میاں محمد بخش کا تصور عشق

انیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں میرپور (حالیہ آزاد کشمیر) کے مضافاتی قصبے (کھڑی) میں ایک کسان کے گھر جنم لینے والے میاں محمد کا رجحان عہد شباب میں ہی تصوف کی طرف مائل ہو گیا تھا۔ صوفیاء کی طریقت کی پیروی کرتے ہوئے میاں صاحب نے بھی خلوت نشینی کو جلوت کے شوروغل پر ترجیح دی اور کسی پرسکون مسکن کی تلاش میں محو گردش ہو گئے۔ کسی روایتی تعلیمی ادارے سے فارغ التحصیل نہ تھے ہاں البتہ اپنے روحانی مرشد کی سرپرستی میں ابتدائی دینی و مذہبی تغلیم حاصل کرنے کے کوشش کی۔بچپن میں ہی تفکر۔ ریاضت اور من کی دنیا کی طرف رجحان ہو گیا۔ اضطرابی کیفیت منظوم شکل میں لبوں پر آشکار ہونے لگی تو قلم۔ دوات اور کاغذ کی کل متاع سمیٹے میاں صاحب نے پنجنی (پنجن بالا۔ چڑہوئی) کے ایک خاموش ویرانے میں ڈیرے ڈال لیے اور آمد کے سلسلے قافیہ۔ ردیف۔ وزن اور تخلص کے خوبصورت امتزاج کے ساتھ ارض قرطاس پر موتی بن کر بکھرنے لگے۔ پہاڑی اور پنجابی زبانوں کے سنگم پر رہنے کی بدولت میرپوری لہجے میں کئی دہائیوں تک زمان و مکاں کے اثر سے بھرپور ادبی شاہکار کی تخلیق ہوتی رہی جو نئی نسل تک ”سیف الملوک“ کی شکل میں پہنچا۔

Read more

سپارٹیکس۔ عظیم انقلابی اور باغی غلام

سپارٹیکس کی تاریخ پیدائش پر بہت سارے محققین اور تاریخ دانوں میں اس بات پر اتفاق ہے، کہ وہ 111 سے 109 قبل مسیح میں تھریس (جو کے موجودہ عہد میں مشرقی یورپ کا بالکن علاقہ کہلاتا ہے) میں پیدا ہوا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا میں رومن شاہی عروج پر تھی۔ روم کے امیر خاندان جو اس بادشاہت کا حصہ تھے، دنیا بھر سے کمسن بچوں کو خرید کر باقاعدہ غلام بنا لیا کرتے تھے۔ ان غلام بچوں کو جانوروں کی طرح زنجیروں سے باندھ کر رکھا جاتا تھا۔ اور ہیرے۔ سونے اور دیگر قیمتی دھاتوں کی کانوں میں جبری مشقت پر لگایا جاتا تھا۔

Read more

ماں اور بیٹا: چار میل کی دوری اور تیس سال کا انتظار

انیس سو پینسٹھ میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے آپریشن جبرالٹر کے نام پر جموں کشمیر کے بھارتی مقبوضہ علاقے میں ایک مہم جوئی شروع کی۔ اس کا بظاہر مقصد 1962 کی بھارت چین جنگ کے بعد کمزور بھارتی فوج کو گوریلا جنگ کے ذریعے جموں کشمیر سے باہر نکالنا تھا۔ لیکن اس کا انجام ایک خوفناک جنگ کی صورت میں ہوا اور 1948 کی طرح سیز فائر لائن کے دونوں اطراف کشمیری عوام ایک بار پھر نشانہ بنے۔سیز فائر لائن سے ملحقہ بھارتی علاقوں سے آپریشن جبرالٹر کی وجہ سے بہت سارے خاندان ہجرت کر کے پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں عارضی طور پر آباد ہو گئے۔ جنگ ختم ہوئی تو ان میں سے بہت سارے خاندان رات کی تاریکی میں واقف اور محفوظ راستوں کا انتخاب کر کے اس طرف واپس لوٹ گئے اور کچھ نے یہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ انہی خاندانوں میں سے ایک خاندان کی کہانی اس تحریر میں شامل کر رہا ہوں۔

Read more

چار دہائیوں میں دو اذانیں اور ان کے اثرات

انیس سو اناسی میں سوویت یونین کی افغانستان میں موجودگی کے خلاف جب مغربی ممالک نے مجاہدین کو مسلح کرنا شروع کیا۔ تو سعودی عرب کی حمایت سے پاکستان کو افغان جہاد کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ضیاالحق کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک زور پکڑ رہی تھی اور نو مولود مارشل لا پاکستان میں اپنے…

Read more

برصغیر کے عوام کسی ایک جنگ کا انتخاب کریں

بھارت اور پاکستان کو جغرافیائی طور پر تقسیم کرنے والی سرحد کے دونوں اطراف غربت اپنے خونی جبڑے کھولے غرا رہی ہے۔ غربت کا یہ عفریت الیکٹرانی ساعت کی ہر جنبش پر کسی انسانی زندگی کے خاتمے کا اشارہ دیتا ہے۔ سرحد کے دونوں اطراف ایک محتاط اندازے کے مطابق کم و بیش تیس فیصد انسان انتہائی غربت کی قاتلانہ حد پر بڑی مشکل سے سانس لیتے ہوئے زندوں کی صف میں شامل ہیں۔ کم و بیش پینتالیس سے پچاس فیصد انسان بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

یعنی دونوں اطراف ملا کر پچھتر سے اسی کروڑ انسان فی کس دو ڈالر یومیہ کی آمدنی پر زندہ ہیں۔ لگ بھگ اس سے زیادہ آبادی کو پینے کا

Read more

سچل۔ گوتم اور نانک کی دھرتی پر نفرتوں کا کاروبار

سیاست کے کاروبار میں نفرتوں کے سودے کا بکنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ لیکن یہ ماضی بعید کی بات ہے۔ قرون وسطی میں جب انسانی سماج ریاست۔ سیاست اور قوم کے ابتدائی مراحل میں تھا۔ تو انفرادی طاقت کے بل بوتے پر ہی کوئی گرو عنان اقتدار کا والی ٹھہرتا تھا۔ اس کا اقتدار اس وقت تک قائم رہتا تھا جب تک اس علاقے کا کوئی اور طاقتور پہلے کا گلہ نہ کاٹ دے یا اسے قیدی نا بنا لے۔ دنیا آپس میں جڑی ہوئی نہیں تھی۔ ذرائع رسل و رسائل اور معلومات کی ترسیل کا نظام بھی فطری طور پر سماج کی ابتدائی شکل کے مطابق تھا۔

جوں جوں سماج نے ترقی کی معلومات میں اضافہ ہوتا گیا۔ انسانوں کی نئی بستیوں کی معلومات اور ان کی کھوج میں اضافہ ہوتا گیا۔ وہ جنگیں جو پہلے ایک ہی گروہ کے مختلف جتھوں کے درمیان ہوتی تھیں اب مختلف گروہوں کے درمیان ہونے لگیں۔ یورپ کی نشاط ثانیہ سے قبل یہ علاقہ آگ اور خون اگلتا رہا۔ نسلی منافرت اور مذہبی عقائد کو ہتھیار بنا کر اہل یورپ نے نسل انسانی کے خون سے سارے خطے کو لال کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔

Read more

سعادت حسن منٹو کا عالم بالا سے خط

مجھے خبر ملی ہے کہ میں جس ملک میں پیدا ہوا تھا وہاں میری زندگی پر کوئی فلم بنائی گئی ہے۔ اور بٹوارے کے بعد میں نے جس ملک میں سکونت اختیار کی تھی یا اختیار کرنے پر مجبور ہو گیا تھا۔ اس ملک میں اس فلم کی ریلیز پر پابندی لگا دی گئی ہے۔…

Read more
––>