ٹیکس معاملات میں وزیراعظم نے عمران خان کو پیچھے چھوڑ دیا مگر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

غلام رضا

\"ghulam-razaa\" اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان میں ٹیکس چوروں کا راج ہمیشہ ہی رہا ہے تو غلط نہ ہوگا، ارب پتی چند ہزار ٹیکس دے کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں جبکہ غریب جیب تراش جیل میں پڑا رہتا ہے، قائداعظم کے پیارے پاکستان میں 25 لاکھ کے قریب امیر لوگ ٹیکس ادا کرنے والوں کی فہرست میں شامل تک نہیں اور یہ لوگ محل نما گھروں میں رہنے کے ساتھ ساتھ قیمتی گاڑیوں میں سفر کرتے نظر آتے رہتے ہیں، غیر ملکی دورے ایسے کرتے ہیں جیسے غریب روز کام کے لئے جاتا ہے، حیرت تو ٹیکس حکام پر ہے جو لاکھوں امیروں کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کا تکلف بھی نہیں کرتے، دنیا میں شاید پاکستان ہی واحد ملک ہے جہاں انکم ٹیکس قوانین پر عملدر آمد نہیں کیا جاتا اور اسی وجہ سے ہمیں امداد اور قرض دینے والے ادارے مطالبہ کرتے رہتے ہیں کہ اپنی عوام سے ٹیکس ضرور لیں، بیرون ممالک میں ٹیکس چوری بہت بڑا جرم ہوتا ہے اور کڑی سزا بھی دی جاتی ہے۔ امیر زادوں کی عیاشیوں پر بات کی جائے تو غیر ملکی دورے کرنیوالے 16 لاکھ 11 ہزار افراد نے ایک پیسہ بھی بطور انکم ٹیکس ادا نہیں کیا۔ قریباً ایک لاکھ پاکستانیوں کے مقامی اور غیر ملکی بنکوں میں ایک سے زائد اکاؤنٹس ہیں جبکہ ان کے پاس نیشنل ٹیکس نمبر تک موجود نہیں۔

ایف بی آر نے بنکوں کو ایک دن میں پچاس ہزار سے زائد رقم نکالنے والوں پر ٹیکس کاٹنے کا پابند تو کر رکھا ہے لیکن ان صارفین کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کے لئے کسی قسم کے نوٹس جاری نہیں کئے جاتے۔ کالم کے آغاز سے آپ کو علم ہوگیا ہوگا کہ میری آج کی تحریر ٹیکس سے متعلق ہے۔ ایف بی آر کی جاری کردہ ٹیکس ڈائریکٹری کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے 22 لاکھ جبکہ عمران خان نے 76 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا جبکہ وزیراعظم کے چھوٹے بھائی خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے 77 لاکھ روپے ٹیکس کی مد میں دیئے۔ ان تینوں کے ٹیکس گوشواروں پر نظر ڈالی جائے تو دونوں بھائیوں کے ٹیکس کی ادائیگی میں 55 لاکھ کا فرق ہے۔ سوال اب یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وزیراعظم کے اثاثے شہباز شریف سے کم ہیں اور کم ہیں تو کتنے کم ہیں؟ ٹیکس کی ادائیگی میں آنے والے فرق کے مطابق نواز شریف کے اثاثے شہباز شریف سے کئی سو فیصد کم ہیں۔ ممکن ہے نواز شریف نے ٹیکس کی ادائیگی میں ہیر پھیر نہ کی ہو مگر مزے کی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے 3 کروڑ 76 لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا۔ اب ان چاروں کے ادا کردہ ٹیکس کو دیکھا جائے تو زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے۔ پیارے پاکستان کے وزیراعظم 22 لاکھ روپے ٹیکس دیں اور ایک ایم این اے 3 کروڑ 76لاکھ روپے ٹیکس ادا کرے حیرانگی تو ہوگی اور ضرور ہوگی۔ کہیں تو ہیر پھیر ہے، کہیں تو خرابی موجود ہے، کیا سسٹم کو مورد الزام ٹھہرانا چاہئے۔ یہاں کبھی حالات بدل بھی سکتے ہیں؟

اپنی طرف سے مزید رائے دینے سے قبل آپ کے ساتھ اس بار کی سیاست دانوں کے ٹیکس ادائیگی شیئر کرتا چلوں۔ چاروں بڑوں وزیراعظم، وزیراعلیٰ، عمران اور جہانگیر ترین کے ٹیکس بارے بتا چکا ہوں۔ باقیوں کی بات کی جائے تو وزیرداخلہ اور عمران خان کے دوست چوہدری نثار نے 8 لاکھ 47 ہزار، سعد رفیق نے 29 لاکھ، اسحاق ڈار نے 39 لاکھ، خواجہ آصف نے4 لاکھ 66 ہزار، انوشہ رحمان نے 78 ہزار، عابد شیر علی نے 1 لاکھ 28ہزار، ایاز صادق نے 13 لاکھ 73ہزار، حمزہ شہباز نے 63 لاکھ، کیپٹن (ر) صفدر نے 49 ہزار، طلال چوہدری نے 44 ہزار، دانیال عزیز نے 4 لاکھ، اعتزاز احسن نے اڑھائی کروڑ، شیخ رشید نے 3 لاکھ، اسد عمر نے 2 لاکھ، فضل الرحمان نے 49 ہزار اور محمود اچکزئی نے 17 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔

جن سیاست دانوں نے ہزاروں یا لاکھوں میں ٹیکس ادا کیا ہے وہ چند دن کی انتخابی مہم میں کروڑوں روپے خرچ کر دیتے ہیں۔ چند دن میں کروڑوں روپے خرچ کرنے والا ٹیکس صرف چند ہزار روپے دے تو پھر میں اور آپ اس سسٹم پر افسوس ہی کر سکتے ہیں۔ محمود اچکزئی صاحب نے صرف 17ہزار روپے ٹیکس دیا۔ وزیراعظم کے داماد نے 49 ہزار روپے ٹیکس ادا کئے کیا کیپٹن صفدر بھی اتنے ہی غریب ہیں کہ صرف 49 ہزار روپے ٹیکس ادا کریں؟ آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ کسی دور میں وزیراعظم 5000 روپے ٹیکس ادا کیا کرتے تھے اور عمران خان لاکھوں میں جبکہ اب وزیراعظم 22 لاکھ اور عمران خان 76 ہزار روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو ٹیکس کی ادائیگی میں وزیراعظم نے عمران خان کو پیچھے چھوڑ دیا مگر دونوں حضرات کو اس سے کہیں زیادہ ٹیکس ادا کرنا چاہئے تھا۔

سیاست دان خود کو عملی نمونہ بنائیں۔ یہ تو ہیں ہمارے چند سیاست دان جن کے بارے میں ہر باشعور کو علم ہے کہ ان کے پاس کتنی دولت ہے۔ جو ایمانداری سے ٹیکس دینے والے ہیں وہ یہ اعداد وشمار دیکھ کر رونا روئیں، ہنسیں، خود بھی ٹیکس کی ادائیگی میں دو نمبری کریں یا یہ سب دیکھنے کے بعد بھی ایمانداری سے ٹیکس کی ادائیگی جاری رکھیں۔ ان میں سے کسی ایک کا انتخاب شریف آدمی کے لئے مشکل ہوگا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments