شیخ صاحب کی ریلوے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریلوے انگریز کا تحفہ تھا۔ جب تک سیاستداں اور نوکر شاہ ٹرین میں سفر کرتے رہے اور انڈین ریلوے سے پاکستان ٹرانسفر ہونے والے افسر اور آپریشنل عملہ ریٹائر نہیں ہوا تب تک پاکستان ویسٹرن اور ایسٹرن ریلوے کی حالت خاصی بہتر تھی۔ ضیا دور تک ریلوے بجٹ قومی بجٹ کا حصہ نہیں تھا بلکہ اسے الگ سے اسمبلی سے منظور کرایا جاتا تھا۔ محکمہ تعلیم اور فوج کے بعد سب سے زیادہ افرادی قوت ریلوے میں ہی کھپی ہوئی تھی۔

حال کا حال یوں ہے کہ جنوری دو ہزار پندرہ سے مئی دو ہزار انیس تک ساڑھے چار برس کے عرصے میں ریلوے انجن (لوکو موٹیو) بیچ سفر میں فیل یا خراب ہونے کے سینتیس سو سے زائد واقعات ہوئے۔ صرف موجودہ سال کے پہلے پانچ ماہ میں ہی انجن فیل ہونے کے ایک سو گیارہ واقعات ہوئے۔ دو ہزار تیرہ سے سترہ تک کے چار برس میں تصادم اور پٹڑی سے اترنے کے کل ملا کے تین سو اڑتیس چھوٹے بڑے واقعات ہوئے۔ ان میں ایک سو اٹھارہ جانیں گئیں۔

ایسا ہی تازہ ترین حادثہ دو روز پہلے صادق آباد میں ولہار اسٹیشن پر ہوا جب لاہور سے کوئٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس غلط سگنل کے سبب لوپ لائن پر کھڑی مال بردار ٹرین سے ٹکرا گئی۔ اکیس افراد ہلاک اور چھیاسی زخمی ہوگئے۔ مرنے والوں کے لیے پندرہ لاکھ، زخمیوں کے لیے پانچ لاکھ فی کس کا اعلان، حادثے کی تحقیقات کا حکم اور لواحقین سے اظہارِ افسوس۔ اللہ اللہ خیر صلا۔

گزشتہ ماہ کی بیس تاریخ کو حیدرآباد میں جناح ایکسپریس ایک کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی۔ انجن ڈرائیور اور اس کے دو معاون ہلاک ہو گئے۔ وزیرِ ریلوے نے تب بھی حادثے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

جنوری دو ہزار سترہ میں بھی ریلوے کا ایک حادثہ پیش آیا۔ حزبِ اختلاف کے رہنما عمران خان نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی ریل کا حادثہ ہوتا ہے تو وزیرِ ریلوے استعفی دیتا ہے۔ اگر وہ استعفی نہ دے تو پھراس کے ہوتے صحیح معنوں میں تحقیقات نہیں ہو سکتیں۔ شاید خان صاحب کو تب تک یقین نہیں تھا کہ اس بیان کے ڈیڑھ برس بعد ان کی حکومت آ جائے گی جس میں ایک عدد وزیرِ ریلوے بھی ہو گا۔

پچھلے گیارہ ماہ میں ریلوے کے چھوٹے بڑے پچھتر حادثات ہو چکے ہیں۔ مگر سب کی ذمے دار پچھلی دو حکومتیں ہیں۔ کوئی ہفتہ نہیں جاتا جب خبر نہ آتی ہو کہ فلاں ٹرین پٹڑی سے اتر گئی، فلاں ٹرین کی ڈائننگ کار میں آگ لگ گئی، انجن فیل ہو گیا یا انجن کا ڈیزل ختم ہو گیا یا کھڑی ٹرین کو پیچھے سے آنے والی ٹرین نے ٹکر مار دی یا سامنے سے آنے والی ٹرین غلط سگنل کے سبب پٹڑی بدل کر کسی اور ٹرین سے جا ٹکرائی۔

صرف پچھلے ماہ ہی چار حادثات ہوئے۔ آٹھ جون کو بولان ایکسپریس کو حادثہ پیش آیا۔ پندرہ جون کو سکھر ریلوے یارڈ میں ٹرین شنٹنگ کرتے ہوئے پٹڑی سے اتر گئی۔ سولہ جون کو روہڑی کے قریب مال گاڑی پٹڑی سے اتر گئی۔ اٹھارہ جون کو جناح ایکسپریس کی ڈائننگ کار میں آگ لگ گئی۔ مگر سات جولائی کو وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک اور ٹرین سروس کا فیتہ کاٹتے ہوئے کسی بھی ریل حادثے کا ذکر کیے بغیر شیخ رشید صاحب کو یوں خراجِ تحسین پیش کیا کہ ’’جس طرح آپ جنونی انداز میں ریلوے کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں سارا پاکستان آپ کو دعائیں دے گا۔ مجھے بہت خوشی ہوتی ہے جب آپ بار بار مجھ سے نئی ٹرین کا آغاز کرواتے ہیں ’’۔

شیخ رشید صاحب پچھلے چھ ماہ میں خان صاحب کو ایسی کم از کم پچیس خوشیوں کا تحفہ دے چکے ہیں۔ ایک جانب وہ کہتے ہیں کہ پینتیس ارب روپے کی پنشن اور تیس ارب روپے کی تنخواہوں کے سبب ریلوے سالانہ چھ ارب روپے خسارے میں جا رہا ہے۔ کراچی تا پشاور اٹھارہ سو بہتر کلو میٹر ٹریک کو نیا کرنے کی اشد ضرورت ہے، لگ بھگ ڈھائی سو نئی مسافر ویگنیں اور بیس سے زائد نئے لو کو موٹیو آنے والے ہیں۔

مگر اس نہتے پن اور فقراہٹ کے باوجود انھیں ہر ماہ کم ازکم دو نئی ٹرینیں چلانے کا بھی شوق ہے۔ بھلے اس کے لیے پرانے ڈبوں کو رنگ و روغن ہی کیوں نہ کرنا پڑے یا اپنی مدت پوری کر چکے پنشن یافتہ انجنوں کو ہی کیوں نہ ٹریک پر جوتنا پڑے۔ یوں روزانہ ایک سو چھتیس مسافر ٹرینیں اور پچپن مال بردار ٹرینیں رواں ہیں۔ جب کہ دس ہزار نفوس پر مشتمل تربیت یافتہ عملے کی قلت اپنی جگہ برقرار ہے۔ چنانچہ مینٹیننس اور آپریشن کے سنگین مسائل بھی اپنی جگہ برقرار ہیں۔

انیس سو تریپن میں جھمپیر پر ٹرین کے حادثے میں دو سو سے زائد مسافروں کی ہلاکت سے اب تک ٹرین کے ایسے نو بڑے حادثات ہو چکے ہیں جن میں مجموعی طور پر ڈھائی ہزار سے زائد جانیں جا چکی ہیں۔ آج تک کسی وزیرِ ریلوے نے استعفی نہیں دیا۔ حادثات کی جو تین بنیادی وجوہات انیس سو تریپن میں تھیں آج چھیاسٹھ برس بعد ہی وہی وجوہات نوے فیصد حادثات کا سبب بن رہی ہیں۔ یعنی پٹڑیوں کی خستہ حالت، سگنلنگ کا فرسودہ نظام اور عملے کی جدید تربیت کا فقدان۔

کہنے کو ایک ریلوے ٹریننگ اکیڈمی بھی ہے مگر اس کا ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے کوئی لینا دینا نہیں۔ کہنے کو اسلام آباد میں ریلوے کیرج فیکٹری بھی ہے۔ کبھی یہاں مقامی ضروریات کے علاوہ بنگلہ دیش اور افریقی ممالک کے لیے بھی ٹرین کے ڈبے آرڈر پر تیار ہوتے تھے۔ آج ہماری ٹرینوں کے لیے بھی ڈبے باہر سے آتے ہیں۔ مشرف دور میں جب جاوید اشرف قاضی وزیرِ ریلوے تھے تو ایک چینی کمپنی سے لوکو موٹیو خریدے گئے۔ چند ہی مہینوں بعد ان کے فرش میں کریکس پڑنے شروع ہو گئے اور وہ ریپئیرنگ کے محتاج ہو گئے۔ کچھ چھان بین بھی شروع ہوئی۔ جانے پھر کیا ہوا۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ بقول شیخ رشید اس وقت ریلوے کے آدھے افسر نیب کے سوالنامے بھگت رہے ہیں۔ ایسے میں ریلوے کیا نہائے گی کیا نچوڑے گی۔

اب ساری امیدیں سی پیک کے تحت پشاور تا کراچی مین لائن ون کو جدیدیانے کے خواب سے جوڑ دی گئی ہیں۔ یعنی اگلے پانچ سے دس برس میں اگر یہ منصوبہ مکمل ہو گیا تو ریلوے کے حادثات کم ہو جائیں گے۔ خود شیخ رشید نے گزشتہ برس دعوی کیا کہ وہ دو برس میں ریلوے کو مالی لحاظ سے اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیں گے۔ تب تک کیا شیخ صاحب بھی اپنے پاؤں پر کھڑے رہیں گے؟ اگرچہ شیخ صاحب دوسری بار وزیرِ ریلوے بنے ہیں مگر تاثر یہ دے رہے ہیں گویا پہلی بار بنے ہوں۔

بشکریہ: ایکسپریس

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •