹر آغا افتخار حسین کی ’قوموں کے شکست و زوال کے اسباب کا مطالعہ‘ دقیق فلسفیانہ زبان کی بجائے عام فہم انداز میں لکھی گئی ہے۔ کتاب کا بنیادی موضوع اگرچہ مسلمانان عالم میں عقلیت پسندی کا زوال ہے، تاہم مختلف تاریخی ادوار کا جائزہ لے کر اور تاریخ ساز مورخین کے افکار و نظریات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عروج کی طرح قوموں کا زوال بھی مستقل نہیں۔ ابن خلدون نے قوموں کے عروج

Read more

پاکستانیوں کی ایک اور نسل ناکام!

انتظار حسین فرانسیسی فوج کے خلاف الجزائر یوں کی رومانوی جد و جہد اور اس کے نتیجے میں ملنے والی آزادی کے بعد خود اپنوں پر اپنوں کے ہاتھوں ڈھائے جانے والے مظالم کا بیان یوں سمیٹتے ہیں، ’پاکستان کا خواب دیکھنے والوں کو بھی کب پتا ہو گا کہ بہت جلد وہ وقت آئے گا کہ خواب کی تعبیر الٹی ہو جائے گی۔ وہ لوگ اچھے رہتے ہیں جو خواب کی تعبیر کی چکاچوند میں دنیا سے گزر جاتے

Read more

موجودہ سیاسی بحران اور اسٹیبلشمنٹ کا مخمصہ!

وزیراعظم عمران خان کی حالیہ تقریروں، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن کی آئے روز میڈیا ٹاکس اور ’خوشگوار نوٹ‘ پر اسلام آباد میں اختتام پذیر ہونے وا لے لانگ مارچ میں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کی گئی زبان کی تلخی، لہجے میں حقارت اور چہروں پر کچھی نسوں سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ دور حاضر کے سیاسی مشاہیر کے بس میں ہو تو ایک دوسرے کو کچا چبا جائیں۔ ہماری سیاست میں سیاسی حریفوں پر ذاتی

Read more