‏کسی کو تیزاب سے جلانا قتل سے بھی بڑا جرم ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

‏کسی کو تیزاب سے جلانا قتل سے بھی بڑا جرم ہے، متاثرہ خاتون بے شک معاف کردے، قانون معاف نہیں کرسکتا۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے یہ ریمارکس تیزاب گردی کے ایک کیس میں دیے ہیں۔

مجرم جاوید اقبال نے ایک خاتون پر تیزاب پھینک کر اسے جلا دیا تھا۔ خاتون کی زندگی تو بچ گئی تھی تاہم وہ بری طرح ‏جھلس گئی تھی۔ مجرم کو گرفتار کیا گیا تاہم اس نے دباؤ وغیرہ ڈال کر خاتون اور اس کی فیملی کو معافی دینے پر راضی کر لیا تھا۔ ہائیکورٹ نے مجرم کی بریت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ جس پر اس نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ اس نے موقف اختیار کیا کہ چونکہ متاثرہ خاتون نے اسے معاف کر دیا ‏ہے لہذا اسے بری کر دیا جائے۔ مقدمے کی سماعت آج تھی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کسی کو تیزاب سے جلانا قتل سے بھی بڑا جرم ہے، متاثرہ خاتون بے شک معاف کردے، قانون معاف نہیں کرسکتا۔ تیزاب گردی کے مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں، تیزاب گردی کے کیس میں کوئی سمجھوتانہیں ہوسکتا۔ سپریم کورٹ میں ‏بھی مجرم کی بریت کی درخواست مسترد کر دی گئی۔

پاکستان میں تیزاب گردی سے متعلق سخت قانون موجود ہے۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 336 اس سے متعلق بات کرتی ہے۔ یہ دفعہ کہتی ہے کہ کوئی شخص تیزاب وغیرہ جیسے کسی خطرناک مادے سے کسی کے جسم کو نقصان پہنچائے تو اس سے قصاص لیا جائے گا۔ آنکھ ‏کے بدلے آنکھ کا قانون، جس طرح جلایا گیا ملزم کو بھی اسی جگہ سے اسی مادے کے ساتھ جلایا جائے۔ تاہم اگر قصاص پر عملدرآمد نہ ہوسکے تو پھر تعزیر کے تحت عمر قید یا کم ازکم 14 سال قید کی سزا دی جائے گی اور کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔ پینل کوڈ کا سیکشن 336 بی اس سزا سے ‏متعلق بات کرتا ہے۔ تیزاب پھینکنے کا جرم قابل صلح نہیں ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ متاثرہ شخص مجرم کو معاف کربھی دے تو ریاست اور قانون اسے معاف نہیں کرے گا۔ اسے لازمی سزا دی جائے گی۔

تیزاب گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا تو 2014 میں ن لیگ کی ایک خاتون رکن سزا میں اضافے اور متاثرہ خاتون ‏وغیرہ کی طبی امداد اور بحالی کا ایک بل قومی اسمبلی میں لے کر آئیں۔ اس بل کو قومی اسمبلی سے پاس ہوتے ہوتے 4 سال لگ گئے۔ 2018 میں یہ بل پاس ہوا۔ تاہم اس کے بعد غالبا یہ سینیٹ سے ابھی تک پاس نہیں ہو سکا اور تاخیر کا شکار ہے۔

حکومت اور سینیٹرز صاحبان سے گزارش ہے کہ سینیٹ میں تاخیر ‏کے شکار اس بل میں تیزاب متاثرہ خاتون وغیرہ کی بحالی اور امداد کے حوالے سے بہتر چیزیں موجود ہیں۔ براہ مہربانی اسے سینیٹ سے بھی پاس کروائیں تاکہ یہ قانون کی شکل بنے اور تیزاب پھینکنے والے مجرموں کی سزائیں مزید سخت ہوں اورمتاثرہ افراد کی بحالی کے لئے بہتر کام ممکن ہو۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •