وسعت اللہ خان کے نام

مکرمی وسعت اللہ خان صاحب! آداب امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے اور مظفرآباد یاترا سے اپنے وطن واپس پہنچ گئے ہوں گے۔ میں ایک مدت سے بی بی سی اردو اور دیگر اردو اخبارات میں آپ کے کالم اور مضامین جو ”بات سے بات“ کے عنوان سے پبلش ہوتے ہیں باقاعدگی سے پڑھتا ہوں۔ میں تاریخ، سماجیات اور سیاسیات کا ادنیٰ سا طالب علم ہونے کے ناتے اس حقیقت کو مان چکا ہوں کہ سماجی اقدار جو برصغیر

Read more

آزادکشمیر کے آخری انتخابات؟

پانچ اگست 2019 کے بھارتی پارلیمان کے فیصلے کے پیچھے پورا ہوم ورک موجود تھا۔ جس کے لیے بھارتی سرکار نے علاقائی اور عالمی طاقتوں کو اعتماد میں لینے کے بعد اتنا بڑا قدم اٹھایا۔ وگرنہ بھارت جو کام 72 سالوں میں نہ کر سکا وہ اچانک دن کی روشنی میں کیسے کر گیا؟ معض انتظامی تبدیلی بھارت کے لیے شاید کوئی مسئلہ نہ ہوتا۔ لیکن عوامی ردعمل سے بچنے کے لیے اتنی بڑی آبادی اور علاقے کو کرفیو نافذ

Read more

پاکستان میں آزادی مارچ: حالیہ عالمی تحریکوں کی روشنی میں

 دو ہزار انیس میں ایک مدت بعد عالمی منظر نامے پر عوامی جدوجہد نے حکمران طبقے کو سیاسی قوت کے بل بوتے پر للکارنا شروع کیا ہوا ہے۔ دسمبر 2018 میں سوڈان جیسے قدامت پسند معاشرے میں روٹی کی قیمت میں معمولی اضافے نے عوام کو سڑکوں پر لایا اور دیکھتے ہی دیکھتے عوامی سمندر نے خرطوم کے مضبوط سیاسی ایوان ہلا کر رکھ دیے۔ حکمران طبقے نے عوامی بغاوت کو کچلنے کے لئے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔

Read more

جموں کشمیر کی آزادی کا راستہ

انیس سو اکتیس میں شروع ہونے والی شورش، شخصی حکومت کے خلاف عوامی ابھار کی شکل اختیار کر گئی تھی۔ کشمیریوں کو ماسٹر عبد اللہ سے شیر کشمیر مل گیا۔ اس عوامی ابھار کے نتیجے میں پہلی سیاسی جماعت بن گئی۔ اسمبلی اور قانون سازی کے محدود اختیارات بھی ملے۔ یوں شخصی راج ویسا مطلق العنان نہ رہا جیسا 1931 کی شورش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عوامی ابھار سے پہلے تھا۔ بنیادی فرق یہ تھا کہ عوام ملاوں

Read more

اقوام متحدہ، عمران خان اور قانونی مشیران

ریاست جموں کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے وہ ابتدائی مسائل ہیں۔ جن پر بحث اور قراردادوں کی تاریخ اقوام متحدہ کی اپنی عمر کے برابر ہے۔ رواں سال اقوام متحدہ 74 سال کی طبعی عمر کو پہنچ گئی اور اپنی خم زدہ پیٹھ پر ناکامیوں کے بھاری بھرکم بیگ اٹھائے بیساکھیوں کے سہارے چلنے پر مجبور ہے۔ ناکامیوں کے اس بھاری بھرکم بیگ میں بہت سارے اور سامان کی طرح کشمیر اور فلسطین کے

Read more

ہانگ کانگ: چھنتی ہوئی بنیادی آزادیاں

عوامی جمہوریہ چین کے جنوب میں واقع ہانگ کانگ کئی چھوٹے جزائر پر مشتمل ایک نیم آزاد خطہ ہے۔ 1842 میں افیون کے خلاف پہلی جنگ کے دوران ہانگ کانگ آئی لینڈ تاج برطانیہ کے قبضے میں چلا گیا تھا۔ 1856 میں کولون اور یکم جولائی 1898 میں کئی چھوٹے چھوٹے جزائر پر مشتمل نیو ٹیریٹریز بشمول کوائے چنگ، شین وان، تائی پو بھی ایک معاہدے کے تحت 99 سال کی لیز پر تاج برطانیہ نے چین سے لے کر

Read more

عمران خان کا دورہ اور واشنگٹن میں خطاب

عمران خان 20 جولائی کی شام قطر ائیر ویز کی کمرشل فلائٹ سے واشنگٹن ڈی سی کے ڈیلس ائیر پورٹ پر اترے تو ان کے اپنے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان ایمبیسی کے چند افسران کے ہمراہ ان کا استقبال کیا۔ اس میں حیرانی والی کوئی بات نہیں۔ سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین اور پرنٹ میڈیا سے منسلک کچھ صحافی امریکی حکومت کے عہدے داروں کی طرف سے استقبال نہ کرنے کا شکوہ کرتے نظر آئے ہیں۔ یہ

Read more

ٹرمپ۔ عمران پریس کانفرنس میں کہی اور ان کہی باتیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے ایک سال بعد سٹیٹ آف دی یونین ایڈریس میں افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کو چند بنیادی مسائل کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ اور ساتھ ہی اتحادی فنڈ کی مد میں دیے جانے والے امدادی پیکج کو یہ کہہ کر روکنے کا اعلان کیا تھا کہ یہ پیسے جس مقصد کے لیے پاکستان کو دیے جاتے رہے ہیں، پاکستان ان مقاصد کے حصول کے لئے امریکہ کے

Read more

میں آزادکشمیر ہوں، میری کہانی سنیے

سب سے پہلے میرے نام کی وجہ تسمیہ جانیے تاکہ مجھے پہچاننے میں آپ کو دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انیس سو چالیس کے عشرے میں جہاں دوسری عالمی جنگ میں متحارب اتحادی کشیدہ صورتحال میں قومی اور علاقائی منڈیوں پر قبضہ کرنے کی غرض سے آگ اور بارود کا خونی کھیل کھیل رہے تھے۔ وہیں نوآبادیاتی تسلط کے خلاف عالمی سطح پر تحریکیں بھی منظم ہو رہی تھیں۔ برصغیر کے عوام ملے جلے رجحانات کے ساتھ سیاسی محاذ

Read more

مستقبل کی دنیا کیسی ہو گی

آج سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے ہماری دنیا بدل کر رہ گئی ہے۔ اطلاعاتی نظام سیکنڈوں میں ہزاروں میل کا سفر طے کرتے ہوئے باہمی اور اجتماعی روابط میں تیزی لانے کا سبب بن رہا ہے۔ مالیاتی سرماے کی نقل و حرکت سے لے کر معلومات کی روانی تک ٹیکنالوجی نے قومی ریاستوں، سرحدی اور جغرافیائی تقسیم کو عملی طور پر ختم کر دیا ہے۔ اسی لیے عرف عام میں سات براعظموں اور دو سو سے زائد

Read more

تاریخ فہمی اور عام فکری مغالطے

بہت سے لوگ تاریخ کو اپنے اپنے نقطہ نظر سے سمجھنے کی سعی کرتے رہتے ہیں اور کچھ تو فلسفہ تقدیر کی مانند من و عن ہی اسے تسلیم کر لیتے ہیں۔ اکثر اسے ایک خشک اور غبار آلود مضمون اور کیلنڈری تاریخوں کا بے ربط تکرار سمجھتے ہوئے اس سے لاتعلق رہتے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ نہ ہی تو تاریخ بیزار کن اوربے ربط ہے۔ اور نہ ہی اسے جانے بغیر اپنے وجود کے ادراک سے

Read more

بدلتے وقت کی بدلتی سچائیاں

سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی اور اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والے اوزاروں کی بدولت ہر لمحہ زندگی اور ارد گرد کے حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ خصوصی طور پر انٹرنیٹ کے پھیلاؤ کے ذریعے آپس میں جڑی ہوئی دنیا جسے گلوبل ویلج کہا جاتا ہے۔ اس گلوبل ویلج کے وجود میں آنے سے بہت ساری چیزیں جو ایک لمبے عرصے تک انسان کی روزمرہ معمولات کا حصہ تصور کی جاتی تھیں بڑی تیزی کے ساتھ ختم ہو گئیں اور ختم بھی ایسے ہوئیں کہ احساس زیاں بھی نہ ہوا۔

Read more

میاں محمد بخش کا تصور عشق

انیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں میرپور (حالیہ آزاد کشمیر) کے مضافاتی قصبے (کھڑی) میں ایک کسان کے گھر جنم لینے والے میاں محمد کا رجحان عہد شباب میں ہی تصوف کی طرف مائل ہو گیا تھا۔ صوفیاء کی طریقت کی پیروی کرتے ہوئے میاں صاحب نے بھی خلوت نشینی کو جلوت کے شوروغل پر ترجیح دی اور کسی پرسکون مسکن کی تلاش میں محو گردش ہو گئے۔ کسی روایتی تعلیمی ادارے سے فارغ التحصیل نہ تھے ہاں البتہ اپنے روحانی مرشد کی سرپرستی میں ابتدائی دینی و مذہبی تغلیم حاصل کرنے کے کوشش کی۔بچپن میں ہی تفکر۔ ریاضت اور من کی دنیا کی طرف رجحان ہو گیا۔ اضطرابی کیفیت منظوم شکل میں لبوں پر آشکار ہونے لگی تو قلم۔ دوات اور کاغذ کی کل متاع سمیٹے میاں صاحب نے پنجنی (پنجن بالا۔ چڑہوئی) کے ایک خاموش ویرانے میں ڈیرے ڈال لیے اور آمد کے سلسلے قافیہ۔ ردیف۔ وزن اور تخلص کے خوبصورت امتزاج کے ساتھ ارض قرطاس پر موتی بن کر بکھرنے لگے۔ پہاڑی اور پنجابی زبانوں کے سنگم پر رہنے کی بدولت میرپوری لہجے میں کئی دہائیوں تک زمان و مکاں کے اثر سے بھرپور ادبی شاہکار کی تخلیق ہوتی رہی جو نئی نسل تک ”سیف الملوک“ کی شکل میں پہنچا۔

Read more

سپارٹیکس۔ عظیم انقلابی اور باغی غلام

سپارٹیکس کی تاریخ پیدائش پر بہت سارے محققین اور تاریخ دانوں میں اس بات پر اتفاق ہے، کہ وہ 111 سے 109 قبل مسیح میں تھریس (جو کے موجودہ عہد میں مشرقی یورپ کا بالکن علاقہ کہلاتا ہے) میں پیدا ہوا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا میں رومن شاہی عروج پر تھی۔ روم کے امیر خاندان جو اس بادشاہت کا حصہ تھے، دنیا بھر سے کمسن بچوں کو خرید کر باقاعدہ غلام بنا لیا کرتے تھے۔ ان غلام بچوں کو جانوروں کی طرح زنجیروں سے باندھ کر رکھا جاتا تھا۔ اور ہیرے۔ سونے اور دیگر قیمتی دھاتوں کی کانوں میں جبری مشقت پر لگایا جاتا تھا۔

Read more

ماں اور بیٹا: چار میل کی دوری اور تیس سال کا انتظار

انیس سو پینسٹھ میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے آپریشن جبرالٹر کے نام پر جموں کشمیر کے بھارتی مقبوضہ علاقے میں ایک مہم جوئی شروع کی۔ اس کا بظاہر مقصد 1962 کی بھارت چین جنگ کے بعد کمزور بھارتی فوج کو گوریلا جنگ کے ذریعے جموں کشمیر سے باہر نکالنا تھا۔ لیکن اس کا انجام ایک خوفناک جنگ کی صورت میں ہوا اور 1948 کی طرح سیز فائر لائن کے دونوں اطراف کشمیری عوام ایک بار پھر نشانہ بنے۔سیز فائر لائن سے ملحقہ بھارتی علاقوں سے آپریشن جبرالٹر کی وجہ سے بہت سارے خاندان ہجرت کر کے پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں عارضی طور پر آباد ہو گئے۔ جنگ ختم ہوئی تو ان میں سے بہت سارے خاندان رات کی تاریکی میں واقف اور محفوظ راستوں کا انتخاب کر کے اس طرف واپس لوٹ گئے اور کچھ نے یہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ انہی خاندانوں میں سے ایک خاندان کی کہانی اس تحریر میں شامل کر رہا ہوں۔

Read more

چار دہائیوں میں دو اذانیں اور ان کے اثرات

انیس سو اناسی میں سوویت یونین کی افغانستان میں موجودگی کے خلاف جب مغربی ممالک نے مجاہدین کو مسلح کرنا شروع کیا۔ تو سعودی عرب کی حمایت سے پاکستان کو افغان جہاد کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ضیاالحق کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک زور پکڑ رہی تھی اور نو مولود مارشل لا پاکستان میں اپنے قدم جمانے کی کوشش میں تھا۔ ایسے میں مغربی ممالک کی آشیرباد حاصل کرنے کے لئے اس سے بہتر کوئی اور موقع نہ تھا جس

Read more

برصغیر کے عوام کسی ایک جنگ کا انتخاب کریں

بھارت اور پاکستان کو جغرافیائی طور پر تقسیم کرنے والی سرحد کے دونوں اطراف غربت اپنے خونی جبڑے کھولے غرا رہی ہے۔ غربت کا یہ عفریت الیکٹرانی ساعت کی ہر جنبش پر کسی انسانی زندگی کے خاتمے کا اشارہ دیتا ہے۔ سرحد کے دونوں اطراف ایک محتاط اندازے کے مطابق کم و بیش تیس فیصد انسان انتہائی غربت کی قاتلانہ حد پر بڑی مشکل سے سانس لیتے ہوئے زندوں کی صف میں شامل ہیں۔ کم و بیش پینتالیس سے پچاس فیصد انسان بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

یعنی دونوں اطراف ملا کر پچھتر سے اسی کروڑ انسان فی کس دو ڈالر یومیہ کی آمدنی پر زندہ ہیں۔ لگ بھگ اس سے زیادہ آبادی کو پینے کا

Read more

سچل۔ گوتم اور نانک کی دھرتی پر نفرتوں کا کاروبار

سیاست کے کاروبار میں نفرتوں کے سودے کا بکنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ لیکن یہ ماضی بعید کی بات ہے۔ قرون وسطی میں جب انسانی سماج ریاست۔ سیاست اور قوم کے ابتدائی مراحل میں تھا۔ تو انفرادی طاقت کے بل بوتے پر ہی کوئی گرو عنان اقتدار کا والی ٹھہرتا تھا۔ اس کا اقتدار اس وقت تک قائم رہتا تھا جب تک اس علاقے کا کوئی اور طاقتور پہلے کا گلہ نہ کاٹ دے یا اسے قیدی نا بنا لے۔ دنیا آپس میں جڑی ہوئی نہیں تھی۔ ذرائع رسل و رسائل اور معلومات کی ترسیل کا نظام بھی فطری طور پر سماج کی ابتدائی شکل کے مطابق تھا۔

جوں جوں سماج نے ترقی کی معلومات میں اضافہ ہوتا گیا۔ انسانوں کی نئی بستیوں کی معلومات اور ان کی کھوج میں اضافہ ہوتا گیا۔ وہ جنگیں جو پہلے ایک ہی گروہ کے مختلف جتھوں کے درمیان ہوتی تھیں اب مختلف گروہوں کے درمیان ہونے لگیں۔ یورپ کی نشاط ثانیہ سے قبل یہ علاقہ آگ اور خون اگلتا رہا۔ نسلی منافرت اور مذہبی عقائد کو ہتھیار بنا کر اہل یورپ نے نسل انسانی کے خون سے سارے خطے کو لال کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔

Read more

سعادت حسن منٹو کا عالم بالا سے خط

مجھے خبر ملی ہے کہ میں جس ملک میں پیدا ہوا تھا وہاں میری زندگی پر کوئی فلم بنائی گئی ہے۔ اور بٹوارے کے بعد میں نے جس ملک میں سکونت اختیار کی تھی یا اختیار کرنے پر مجبور ہو گیا تھا۔ اس ملک میں اس فلم کی ریلیز پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ سب سے پہلے تو حیرت اس بات پر ہوئی کہ اتنے برس بیت جانے کے باوجود برصغیر کے لوگوں نے ابھی تک مجھے کسی نہ

Read more