میں آزادکشمیر ہوں، میری کہانی سنیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سب سے پہلے میرے نام کی وجہ تسمیہ جانیے تاکہ مجھے پہچاننے میں آپ کو دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انیس سو چالیس کے عشرے میں جہاں دوسری عالمی جنگ میں متحارب اتحادی کشیدہ صورتحال میں قومی اور علاقائی منڈیوں پر قبضہ کرنے کی غرض سے آگ اور بارود کا خونی کھیل کھیل رہے تھے۔ وہیں نوآبادیاتی تسلط کے خلاف عالمی سطح پر تحریکیں بھی منظم ہو رہی تھیں۔ برصغیر کے عوام ملے جلے رجحانات کے ساتھ سیاسی محاذ پر سرکار انگلشیہ کو اپنے آبائی وطن بھیجنے کی تیاری کر رہے تھے۔

وہیں ریاست جموں کشمیر کے عوام بھی سیاسی۔ معاشی اور جمہوری حقوق کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد کر رہے تھے۔ نیشنل کانفرنس۔ مسلم کانفرنس اور کسان مزدور کانفرنس سیاسی محاذ پر عوامی جدوجہد کی قیادت کر رہی تھیں۔ اسی دوران 12 مئی 1946 کو وادیٔ کشمیر میں کسان مزدور کانفرنس کے سیاسی اجتماع میں میرے نام یعنی آزاد کشمیر کی اصطلاح استعمال ہوئی۔ جس کے محرک پنڈت پریم ناتھ بزاز تھے۔ لیکن پنڈت بزاز کے آزاد کشمیر اور میرے نام میں مماثلت کے سوا کوئی قدر مشترک نہیں۔

میرے وجود میں میرے ہی ان گنت بچوں کا بے گناہ خون شامل ہے۔ میں جموں کشمیر کے جسم سے کاٹا گیا وہ عضو ہوں جو سوچنے سمجھنے اور بولنے کی طاقت سے محروم ہوں۔ بزاز کے نام کی کاپی کر کے میرے ماتھے پر چپکانے والوں نے 1947 کے غدر میں اکثریت سے مختلف عقیدہ رکھنے والے میرے بچوں کو میری آنکھوں کے سامنے ذبح کر دیا تھا۔ اور بہت ساروں کو ہجرت پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ جنم سے لے کر آج تک مجھے مختلف ناموں سے پکارا گیا۔

لیکن تحریک آزادی کے بیس کیمپ کے عرفی نام پر میرے ساتھ جو حشر کیا گیا۔ وہ کسی اجتماعی عصمت دری سے کم نہیں۔ عصمت دری کی اصطلاح پر اپنے بچوں سے معذرت اس لیے کہ مجھے بیس کیمپ کا عرفی نام دینے والوں نے میرے پستانوں سے دودھ اور رگوں سے خون تک نچوڑ لیا ہے۔ میرے مادی وجود سے جنگلات اور ہریالی کی چادر کو نوچ کر مجھے ننگا کر دیا گیا۔ میرے وجود سے پھوٹنے والے چشموں اور دریاؤں کے پانی پر میری اولاد کے حق پر پابندی لگا دی گئی۔ میرا سینہ چیر کر جب دریا چلتے ہیں تو میں اس احساس سے درد سہہ لیتی ہوں کہ میرے بچوں کی زندگیوں میں آسائش اور بقاء کے لئے پانی ضروری ہے۔ لیکن یہ کیا کہ اب میرے سینے میں مزید چھید کرکے دریاوں کا رخ ہی موڑ دیا گیا۔ اور میری اولاد کو دھوپ اور گرمی کی حدت میں جھلسنا پڑ رہا ہے۔

میری آنکھوں کے سامنے اور میرے سینے پر آئے روز حادثات میں میرے بچے مارے جاتے ہیں اور میں ماں ہو کر بھی کچھ نہیں کر سکتی۔ بچوں کی حفاظت کے لیے میں نے اپنے دامن پہ درختوں کا جال بچھایا ہوا تھا وہ درخت دراصل میرے بازو تھے جن کے ذریعے میں سفر کرتے ہوئے بچوں کی حفاظت کو یقینی بناتی تھی۔ اب جب میرے بچے ہی میرے بازو کاٹنے میں شامل ہوں تو میں حادثات کے سمے ان کی حفاظت کس طرح کروں۔

مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے جب میں دیار غیر جاتے ہوئے اور مدتوں بعد لوٹتے ہوئے اپنے بچوں کی بے بسی کو دیکھتی ہوں۔ اس میں میرا کوئی دوش نہیں۔ جنہیں تم نے اپنے سردار کے طور پر چنا وہ سرداری کے قابل ہی نہ تھے۔ بھلا اپنوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا کر دوسروں کو خوش رکھنے والے بھی سردار ہوتے ہیں؟ میں خون کے آنسو روتی ہوں جب میرا سینہ چیر کر بنائی ہوئی بیش بہا بجلی کی ایک جھلک کو دیکھنے میری اولاد ترس جاتی ہے اور سردار اپنے رشتے استوار کرنے کے لیے وہ بجلی تعفے کے طور پر کہیں اور بھیج دیتے ہیں۔

ایک اور پریشانی مجھے سونے نہیں دیتی۔ کیونکہ آئے روز میرے بچے ہیپاٹائٹس سی۔ ذیابیطس۔ ہارٹ اٹیک اور کینسر جیسی موذی امراض کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ لیکن میرے وہ بچے جو دوا دارو کرنے کے مناصب پر فائز ہیں۔ وہ اپنے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال کرنے کے بجائے اپنے ذاتی بینک بیلنس میں اضافے کا سوچتے رہتے ہیں۔ اور آپ کے چنے ہوئے سردار سرحد پار سے ناقص اشیائے خوردونوش اور ادویات کو بلا روک ٹوک مارکیٹ تک رسائی دے دیتے ہیں۔

مجھے علم ہے کہ میرے لگ بھگ نصف بچے دیار غیر میں محنت بیچنے پر اس لیے مجبور ہیں کہ اپنے زیر کفالت خاندان کے باقی افراد کو بہتر زندگی کی سہولیات فراہم کر سکیں۔ لیکن تعلیم جیسے بنیادی حق کو بھی ہر گلی کوچے میں مہنگے داموں بیچ کر ڈگری ہولڈرز کی کھیپ تیار کی جاتی ہے۔ میں چہ جائے اب بہتر سال کی بوڑھی ہو چکی ہوں۔ لیکن مجھے یاد ہے کہ جب تک میرے ہاں حقوق و فرائض میں توازن تھا اور تعلیم بیچی نہیں جاتی تھی۔

میرے بچے معض ڈگری ہولڈرز نہیں ہوتے تھے۔ بلکہ کسی بھی گروہ کے ساتھ کسی بھی میدان میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے لیس ہوتے تھے۔ لیکن یہ کیا اب تعلیم دینے والے بھی بیوپاری بن گئے؟ کہیں آپ کے چنے گئے سردار ان کاروباروں میں شراکت دار تو نہیں۔ اس لیے کہ میرے بچے پریم ناتھ بزاز نے میرا نام رکھنے کے بعد میرے بچوں کے لیے تعلیم۔ اور صحت پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی بات کی تھی اور ان دو سہولیات کی مفت فراہمی کا وعدہ کیا تھا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ بزاز کے نام کو چوری کرنے والوں نے اپنی جیبیں بھرنے کا بھی سوچا ہوا ہے۔

مجھے ایک بات کی کبھی سمجھ نہیں آئی۔ اور اب ڈھلتی عمر کے ساتھ یادداشت بھی کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے کہ میں بھول جاوں۔ مجھے بتایا جائے کہ جو انچاس لوگوں کی اسمبلی آپ نے بنائی ہے ان میں سے اکثر کو تو میں جانتی ہوں۔ لیکن یہ مستقل 12 چہرے ہر بار اجنبی سے کون ہوتے ہیں؟ اور میرے اپنے بچوں کے وسائل کو میرے آنگن سے باہر لے جانے والے کون لوگ ہیں؟ جب وہ میرے آنگن کے مکین ہی نہیں تو آپ نے کن کمزور لوگوں کو اپنا سردار بنایا ہوا ہے۔ جو صحیح اور غلط میں فرق بھی نہیں کر سکتے؟

مجھے آزادکشمیر کا نام دینے والوں نے مجھے ایک جھنڈا۔ صدر اور وزیراعظم بھی دیا ہوا ہے۔ میں اکثر پیر چناسی۔ گنگا چوٹی اور تولی پیر سے اسلام آباد میں صدور اور وزراء اعظم کو آتے ہوئے دیکھتی رہتی ہوں۔ ان کے شایان شان استقبال کے مقابلے میں جب میرے صدر اور وزیراعظم اسلام آباد کی سڑکوں پر رل رہے ہوتے ہیں تو مجھے بڑا تعجب ہوتا ٹھا۔ لیکن پھر مجھے پتہ چلا کہ جس طرح میرا نام کاپی پیسٹ کیا گیا ہے اسی طرح وزیراعظم اور صدر بھی نام کی حد تک مجھے دیے گئے۔

میرے بہت سارے دکھوں میں سے ایک بڑا دکھ یہ ہے کہ جب مشرق وسطی سے میرے بچے اپنے گھر فون کر کے وہاں کے تپتے صحراؤں کی گرمی کی حدت کا احوال سناتے ہیں۔ اور اس سے بھی بڑا دکھ جب ان کے بھیجے ہوئے پیسوں پر حاصل ہونے والا زر مبادلہ کہیں اور خرچ ہو رہا ہوتا ہے۔ میں اکثر ٹیلیفون پر اپنے بچوں کی باتیں چپکے چپکے سنتی رہتی ہوں جب وہ یورپ اور شمالی امریکہ میں ہونے والی ترقی اور وہاں پر انصاف کے نظام کی بات کرتے ہیں۔ اس وقت مجھے اپنے آنگن میں پھیلی پسماندگی اور انصاف کے نظام کی زبوں حالی پر رونا آتا ہے۔

میری کہانی تو بہت طویل ہے۔ باقی حصے بعد میں سناوں گی۔ لیکن اگلی قسطوں تک کچھ گزارشات کر کے اجازت چاہوں گی۔ اول تو مجھے بیس کیمپ کے عرف سے نجات دلائی جائے اور مجھے جیتے جاگتے انسانوں کی ایک بستی تصور کیا جائے جہاں پر بسنے والے انسانوں کو زندہ رہنے کے لیے اسی ماحول اور سہولیات کی ضرورت ہے جس طرح باقی کرہ ارض پر۔ اور بیس کیمپ کے عرف سے مجھے ہر وقت بارود کی بوجھل بو۔ اور بھاری بھرکم بوٹوں کی کھٹ کھٹ سنائی دیتی ہے۔

گزرتی عمر کے ساتھ ساتھ میری سماعت بھی اب بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔ دوم اپنے سردار چنتے وقت سگے اور سوتیلے بھائیوں میں فرق ضرور کریں اور جو میری تقدیس کا خیال رکھنے کی جرات نہیں کر سکتے ہیں وہ نہ میرے اور نہ ہی میرے بچوں کے خیر خواہ ہو سکتے ہیں۔ دوم مجھے میرے دیے گئے نام یعنی آزادکشمیر سے اب شرم محسوس ہونے لگی ہے۔ مجھے یا تو آزادکشمیر ہونے کی صفات کے ساتھ زندہ رکھا جائے یا پھر اس نام سے مجھے آزاد کیا جائے۔ اس لیے کہ میں کچھ بھی ہوں اس سابقے یعنی آزاد کا بوجھ اور جھوٹا بہتان سہنے کی اب مجھ میں سکت نہیں۔ میری کہانی کی پہلی قسط یہیں ختم ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کچھ باتیں آپ کو پسند نہ آئی ہوں۔ لیکن چونکہ یہ میری کہانی ہے اور اسے میں نے ہی بیان کرنا ہے۔ اس لیے اچھی لگے یا بری سچی ضرور ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •