سیاست کے کاروبار میں نفرتوں کے سودے کا بکنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ لیکن یہ ماضی بعید کی بات ہے۔ قرون وسطی میں جب انسانی سماج ریاست۔ سیاست اور قوم کے ابتدائی مراحل میں تھا۔ تو انفرادی طاقت کے بل بوتے پر ہی کوئی گرو عنان اقتدار کا والی ٹھہرتا تھا۔ اس کا اقتدار اس وقت تک قائم رہتا تھا جب تک اس علاقے کا کوئی اور طاقتور پہلے کا گلہ نہ کاٹ دے یا اسے قیدی نا بنا لے۔ دنیا آپس میں جڑی ہوئی نہیں تھی۔ ذرائع رسل و رسائل اور معلومات کی ترسیل کا نظام بھی فطری طور پر سماج کی ابتدائی شکل کے مطابق تھا۔
جوں جوں سماج نے ترقی کی معلومات میں اضافہ ہوتا گیا۔ انسانوں کی نئی بستیوں کی معلومات اور ان کی کھوج میں اضافہ ہوتا گیا۔ وہ جنگیں جو پہلے ایک ہی گروہ کے مختلف جتھوں کے درمیان ہوتی تھیں اب مختلف گروہوں کے درمیان ہونے لگیں۔ یورپ کی نشاط ثانیہ سے قبل یہ علاقہ آگ اور خون اگلتا رہا۔ نسلی منافرت اور مذہبی عقائد کو ہتھیار بنا کر اہل یورپ نے نسل انسانی کے خون سے سارے خطے کو لال کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔
Read more