سچائی اور سوپر سائنس کے بارے میں ایک تاریخی تقریر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”میرے پاکستانیو!

میں آج بہت خوش ہوں اس لئے کہ آج میں آپ سے اپنے دل کی وہ بات کرنے والا ہوں۔ جس کو عوام تک پہنچانے کے لیے میں نے تئیس سال محنت کی۔ اور یہ بات پچھلے حکمرانوں کو بھی کرنی نصیب نہیں ہوئی۔ یہ وہ سچ ہے جو آپ سے کسی نے کبھی نہیں بولا۔ کیوں نہیں بولا، اس لیے کہ میرے پاکستانیو، آپ کے کان یہ بات سننے کے لیے کبھی تیار ہی نہیں تھے۔

آج میں بہت خوش ہوں کیونکہ میری پالیسیوں کے نتیجے میں اب وہ وقت آ چکا ہے کہ پاکستانی قوم اس بات کو سننے اور سمجھنے کے لیے اچھی طرح سے تیار ہو چکی ہے۔

تئیس سال پہلے میں نے فیصلہ کیا کہ ہم اس مقصد سے بہت دور چلے گئے ہیں جس کے لیے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا۔ مدینہ کی ریاست عدل اور انصاف کی بنیاد پر قائم ہوئی تھی۔ جہاں قانون کی بالادستی تھی۔ لیکن افسوس کہ ہم نے یہ اصول بھلا دیا۔ یاد رکھیں کہ وہ جن اصولوں پہ مدینہ کی ریاست بنی تھی، آپ کو یورپ میں ایسی ریاست نظر آئیں گی۔ جہاں قانون کی اور ’سچائی‘ کی بالادستی ہے۔

میرے پاکستانیو!

’سچائی‘ ہی سوپر سائنس ہے۔

سچ ہی وہ سوپر سائنس ہے جس سے یورپ نے ترقی کی ہے۔ جب وہاں لوگوں نے سچ کی کھوج شروع کی تو پھر وہ ترقی کرنے لگے۔

شاید آپ میں سے زیادہ لوگوں کو پتا نہیں ہے، میں آپ کو بتاتا ہوں، جب یورپ کے فلسفیوں نے کائنات کی کھوج کرنے کا فیصلہ کیا کہ یہ کائنات کیسے اور قدرت کے کن قوانین کے تحت چل رہی ہے تو اس سے سائنس وجود میں آئی۔ اور پھر سائنسدانوں نے اس بات پر تحقیق کی۔ اسی سچ کی کھوج کو انہوں نے سائنس کا نام دیا۔ جب میں یورپ میں لوگوں کو سچ بولتے اور سچ سنتے اور سچائی کو تلاش کرتے دیکھتا ہوں، تو یقین مانیں میرے دل کو بہت ٹھیس لگتی ہے کہ ہم لوگ کیوں پیچھے رہ گئے ہیں۔ ہم کیوں نہیں ترقی کر پا رہے۔ تب مجھے پتا چلا کہ ہم لوگ ترقی کیوں نہیں کر سکے۔ ہمارے اصول یعنی سچائی کو، قانون کی بالادستی کو، یہی ریاست مدینہ کے اصول تھے۔ ان کو اپنا کر یورپی ملکوں نے ترقی کر لی۔

شاید آپ میں زیادہ لوگ نہ جانتے ہوں، کیونکہ آپ کو سچ سننے کی عادت نہیں رہی ہے، پاکستان اس وجہ سے ہی ٹوٹا تھا کیونکہ یہاں ’سچ‘ نہیں بولا جاتا تھا۔ میں ایک بات اور آپ کو بتا دوں، پاکستان کو کسی غیر ملکی سازش نے نہیں توڑا تھا۔ بلکہ ہم نے خود یہ بے وقوفی کی تھی، کیونکہ سچ سننا ہمیں پسند نہیں تھا۔

میرے پاکستانیو آپ کتنا سچ بولتے ہیں، یہ بات آپ کے اس سوال کے جواب سے ہی معلوم ہو جائے گا۔

اچھا، تو یہ بتائیں کہ پاکستان 14 اگست 1947 کو بنا تھا 15 اگست کو؟

میں جانتا ہوں کہ آپ کا جواب کیا ہے۔ اسی سے یہ پتا چل جاتا ہے کہ آپ میں سچ بولنے اور سہنے کی ہمت بالکل نہیں ہے۔

تو غلطی ہماری تھی ہم نے کبھی سچ نہیں بولا تھا اور نہ ہی سچ سہنے کی عادت تھی، اسی وجہ سے پاکستان ٹوٹا۔ ہم یہ کہتے اور سنتے رہے کہ ہندوستان نے توڑا۔ نہیں، یہ سچ نہیں ہے۔ ہاں ہندوستان نے کوشش ضرور کی تھی۔

یہ ایک بات، اس لیے میں اپنی قوم کو بتانا چاہتا تھا۔ کہ اگر ہم نے آج بھی سچ نہ بولا، لوگوں کو انصاف نہ دیا۔ عوام کے حالات کافی خراب ہیں۔ لیکن میرے پاکستانیو آپ نے گھبرانا نہیں یے۔

لہذا میں نے یہ سوچا، تئیس سال پہلے کہ اللہ نے جب بھی مجھے موقع دیا، یہ میں سوچ اپنی قوم میں، پھر اپنے نوجوانوں میں لے کر آوں گا۔ لیکن جب میں سچ بولنے نکلا، تو میں بالکل اکیلا تھا۔ عوام کے پاس کوئی لیڈر نہیں تھا جو ان کے سامنے سچ بولے اور ان کو سچ سہنے کا عادی بنائے۔ تو یہ سوچ لے کر میں تئیس سال پہلے اٹھا۔ پچھلے حکمران نے کبھی عوام سے سچ نہیں بولا تھا۔

پچھلی حکومتوں میں حکمران سبسڈی کے نام پر جھوٹ بولتے تھے۔ کبھی یہ سبسڈی بجلی پر، کبھی تیل پر، کبھی گیس پر، تو کبھی اِس چیز پر تو کبھی اُس چیز پر۔ جس سے لوگ عیاشیاں کرنے لگتے تھے۔ مثال کے طور پر گیزر استعمال کرنے لگتے اور قومی وسائل ضائع کرتے۔

ان سبسڈیوں کی وجہ سے پاکستانی قوم اس غلط فہمی میں رہتی تھی کہ روزمرہ استعمال کی چیزیں سستی ہیں لیکن اس بار ہم نے آئی ایم ایف کی مدد سے جو اہداف مقرر کیے ہیں وہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ سچائی کے اثرات عوام کے نچلے طبقوں تک جائیں۔ آئی ایم ایف نے پاکستانی قوم کو سچائی کی راہ پر چلانے کے لیے ہمارے پروگرام ’نیا پاکستان، سچا پاکستان‘ میں ہمارے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے۔ جو ہر کچھ عرصے بعد جائزہ لے گا کہ آپ سچائی سہنے کے عادی ہو گئے ہیں یا ابھی نہیں۔

ڈالر کی قیمت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جاتی تھی۔ لیکن ہم نے آئی ایم ایف کی مدد سے اب اس کو آزاد چھوڑ دیا گیا ہے جس سے لوگ سچائی سہنے کے عادی ہو جائیں گے۔ اور یہی میرا مشن بھی ہے۔

تو ’سچائی‘ کی مدد سے ہی آزادی حاصل ہوتی ہے۔ لوگوں کو یہ پتا نہیں تھا۔ تو جو کوئی ان کو مستقبل کے حسین خواب دکھاتا اس کے پیچھے چل پڑتے۔

آخر میں جب وزیراعظم بن گیا،

تو میں نے اپنے مشن، جس کا خواب میں نے تئیس سال پہلے دیکھا تھا، مکمل کرنے کے لیے صلاح مشورے شروع کیے۔

تو اس سلسلے میں ایک فیصلہ یہ ہوا کہ وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنا تھا۔ تاکہ اس بات پر تحقیق کی جائے کہ سچ بول کر، اور سچ سہنے کے عادی بن کر مغربی اقوام ہم سے آگے کیسے نکل گئیں۔ میرا ارادہ ’سچ‘ پر تحقیق کر کے اسے سوپر سائنس کا درجہ دینا تھا۔ اس کے ماہرین تیار کرنا تھا تاکہ باہر سے لوگ آئیں اور ہم ان کو یہ سکھائیں کہ سچ ایسے کھوجا جاتا ہے، ایسے بولا جاتا ہے اور یوں ’سچائی‘ کا سامنا کیا جاتا ہے۔

لیکن پھر یوں ہوا کہ میں نے دیکھا کہ مجھے مشیروں کی فوج نے گھیر رکھا ہے۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ ہمارے ملک کے عوام ابھی اس قدر جلد، سچ سننے کے عادی نہیں ہوں گے۔ ابھی کچھ وقت اور انتظار کر لیا جائے۔ مجھے یہ مشورہ ٹھیک لگا اور وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔ تو پھر میں نے آپ پاکستانیوں کو پہلے صرف جھوٹ سے نفرت دلانے کے لیے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا اور یہی ٹاسک اپنے مشیروں اور وزیروں کو بھی دیا۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ یورپ میں لوگوں کی اکثریت سچ بولتی ہیں۔ جبکہ پاکستان میں صرف ایک فیصد لوگ سچ بولتے ہیں۔ اور ہم نے اس کے دائرے کو بڑھانا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ سچ بولا کریں۔ جس نے نہ صرف خوشحالی آئے گی بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ادھر یورپ اور امریکا میں لوگوں کی اکثریت سچ بولتے ہیں۔ اسی لیے وہ ہم سے آگے ہیں۔ جس سے وہاں خوشحالی ہے۔

ماضی کی حکومتیں اپنے مخالفین کو گرفتار کرتی تھیں تو اس گرفتاری کے لیے ان پر جھوٹے مقدمے بنائے جاتے تھے۔ ان کو جیلوں میں ڈال دیا جاتا تھا۔

لوگوں کو غدار قرار دے کر نشانہ بنایا جاتا تھا۔

لیکن ہم نے ریفارمز پر کام کیا ہے۔ اب کسی کو بھی جھوٹے اور شرمناک الزام لگا گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

جیسا کہ میں نے پہلے ہی آپ کو بتایا ہے کہ میرا مشن ’سچ‘ کو سوپر سائنس بنانے کا ہے۔ اس لیے اب گرفتاری کی وجہ آپ کو صرف یہ بیان کی جائے گی کہ ”ہم آپ کو گرفتار دیکھنا چاہتے ہیں۔“

ایک اور بات، ہماری قوم کسی مسیحا کے آنے کی امید میں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی رہتی تھی۔ بس ہاتھ میں تسبیح ہے اور دعائیں کی جا رہی ہیں۔ آخر جب وہ مسیحا آتا تو قوم خوشی مناتی۔ وہ شخص آ گیا ہے جس کا انتظار تھا۔ اب سب دلدر دور ہو جائیں گے۔ لیکن جلد ہی ہماری قوم اُس مسیحا سے اکتا جاتی۔ لوگ پچھتانے لگتے کہ یہ آنے والا آتا تو اُن کی مرضی سے تھا لیکن جاتا اپنی مرضی سے تھا۔

میرے پاکستانیو!

اب جبکہ آپ سب سچ کے عادی ہو چکے ہیں اس لیے اب مزید کسی مسیحا کے آنے کا انتظار نہیں کرو گے۔ کیونکہ آپ کو آج میں اس سچائی سے آگاہ کر رہا ہوں کہ اب وہ دور نہیں رہا جب انفرادی ذہانت کے نام پر لوگوں کی قسمت کے فیصلے ہوتے تھے۔ اب اجتماعی دانش ہی کہ ذریعے عوام کے مسائل کا حل ممکن ہے۔ یہی وہ راز ہے، یہی وہ سچائی ہے جسے مغربی اقوام نے تجربات کے نتیجے میں جان لیا اور ہم سے آگے بڑھ گئے۔ ہم اس جانب بڑھ رہے ہیں یا نہیں، اس کا فیصلہ مستقبل کا مورخ کرے گا۔

میرے پاکستانیو آپ نے گھبرانا نہیں یے۔ کیونکہ ’سچ‘ ہی ہے جو ان مشکلوں سے چھٹکارا دلائے گا۔ شاید سچ کی اس کڑواہٹ سے آپ کی چیخیں نکلیں۔ (بلکہ چیخیں ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ کہیں پہ سچ بولا جا رہا ہے جو کہ برداشت سے باہر ہے ) لیکن آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ یاد رکھنا کہ سچ کی یہ کڑواہٹ ہی جھوٹ کے اُن جراثیموں کو ہلاک کرے گی۔ جس کی مٹھاس مصنوعی اور جس کا فائدہ وقتی ہوتا تھا۔

ایک اہم بات پہلے ہم لوگوں کو یہ پتا نہیں تھا۔ ہم اپنی ناکامیوں اور نالائقیوں کا ایک دوسرے پر الزام لگاتے تھے کہ یہ سب فلاں اور فلاں کا قصور ہے۔

لیکن اب سچ بولا جائے گا۔ کہ ہم اس لیے ناکام ہیں کیونکہ ہم تھے ہی نالائق اور ہماری اس نالائقی میں کسی دوسرے کا کوئی قصور نہیں ہے۔

تئیس سال پہلے عوام میں جا کر مجھے معلوم ہوا کہ عوام کس قدر تنگی میں ہیں۔ ٹیکسوں سے عوام چیخ رہے ہیں۔ تو میں نے عوام کو نجات دلانے کے لیے وزیراعظم بننے کا فیصلہ کیا۔

لیکن پھر وزیراعظم بن کر مجھے معلوم ہوا کہ حکومت کس تنگی میں ہے۔ ملک کا نظام چلانا مشکل ہو رہا ہے۔ ملک کو چلانے کے لیے پیسہ چاہیے۔ تو اس کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ انہی کے مشورے سے یہ فیصلہ ہوا کہ قوم کو سچ سہنے کا عادی بنایا جائے۔ تو اسی وجہ سے مزید ٹیکس جتنے ممکن ہو سکتے تھے وہ ہمیں لگانے پڑے۔ یہی تو عوام کے لیے سچائی سہنے کا ایک اکیلا ذریعہ بچا تھا۔ کیونکہ سچائی ہی وہ راز ہے، یہی وہ سوپر سائنس ہے جسے اپنا کر ترقی ممکن ہے۔

پاکستانیوں گھبرانا نہیں!

اب لوگ لاپتا نہیں ہوا کریں گے۔

اب لوگوں کو غدار نہیں قرار دیا جائے گا۔

اب مخالفین کو چور، ڈاکو اور لٹیرے نہیں کہا جائے گا۔

بلکہ سب کو یہی معقول وجہ بتائی جائے گی، اور یہی سچائی بھی ہے کہ ”تم حکومت اور ریاستی اداروں کے لیے اک رکاوٹ بن چکے ہو۔ تمہیں ہٹانا بہت ضروری ہے۔ “

اللہ کا شکر ہے میرے دل پر جو بوجھ تھا، وہ بوجھ آج میرے دل سے اتر گیا ہے۔ مجھے آج بڑی خوشی ہے، میں آج بڑا خوش ہوں کہ آج وہ قدم میں نے اٹھایا ہے جو میں تئیس سال سے سوچ رہا تھا۔

پاکستان زندہ باد ”

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •