جعلی ٹرسٹ ڈیڈ بنانے پر مریم نواز کی دوبارہ طلبی، قانون کیا کہتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیب نے 2 روز قبل احتساب عدالت اسلام آباد میں درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں مریم نواز کی پیش کردہ ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ثابت ہوئی تھی۔ مقدمے میں شہادت کے طور پر جعلی دستاویز پیش کرنے پر مریم نواز کا ٹرائل کیا جائے۔ نیب کی درخواست پر عدالت نے مریم نواز کو 19 جولائی کو پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ کیا مریم نواز پر اب جعلی ٹرسٹ ڈیڈ بنانے کا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے؟ آئیے اس کا جائزہ لیں۔

مریم نواز نے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں احتساب عدالت اسلام آباد میں ایک ٹرسٹ ڈیڈ پیش کی تھی۔ جج محمد بشیر نے ٹرائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سناتے وقت اس ٹرسٹ ڈیڈ کو جعلی قرار دیا تھا اور کیس میں اعانت جرم کی بنیاد پر مریم نواز کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ تو قرار دیا تھا کہ ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ہے لیکن اس ٹرسٹ ڈیڈ پر سزا نہیں دی تھی بلکہ اعانت جرم میں سزا دی گئی۔ جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پیش کرنے کے جرم پر سزا نہ دیے جانے کے خلاف نیب 10 دن کے اندر اپیل دائر کرسکتا تھا لیکن اس نے اس فیصلے کومن و عن قبول کیا اور اپیل میں نہیں گیا۔ لہذا فیصلے کے 10 دن گزرنے کے بعد نیب کا اپیل کا حق ختم ہو گیا تھا۔

اس جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کے خلاف نیب آرڈیننس 1999 کے آرٹیکل 30 کے تحت بھی کارروائی ہوسکتی تھی۔ یہ آرٹیکل کہتا ہے کہ تفتیش یا مقدمے کے دوران اگر کوئی گواہ یا ملزم غلط شہادت دے یا کوئی جھوٹا ثبوت پیش کرے تو عدالت اس جھوٹی شہادت اور ثبوت پر بھی سمری ٹرائل کر کے ملزم کو سزا دے سکتی ہے۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔

پہلی یہ کہ عدالت خود اس پر کارروائی کا آغاز کرے اور ملزم کے خلاف سمری ٹرائل چلا کر سزا دے۔ تاہم جج محمد بشیر نے ایسا نہیں کیا، انہوں نے مقدمے میں مجموعی طور پر مریم کو 7 سال قید کی سزا دے دی۔

دوسری صورت یہ تھی کہ کیس کے فیصلے کے بعد 30 کے اندر پراسیکیوشن (نیب) اس کے خلاف درخواست دے۔ نیب نے یہاں بھی 30 دن کے اندر درخواست نہیں دی تھی۔ لہذا اس قانون کے تحت بھی نیب کا حق ختم ہو گیا۔

یہاں تک تو بات ہوگئی کہ نیب اب اُس جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کے خلاف کوئی درخواست دے سکتا ہے یا نہیں تو وہ تو بالکل واضح ہوگیا کہ نیب کا قانون اسے ایسی کوئی اجازت نہیں دیتا کہ مخصوص وقت گزرنے کے بعد وہ ایسی کوئی اپیل دائرکر سکے۔ نیب کی اپیل زائد المعیاد قرار پائے گی۔

اب آتے ہیں اس قانون کی طرف کہ جب ایک الزام پر ایک مقدمے میں کسی ملزم کو سزا دے دی جائے توکیا اُسی الزام کی بنیاد پر اُس پر دوبارہ کیس چلایا جاسکتا ہے؟

آئین کا آرٹیکل 13 اس بابت بات کرتا ہے۔ قانون کی اصطلاح میں اسے ڈبل جیوپرڈی کہا جاتا ہے۔ آئین پاکستان کہتا ہے کہکسی شخص کو کسی ایک ہی الزام اور جرم پر دو دفعہ سزا نہیں دی جاسکتی۔ مریم نواز کو ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا دے دی گئی جس کے خلاف انہوں نے اپیل دائر کر رکھی ہے تو اب اسی بنیا دپر ان پر ایک اور مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا۔ ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 403 بھی اسی حوالے سے بات کرتی ہے۔ یہ دفعہ کہتی ہے کہ کسی شخص کو جب کسی ایک جرم پر ایک بار سزا دے دی جائے یا بری کر دیا جائے تو اُسی جرم پر اُس پر دوبارہ مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا۔ پاکستان کا جنرل کلازز ایکٹ بھی اس طرح کے کیسزکی ممانعت کرتا ہے۔ ایک ہی جرم پر دو دفعہ نہ تو مقدمہ چلایا جاسکتا ہے اور نہ ہی دو دفعہ سزا دی جاسکتی ہے۔

میں قانون کا طالبعلم ہوں۔ نیب کا یوں اچانک جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کا کیس عدالت میں لے کر جانا مجھے انتہائی مضحکہ خیز لگا۔ مخالف وکلا کے پاس اوپر دیے گئے قوانین کی صورت میں نیب کی اس اپیل کے خلاف بڑے جاندار دلائل موجود ہوں گے۔ قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے میری پیشگوئی ہے کہ نیب کی یہ اپیل بڑی آسانی سے مسترد ہو جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •