رسمِ آدم فروشی
جولائی کی حبس والی گرمی نے ہر چیز جُھلسا کے رکھ دی تھی۔ میں اِن دنوں میں جب بھی باہر نکلی، ایسے لگا کہ منظر سے لے کے انسانوں تک ہر چیز پگھل رہی ہے۔ کل دوپہر آفس کے کام سے نکلنا ہوا تو جوہر ٹاؤن کے سگنل پہ تھی جب ایک منظر دیکھا جِسے ابھی تک بھول نہیں سکی۔ دیکھتی ہوں کہ ایک بزرگوار ہاتھ میں معمولی سائز کے بینر کا ڈنڈا پکڑے بیٹھے تھے۔ ایسی جان لیوا گرمی جو گاڑی کے اے سی کے باوجود مجھے محسوس ہو سکتی تھی، وہ سَر آسمان کی طرف اُٹھائے تپتی ہوئی گھاس پہ دنیا کی آوازوں سے بے نیاز بہت رنجیدہ سے نظر آ رہے تھے۔
بینر پہ جلی حروف میں تحریر تھا؛
”میں نابینا باپ، اپنی بیٹی کی شادی کے اخراجات کے لئے آپ سے مدد کی اپیل کرتا ہوں۔ اگر میں جھوٹ اور فریب سے مانگنے والا ہوں تو اللّٰہ اور اُسکے رسول مجھ پہ لعنت فرمائیں۔ “
نیچے جہیز کی کچھ چیزوں کے نام لکھے تھے اور ساتھ شادی کے کھانے کے متوقع اخراجات تحریر تھے۔ بینر کی عبارت پڑھ کے دل دَھک سے رہ گیا۔ ایک باپ اپنی بیٹی کے فرض سے سبکدوش ہونے کے لئے کس حال میں پہنچا ہُوا تھا!
میں نے گاڑی سائڈ پہ لگائی اور بابا جی کے پاس جا کہ اُنہیں پکارا، وہ فوراً اُٹھ کے کھڑے ہوگئے۔ میں نے کہا ”نہیں نہیں بابا جی بیٹھے رہئیے“
اُنہوں نے أواز کی سمت میں میرا سَر ٹٹول کہ مجھے پیار دِیا اور کہنے لگے، ”بیٹی مُناسب نہیں لگتا کے بیٹیاں آئیں اور ہم بییٹھے رہیں۔ “
چہرے سے شرمندگی اور بے بسی کے سائے ہٹا کے دیکھا جاتا تو وہ ایک مضبوط اعصاب والے شریف النفس بزرگ معلوم ہوتے تھے۔ ماتھے پر شکنیں تھیں اور بے نور آنکھوں میں یاس کے دِئیے۔
چہرے مہرے اور لہجے سے وہ ہرگز مانگنے والے نہیں لگ رہے تھے۔ میں نے گفتگو شروع کرنے کے لئے پُوچھا ”شادی کب ہے بابا جی بیٹی کی؟ “
وہ سَر نیچے کِیے اپنی آواز کی کپکپاہٹ روکتے ہوئے بولے۔ ”16 جولائی کو بیٹی۔ “
”بہت قریب ہے پھر تو۔ “
مجھے تشویش لاحق ہوئی۔
”جی۔ “ وہ بے چینی میں ہاتھ ملتے ہوئے بس اتنا ہی کہہ پائے۔
ایسے لگتا تھا اُنکے پاس لفظ نہیں ہیں کہ کیسے مانگیں اور اگر میں مذید کُریدوں گی تو وہ آنکھوں کے کِناروں پہ رکھا بند روک نہ پائیں گے۔
میں نے جلدی سے ہاتھ میں پکڑی رقم ان کے ہاتھ میں تھمائی اور پلٹ گئی تاکہ اُنکے چہرے پہ پھیلنے والی شرمندگی اور بے بسی میری نظر سے نہ گُزرے۔
یہ ہے ہمارا معاشرہ۔ ایک کمزور باپ کے لئے بیٹی بیاہنی اتنی مُشکل ہے کہ اُسے ہاتھ پھیلانے پڑے۔ اور ضروری نہیں کہ ہاتھ پھیلانے والے باپ یوں سڑکوں پر ہی بیٹھے ہوں۔ بہت سے باپ قرض کی تلاش میں رشتے داروں، دوستوں اور اپنے مالکان کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے یہاں غربت ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ایک آسان اور نا گزیر کام کو اتنا مشکل کیوں بنا دِیا گیا ہے؟ ہمارے معاشرے کی فرسودہ روایات اکٹوپس کی طرح ہماری زندگیوں سے چمٹ گئی ہیں۔ جو کوئی ان سے بغاوت کرنا چاہے اُسے یہ معاشرہ قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔
میں اُن بابا جی سے شرمندہ ہوں۔ میں ہر اُس باپ سے شرمندہ ہوں جن کے کندھے اپنی اولاد کی شادی کے قرض سے جُھکے ہیں۔ میں ہر اُس باپ سے شرمندہ ہوں جس کو اپنی بیٹی کی شادی کے اخراجات اُٹھانے کے لئے اپنی صحت اور عمر کے تقاضوں سے بڑھ کے محنت کرنی پڑ رہی ہے۔
میں شرمندہ ہوں کہ میں ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہوں جہاں رسم و رواج نے انسانوں کو خود کو بیچنے پہ مجبور کر دِیا ہے۔
ناجانے ہم کب یہ سمجھیں گے کہ خدا اوپر سے آ کہ یہ سب ٹھیک نہیں کرے گا۔ یہ ہماری خود ساختہ مصیبتیں ہیں۔ یہ ہمیں خُود ہی ٹھیک کرنی ہیں۔ خدا اُن باغیوں کا حامی و ناصر ہو جو اِن رِواجوں سے بالا تر اپنے تئیں معاشرے کے بے جوڑ سپوت ہیں۔


