خدارا پنجاب کو پیاسا مت ماریے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید علی ضامن نقوی

\"zamin\"حیرت ہے غفلت کی سی غفلت ہے۔ آپس کی لڑائیاں ہیں کہ ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہیں۔ دشمن ہے کہ معرکہ پر معرکہ سر کیے جا رہا ہے اور ادھر ہم ہیں کہ ایک دوسرے کی جڑیں کاٹنے کے درپے ہیں، دشمن سے بعد میں نبٹا جائے گا۔ اس کی چالوں پر نظر ہی نہیں، بس اپنے ذاتی مخالفوں کو تو برباد ہی کر دیں۔

کچھ احساس ہے کہ دشمن آپ کو بھوکا پیاسا مارنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اور ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ اپنی منزل کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے اور ہم اس بات ہر لڑ رہے ہیں کہ اپنے پالے ہوئے دہشت گرد لشکروں کو کیسے بچایا جائے۔ دوسری پارٹی کو کیسے برباد کیا جائے۔ ایک دوسرے کے کپڑے سرِ بازار کیسے اتارے جائیں۔

پاکستانی پنجاب ایک زمانے میں پورے بر صغیر کی غذائی ضروریات پوری کرتا تھا۔ آج اپنی پنجاب کی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں۔ ہندوستانی پنجاب جو تقسیمِ ہند سے قبل بنجر علاقہ تھا آج سر سبزو شاداب ہے اور پورے ہندوستان کو کھلا رہا ہے۔

پنجاب کا نہری نظام دنیا کا سب سے شاندار نظام تھا جس کے تحت پورے صوبے کے ہر گاؤں قصبے تک میں پانی جاتا تھا۔ آج نہریں کیا، دریا سوکھے پڑے ہیں۔ دو دریا آپ ویسے دشمن کو دے چکے۔ باقی پر اپنی ہٹ دھرمی چالاکی اور آپ کی غفلت کے باعث دشمن ڈیم پر ڈیم بنا چکا اور آپ کے حصے کا سارا پانی لے گیا۔ اور آپ کے حکمران چپ سادھے رہے۔ عجیب بے حسی ہے جیسے اپنا ملک نہ ہوا غیر کا مال ہوا کہ دوسروں کو لوٹنے دیا جائے۔

نہروں کے بدلے فصلوں کو اب ٹیوب ویل کے ذریعے سیراب کیا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ایک طرف بجلی کا بے تحاشا استعمال ہو رہا ہے اور کاشت کاری مہنگی ہو رہی ہے۔ دوسرا پانی کی سطح دن بہ دن زیرِ زمین گرتی چلی جا رہی ہے۔ جو پانی چند فٹ نیچے مل جاتا تھا اب سو فٹ سے بھی گہرا ہو چکا۔ زمین سے پانی کھینچنے کے لیے ہر گھر میں موٹر لگ چکی ہے مگر کسی کو فرق ہی نہیں پڑتا۔

فصلیں باغات دن بدن ہاؤسنگ کالونیوں میں بدل رہے ہیں اور اداروں کو کچھ پتا ہی نہیں کہ اس کے کتنے منفی اثرات معاشرے پر ہوں گے۔ جب اُگے گا ہی نہیں تو کھاؤ گے کہاں سے؟ دوسری طرف بارڈر کے اس پار پالیسیاں اتنی اعلٰی ہیں کہ لوگ خود سے کاشت کاری کرتے ہی۔ کیونکہ وہاں یہ ایک انتہائی منفعت بخش پیشہ ہے۔ بے بہا دریائی و نہری پانی، مفت بجلی۔ زیرِ زمین نزدیک گہرا پانی کا زخیرہ۔ ہر طرف باغات و کھیت کھلیان۔ ہاؤسنگ کالونی بنانے پر اداروں کا سخت کنٹرول۔

تنزلی ہی تنزلی ہے۔ رہنما ایسے ہیں جن کے پاس شعور نام کو نہیں۔ مستقبل میں جھانکنے والی آنکھ چاہیے ہوتی ہے جو ادھر ناپید ہے۔ ان کا مطمعِ نظر اور سوچ یہاں تک ہی ہے کہ نئی سڑک بنواؤ، سریا لگواؤ کمیشن کھاؤ، اور مال بنا کے ملک سے باہر بھجواؤ۔

کیا کسی نے سوچا ہے تقسیم نے جو پنجاب کے سینے پر خونی لکیر کھینچی اس کا نقصان پنجاب کو کتنا شدید ہوا۔ ہوش کے ناخن لیجئے معاملے کی سنگینی کا احساس نہ کیا گیا تو یاد رہے یہاں ہندوستان کو ہمیں ہتھیار سے مارنے کی ضرورت ہی نہی پڑنی۔ یہاں خوراک اور پانی کی عدم دستیابی ملکی سلامتی پر کوئی سوالیہ نشان پیدا کر دے۔

وہ پنجاب جو ہندوستان کا غلہ ڈپو تھا، سب کا سقّا تھا۔ خدارا اسے پیاسا مت ماریے۔ اس پر رحم کیجیے۔ اس کے حق اس کے پانی کے لیے آواز اٹھائیے، ہر ممکن اقدامات کیجیے قبل اس کے کہ وقت کی ڈور آپ کے ہاتھ سے نکل جائے اور پنجاب کٹی پتنگ کی طرح کسی دوسرے کے دامن میں جا گرے۔

یہ دھرتی آپ کی ماں ہے اور ماں کو پیاسا مت ماریے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *